ایس سی او کے اجلاس میں وزیر خارجہ کی شرکت

خارجہ امور کی بابت لکھنے سے میں گریز کرتا ہوں۔سیاسی میدان میں لگے تماشے دیہاڑی لگانے کے لئے وافر مواد فراہم کردیتے ہیں۔ پھکڑ پن کی گنجائش نکل آتی ہے اور سوشل میڈیا سے لائیکس اور شیئرز کے حصول کی ہوس کو بھی تسکین مل جاتی ہے۔گزشتہ ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے مگر ”دانشوری“ جھاڑنا پڑی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ”بھارت“ جارہے تھے۔ بھارت کے گرد کومے میں نے اس لئے لگائے ہیں کہ اصولی طورپر

Read more

بھارت میں شنگھائی تنظیم اور جی۔ 20 کے اجلاس

اس کالم کے مستقل قارئین میں سے کئی افراد نے واٹس ایپ اور ٹویٹر پر ڈی ایم کے ذریعے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ میں بھارت کے شہر گوا کیوں نہیں گیا۔ بارہا اس کالم میں بڑے مان سے یاد دلاتا رہتا ہوں کہ 1984ء سے بھارت کے مسلسل دورے کئے ہیں۔رواں صدی کے آغاز میں تقریباََ دو برس تک اسلام آباد میں دو ماہ گزارنے کے بعد تین مہینوں کے لئے دلی چلا جاتا۔ بھارت کے زمینی حقائق

Read more

ریاست کے دو ستونوں کے مابین ایک اور جنگ کے امکانات

قوت بینائی کے تحفظ کے لئے جلد سونے کی عادت اپنا رہا ہوں۔ منگل کی رات مگر بستر پر کروٹیں بدلتا موبائل اٹھاکر یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کا اختتام ہوگیا ہے یا نہیں۔مذاکرات کا یہ ”آخری راﺅنڈ“ بتایا گیا تھا۔ اسی باعث تجسس یہ لاحق رہا کہ نتیجہ کیا برآمد ہوا ہے۔ رات کے ایک بجے کے قریب مذاکرات ختم ہوگئے۔ان کے بدولت ”خیر“ کی امید دلانا ہوتی تو سابق

Read more

عمران کے لیے دوتہائی اکثریت میں بھی عدم قبولیت

محض ”صحافتی تجربے“ کی بدولت مجھ جیسے رپورٹر سے ”کالم نگار“ ہوئے بے ہنر گزشتہ چند ہفتوں سے دیہاڑی لگانے کے لئے کسی آڈیو لیک کے منتظر رہتے ہیں۔وہ برسرعام آجائے تو ماہرانہ منافقت سے لوگوں کی نجی زندگی میں ریاست کی جانب سے تانک جھانک کی مذمت سے کالم کا آغاز کرتے ہیں۔”اصولی“ بنیادوں پر تحفظات کے دونمبری اظہار کے باوجود آڈیو لیک کی بدولت منظر عام پر آئے مواد کو بعدازاں زیر بحث لانا شروع ہوجاتے ہیں۔ غیبت”مردہ

Read more

قائد تحریک انصاف اب کوئی ”وکھرا“ نسخہ سوچیں

پیر کی صبح یہ کالم لکھنے سے قبل خبر یہ ملی ہے کہ مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے ہم صحافیوں کے علاوہ دیگر ملازمین کو میسر ہوئے چھٹی کے دن عمران خان صاحب لاہور میں ایک ریلی کی قیادت کریں گے۔ لبرٹی مارکیٹ سے شروع ہوکر یہ ریلی ناصر باغ پر ختم ہوگی۔ناصر باغ کے ذکر سے یاد آیا کہ میرے بچپن میں اسے گول باغ کہا جاتا تھا۔ لاہور کے تاریخی موچی دروازے کے باہر موجود باغ

Read more

پرویز الٰہی کے گھر چھاپہ کے پیچھے کہانیاں

چودھری ظہور الٰہی کے تعمیر کئے لاہور والے گھر میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن والوں نے چھاپہ مارا۔ مقصد اس چھاپے کا پرویز الٰہی کی گرفتاری تھی جو ظہور الٰہی مرحوم کے بھتیجے اور داماد ہیں۔ کئی برسوں تک وہ مرحوم کے صاحبزادے چودھری شجاعت حسین کے ساتھ مل کر ”گجرات کے چودھریوں“ کی متعارف کردہ روایات کے مشترکہ امین اور علامت رہے ہیں۔ لاہور کے بے تحاشہ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے

Read more

ممکنہ توہین عدالت کیس اور میری موجاں ای موجاں

مجھ گوشہ نشین کو روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن ساز“ کئی دنوں سے بتائے چلے جارہے ہیں کہ 27 اپریل 2023 ہماری تاریخ کا ایک ”فیصلہ کن“ دن ہو گا۔ اس روز اعلیٰ ترین عدالت کے کمرہ نمبرایک کا دروازہ کھلے گا۔ گھنٹی بجے گی اور بعدازاں وزیر اعظم شہباز شریف ”توہین عدالت“ کے مرتکب ٹھہراکر گھر بھیج دیے جائیں گے۔ ہونا تو یوں یہ چاہیے تھا کہ 27 اپریل کی صبح اٹھنے کے بعد میں ”تاریخ  ساز“

Read more

”سب سمجھتے ہیں اور چپ ہیں“

منگل کی رات سونے سے قبل چند متحرک دوستوں سے گفتگو کی بدولت یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ عید کی تعطیلات ختم ہوتے ہی سپریم کورٹ سے سنسنی خیز خبریں آنا شروع ہوجائیں گی۔حال ہی میں جو آڈیو لیکس منظر عام پر آئی ہیں وہ میرے ساتھیوں کی اطلاع اور تجزیے کے مطابق ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے مدارالمہام کو اشتعال دلانے کا باعث ہوئی ہیں۔پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کو ہر صورت یقینی بنانے کا حکم وہ

Read more

ہوا سب کے چراغ بجھاتی ہے

عید کی صبح اٹھتے ہی اگر اپنے مشفق ومہربان انور بیگ کے انتقال کی خبر نہ ملی ہوتی تب بھی میں اس آڈیولیکس سے ہرگز لطف اندوز نہ ہوپاتا جس کا عید کی تعطیلات کے دوران سوشل میڈیا پر بہت چرچا رہا ہے۔ لوگوں کی نجی گفتگو ریکارڈ کرنا ہر صورت ایک قابل نفرت فعل ہے۔ صدیوں سے مگر ”سلطان“ ہمیشہ یہ جاننے کو بے چین رہے ہیں کہ ان کے ممکنہ حریف خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے کیا منصوبے بنارہے

Read more

موجودہ سیاسی منظر نامہ اور انور بیگ کی رحلت

سیاسی منظر نامے پر منیر نیازی کی بتائی جو ”حرکت تیز تر ہے….“درحقیقت ہماری خود غرض اشرافیہ کے مابین اقتدار واختیار پر کامل کنٹرول کی وحشت ہے۔دو وقت کی روٹی کمانے کو پریشان ہوئے کروڑوں پاکستانیوں کے علاوہ ہم محدود آمدنی والے لاکھوں گھرانوں کے لئے بھی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔آپا دھاپی کے اس موسم میں سیاسی رپورٹر سے کالم نویس ہوئے مجھ ایسے بے ہنر لوگ اکتا چکے ہیں۔ اسی باعث

Read more

قربانی کا واحد دنبہّ ، شہباز شریف

پیر کی شام ایک بار پھر قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے الیکشن کمیشن کو 121 ارب روپے کی وہ رقم فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس کی ادائیگی کا حکم چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کے روز یقینی بنانے کی خاطر دیا تھا۔ مذکورہ ”انکار“ کے بعد ہمارے ”ذہن سازوں“ کی اکثریت اپنے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے یہ طے کر چکی ہے کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم شہباز شریف

Read more

میرے دل و دماغ میں گونجتا ایک سوال

فقط عاشقان عمران خان ہی نہیں بلکہ وہ صحافی بھی جو ہیجانی تقسیم کے اس دور میں خود کو ”غیر جانبدار“ ثابت کرنے کو مضطرب رہتے ہیں متفقہ طورپر یہ طے کرچکے ہیں کہ آئندہ انتخابات جب بھی ہوئے عمران خان صاحب ان کی بدولت دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم کے منصب پر لوٹ آئیں گے۔ان کی گج وج کے ساتھ اقتدار میں واپسی کا سفر آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب سے

