مشرقی مطلق العنانیت اور وراثتی جمہوریت

مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک جاپان سے لے کرچین، انڈیا، پاکستان، ایران اور مشرق وسطی کے ممالک سے آگے بڑھتے ہوے جب ہم بر اعظم افریقہ میں داخل ہوتے ہیں تو مصر سے لے کر مراکش تک اور صحارا سے نیچے افریقی ممالک میں بھی ہمیں زمانہ قدیم سے ایک ہی طرز حکومت نظر آتا ہے۔ ان تمام ممالک میں ایک اکلوتے انسان کے ہاتھ میں مملکت کے تمام اختیارات اور طاقتیں مجتمع ہوتی تھیں اور دوسرے تمام

Read more

احتساب کٹہرے میں ہے

احتساب کا نعرہ ایک عرصہ سے اس ملک میں گونج رہا ہے۔ لیاقت علی خان سے لے کرشاہد خاقان عباسی تک کوئی بھی وزیر اعظم اس نعرہ کی زد میں آنے سے نہیں بچ سکا۔ سب سے پہلے ایوب خان نے اس سیاسی ہتھیار سے وار کر کے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے ساتھی سیاستدانوں کو نشانہ بنایا۔ جب مارشل لاء کی حکومت حسین شہید سہر وردی جیسے صاف، شفاف اور بہادر شخص کی کوئی اور کرپشن نہ ڈھونڈھ

Read more

مائنس نواز شریف فارمولہ سے ہونے والے اضافی نقصانات

پاکستان میں سیاسی بنیادوں پرچلاے جانے والے فوجداری مقدمات کی فہرست طویل ہے۔ سیاستدان جب لالچ اور دباؤ کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں تو ان پر اس طرح کے مقدمات بناے جاتے ہیں۔ ان تمام مقدمات میں سے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کا مقدمہ سب سے زیادہ پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوا ہے۔ چالیس سال گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ مقدمہ دنیا میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ اس

Read more

جمہوریت اندھیرے میں مر جاتی ہے

اندھیرا، اندھیرا، ہر طرف گھپ اندھیرا۔ کیا ہو رہا ہے، کیسے ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ سب پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ بولنے پر پابندیاں، لکھنے پر پابندیاں اوراب سوچ پر بھی پابندی لگنا شروع ہو چکی ہے۔ 5 جولائی 1977 کے بعد اخبارات سفید آیا کرتے تھے کیونکہ ضیا الحق نے جمہوری حکومت کے خلاف قرطاس ابیض جاری کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ کچھ نہ نکل سکا تو اخبارات کے صفحات ہی سفید کردیے۔ اب

Read more

جب استاد دامن کے گھر سے بم برآمد ہوئے

ڈاکٹر ایوب مرزا ترقی پسند ادب اور انقلابی سیاست کا ایک گرانقدر نام ہے۔ وہ طالب علم رہنما اور پاکستان کی ابتدائی سیاسی تحریکوں کے روح رواں تھے۔ اس دوران جیل کاٹی۔ 1953 میں جب ترقی پسند قوتوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، تو لندن چلے گئے۔ جب فیض احمد فیض 1962 میں لینن انعام وصول کرنے ماسکو جا رہے تھے تو راستے میں لندن کے قیام کے دوران انہوں نے ڈاکٹر ایوب مرزا سے واپس آکر سیاسی کام

Read more

بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ وہ مذہب کا ہتھیار استعمال نہیں کرتے

کیا مذہب سماج پرریاستی قبضہ مضبوط کرنے کا ایک ہتھیار ہے؟ کیا مذہب کو حکومتی یا ذاتی مفادات پورے کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے طاقتور حکمران طبقات نے اپنی رعایا کو زیر اثر رکھنے کے لئے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یورپ تاریک دور میں صدیوں تک جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا رہا۔ اس دوران بادشاہ، شرفاء اور چرچ نے مل کر مذہبی عقائد کی بنیاد پر عوام پر اپنا تسلط قائم رکھا۔ عوام کو مذ ہبی رہنماؤں نے اس مخمصے میں الجھائے رکھا کہ موجودہ زندگی کی مشکلات خدا کی طرف سے ہیں۔ خدا کسی کو کم دیتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ اس زندگی کی مشکلات اُخروی زندگی میں آسانیوں کا رستہ ہموار کرتی ہیں اور خدا کی رضا میں راضی رہنا ہی انسان کی ابدی کامیابی کی کنجی ہے۔

