شادیوں میں کھانے (ون ڈش) اوررات دس بجے تک وقت کی پابندی سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ۔ قدیم یونان، قرون اولیٰ، عباسی، مغل ادوار اور پنجاب سے مثالیں۔ تاریخی طور پر کیا یہ پابندیاں مناسب ہیں، اور اس قانون سے عوام الناس پہ کیا اثرات ہورہے ہیں
آج کل پاکستان میں شادیوں کا سیزن چل رہا ہے۔ خاندانوں کی زندگی میں شادی سب سے اہم موقع ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی صرف دو افراد کے نکاح کا نام نہیں بلکہ دو خاندانون کے لٰے مسرت کا وہ وقت ہے جس کا انہوں نے شاٰٰید سالوں انتظار کیا ہو۔ شادی کی تیاری میں سال ہا سال لگتے ہیں۔ رشتہ دار اور دوست احباب مہینوں اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ رشتہ ڈھونڈنے سے لے کر دلہن کے پیا کے گھر پہنچنے تک بے شمار رسومات ادا کی جاتی ہیں اور ان میں سینکڑوں لوگ حصہ لیتے ہیں شادی کی بڑی تقریبات مہندی بارات اور ولیمہ ہوتی ہیں۔ یہ تقریبات شہروں میں زیادہ تر رات کے وقت ہوتی ہیں۔ رات کی شادی کاروا ج بہت پرانا ہے۔
زمانہ قدیم کے یونانی سردیوں کی رات میں شادی کرنا پسند کرتے تھے۔ جنوری کا مہینہ ان کا پسندیدہ تھا۔ یہ ہیرا دیوی اور زیوس کی شادی کی وجہ سے متبرک گنا جاتا تھا۔ یونانی پورے چاند کی راتوں کو شادی کرنا زیادہ اچھا سمجھتے تھے۔ ان کی شادیاں دیر تک چلتی تھیں۔ رات کی شادی میں سب سے بڑا مسٰلہ وقت کا زیادہ ہو جانا ہوتا ہے ہمارے ہاں باراتیں اکثر لیٹ ہوجاتی ہیں۔ ہماری حکومت نے وقت رات دس بجے تک مقرر کر رکھا ہے۔
Read more