Read more

ایک اور ”سیلابِ وبا

سردار تنویر الیاس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ان کی شخصیت کے جو پہلو سوشل میڈیا پر لگائی وڈیوز کی بدولت دیکھنے کو ملے موصوف کو مسخرہ دکھاتے ہیں۔اس ٹھنڈ اور بردباری سے قطعاََ محروم جو آزادکشمیر جیسے ”حساس“ خطے کے وزیر اعظم سے متوقع ہوتی ہے۔سردار صاحب کی بے پناہ دولت مگر انہیں ہم عامیوں کی توقعات سے بے نیاز رکھتی ہے۔نودولتیوں سے وابستہ رعونت سے نفرت کی وجہ سے میں ان کا مداح نہیں بن پایا۔اس کے باوجود مجھے

Read more

”قدم بڑھاؤ بومر دشمنو“

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں نوجوان نسل حقارت سے ایک لفظ استعمال کرتی ہے اور وہ لفظ ہے Boomer۔ اس کالم میں اسے میں ”بومر“ لکھوں گا۔ بومر کا لفظ ان افراد کے لئے طعنے کی طرح استعمال ہوتا ہے جو 1960 کی دہائی کے آغاز یا اس سے چند سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ جوانی کے دنوں میں یہ نسل بہت تخلیقی شمار ہوتی تھی۔ ہپی ازم نے اسے بہت متاثر کیا تھا۔ روایت شکن شمار ہوتی تھی۔

Read more

حسین حقانی کی ”سہولت کاری“

روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے صحافی اور ذہن ساز خبردار کر رہے ہیں کہ 10 اپریل 2023ء کے دن سے جو ہفتہ شروع ہوا ہے وہ وطن عزیز میں جاری خلفشار کو مزید بھڑکائے گا۔ پہلا سوال یہ اٹھے گا کہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو وہ رقم فراہم کی ہے یا نہیں جو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نئی پنجاب اسمبلی کی تشکیل کے لئے رواں برس کی 14 مئی کے دن ہونا ہیں۔”معاشی بحران“ کی

Read more

عدالتی از خود پیش قدمی اور ’چیٹ بوٹ‘

’فرائض‘ کا ہمارے ہاں ذکر ہی نہیں ہوتا۔ ریاست اور حکومت کے جوفیصلہ ساز ادارے ہیں ان کے اختیارات کی حدود البتہ مستقل زیر بحث رہتی ہیں۔انھیں طے کرنے کو اگرچہ ہمارے پاس ’تحریری صورت‘ میں لکھا آئین بھی موجود ہے۔ متن اس کا انگریزی اور اردو زبانوں میں تفصیل سے میسر ہے۔ اس کے باوجود بارہا پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ حکمران اشرافیہ کے مابین اٹھے قضیوں کے حل کے لیے اختیارات کی حدود متعین کرنے

Read more

تخت یا تختہ والا ہیجان

سپریم کورٹ کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے فیصلے کے اعلان کا انتظار کرنے کے بجائے ایک بار پھر یہ کالم لکھنے کے لئے قلم اٹھالیا ہے۔ جس فیصلے کی توقع ہے وہ اپریل کے چوتھے دن سے وابستہ ہے۔ 4 اپریل کا ذکر ہو تو 1979 ءکی یہ ہی تاریخ یاد آجاتی ہے۔ اس روز کا سورج طلوع ہونے سے قبل پاکستان کے ایک تاریخ ساز اور مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر

Read more

حصولِ اقتدار کے حربے اور سیاسی اصول پسندی

عرصہ ہوا بے تحاشا ذاتی مشاہدات کی بدولت یہ حقیقت دریافت کرچکا ہوں کہ سیاست فقط اقتدار کے حصول کے لیے ہر نوع کا حربہ استعمال کرنے کا نام ہے۔’اصول‘ اس کھیل میں کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ اندھی نفرت ومحبت میں تقسیم ہوئے عقیدت مند مگر اپنی پسند کے سیاستدانوں ہی کو ’بااصول‘ ٹھہرانے کو مصر رہتے ہیں۔ ’آئین کا تحفظ‘ اور اس کی ’حرمت‘کے تصورات بھی ایسے ’اصولوں‘ میں شامل ہیں جن کا فروعی بحثوں میں مسلسل ڈھنڈورا پیٹا

Read more

”یونٹی آف کمانڈ“ نہ رہنے کا تاثر

پنجابی کا ایک محاورہ اس کالم میں آپ کو اکتا دینے کی حد تک دہراتا رہتا ہوں۔ یہ کامل خلفشار کے عالم میں سکون کی تلاش کے لئے ”ماسی“ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ تکرار تحریر کو بے لطف بنادیتی ہے۔ یہ تسلیم کرنے کے باوجودفریاد کو مجبور ہوں کہ جاﺅں تو جاﺅں کہاں؟ کہنے کو ہمارے ہاں ریاست کو قواعد وضوابط کو لگام ڈالنے کے لئے ایک ”تحریری آئین“ موجود ہے۔اس نوعیت کے آئین کے ہوتے ہوئے ابہام کی گنجائش

Read more

وفاقی حکومت کے عجلت میں اٹھائے اقدامات

عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے رپورٹر کو ہرگز یہ خبر نہیں تھی کہ شہباز حکومت چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے ازخود اختیارات کو لگام ڈالنے کے لئے کچھ قوانین متعارف کروانا چاہ رہی ہے۔منگل کی صبح اٹھتے ہی لکھے کالم میں اس ضمن میں ”حدود و قیود“ کا ذکر جبلی سوچ کی روانی ہی میں کر دیا تھا۔ میری سوچ کو انگیخت 27 صفحات پر مشتمل اس فیصلے نے دی جو سپریم کورٹ ہی کے دو عزت

Read more

”تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط“

عام پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح میں بھی یہ طے کرنے کے ہرگز قابل نہیں ہوں کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 30 اپریل کے دن کروانے کا فیصلہ کتنے ججوں کے حکم سے ہوا تھا۔اس سوال کو زیر غور لانے کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے لیا ازخود نوٹس ”واجب“ تھا یا نہیں۔قضیہ بہرحال ا±ٹھ کھڑا ہوا ہے۔ٹی وی سکرینوں پر ”ماہرین قانون“ کا انبوہ مذکورہ سوالات کی بابت توجیہات کے طومار باندھ رہا ہے۔میری دانست میں تاویلات کے

Read more

آئین کی ”بے توقیری“ کا رونا

الیکشن کمیشن نے بالآخر 30 اپریل کے دن پنجاب اسمبلی کے چناﺅ کے عمل کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنی معذوری کا اظہار کردیا ہے۔مذکورہ اظہار سپریم کورٹ کو کسی نہ کسی صورت متحرک ہونے کو اکساسکتا ہے۔ دو آئینی اداروں یعنی سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے مابین تناﺅلہٰذامزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ دریں اثناء مجھ ایسے سادہ لوح حسب عادت ”آئین کی بے توقیری“ کا رونا روتے ہوئے خود کو جمہوریت کے پاسبان ثابت کرتے رہیں

Read more

عمران خان کی پھیلائی ”فسطائیت“

قمر جاوید باجوہ صاحب نے ایک اور انٹرویو دے مارا ہے۔ پیر کی شب سات بجے سے رات بارہ بجے تک کئی ٹی وی شوز میں اس کا چرچا رہا۔ سرسری انداز میں مذکورہ انٹرویو میں مجھ ناچیز کا ذکر بھی ہوا تھا۔ باجوہ صاحب نے خود کو مجھے ایک ٹی وی شو سے فارغ کروانے میں اپنے کردار سے انکار کیا۔ ان کی مہربانی۔ عرصہ ہوا ویسے بھی اپنی ”اوقات“ دریافت کرچکا ہوں۔ اس بابت جی کو ملال بھی

Read more

”عاشقانِ عمران“ کو بھائی زلمے کی تجویز

بدھ کی رات بہت دیر تک جاگتا رہا۔ وجہ اس کی یہ ارادہ تھا کہ جمعرات کی صبح اٹھ کر زلمے خلیل زاد کے بارے میں تفصیلی کالم لکھا جائے۔اس ضمن میں افغانستان کے بارے میں لکھی چند کتابوں میں میری جانب سے نشان زد ہوئے حوالوں سے رجوع کرنا لازمی سمجھا۔ موصوف ان دنوں ”پاکستان سدھارنے“ اور اسے جمہوری راہ پر قائم رکھنے کے لئے ٹویٹ پر ٹویٹ لکھے جارہے ہیں۔ اس کی دانست میں عمران خان صاحب ان