Read more

سلیکٹڈ وزیراعظم

گذشتہ ہفتہ کا سب سے اہم مذاق قومی اسمبلی سے نمودار ہوا۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عمر ایوب کی تحریک استحقاق کو منظور کرتے ہوے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی لگا دی۔ منتخب عوامی (؟ ) وزیر اعظم کو (کسی طاقتور ادارے ) کا چنا ہوا یا لگایا ہواآدمی کہنا پارلیمنٹ اور اس میں موجود افراد کی توہین قرار دیا گیا اور حکم جاری کیا گیا کہ یہ کہنا غیر قانونی ہے۔ سب سے پہلے سلیکٹڈ کا لفظ بلاول بھٹو نے اپنی پہلی تقریر میں دانستہ یا نا دانستہ طور پر عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوے استعمال کیا تھا اور اس پر حکمران جماعت نے بغیر سوچے سمجھے بھر پور دادبھی دی تھی۔

Read more

نا اہل حکمران اور ان کی حماقتیں

جب سے موجودہ حکمران اسلام آباد کی سڑکوں، جمہوری اداروں اورمعاشرہ کی اخلاقی حدود کو روندتے ہوئے اس پارلیمنٹ میں براجمان ہوئے ہیں جس کی دیواروں پر انہوں نے اپنے پاپ زدہ کپڑے دھو کر سکھائے تھے، ملک ایک ایسی ڈگر پر چل نکلا ہے جس کی منزل خطرناک اور ہولناک دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ حکمران نا اہل بھی ہیں اور عقل کا استعمال کرنے سے عاری بھی۔ ایک دو فلاحی اداروں اور چھوٹی موٹی تجارتی کمپنیوں کو چلانے کے علاوہ ان کا تجربہ بھی کچھ نہیں ہے۔

Read more

تقدیس مشرق، قحط زدہ معاشرہ اور اخلاقی گراوٹ

پچھلے ہفتہ اسلام آباد میں وقوع پذیر ہونے والے چند واقعات نے تقدیس مشرق کی ملمع کاری سے آراستہ بے بنیاد خوبصورت دیواروں کو ایک ایسا جھٹکا دیا ہے کہ ان کو استوار کرنے والوں کی ارواح بھی کانپ گئی ہوں گی۔ طعنے دیے جاتے ہیں کہ غربت اور جہالت گناہوں کو جنم دیتی ہے۔ یہاں تو شاعر مشرق کو سمجھنے اور اس کو اوتار مان کر اس کے ہر کام و نام کی نقل کرنے والوں کی اولاد ملک

Read more

حرف حق کی صلیب اٹھاے عیسیٰ آئے

جسٹس (ر) منیر کے بعد سے تمام قوم ایک بات پر متفق تھی کہ کم از کم اس جہاں میں اس ملک میں طاقتور کے خلاف کوئی قانون حرکت میں نہیں لا یا جاسکتا اور ہمارے اعلیٰ قانونی ادارے اور ان میں بیٹھے بڑے بڑے نام اس طرح کی کوئی حرکت کر کے خود کو مصیبت میں نہیں ڈال سکتے اور عوام بھی ذہنی سکون میں تھے کہ امید ہی نہیں رکھنی۔ کیا کچھ نہ ہوا؟ ملک ٹوٹا۔ آئین ٹوٹے۔ منتخب عوامی نمائندے پھندوں پر جھول گئے۔ عوام کو پتا تھا کہ اوج پہ ہے طالعِ رقیب اس لئے آج کی جدائی پر غمزدہ نہیں ہونا، کل باہم ہو لیں گے۔ کسی اہل ہوس منصف سے منصفی نہیں چاہنی ہے۔ بس رہے نام اللہ کا۔ اور جو ملے اس پر صبر کر لینا ہے۔ اور آئین سے لے کر آئینی وزیراعظم تک کی لاش کو جیسے بھی دفن کردیا جاے صرف اس پر مزار بنا کر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔

Read more

حمزہ، شہباز اور دم چھلا

اورنگ زیب جنگ ہار رہا تھا۔ اس کی فوج بھاگ چکی تھی۔ چند جان نثار ہی بچے تھے جو اس کے ہاتھی کے گردمزاحمت کر رہے تھے۔ فوج کو یہ تسلی دینے کے لئے کہ شہزادہ میدان چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں ہے اس نے حکم دیا ہاتھی کے پاؤں میں زنجیریں ڈال دی جائیں۔مغل شہزادے پر کوئی وار کرنے کو تیار نہ تھا۔ کیونکہ ریاستی اصول کے مطابق مغل شہزادے کو نقصان پہنچانے والے کا پورا خاندان ہی مار دیا جاتا تھا۔ داراشکوہ کو مشورہ دیا گیا کہ صرف آپ ہی یہ کام کرسکتے ہیں آگے بڑھ کر خود اس پر حملہ کریں۔ وہ ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ فوج میں افواہ پھیل گئی کہ دارا مارا گیا۔ ڈاکٹر برینئر نے لکھا ہے کہ ہندوستانی فوج فرانسیسی اور یورپین افواج کی طرح منظم نہیں ہوتی ہیں اور اگر کوئی ایسی افوہ پھیل جاے تو بھگڈر مچ جاتی ہے کیونکہ فوج کے مفادات اس ایک آدمی سے ہی وابستہ ہوتے ہیں وہ ہی نہ رہا تو فوجیوں کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑ جاتی ہے۔ دارا کے ہاتھی کو خالی دیکھ کر اس کی فوج بھا گ اٹھی۔ برینئرجو کہ اس وقت دارا کی فوج میں موجود تھالکھتا ہے کہ اورنگ زیب کا یہ فیصلہ اس کو دہلی کے تخت تک لے گیا اوردارا شکوہ کے فیصلے نے اس کو صحراؤں کی خاک چھاننے کی راہ پر ڈال دیا۔

Read more

اسقاط حمل: فیصلہ صرف عورت کا؟

امریکی ریاست الابامہ میں ابارشن کے بارے میں 14 مئی کو ایک انتہائی متنازع قانون منظور ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق تقریبا ً ہر قسم کی ابارشن غیر قانونی ہو گی۔ صرف ایسے حمل جن میں پیدائشی نقائص کے حامل بچے جو کہ ماں کے پیٹ سے باہر آ کر زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر وہ حمل جن کی وجہ سے ماں کی زندگی

Read more

آئی ایم ایف کے سونامی سے اچھائی نکل سکتی ہے

آئی ایم ایف کے آنے والے سونامی کی ابتدائی ہوائیں چلتے ہی روپیہ ردی کاغذ کے پرزوں کی طرح اڑنا شروع ہوگیا ہے اور کسی کے ہاتھ آتا نظر نہیں آرہا۔ اس کے ساتھ اب مہنگائی کا ایک بہت بڑا طوفان اٹھے گا جو مڈل کلاس کے لاکھوں افرادکو خط غربت سے نیچے پٹخ دے گا۔ غریب عوام تو مشکل حالات کے عادی ہو چکے ہیں اب تھپیڑے فیکٹری مزدوروں، ملازموں، چھوٹے کسانوں، دوکان داروں، درمیانہ درجہ کے تجارت پیشہ اور متوسط تنخواہ دار طبقات کو زیادہ شدت سے پڑیں گے۔عالمی حالات بھی ابھی پاکستان کے خلاف ہی جائیں گے۔ امریکہ ایران تنازعہ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں اور اوپر جائیں گی۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزیدبوجھ پڑے گا۔ اور اگریہ جنگ چھڑ گئی یا پھر گوریلا جھڑپیں اوراکا دکا پٹاخے بھی چلنا شروع ہو گئے تو میدان جنگ کے اثرات پاکستان تک بھی آئیں گے۔ کچھ نہ کچھ ہمارے علاقے بھی متاثر ہوں گے۔ پراکسی وار ہمارے ملک میں بھی لڑی جاے گی۔ جس سے کمزور معیشت اور مشکل کا شکار ہوگی۔

Read more

ایران جنگ، تاریخی تناظر میں

”رومی مغلوب ہوے۔ پاس کی زمیں میں، اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برس میں، حکم اللہ ہی کا ہے۔ آگے اور پیچھے“۔ سورۃ رومسید مودودی اس سورۃ کی تفسیر کے آغاز میں لکھتے ہیں۔”نبوت سے آٹھ سال پہلے قیصر روم ماریس جو کہ ایرانی بادشاہ خسرو پرویز کا محسن تھا، کے خلاف بغاوت ہوئی۔ فوکاس نے اس کے پانچ بیٹوں کو اس کے سامنے اور پھر اسے قتل کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ خسرو کو روم پر حملہ کرنے کا بہانہ مل گیا۔ 603 عیسوی میں اس نے سلطنت روم کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور چند سالوں میں ایشیاے کوچک سے لے کر شام کے شہر حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت نے جب دیکھا کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا تو وہ افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوے جس نے اپنے بیٹے ہرقل کو ایک طاقت وربیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔

Read more

لوگ نواز شریف کوجیل چھوڑنے کیوں گئے؟

اب کے کہانی نواز شریف کے حکومت سنبھالتے پہلے ماہ میں ہی شروع ہو گئی تھی جب حکومت کو سپریم کورٹ میں سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ شروع کرنا پڑا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی آمر کے ماورائے آئین اقدام کو اعلیٰ عدالت یاپارلیمنٹ سے جائز ہونے کا پروانہ نہیں ملا تھا۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس پہلے ہی زیر سماعت تھا۔ لیکن عبوری حکومت نے عدالت میں کہہ

Read more

آئی ایم ایف کا پاکستان

جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، ملکی معیشت تباہی کی طرف ہی جا رہی ہے۔ روپے کی قدر گر رہی ہے۔ بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ افراط زر بڑھ رہا ہے۔ تمام ترقیاتی منصوبے بھی رکے ہوے ہیں، لیکن مالی خسارہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ روپے کی قدر گرنے کے باوجود غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے برآمدات بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہیں۔ حکومت وقت کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگیاں، تعطل کا شکار ہیں، جس سے گردشی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں۔

Read more

ہمارا مستقبل کا ہیرو

بھٹو، اندرا گاندھی، کمال اتاترک، جمال عبدالناصر، نیلسن منڈیلا، مارگریٹ تھیچر، چرچل، لینن علیحدہ علیحدہ ممالک اور نظریات کے ساتھ نہ صرف اپنے ممالک میں سیاسی ہیرو کے طورپر پہچانے جاتے ہیں بلکہ پوری دنیا میں ان کی بعض پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود عز ت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی قوم کی بھی خدمت کی اور ان کے اقدامات پوری دنیا پر بھی اثر انداز ہوے۔ ان کی مثالیں علمی اور سیاسی حلقوں میں ہمیشہ سے ہی پیش کی جاتی رہی ہیں اور مستقبل میں بھی یہ لوگ زیر بحث رہیں گے۔ اگر چہ ان کی شخصیت ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہے لیکن ان تمام لوگوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ وہ ہیرو ہیں۔ یہ تمام لوگ سخت مخالفت اور بعض مرتبہ تضحیک کے باوجود اپنے دور اندیش اقدامات کی وجہ سے اس منزل تک پہنچے۔ یہ اور اس طرح کے اور بہت سے ہیرو پوری دنیا میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔

Read more

مئی کا مہینہ، بن لادن اورسید احمد شہید کی برسی

مسلمانوں نے دنیا کے تمام دوسرے مذاہب کے برعکس اپنی پہچان کے لئے امہ کی ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی۔ امہ یا امت مسلمہ کا مطلب مومنین پر مشتمل ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں مذہب اور سیاست ایک ہی چیز تھی۔ قرون اولی ٰ سے لے کر سلطنت عثمانیہ کے زوال تک کے مسلمانوں کی دیگر شعبہ جات میں کامیابیاں بھی اس ایک لفظ میں سموئی جا تی ہیں۔ اس لفظ کی وسعت میں مسلمانوں کا ماضی اور مستقبل

Read more

پاکستانی منڈیوں پر چین کی اجارہ داری

ولادیمیر لینن 1917 میں جاری شدہ مقالہ ”سامراجیت، سرمایہ داری کی معراج“ میں لکھتے ہیں، ”آزاد مقابلہ (منڈی) سرمایہ داری نظام کی خصوصیت ہے لیکن ہم نے اس مقابلہ کو اجارہ داری میں بدلتے دیکھا ہے۔ جب بڑی صنعتیں قائم ہو جاتی ہیں تووہ چھوٹی صنعتوں کو نکال باہر کرتی ہیں۔ اس طرح سرمایہ اور پیداوار چند درجن ہاتھوں میں منتقل ہوکر اجارہ داری قائم کردیتے ہیں“۔

یہ وہ دور تھا جب پہلی جنگ عظیم جاری تھی جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک جرمنی کی بڑھتی ہوئی سرمایہ داری اور پیداوار کی صلاحیت تھی جو کہ پورے یورپ پر غالب آنے کے قریب تھی۔ اس جنگ کی سب سے بڑی وجہ برلن سے بغداد تک کی ریلوے لائن کہی جاتی ہے۔ یہ لائن 1903 میں بچھانی شروع کی گئی۔ اس کے لئے اس قدر سرمایہ چاہیے تھا کہ اس میں انگلینڈ سمیت مختلف ممالک کو شمولیت کی دعوت دی گئی۔ انگلینڈ جرمن کا تجارتی ساتھی تھا۔

Read more

پہن سنھری چولہ دھرتی بنی دلہن

زمین کی یہ دلہن آج کل سنہری اوڑھنی اوڑھے سجی بیٹھی ہے۔ اس دلہن کو سہاگن کی طرح سجانے میں گھر والوں کی سخت محنت کارفرماہوتی ہے۔ آنکھوں میں خواب سجا ے اس کا مالک اپنی محنت کا پسینہ نچوڑ کر اس کی آبیاری کرتا ہے۔ اور جیسے ہی یہ دلہن زمین کا سینہ چیر کر باہر نکلتی ہے تو اس کے ہری ہری باریک بالیں کسان کے پسینے کی خوشبو کو ہر سو پھیلا کر فضا کو معطر کر دیتے ہیں۔ تمام گھر والے ا س کے جوان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے خوابوں کو بھی جوان ہوتا دیکھتے ہیں۔ہر گوشے کے ساتھ ان کی امید کا دھاگا بندھا ہوتا ہے۔ گھر کی دیواریں اونچی کرنی ہوں، بیٹے کا داخلہ جانا ہو یا بیٹی کو رخصت کرنا ہواس سے ہی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ دلہن سال میں دو مرتبہ تیار ہوتی ہے، خریف کے ٹھنڈے موسم کے شروع ہوتے ہی اورربیع کی سردی کے اختتام پر گرمیوں کو آغاز میں۔ دونوں موسموں میں اس کی سج دھج دیکھنے والی ہوتی ہے۔ لیکن گرمی میں اس کے حسن پر نظر نہیں ٹکتی اور اس کی خوشبو مسحور کن ہوتی ہے۔

Read more

سوڈان، صدارتی نظام کی ناکامی

جمہوریہ سوڈان افریقہ کا تیسرا بڑاملک ہے جو 1956 میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔ قدیم زمانے میں اس کو ”بلادالسودان“ کالوں کی زمین کہا جاتا تھا۔ شروع میں اس کو منفی پہلو میں پکارا جاتا تھا کہ یہ کالے غلامو ں کی زمین ہے، لیکن پچھلی صدی کے شروع میں جب اس قوم کے جوان جدید علم سے روشناس ہوے تو ان میں قومیت کا احساس پیدا ہوا۔ سوڈان میں پرانے زمانہ سے عورتوں کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حکومت کی وراثت عورت سے چلتی تھی۔

Read more

مشہور ترین لوگ جو سیاست میں بری طرح ناکام ہوئے

 انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک حکمرانی رہی ہے۔ مشہور ہو جانا اس خواہش کے رستے کی ایک سیڑھی ہے۔ دوسرے انسانوں سے اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع ثابت کرنا اور منوانا حکومت کے حصول اور دوام میں ہمیشہ سے مدد گار رہے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک میں قدیم زمانہ سے حکمران، باد شاہ اور ان کے خاندان کے افراد ما فوق البشر خصوصیات کے حامل ہونے کے دعوےٰ دار ہوتے تھے۔ مصر، جاپان، تبت، سیام اور

Read more

نواز شریف کا سب سے بڑا امتحان

نوازشریف اس وقت عمر اور تجربہ میں ملک کے سب سے بڑے سیاست دان ہیں۔ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ملک کے واحد سیاستدان ہیں جو تین مرتبہ وزیر اعظم اور دو مرتبہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ وہ اکلوتے سیاستدان ہیں جنہوں نے کسی الیکشن میں غیر متنازع دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ اس طرح ان کو ملک کا مقبول ترین لیڈر بھی کہا جا سکتا ہے۔

Read more

سنگین غداری کیس کے پاکستان کے مستقبل پر اثرات

سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ، ”مشرف 2 مئی کو پیش نہیں ہوتے تو کیس کا ٹرائل ملزم کی غیرحاضری میں مکمل کیا جائے“۔ سنگین غداری کا کیس درج کروانا حکومت ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کیس کا آغاز کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دباؤ رہا لیکن آصف زرداری نہیں مانے۔ نواز شریف کی حکومت کا آغاز پانچ جون 2013 میں ہوا تو اس سے اگلے دن سپریم کورٹ میں اسی کیس کے متعلق بات کرتے ہوئے بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر متعلقہ اتھارٹی اس کو شروع کرنے سے اجتناب بھی کرے تو پھر بھی ہم آرٹیکل چھ کی وضاحت ضرور کریں گے۔