Read more

پاکستان کا مبینہ ”فسطائی نظام“

عاشقان عمران خان صاحب نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید ترین جاسوسی آلات اور ”مناسب“ تربیت کے ہوتے ہوئے بھی اسلام آباد پولیس کی بھیجی ٹیم پنجاب حکومت کی تمام تر معاونت کے باوجود ان کے قائد کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ منگل کے دن کئی گھنٹوں تک سابق وزیراعظم کے لاہور کے زمان پارک میں موجود آبائی گھر میں داخلے کی بارہا کوششیں ہوتی رہیں۔تحریک انصاف کے کارکنوں نے مگر انسانی ڈھال بناکر مذکورہ گھر کو ناقابل تسخیرقلعہ

Read more

”مساوات“ کا جھانسہ

عمر کے آخری حصے میں داخل ہوجانے کے بعد مجھ ایسے صحافی ”سینئر تجزیہ کار“ بن جاتے ہیں۔ہماری اکثریت اپنے جونیئرز کو کسی خاطر میں نہیں لاتی۔ اس زعم میں مبتلا ر ہتی ہے کہ ہماری نسل نے بہت مشقت اور لگن کے بعد تھوڑا نام کمایا تھا۔ہمارے جونیئر ویسی مشقت سے گریز کرتے ہیں۔ سارا دن سوشل میڈیا پر نگاہ رکھتے ہوئے ”چوندی چوندی“ اچک لیتے ہیں۔ان کی اکثریت حکمرانوں،اپوزیشن جماعتوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے واٹس ایپ

Read more

”اجتماعی ندامت“

توشہ خانہ سے تقریباً ہمارے ہر حکمران کی جانب سے سستے داموںخریدے انتہائی قیمتی تحائف کی تفصیلات عوام کے روبرو آ گئی ہیں۔ ان پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے میرے ناامید ذہن میں ”ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرہوئے“ والا مصرعہ ہی ابھراہے۔بے چینی سے کوئی ایسا بڑا نام تلاش کرتا رہا جس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے اجتناب برتا ہو۔ جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہیںانہوں نے سیاست دانوں کی اجتماعی ساکھ کو شدید ضرب لگائی

Read more

وطن عزیز میں بڑھتا خلفشار

جبلی طور پر آج بھی اس ”صحافت“ کا نمائندہ ہوں جس میں کسی رپورٹر کی دی ”خبر“ کم از کم پانچ چھلنیوں سے گزر کر اخبار میں چھپتی رہی ہے۔زمانہ مگر اب بدل چکا ہے۔”خبر“ ان دنوں فقط وہی ہے جو خلق خدا کے ہاتھ میں موجود موبائل فون کی سکرین پر سب سے پہلے نمودار ہو۔اس حقیقت کے تناظر میں جائزہ لیں تو بدھ کے دن لاہور اور اسلا م آباد میں پولیس نے بہت ظلم کیا ہے۔پنجاب میں

Read more

شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی ”برادری“ میں عدم تحفظ اور مایوسی

اپنے پیشرو کی طرح نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب بھی اپنا منصب سنبھالنے کے تین ماہ بعد ہی صنعت کاروں کے وفد سے ملاقات کو مجبور ہوئے۔ مذکورہ ملاقات کی خبر پڑھی اور اس کے تناظر میں روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں کے تبصرے سنے تو میری جوانی میں مشہور ہوئے ایک فلمی گیت کا مصرعہ یاد آ گیا: ”یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے“۔ نواز شریف کی تیسری حکومت کے

Read more

سوشل میڈیا پر چھایا تماشہ اور گندم کا ممکنہ بحران

اتوار کی صبح کالم لکھنے کے بعد دفتر بھجوادیا تو اخبارات کے پلندے پر توجہ مرکوز کر دی۔ ”نوائے وقت“ میں ایک خبر چھپی تھی۔اس کی بدولت دریافت ہوا کہ گزرے ماہ میں ہمارے ہاں تاریخی اوسط کے اعتبار سے کم ترین بارشیں ہوئی ہیں۔ہر اعتبار سے پکا شہری ہوتے ہوئے بھی میرا جی یہ خبر پڑھتے ہوئے دہلنا شروع ہو گیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے بے تحاشہ ممالک قحط سالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان

Read more

امریکی اشاروں کا محتاج آئی ایم ایف

یہ کالم لکھنے کے لئے قلم میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اٹھایا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کے لئے 90 دنوں میں انتخاب کروانے کا حکم ہے۔ یہ حکم پانچ رکنی بنچ کی جانب سے آیا۔ اس میں شامل دو عزت مآب ججوں نے مذکورہ فیصلے سے اگرچہ اختلاف کیا۔ ان کی دانست میں ازخود نوٹس کے ذریعے صوبائی انتخابات کی تاریخ طے کرنا غالباً مناسب نہیں تھا۔ جو فیصلہ آیا ہے اس کے

Read more

برملا 02 مارچ

یہ کالم لکھنے کے لئے قلم میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اٹھایا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلیوں کے لئے 90 دنوں میں انتخاب کروانے کا حکم ہے۔یہ حکم پانچ رکنی بنچ کی جانب سے آیا۔اس میں شامل دو عزت مآب ججوں نے مذکورہ فیصلے سے اگرچہ اختلاف کیا۔ ان کی دانست میں ازخودنوٹس کے ذریعے صوبائی انتخابات کی تاریخ طے کرنا غالباََ مناسب نہیں تھا۔ جو فیصلہ آیا ہے اس کے بعد ”سیاسی امور“ کی

Read more

”آئینی بندوبست“ میں عدلیہ کیونکر ریاست کا سب سے بڑا ستون بنی

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد 1973ء میں بہت سوچ بچار کے بعد بقیہ پاکستان کے ریاستی امور چلانے کے لئے جو آئینی بندوبست تیار ہوا تھا وہ چار برسوں تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔ جولائی 1977ء میں جنرل ضیاءکا مارشل لاءآگیا۔ چار سال قبل تیار ہوئے آئین کو اس نے معطل کر دیا۔ اس کی جگہ جس ”عبوری آئین“ کو متعارف کروایا گیا وہ اپنی سرشت میں کاملاً”صدارتی“تھا۔ ریاستی فیصلہ سازی کے حتمی اختیارات اس

Read more

کنج قفس،مزاحمت پر ڈٹے رہنے کی تمنا

نواز شریف کی تیسری حکومت کے دوران فواد حسن فواد کا ذکر تقریباًروزانہ ہی سنا کرتا تھا۔ مشتاق منہاس ان دنوں ایک ٹی وی پروگرام کے لئے میرا ساتھی اینکر تھا۔میرا اپنا جی تو عملی صحافت سے اکتا چکا تھا۔ مشتاق کا ”آتش“ مگر ابھی تک جوان تھا۔متجسس رپورٹر کی طرح ہمہ وقت حکومت کے کلیدی فیصلہ سازوں سے رابطے بڑھاتے ہوئے”اندر کی خبر“ ڈھونڈنے کو بے چین رہتا۔ اشرافیہ کے ”تھمب“تصور ہوتے افراد کی جی حضوری اگرچہ اس کی

Read more

”آئینی بندوبست“ کی فکر

گوشہ نشینی کا اصل نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مزاجاََ ویسے بھی قنوطی ہوں۔ متحرک رپورٹنگ کے دنوں میں بھی اقتدار کے کھیل اور اس کے مرکزی کرداروں کو بہت قریب سے دیکھتے ہوئے ”… کوئی صورت نظر نہیں آتی“ والی ناامیدی دل ودماغ میں جاگزیں ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ وسوسوں بھرے دل میں جوخدشات نمودار ہوتے رہے بسااوقات حقیقت کی صورت اختیار کر لیتے۔

Read more

سیاست بچانے کے لوازمات

گزرے برس کا آغاز ہوتے ہی اسلام آباد میں افواہیں گردش کرنے لگیں کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے کی گیم لگائی جا رہی ہے۔ سرگوشیاں حد سے بڑھیں تو عملی اعتبار سے ریٹائر ہوا رپورٹر بیدار ہو گیا۔ گوشہ نشینی سے وقتی کنارہ کشی کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے چند سرکردہ رہ نماﺅں سے رابطہ کرنے کو مجبور ہو گیا۔ کئی ملاقاتوں کے بعد نتیجہ نکالا کہ ٹھوس یا

Read more

ہاتھ سے لگائی گرہیں اب دانتوں سے کھولیں

روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائی یاوہ گوئی اور چسکہ فروشی پر توجہ مرکوز رکھیں تو ہمیں ہرگز احساس نہیں ہوگا کہ وطن عزیز کے باسیوں کو مطمئن رکھنے سے کہیں زیادہ ہمارا ریاستی بندوبست معاشی اعتبار سے برقرار رکھنا دشوار تر ہو رہا ہے۔ دیوالیہ سے بچنا ہے تو ہمیں اس معاہدے کی ہر شق پر من وعن عمل کرنا ہوگا جو عمران حکومت کے دوران 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہوا تھا۔ مذکورہ معاہدے کی