Read more

بس اب بہت ہو چکا

اب ہمارے مقناطیسی شخصیت کے مالک سابق کرکٹر عمران خاں کو حکومت سنبھالے نو ماہ ہو نے کو ہیں۔ ان کو دانستہ یا نادانستہ بلاول بھٹو نے سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر پکاراتو محترم خا ں صاحب نے بھی بھولے پن میں ان کی اس بات پر داددی۔ پہلے پہل ان کی الیکشن میں اس فتح پر غیر سیاسی قوتوں نے اپنی کامیابی محسوس کی لیکن اب حالات کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ یہ قوتیں پچھلی ایک دہائی سے نا پسندیدہ سویلین قیادت سے مسلسل حکومت چھین لینے کی کوشش میں تھیں۔اس کھینچا تانی سے ملک کمزور اور غیر محفوظ ہوا۔ پچھلے سال خان صاحب کے مخالفین اور غیر ملکی مبصرین نے اہل پنڈی اور ڈ ی چوک کے باسیوں پر الیکشن میں تحریک انصاف کی مدد کا خوب شور مچایا۔ درحقیقت میڈیا پر پابندی، مذہبی انتہا پسندوں کی پشت پناہی، ان کے الیکشن میں حصہ داری، سیاستدانوں پرعائدکفرو غداری کے فتاویٰ اور الیکشن سے کچھ دن پہلے انتہائی مضبوط امیدواروں کی سزاوں سے نا اہلی کے اقدامات نے دائیں بازو کے ہامی خان صاحب کی انتخابات جیتنے میں مدد کی۔

Read more

ہم یوم جمہوریہ کب منائیں گے؟

ہم اتحاد کی روح کی دعاکرتے ہیں، کہ ہم اپنے تمام مسائل اچھے طریقے سے بات چیت سے حل کر سکیں۔ ہم (مملکت) کے تمام معاملات کی عکاسی تلخی کے بغیرکر سکیں۔ ہم (مملکت) کے تمام وسائل، تمام حصہ داروں میں برابری سے تقسیم کرسکیں۔ کہ ہم اپنا حصہ عاجزی سے وصول کریں رگ ویدا کے یہ وہ الفاظ ہیں جو قبل مسیح میں عوامی جمہوری اجتماعات سے پہلے گائے جاتے تھے۔ ہندوستان کی تقسیم کا اعلان جون 1947 میں

Read more

استاد کا مرثیہ

اتہاس میں مختلف شخصیات کو خدا کا پرتو کہا گیا ہے۔ خدا کو زمین پر سامنے لا کر دیکھنے کی تمنا انسان کی جبلت میں ہے۔ انسان کی یہ خواہش ہمیشہ رہی ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی، لیکن خدائی صفات کا حامل انسان دھرتی پر اسی کا مظہر ہے۔ خدا اور انسان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ازل میں خدائے بزرگ و برتر نے ملائکہ کے خیال بدگمان کو شکست خوردہ دیکھنے کے لئے آدم سے خالق و مخلوق کا رشتہ جوڑنے کے فورا ً بعداستاد کا رشتہ استوار کیا۔ ”وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمآء َ کُلَّھَاثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓءِکَۃِفَقَالَ اَنْبِءُوْنِی بِاَسْمَآءِ ہٰٓوءُ لَٓا ءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ اور اس نے آدم کو (سب چیزوں ) کے نام سکھاے۔ ، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ “ سورۃالبقرۃ

Read more

انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے ریاست کی ذمہ داریاں

دنیا کے تمام معاشرے سیاسی اور معاشرتی طور پر ایک خاص ڈگر پر چل رہے ہوتے ہیں۔ معاشی طور پرطاقتوراور حکمران طبقہ کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملات جوں کے توں چلتے رہیں اور ان کے مفادات پورے ہوتے رہیں۔ مضبوط لوگ کوشش کرتے ہیں کہ نسل در نسل ان کے اختیارات بڑھتے جائیں۔ ان کے بعد ان کی اولاد اور بھی زیادہ طاقتور بن کر ابھرے۔ معاشرہ میں کچھ لوگوں سے زیادتی ہو رہی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس کو سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