Read more

مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا ناممکن ہو چکا

گیس کی قیمت میں کمر توڑ اضافے کا اعلان ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لئے مزید اقدامات بھی لینا پڑیں گے۔ ان کے نتیجے میں مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا وہ رواں برس کے اختتام تک سینکڑوں نہیں لاکھوں گھرانوں کو خط غربت کی جانب دھکیل دے گا۔ اس سے بچت کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ کامل اداسی اور مایوسی کے اس موسم میں لیکن کلیدی سوالات اٹھانے کے

Read more

ضیاء محی الدین تخلیقی ذہن کے باجود اظہار کے ذرائع نہ ڈھونڈ پائے

بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ضیا محی الدین محض ”اداکار“نہیں تھے۔ اپنی صلاحیتوں کو انہوں نے کئی اطوار سے برتا۔ ان سب کو اخباری کالم میں سمیٹنا مجھ بے ہنر کے بس میں نہیں۔ پیر کی صبح اٹھتے ہی ان کے انتقال کی خبر ملی تو ذاتی حوالوں سے کئی باتیں یاد آگئیں۔ ان کے ذکرسے مگر دل گھبرا گیا۔ خوف لاحق ہوا کہ میں ان سے قربت کی شیخی بگھارتا محسوس ہوں گا۔ ان سے آخری ملاقات

Read more

عوامی جذبات و خواہشات کی ترجمانی میں ناکام ہوتی صحافت

صحافت میرا مشغلہ نہیں 1975 سے رزق کمانے کا واحد ذریعہ ہے۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد فکر مگر اب یہ لاحق ہو چکی ہے کہ زندگی کے جو سال بچے ہیں ان کے دوران محض صحافت پر اکتفا کیے ہوئے اپنا معیار زندگی برقرار رکھ پاؤں گا یا نہیں۔ ”معیار زندگی“ کو برائے مہربانی خوش حالی کا مترادف تصور نہ کیا جائے۔ سفید پوشی کی وہ سطح برقرار رکھنے کی بات ہو رہی ہے جو

Read more

عوامی جذبات و خواہشات کی ترجمانی میں ناکام ہوتی صحافت

صحافت میرا مشغلہ نہیں 1975 سے رزق کمانے کا واحد ذریعہ ہے۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد فکر مگر اب یہ لاحق ہو چکی ہے کہ زندگی کے جو سال بچے ہیں ان کے دوران محض صحافت پر اکتفا کئے ہوئے اپنا معیار زندگی برقرار رکھ پاﺅں گا یا نہیں۔ ”معیار زندگی“ کو برائے مہربانی خوش حالی کا مترادف تصور نہ کیا جائے۔سفید پوشی کی وہ سطح برقرار رکھنے کی بات ہورہی ہے جو آسودہ متوسط

Read more

آبی تنازعہ اور سندھ طاس معاہدہ

کچھ موضوعات کے بارے میں لکھتے ہوئے میرا خون کھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ خوف لاحق رہتا ہے کہ دماغ کی شریان نہ پھٹ جائے۔ بلڈ پریشر ویسے ہی چند ہفتے قبل قابو سے باہر ہو گیا تھا۔ طبیبوں نے سختی سے ہدایت دی کہ خواہ مخواہ کے ذہنی دباﺅ کو مدعو نہ کروں۔ کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتا رہوں۔بدھ کی شام مگر حماقت کا ارتکاب ہو گیا۔ حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا رکھا تھا۔ کمر اور

Read more

کاش وزیر اعظم اپنے دورہ ترکی کا اعلان بھی نہ کرتے

ایک دوسرے سے ”اتفاقاً“ جڑے چند واقعات آپ کو بوکھلاہٹ سے دو چار کر سکتے ہیں۔ منگل کے روز میرے ساتھ ایسا ہی عالم رہا۔ ترکی اور شام میں آئے قیامت خیز زلزلے کی وجہ سے جی اداس تھا۔ کالم لکھنے کو درکار یکسوئی میسر نہیں تھی۔ اچانک یاد آیا کہ آج سے دو سال قبل ستارہ شناسی کے اسرار و رموز جاننے کی سنجیدہ کوشش کی تھی۔ اس کے ذکر سے کالم کا آغاز کر دیا اور موضوع سے

Read more

تیزی سے تنہا ہوتے انسان

تقریباً دو برس قبل گوشہ نشینی کی فراغت سے گھبرا کر میں نے کافی سنجیدگی سے ”ستارہ شناسی“کے اسرار و رموز دریافت کرنے کی کوشش کی تھی۔ ذہن اگرچہ ”عقل کا غلام“ تھا اور اقبال کا بیان کردہ ”ستارہ کیا میری تقدیر کو خبر دے گا….؟“بھی جی کوتسلی دیتا رہا ہے۔بہرحال آسٹریلیا میں مقیم اوریوٹیوب پر مقبول ایک ستارہ شناس نے 2020ء کا آغاز ہوتے ہی آئندہ 20برسوں میں ممکنہ طورپر نمودار ہونے والے چند واقعات کی بابت خبردار کیا

Read more

میرے لئے ”سٹاک ہوم سینڈروم“ کا طعنہ

ماں کی گود سے جوان ہونے تک میرے ذہن میں بٹھا دیا گیا ہے کہ جب کسی فرد کے انتقال کی خبر ملے تو اس کی مغفرت کی دعا مانگو۔ مرحوم سے اگر کسی بھی حوالے سے شناسائی رہی ہو تو تلخ یادوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خوش گوار باتوں کو یاد کیا جائے۔اتوار کی صبح اٹھتے ہی جنرل مشرف کے انتقال کی خبر ملی تو میرا فوری ردعمل وہی تھا جو بچپن سے سکھایا گیا ہے۔ اس روز کالم

Read more

”لولی لنگڑی“ حکومت کے ہاتھوں بھونڈے انداز میں گرفتاریاں

پیر کے روز پشاور کی پولیس لائنز میں جو اندوہ ناک دہشت گردی ہوئی وہ ہمارے ذہنوں میں بے تحاشا سوالات اٹھانے کا سبب ہوئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سب یکسو ہوکر ان سوالات کے تسلی بخش جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔میڈیا میں تحریک انصاف کی جانب سے ”امپورٹڈ حکومت“ کے خلاف بنائے بیانیے ہی کا چرچہ رہا۔مذکورہ بیانیہ کے غیر منطقی اتباع میں یہ سازشی کہانی بھی بہت تیزی سے مقبول ہوئی

Read more

مشاہد کے اپنے پارٹی قائد کو ”نیک مشورے“

منگل کے دن سینٹ کے اجلاس کے دوران مشاہد حسین سید مسلم لیگ (نون) کی صفوں سے کھڑے ہوگئے۔ اپنی جماعت کے سربراہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کو ”لولی لنگڑی“پکارا۔ اس کے بعد نہایت عاجزی سے مشورہ یہ دیا کہ مذکورہ حکومت عوام سے اپنی پالیسیوں کی بدولت مزید ”برا بھلا“ سننے کے بجائے نئے انتخابات کی راہ بنائے۔ مشاہد صاحب نے جو گفتگو کی اس نے ٹی وی سکرینوں پر رونق لگانے کے لئے چسکہ بھرامواد

Read more

ہماری غفلت ہی انتہا پسندوں کی سہولت کار ہے

پیر کے روز پشاور کی ایک مسجد میں جو اندوہناک واقعہ ہوا وہ کئی بنیادی سوال اٹھانے کا متقاضی تھا۔ سوالات کا آغاز اس حقیقت کے تناظر میں ہونا چاہیے تھا کہ ریکارڈ بناتی شہادتوں کا باعث ہوئے اس دہشت گرد حملے کا نشانہ کوئی عام مسجد نہیں تھی۔ وہ نسبتاً محفوظ تصور ہوتی ”پولیس لائنز“ میں واقعہ تھی۔ پولیس ملازمین کی رہائش کے لئے وقف اس علاقے میں اجنبیوں کی آمدورفت پر عام دنوں کے برعکس کڑی نگاہ رکھنا