Read more

ففتھ جنریشن وار اور میڈیا پر پابندیاں

انسان کی تاریخ جنگوں کی تا ریخ ہے۔ پہلے دو گروپ آمنے سامنے آجاتے تھے اور لڑتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آلات حرب تبدیل ہوتے گئے۔ لیکن ہمیشہ سے اپنے مخالف کو جھوٹا، کمزور، بے ایمان، مکاراوربزدل ثابت کرنا اور اپنے آپ کو بہادر، طاقت ور، سچا اور راہ راست پر کہناجنگ میں شامل رہا ہے۔ نیک نامی، تشہیر اور تبلیغ ہمیشہ سے جنگ کے ہتھیاررہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، دوران اور بعد میں پروپیگنڈا انتہائی اہم ہے۔اسلام سے قبل کے شاعر عرب معاشرہ میں مورخ، جوتشی، داعی اورصحافی کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں انوکھی سوچ کو فروغ دینا اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے والے اشعار ہوتے تھے۔ قبائل کے قصیدے اور مخالفین کی ہجو گوئی ان کی شاعری میں شامل تھی۔ مکہ کے قریب واقع ”عکاز“ کے بازارمیں شاعری کے سالانہ میلے ہوتے تھے جن میں تمام عرب کے شعرأ طبع آزمائی کرتے اور ان کے اشعار پورے عرب میں حفاظ سناتے۔ اس طرح رائے عامہ کے خیالات میں تبدیلی کا باعث بنتے۔

Read more

صنعت تضاد

تضاد دنیا کی ابدی و آخروی حقیقت ہے۔ یہ دنیا کے استقام اور ترقی کی علامت ہے۔ مخالف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ہوے ارتقأکا سبب بنتی ہیں۔ ادب کی زبان میں اس تضاد کوخوبصورتی سے استعمال کیاگیا ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں میں تضاد کو استعمال کرتے ہوے شاعری، ڈرامہ اور نثر میں اعلی ٰدرجہ کی تخلیقات وجود میں آیئں۔فیض احمد فیض جیل میں تھے، ان سے ملاقات پر پابندی تھی۔ لیڈی عبداللہ ہارون تمام پابندیوں توڑ کر جیل پہنچ گئی تھیں۔ اس جرأت کی داد دیتے ہوے فیض صاحب نے ”حبیب عنبر دست“ نظم لکھی۔ جب وہ جیل سے رہا ہوے تو جاب ختم ہو چکی تھی۔ ان کو عبداللہ ہارون کالج کے ریکٹر کا عہدہ پیش کیا گیا۔ اس دوران لیڈی عبداللہ ہارون کو وفات کے بعدکالج کے احاطہ میں دفن کر دیا گیا۔ فیض صاحب روزانہ قبر کے پا س سے گزرتے تھے۔ اس وصل و ہجرکی متضادحالت کوایک مرثیہ میں انہوں نے انتہائی خوبصورتی سے اکٹھا کیا۔

Read more

انسان جنگ کرتا کیوں ہے؟

آپ دنیا کی تاریخ کی کوئی کتاب پڑھ لیں آ پ کا ایک ہی تاثر ہوگا کہ ا نسان کو ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنے کا موقع مشکل سے ہی ملتا ہے۔ تاریخ کی یہ کتابیں عام طور پر 3000 سال پرانی مصر اور سمیرین (دجلہ و فرات) تہذیبوں سے شروع ہو کر آ ج تک کی لامتناہی جنگوں کی فہرست سے مزین ہیں۔ 1740 سے 1897 کے درمیان یورپ میں 230 انقلابات اورجنگیں ہویئں۔ جن میں شامل ممالک نے جنگی اخراجات سے اپنے آپ کو تقریباًدیوالیہ کر لیا۔

انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال شروع ہوا، جس کا مطلب تھا کہ جنگ کا جلد اختتام۔ اس سے جنگوں کی تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔ لیکن حقیقتاً ان سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 1740 سے 1897 کے درمیان تین کروڑ ہلاکتوں کے مقابلہ میں صرف پہلی جنگ عظیم میں پچاس لاکھ سے سوا کروڑ اور دوسری میں پانچ کروڑ اموات ہوئیں۔

Read more

شہزادے کا دورہ، کشمیر چین اور دہشت گردی

اب جب کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ایشیائی ممالک کا دورہ مکمل ہو چکا ہے وقت ہے غور کریں کہ اس سے ہمیں کیا سبق سیکھنا چاہے۔

شہزادہ اگر چہ ابھی ولی عہد ہے مگر حقیقی طور پر مملکت کے اندرونی اور بیرونی تمام معاملات میں وہی حرف آخر ہے۔ انہوں نے اپریل 2016 میں سعودیہ کا وژن 2030 کا پروگرام پیش کیا جس کا ہدف اپنی معیشت کا انحصار تیل سے کم کر کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ معاشی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا، جس میں تیل کے ساتھ ساتھ اشیاء کی تجارت مثلا ہتھیار، اشیاء صرف، سیاحت وغیرہ کو فروغ دینا ہے۔