Read more

ہماری غفلت ہی انتہا پسندوں کی سہولت کارہے

پیر کے روز پشاور کی ایک مسجد میں جو اندوہ ناک واقعہ ہوا وہ کئی بنیادی سوال اٹھانے کا متقاضی تھا۔ سوالات کا آغاز اس حقیقت کے تناظر میں ہونا چاہیے تھا کہ ریکارڈ بناتی شہادتوں کا باعث ہوئے اس دہشت گرد حملے کا نشانہ کوئی عام مسجد نہیں تھی۔ وہ نسبتاًمحفوظ تصور ہوتی ”پولیس لائنز“ میں واقعہ تھی۔ پولیس ملازمین کی رہائش کے لئے وقف اس علاقے میں اجنبیوں کی آمدورفت پر عام دنوں کے برعکس کڑی نگاہ رکھنااس

Read more

”بندھے ہاتھوں والی“ شہباز حکومت

گزشتہ تین دنوں سے ایک موضوع مجھے شدید پریشان کئے ہوئے ہے۔ ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اتوار کی رات سے ارادہ باندھ رکھا تھا کہ اپنے کالم کے لئے زیادہ سے زیادہ لائیکس اور شیئر کی حرص بھلاکر مذکورہ موضوع کو پیر کی صبح اٹھتے ہی تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ شاعر نے مگر کہہ رکھا ہے کہ ”چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی“۔ اخبار میں چھپے

Read more

قربانی اب وسائل پر قابض طبقات دیں

اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ رواں برس کا آغاز ہوتے ہی میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ عمران حکومت کو اس کے تمام سیاسی مخالفین یکجا ہوکر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانا چاہ رہے ہیں۔جو گیم لگائی جارہی تھی امریکہ کا اس سے ہرگز کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بنیادی حقیقت یہ تھی کہ عمران پراجیکٹ کو بہت چائو سے ریاستی قوت کا ہر ذریعہ رعونت سے استعمال کرنے والے بوتل سے نکلے جن کے

Read more

ریاستی جبر ، سوشل میڈیا اور قومی یگانگت

بدھ کی صبح سے رات گئے تک روایتی اور سوشل میڈیا کی تمام تر توجہ فواد چودھری کی گرفتاری پر مرکوز رہی۔ اس توجہ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے میں گھبرا گیا۔ پیغام یہ ملا کہ 2011 سے ہم پر نازل ہوئی اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم پریشان کن حد تک شدید تر ہورہی ہے۔شہباز گل اور اعظم سواتی کے ساتھ جو سلوک ہوا تھا اس کے بارے میں عمران مخالفین کا رویہ نسبتاًمدافعانہ تھا۔ فواد چودھری کی گرفتاری

Read more

اپنے ”شکار“ ڈھونڈتا ”مکار“ سسٹم

اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر ہوئی تقسیم کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے جو تہمتیں،طعنے اور ذلتیں برداشت کی ہیں انہیں ذہن میں رکھوں تو مجھے سینہ پھلا کر فواد چودھری کی گرفتاری کا دفاع کرنا چاہیے۔ ربّ کریم نے مگر ڈھٹائی والی خصلت سے محروم رکھا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے نظریات سے ہزاروں اختلافات کے باوجود اس کے خلاف ریاستی جبر کے استعمال کو ہمیشہ غلط ہی تصور کیا ہے۔فواد چودھری کی گرفتاری کی بابت

Read more

”ہنگامی حالات“ میں زندہ رہنے کی مشق

چند مہینوں سے کبھی کبھار محض شک ہو رہا تھا۔ اب مگر یقین آنا شروع ہوگیا ہے کہ میرا دماغ کھسک گیا ہے۔کچھ دن قبل عمران خان اور ان کے سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کو حیران وپریشان کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے بساطِ سیاست پر ”نیند اڑادینے والی“ چالیں چلیں۔”سینئر تجزیہ کار“ مشہور ہونے کی وجہ سے مجھے ان کی وجوہات اور عواقب کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے تھا۔میرے ذہن میں لیکن ستیہ جیت رائے کی منشی

Read more

”سسٹم“ اِن دنوں عمران دوست نہیں رہا

الیکشن کمیشن کے ہاتھوں محسن نقوی کا بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب چناﺅ ہو گیا۔ اپنے عہدے کا حلف بھی انہوں نے اتوار کی رات اٹھالیا ہے۔ جو فیصلہ ہوا ہے اسے عدالت کے ہاتھوں منسوخ کروانا مجھے اب ناممکن تو نہیں دشوار ترین یقینا محسوس ہو رہا ہے۔ فقط بھرپور احتجاجی تحریک ہی نگران وزیر اعلیٰ کو استعفیٰ دینے کو مجبور کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف مگر اس تحریک میں مصروف ہوگئی تو پنجاب کے مختلف شہروں میں ”پلس

Read more

کسی نئے ”بندوبست“ کا انتظار

جنرل ضیاء کے لگائے مارشل لاء نے کامل آٹھ برسوں تک نفسیاتی جنگ کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے ہم ”ذلتوں کے ماروں“ کو ریاستی بیانیے کی بابت سوالات اٹھانے کے ناقابل بنا دیا تو 1985ء میں ”غیر جماعتی“ بنیادوں پر انتخاب کا انعقاد ہوا۔اس کی بدولت ”جمہوری بندوبست“ کا جھانسہ دیتے سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں جیسے ادارے بحال کردیے گئے۔ ان کی بحالی سے قبل مگر جنرل صاحب نے قوم سے براہِ راست خطاب کیا۔ اس کے دوران

Read more

متحرک ”ذہن سازوں“ کی چالیں

گزشتہ ہفتے عمران خان صاحب کی جبلت پر حاوی ”فاسٹ باؤلر“ انگڑائی لے کر بیدار ہوا۔ سیاست کی پچ پر انہوں نے یکے بعد دیگرے چند چالیں چلیں اور اپنے مخالفین کو بوکھلا دیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل یقینی بنانے کے بعد انہوں نے عندیہ یہ بھی دیا کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی ایوان میں لوٹ سکتے ہیں۔ واحد مقصد ان کی واپسی کا محض دو صوبوں کی اسمبلیوں کے لئے نہیں بلکہ ملک بھر

Read more

کراچی کے بلدیاتی انتخابات اور عمران خان کی مقبولیت

عمران خان صاحب کی جانب سے حال ہی میں بساط سیاست پر کھیلی چند چالوں نے ان کے مخالفین کو بوکھلارکھا ہے۔کراچی میں ہوئے بلدیاتی انتخاب کے نتائج ایسے عالم میں ان کے لئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی بابت شادمانی محسوس کرتے ہوئے روایتی اور سوشل میڈیا پر تاثر یہ پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے کہ سابق وزیر اعظم کی ”ہر دن بڑھتی مقبولیت“ ایک واہمہ ہے۔ انتخابی میدان میں کارگرنہیں۔محض ان کی

Read more

ایم کیو ایم کا بائیکاٹ اور پی ٹی آئی کی کراچی میں شکست

دورِ حاضر میں سوشل میڈیا کی اہمیت جھٹلانے کے لئے ڈھٹائی کی حد تک متعصب یا جاہل ہونا لازمی ہے۔ اس کی ”اثرپذیری“ کو تاہم دنیا کے کئی محققین نے ٹھوس تناظر میں رکھ کر جانچنے کی کوشش کی ہے۔اس ضمن میں لکھی چند کتابوں اور علمی مضامین کو میں نے بہت غور سے پڑھا ہے۔ کلیدی پیغام یہ دریافت کیا کہ سوشل میڈیا پرحاوی نظر آتا ہیجان سیاسی میدان میں بھرپور حصہ لینے کا متبادل نہیں۔ٹویٹر پر چھائے ”ٹرینڈز“

Read more

وفاقی حکومت کے لئے وقت کم مقابلہ سخت کی کیفیت

عاشقان عمران خان ہی نہیں کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے بلکہ موجودہ حکومت سے اکتائے بے تحاشا افراد بھی ان دنوں ”اب مزا آیا“ والی لذت محسوس کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران تحریک انصاف کے قائد نے قوم سے جارحانہ خطاب کے ذریعے اپنے خلاف لگائی مبینہ ”ریڈ لائن“ کو للکارا۔ بعد ازاں چودھری پرویز الٰہی کو حکم صادر ہوا کہ وہ پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر اپنی اکثریت ثابت کریں۔ وہ ثابت ہو

Read more

ہارا ہوا لشکر، مسلم لیگ نون اور اس کے ہمنوا

نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ والوں کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ گزشتہ برس کے اپریل میں عمران حکومت کو ہٹانے کے بعد فوری انتخاب سے گریز نے انہیں ڈھلوان پر دھکیل رکھا ہے۔ اس کے انجام پر کوئی نئی راہ دکھاتی پگڈنڈی موجود نہیں ہے۔ فقط ایک گہری کھائی ہے جس سے باہر آنے سے نکلنے کی اذیت ومشقت طویل عرصے تک برداشت کرنا ہو گا۔ سیاستدان اگر اپنی قوت کے بارے میں پر

Read more

اب کسی اور ”سیزن“ کی توقع نہ رکھیں

روایتی اور سوشل میڈیا سنجیدگی سے یہ جاننا اور بتانا ہی نہیں چاہ رہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے معاملات درحقیقت کن ٹھوس وجوہات کی بنا پر اٹکے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں سے بلکہ بحث اس سوال کا جواب ڈھونڈنے پر مبذول رہی کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ازخود فون اٹھاکر عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کی سربراہ کو ”ہاتھ ہولا“ رکھنے کی استدعا کی یا اس خاتون نے مہربان ہوکر شہباز شریف صاحب کو دلاسہ

Read more

ہماری محلاتی سازشیں اور افغانستان کے انتباہی پیغامات

ذہنی سکون سے کہیں زیادہ اپنی آنکھوں کے تحفظ کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے میں ٹی وی کے علاوہ سوشل میڈیا سے بھی دوری اختیار کرنے کو مجبور ہوں۔ کچھ دن پہلے سونے سے قبل مگر موبائل فون میں موجود ٹویٹر اکاﺅنٹ پر نظر ڈالی۔ میری دیرینہ ساتھی نسیم زہرہ کے پروگرام کا ایک کلپ وہاں موجود تھا۔ میرا یار حامد میر اس میں تبصرہ آرائی کے لئے مدعو ہوا تھا۔ حامد دل کی بات اکثر ضرورت سے زیادہ

Read more

”ریاست کی بقا“ کے نام پر عوام کا مزید کچومر

تقریباََ دو مہینے قبل چند دیرینہ دوستوں کے ساتھ میں ایک مہربان کی جانب سے دی دعوت میں موجود تھا۔ وہاں ایک سینئر سیاستدان بھی مدعو تھے۔ تعلق ان کا جنوبی پنجاب سے ہے۔خود کو قومی سطح کا رہ نما بنانے کے بجائے وہ خود کو اپنے حلقے تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ اسی باعث 1990ء سے ہوئے ہر انتخاب میں جیت کر قومی اسمبلی پہنچ جاتے ہیں۔ عاجزی کم گوئی ان کی عادت ہے۔ میں انہیں زمینی حقائق سے

Read more

ایم کیو ایم کی بے سود آنیاں جانیاں

مجھ سادہ لوح کو گماں تھا کہ عمران خان صاحب کی جارحانہ سیاست کے نتیجے میں گزشتہ دنوں کے دوران نمایاں ہوئی محدودات جان لینے کے بعد ہمارے ”ذہن سازوں“ نے بھی کچھ سبق سیکھ لئے ہوں گے۔ کلیدی پیغام ان محدودات کی بدولت یہ ملا ہے کہ وہ جنہیں ”مقتدر قوتیں“ کہا جاتا ہے وطن عزیز میں یقینا فیصلہ کن اثر کی حامل ہیں۔ بوقت ضرورت وہ کسی سیاستدان کو یک وتنہا کرشمہ ساز تصور کرتے ہوئے اسے اقتدار

Read more

ماضی سے جڑی چسکہ بھری کہانیاں

میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے ”حقوق“ کے تحفظ کے لئے مختلف النوع آئینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ”بااختیار“ بنانے کے لئے اگرچہ وہ شاذ ہی بروقت متحرک نظر آئے۔ فقط اپنا اختیار ثابت کرنے ہی کو اکثر ہوش میں آتے ہیں۔ جمہوری نظام کا استحکام منتخب بلدیاتی حکومتوں کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ بدقسمتی مگر ہماری یہ رہی کہ 1958ء سے عسکری اداروں کی بالادستی کی وجہ سے اقتدار پر قابض ہونے والوں ہی نے ”اصل

Read more

کیا طے شدہ حدود سے تجاوز غیر آئینی نہیں

مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے بیشتر  نے یہ لطیفہ سن رکھا ہوگا۔ جی ہاں وہی جس میں ایک بادشاہ اپنے تئیں یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی رعایا میں ریاستی من مانیاں برداشت کرنے کی حد کیا ہے۔اس کی حد ماپنے کے لئے شہر کے ایک مصروف ترین پل پر ٹال ٹیکس کی شرح ناقابل برداشت حد تک بڑھادی جاتی ہے۔ رعایا اس کی بابت احتجاج کی جرات ہی نہیں دکھاتی۔ اسے مزید مشتعل کرنے کو یہ

Read more

طویل المدت ٹیکنو کریٹ بندوبست

رواں برس کے اپریل میں وزارت عظمیٰ کا منصب کھو دینے کے بعد عمران خان صاحب نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے فوری انتخاب کے حصول کی ٹھان لی۔ 25 مئی کے روز مگر اسلام آباد پہنچ کر بھی وہ ایسا ماحول بنا نہیں پائے جو ان کو اپنے طے شدہ ہدف کے قریب لے جاتا۔ بعدازاں لاہور سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کا اہتمام ہوا۔ اس کا شیڈول نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثرانداز ہونے کی خواہش

Read more

سیف سٹی اسلام آباد کے ناکارہ سی سی ٹی وی کیمرے

قابل ا عتماد ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ شہباز شریف صاحب ”نوائے وقت“ کے دیرینہ اور باقاعدہ قاری ہیں۔اگر یہ دعویٰ درست ہے تو امید باندھنے میں کوئی حرج نہیں کہ آج کے لکھے میرے کالم پر بھی ان کی نگاہ پڑ جائے گی۔ اس کے ذریعے کسی ذاتی مسئلہ پر ا ن کی توجہ دلانا مقصود نہیں۔ منگل کی رات ایک واقعہ ہوا۔اتفاقاًاس کا عینی شاہد بن گیا۔جو حقائق میرے مشاہدے میں آئے 1990ء کی دہائی تک پورے ملک

Read more

کیا ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے؟

15سال گزر گئے۔ اس خلش کو مگر آج تک دل سے نکال نہیں پایا کہ ”پاکستان کی دوبار رہی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اب اس دنیا میں نہیں رہیں“والے فقرے کے ذریعے میں نے کسی پاکستانی میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے نہیں بلکہ ایک بھارتی چینل کے توسط المناک خبر بریک کی تھی۔میری جانب سے یہ اندوہناک حقیقت عیاں کرنے سے چند ہی لمحے قبل تک عوام کو مطمئن رکھنے کے لئے جبکہ تسلی دی جارہی تھی کہ

Read more

اسلام آباد بلدیاتی الیکشن ہارنے کے خوف میں مبتلا مسلم لیگ (نون)

میڈیا کی دکھائی ”بگ پکچر“ ہی نہیں روزمرہّ زندگی کے مشاہدات کے تناظر میں بھی وفاقی حکومت کا جائزہ لیں تو وہ کامل بے بس ومجبور نظر آتی ہے۔ریاست کے دیوالیہ ہوجانے کے خوف سے بوکھلائی حکومت کو عمران خان صاحب نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے مزید الجھا رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں تاہم کچھ ایسے اقدامات نمودار ہوئے جنہوں نے عندیہ دیا کہ اردو شاعری کے محبوب کی کمر کی طرح ”ہے یا نہیں ہے“والا سوال

Read more

روح عصر پر دائمی اداروں کی گرفت اور سیاسی تماشہ

  رواں برس کے اپریل میں وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ ہوجانے کے بعد عمران خان صاحب بقول ا ن کے ”مزید خطرے ناک“ ہوگئے تو میرے کئی صحافی ساتھی اس کی بابت بہت جذباتی ہوگئے۔مجھ بڈھے کو نہایت خلوص سے یاد دلانا شروع کردیا کہ پاکستان کی    60 فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔وہ روایتی سیاست سے اکتا چکی ہے۔ حکمران اشرافیہ کی گرفت سے آزاد ہونے کو مچل رہی ہے۔ عمران خان صاحب نے کمال

Read more

پنجاب میں گمبھیر ابتری اور میرے خدشات

سیاستدان جب اپنے لئے مختص گیم کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے بجائے آئینی اور قانونی موشگافیوں میں پناہ تلاش کرنا شروع ہوجائیں تو بے بس ہوا لشکر نظر آتے ہیں۔ ایسا لشکر بالآخر ریاست کے دیگر اداروں کی رہ نمائی کا طلب گار بن جاتا ہے۔ خود کو بچگانہ انداز میں ان اداروں کی رضا کے سپرد کردینے کے باوجود سیاستدان بعد ازاں نہایت ڈھٹائی سے ”مداخلت“ کی دہائی مچانا بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ عوام اگر