اس سلسلے میں اکتوبر 2018 میں ریاض میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جو کہ پوری طرح کامیاب نہ ہوئی کیونکہ اس سے پہلے ترکی میں جمال خشوگی کا قتل ہو گیا۔ اس قتل کے بعد سعودیہ مغربی دنیا میں کارنر ہوتا چلا گیا۔ اور شاید اسی وجہ سے ولی عہد کا ملائشیا اور سنگا پور کا موجودہ دورہ بھی ملتوی ہوا۔ سعودیہ پچھلے چار سال سے یمن میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ یمن کی جنگ کی طوالت کی وجہ سے ہلاکتیں اور عام شہریوں کی تکلیفات بڑھ رہی ہیں اوراس سے بھی سعودیہ پر عالمی دباوبڑھتا جا رہا ہے۔

Read more

خشخاش کے پھول

خشخاش کے پھول صدیوں سے سکون، امن اور ابدی نیند کی علامت کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ سکون، کیونکہ اس پودے سے درد کی دوا افیون ملتی ہے۔ پھولوں کا رنگ سرخ ہونے کی وجہ سے ابدی نینداور موت۔ یونانی اور رومی روایتی کہانیوں میں اس کو موت کے بعد دوسری زندگی کی علامت بھی جانا جاتا تھا۔ ان کو قبر کے کتبہ پربھی کندہ کیا جاتا رہا ہے۔

خشخاش کے بیج بہت سخت جان ہوتے ہیں اور سو سال تک زمین میں موجود رہتے ہیں۔ جو نہی زمین میں مناسب تبدیلی ہوتی ہے یہ اگنا شروع کر دیتے ہیں۔ جنگ سے پہلے یورپ کی زمین میں چونے کی مقداراتنی کم تھی کہ اس میں خشخاش کے پودے کم ہی اگتے تھے۔ تباہ شدہ گھروں اوردیواروں نے مردہ لوگوں کی ہڈیوں کے ساتھ مل کر مٹی میں چونا اور کیلشئیم کی مقدار کا اضافہ کردیا جس سے زمین پر سرخ پھولوں کا قالین بچھ گیا۔ اس طرح جنگ عظیم کے میدانوں میں ان پودوں کی وسیع فصل نظر آئی۔

Read more

شادی کی دعوت: تاریخ اور میرج ایکٹ کا برپا کردہ حال

شادیوں میں کھانے (ون ڈش) اوررات دس بجے تک وقت کی پابندی سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ۔ قدیم یونان، قرون اولیٰ، عباسی، مغل ادوار اور پنجاب سے مثالیں۔ تاریخی طور پر کیا یہ پابندیاں مناسب ہیں، اور اس قانون سے عوام الناس پہ کیا اثرات ہورہے ہیں

آج کل پاکستان میں شادیوں کا سیزن چل رہا ہے۔ خاندانوں کی زندگی میں شادی سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی صرف دو افراد کے نکاح کا نام نہیں بلکہ دو خاندانون کے لٰے مسرت کا وہ وقت ہے جس کا انہوں نے شاٰٰید سالوں انتظار کیا ہو۔ شادی کی تیاری میں سال ہا سال لگتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست احباب مہینوں اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ رشتہ ڈھونڈنے سے لے کر دلہن کے پیا کے گھر پہنچنے تک بے شمار رسومات ادا کی جاتی ہیں اور ان میں سینکڑوں لوگ حصہ لیتے ہیں شادی کی بڑی تقریبات مہندی بارات اور ولیمہ ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات شہروں میں زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہیں۔ رات کی شادی کاروا ج بہت پرانا ہے۔

زمانہ قدیم کے یونانی سردیوں کی رات میں شادی کرنا پسند کرتے تھے۔ جنوری کا مہینہ ان کا پسندیدہ تھا۔ یہ ہیرا دیوی اور زیوس کی شادی کی وجہ سے متبرک گنا جاتا تھا۔ یونانی پورے چاند کی راتوں کو شادی کرنا زیادہ اچھا سمجھتے تھے۔ ان کی شادیاں دیر تک چلتی تھیں۔ رات کی شادی میں سب سے بڑا مسٰلہ وقت کا زیادہ ہو جانا ہوتا ہے ہمارے ہاں باراتیں اکثر لیٹ ہوجاتی ہیں۔ ہماری حکومت نے وقت رات دس بجے تک مقرر کر رکھا ہے۔

Read more