Read more

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات۔ نون لیگ کے لیے مزید خفت

مسلم لیگ (نون) خود کش دکھتی ڈھٹائی سے یہ حقیقت فراموش کر چکی ہے کہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے بعد ”ووٹ کو عزت دو“ والے نعرے نے اسے احیائے نو والی توانائی فراہم کی تھی۔مذکورہ نعرے کو مگر اب بھلا دیا گیا ہے۔شہباز شریف صاحب کی قیادت میں مسلم لیگ (نون) بلکہ ایسی جماعت نظر آنا شروع ہوگئی ہے جو ہر صورت اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتی ہے۔ اقتدار کے حصول کے بعد اپنی

Read more

”تماشہ“ مزید کچھ روز جاری رہنے کا امکان

پیشہ ورانہ تقاضوں کی وجہ سے سیاستدانوں کے طرز عمل پر گہری نگاہ رکھنا میری جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے دل کی بات وہ قریب ترین رشتہ داروں کو بھی نہیں بتاتے۔ ہم صحافی ان کی کہی باتوں سے ”اندر کی بات“ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے ”تجزیہ کار“ بن جاتے ہیں۔ پیر کی صبح اٹھ کر لیکن ہاتھ میں قلم لئے بیٹھا رہا۔ فیصلہ نہیں کرسکا کہ عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی کے راستے ایک دوسرے

Read more

عمران خان کی قانونی مشکلات میں اضافہ

عمران خان صاحب کے لئے سیاسی اعتبار سے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے ضمن میں ”شیر آیا۔ شیر آیا“ والا رویہ برقرار رکھنا ممکن ہی نہیں رہا تھا۔ ہفتے کی شام لہٰذا پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھاکر انہوں نے اپنے تئیں حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کی جانب سے دی تاریخ پر ٹھوس عملدرآمد کے لئے مگر لازمی ہے کہ چودھری پرویز الٰہی آئندہ جمعہ کی صبح وزارت اعلیٰ کے دفتر سے گورنر

Read more

عمران خان کی ضد سے بڑھتا ہوا سیاسی خلفشار

صدر عارف علوی یہ امید تو دلارہے ہیں کہ مسلم لیگ (نون) کے با اثر رہ نما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب ان کے ساتھ ہوئی ملاقاتوں میں کوئی ایسی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ملک میں سیاسی استحکام کا ماحول اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ سوال اس کے باوجود یہ اٹھانا لازمی ہے کہ سیاسی استحکام کی کلید ان دنوں کس سیاسی رہ نما کے ہاتھ میں ہے۔ منطقی انداز میں مذکورہ سوال کا

Read more

پولٹری کی صنعت میں ابھرتے بحران

دس دن گزر چکے ہیں۔ ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا نے اس دوران اپنی تمام تر توانائیاں یہ طے کرنے میں خرچ کر دیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں کب ٹوٹیں گی اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں قومی اسمبلی کے لئے انتخابات بھی وقت سے پہلے ہوجائیں گے یا نہیں۔ اضطراب اور ہیجان کے اس ماحول میں فریاد کرتا رہا کہ مذکورہ اسمبلیوں کی تحلیل ایک دشوار عمل ہے۔ اس کے بارے میں چٹ منگی پٹ

Read more

تخت لاہور‘ وفاق پر ”چیک“ رکھنے کا ذریعہ

گزشتہ ہفتے کی شام عمران خان صاحب نے جب پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیاں توڑنے کے ارادے کا اعلان کیا تو محض پارلیمانی سیاست کے طویل مشاہدے کی بنیاد پر میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ مذکورہ ارادے کو عملی صورت دینے میں کونسی دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دلائل پر توجہ دینے کی مگر ہمیں عادت نہیں رہی۔عاشقان عمران بضد رہے کہ دونوں اسمبلیوں کے مستقبل کی بابت اب صبح گیا یا شام گیا والا معاملہ

Read more

عمران خان کا مداخلت کے لئے ”غیروں“ کو اکسانا

دو روز تک خاموش رہنے کے بعد عمران خان صاحب نے نئے آرمی چیف کے لئے خیرمقدمی ٹویٹ لکھ دیا ہے۔ اسے لکھتے ہوئے مگر اس خواہش کا اظہار بھی کردیا ہے کہ نئی عسکری قیادت آٹھ مہینوں کے دوران بقول ان کے ”ملت“ اور ”ریاست“ کے مابین ابھرے ”اعتماد کے بحران“ کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ مذکورہ تناظر میں تاہم ممکنہ اقدام کی نشاندہی سے انہوں نے گریز کیا۔عمران خان صاحب کے ایک بااعتماد ساتھی جناب اسد عمر

Read more

مسائل کی سنگینی کا ہمیں کماحقہ ادراک نہیں

داستانوں میں کمزور اور بے کس افراد کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جابر سلطانوں کے عروج اقتدار کے دنوں میں سرجھکائے ہوئے بھی وقتاََ فوقتاََ چند پتھر جمع کرتے رہتے ہیں۔بے تابی سے منتظر رہتے ہیں کہ طاقت کی حتمی علامت بنا شخص کسی کھائی یا کنوئیں میں گرجائے۔ اگر ان کی تمنا کسی روز عملی شکل اختیار کرلے تو کھائی یا کنوئیں میں گرے شخص کی مدد کے بجائے اپنی جیب میں جمع ہوئے پتھر

Read more

اقتدار کے سفاک کھیل میں مستقبل کی نقشہ سازی

چودھری پرویز الٰہی اور ان کے فرزند تواتر سے اصرار کئے چلے جارہے ہیں کہ عمران خان صاحب کا حکم ملتے ہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ گورنر پنجاب کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دیں گے۔ آئینی اعتبار سے ایسی ایڈوائس پر عمل درآمد لازمی ہے۔ یوں پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ شاید مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کو کامل اعتماد ہے

Read more

استعفوں کا اعلان، حکومت کے لیے نیا وختہ

تحریک عدم اعتماد کی بدولت اقتدار سے محروم کئے جانے کے بعد عمران خان صاحب نے جو جارحانہ انداز اختیار کر رکھا ہے وہ سیاسی اعتبار سے ان کی ذات اور جماعت کے لئے بہت سود مند ثابت ہورہا ہے۔ اس ضمن میں ان کی بنیادی کامیابی روایتی اور سوشل میڈیا کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے 24 گھنٹوں تک پھیلے نیوز سائیکل پر کامل اجارہ ہے۔ 26 نومبر کے روز انہیں 28 اکتوبر سے چلائے مارچ کے اختتام پر راولپنڈی

Read more

خلفشار کو بااختیار ”ثالث“ ہی قابو میں لا سکتے ہیں

”تعیناتی“ کے حوالے سے ہیجان کو بھڑکاتے ”ذہن ساز“ اور سیاستدان یہ حقیقت فراموش کئے ہوئے ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت بھی ہے۔ اس ضمن میں ہماری صلاحیت اور پروگرام ہمارے نام نہاد ”دوستوں“ کی نظر میں بھی کھٹکتا رہا ہے۔وہ ہمیں ایٹمی قوت بننے سے روک نہ پائے تو انتہائی منظم انداز میں ”محققین“ کے ذریعے یہ کہانی پھیلانا شروع کر دی کہ ہمارا پروگرام ”غیر محفوظ“ ہے۔ ”مذہبی انتہا پسند“ اس تک رسائی کو بے چین ہیں۔

Read more

اب ”اگلے موڑ“ کا انتظار کریں

ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم نے بہت محنت اور لگن سے عالمی سطح پر بطور ماہر معاشیات اپنا مقام بنایا تھا۔ جنرل ضیا کی سرپرستی میں حکومت کا حصہ بنے تو اکثر میرے پھکڑپن کی زد میں رہتے۔کچھ دنوں تک تلملانے کے بعد انہوں نے میرے ”ذرائع“ کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ میں کسی کاروباری یا افسرشاہی پر مشتمل گروہ کا کارندہ نہیں ہوں۔ جو ذہن میں آئے گھما پھرا کر لکھ دیتا ہوں

Read more

شق 243 اب کتاب کا ہی حصہ رہے گی

ہمارے نام نہاد تحریری آئین میں جو چاہے لکھا ہو فیصلہ با اختیار لوگوں کی اکثریت نے یہ کر رکھا ہے کہ عمران خان صاحب کو غضب ناک ہونے سے ہر صورت باز رکھا جائے۔ ایوان صدر میں براجما ن ان کے دیرینہ وفادارجناب عارف علوی کہنے کو تو ”علامتی“ حیثیت رکھتے ہیں۔ وفاقی حکومت سے بھیجی ہر سمری پر ان کو عمومی حالات میں بلاچوں وچرادستخط کر دینا چاہیے۔ آئین ہی نے انہیں یہ اختیار بھی تاہم فراہم کر

Read more

26 نومبر کے دھڑکے

یار لوگوں نے میری دیانت اور ایمانداری کو مشتبہ بنانے کے لئے کافی سوالات اٹھا رکھے ہیں۔ ”لفافہ اور ٹوکری“ کے القابات اس ضمن میں بہت مقبول ہیں۔ بدترین دشمن نے بھی اگرچہ عمران خان صاحب کا چاکر ہونے کی تہمت اب تک نہیں لگائی ہے۔ اس”اعزاز“ سے محروم رہنے کے باوجود اصرار کروں گا کہ تحریک انصاف نے حکومت وقت ہی کو نہیں اس کے سرپرستوں کو بھی پنجابی والا ”وختہ“ ڈال رکھا ہے۔ عمران خان صاحب کی مخالفت

Read more

سب کے لیے قابل قبول فارمولے میں دشواریاں

گزشتہ چند دنوں سے ہمارے ہاں کسی ”صحافی“ کے ”باخبر“ ہونے کا معیار یہ سوال بن چکا ہے کہ اسے ”تعیناتی“ کے بارے میں کتناعلم ہے۔ مجھ بے وقوف سے یہ حماقت سرزد ہو گئی کہ مخلصانہ عاجزی سے بیان کرنا شروع کر دیا کہ اس ضمن میں مجھے ککھ خبر نہیں۔ ”وہ“ جو سوچ رہے ہوتے ہیں اسے جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اگر آپ اسلام آبا د کلب کے ممبر نہیں تو تگڑے لوگوں کی مہربانی سے وہاں کم از کم ”ہائی ٹی“ کے لمحات میں موجود ہوں۔ اس کے علاوہ گالف اور پولو کلب بھی ہیں۔ ”دو ٹکے کے رپورٹروں“ کے لئے ایسی اشرافیائی کلبوں میں گھسنے کی گنجائش موجود نہیں۔

Read more

”غلطی ہو گئی“ کا احساس

رواں ہفتے کے آغازسے فریاد کئے چلا جا رہا تھا کہ تعیناتی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی راہ نکالی جائے۔ مقصد اس فریاد کا کسی خاص شخص کی حمایت نہ تھی۔ذاتی طور پر ”وہاں“ سے ریٹائر ہوئے کسی جونیئر ترین افسر کو بھی نہیں جانتا۔ جس عہدے پر تعیناتی کا انتظار ہے وہاں تک رسائی کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ملکی سیاست کا مگر دیرینہ شاہد ہوں اور 1991ء سے ”تعیناتی“ کے مراحل کے دوران جن

Read more

سول اور جمہوری بالادستی کے خواب

خود کو سب سے زیادہ باخبر ثابت کرنے کو روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ”ذہن سازوں“ کے مابین گزشتہ چند دنوں سے سخت مقابلہ جاری ہے۔ موضوع ”تعیناتی“ ہے۔ اس تناظر میں متوقع فرد کی خوبیاں انتہائی تفصیل سے بیان ہو رہی ہیں۔ کسی ایک نام پر تاہم اتفاق نہیںہورہا۔اسی باعث چند معتبر ”صحافی“ ایسے نام بھی آگے لانا شروع ہوگئے ہیں جو پنجابی محاورے ”نہ تہاڈی گل نہ ساڈی“کی عملی تفسیر ہوسکتے ہیں۔جس لگن سے قیاس آرائیاں ہورہی

Read more

مزید تاخیر قیاس آرائیوں کو ”سازشی مواد“ فراہم کرے گی

یہ بات اب کھل کر سامنے آرہی ہے کہ عمران خان صاحب اپنے لانگ مارچ کے اختتامی دنوں کو ان دنوں کے قریب لانا چاہ رہے ہیں جب ہمارے ہاں اہم ترین ”تعیناتی“ کی بابت حتمی فیصلہ ہونا ہے۔ اس تناظر میں ان کے ذہن میں ایک نام بھی ہے جسے وہ ہر صورت اس مقام پر فائز ہوا دیکھنا نہیں چاہ رہے۔ پیر کی شام منڈی بہاﺅالدین میں موجود حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ممکنہ تعیناتی کو

Read more

ہر حقیقت کے پیچھے ”اندر“ کی کوئی کہانی نہیں ہوتی

یقین ہونا شروع ہو گیا ہے کہ میری زبان ”کالی“ہے۔ جو برا خیال اس سے ادا ہو جائے بالآخر عمل پیرا ہوا نظر آتا ہے۔ اطمینان اگرچہ یہ سوچتے ہوئے میسر رہا کہ ذہن میں برجستہ طور پر نمودار ہوئے مایوس کن خیالات عموماً ہمارے سیاسی منظر نامے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ امید سے مایوسی مگر اب ”دیگر علاقوں“ میں بھی اپنا اثردکھانا شروع ہو گئی ہے۔ میرے دیرینہ قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ کرکٹ سے مجھے ہرگز لگاﺅ

Read more

سیاسی ہیجان خیزی اور شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ ملتوی

اپنے جارحانہ اندازِ سیاست کی وجہ سے عمران خان صاحب یقینا عالمی میڈیا کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ان دنوں کامل انتشار کی ز دمیں ہے۔سیاسی حکومتوں کی ”اوقات“ہمارے دوست اور دشمن عرصہ ہوا مگر خوب جان چکے ہیں۔ رواں برس کے آغاز تک اگرچہ انہیں یہ اعتماد بھی رہا کہ پاکستان کے عسکری ادارے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے موثر نظام کی بدولت معاملات کو ایک حد سے زیادہ بگڑنے نہیںدیتے۔ ان کے ہوتے

Read more

اور اب گیس کا بحران بھگتنے کیلئے تیار رہیں

بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں ہم محدود آمدنی والوں کی اوقات سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں اور اب باری ہے گیس کی۔ آپ کو اس ضمن میں مسلسل خبردار کرتا رہا ہوں۔میرے کئی خیرخواہ مگر مصر رہتے ہیںکہ لوگ مجھے ”باخبر“ صحافی سمجھتے ہیں۔انہیں گماں ہے کہ اقتدار کے مراکز میں جو کھچڑی پک رہی ہوتی ہے اس کے بارے میں مجھے ”سب معلوم “ ہوتا ہے۔ اپنی وجہ شہرت کو لہٰذا برقرار رکھوں اور اس کالم کے ذریعے

Read more

پولیس کا نظام کس کام کا؟

  رواں برس کے اپریل سے اس کالم میں آپ کو اکتادینے کی حد تک یاد دلاتا رہتا ہوں کہ جب مغل سلطنت اپنے کامل زوال کی جانب بڑھ رہی تھی تو پنجاب کا صوفی شاعر بلھے شاہ بلبلا اٹھا تھا۔”برا حال ہویا پنجاب دا“ کی دہائی مچانا شروع ہوگیا۔ربّ کریم نے مجھے بلھے شاہ جیسے تخلیقی ذہن سے مالا مال نہیں کیا۔ویسے بھی تنخواہ کا محتاج قلم گھسیٹ ہوں۔ ہر لفظ لکھنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے۔اس

Read more

”الجھنیں بڑھتی رہیں گی“

پیر کی دوپہر شروع ہونے سے کئی لمحے قبل شام ڈھلنے تک ہمارے ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر بینڈ، باجہ، بارات سمیت ٹِکر چلنا شروع ہوگئے۔ یہ ”خبر“ دیتے رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے آئی جی پنجاب کو حکم صادر کردیا ہے کہ عمران خان صاحب پر جمعرات کے روز ہوئے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر چوبیس گھنٹوں میں درج کر دی جائے۔ ورنہ…. یہ ٹِکر چلے تو میرے اور آپ جیسے کئی سادہ

Read more

پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا معاملہ

مسلح جدوجہد یا پہیہ جام جیسی تحاریک کے بغیر ”انقلاب“ نہیں لایا جا سکتا۔ ان کے علاوہ سیاسی اہداف کے حصول کے لئے جو حربے اختیار ہوتے ہیں وہ غیر سیاسی فریقین کو ”انتشار“ کی جانب دھکیلتے محسوس ہوتے ہیں۔اس کا خوف ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو ریاستی بندوبست کے محافظ ادارے حتمی کردار ادا کرنے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔نام نہاد جمہوری نظام دائمی اداروں کے متحرک ہوجانے کے بعد مضبوط ہو جانے کے بجائے کمزور تر ہو جاتا

Read more