شیطان

دادی اور پوتی، دونوں نے عمرو کا استقبال بھرپور طریقے سے کیا۔ ہدایت کے عین مطابق وہ سیدھا ادھر ہی آیا تھا۔ بڑھیا اپنے رشتہ داروں سے چھپانا چاہتی تھی کہ اس نے کسی بہادر جوان کو مدد کے لیے بلایا ہے۔ اسی لیے وہ شام کی ٹرین سے آیا۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ بادلوں سے گرتی دھند نے ہر منظر نگل لیا تھا۔ سر شام اندھیرا ہر چیز پرچھا گیا تھا۔ شمالی برف پوش پہاڑوں کی

Read more

جنم ورودھی

سکھیا اس کی دیوانی تھی۔ وہ ہیر گاتا تو کسی پجارن کی طرح اس کے بولوں میں کھو جاتی۔ قالوا بلٰی دے دینہہ نکاح بدھا روح نبی دی آپ پڑھایا ای قطب ہو وکیل وچ آ بیٹھا حکم رب نے آن کرایا ای یوم الست کو جب خدا نے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ تو مجسم روحوں نے خدا کے سامنے سر جھکا دیا، قالو بلیٰ، شھدنا۔ وہ سکھیا کا بازو پکڑ کر کہتا ”تیرا میرا نکاح بھی

Read more

جنگلی گلاب

گرچہ اس کی موت کی خبر بہت بعد میں ملی لیکن میرے لئے تو وہ اس سے بھی پہلے مر چکا تھا۔ وہ جو کبھی میرے خیالوں سے اوجھل نہ ہوا، اس کی موت کی خبر سن کر بھی میرا خوف غم میں نہیں ڈھلا تھا۔ وہ غم جو کسی قریبی ہستی کے منوں مٹی کے نیچے سو جانے سے محسوس ہوتا ہے۔ ہستی بھی ایسی جو کلیتہً و صراحتہً ہماری سوچ میں محفوظ ہوتی ہے۔ اس کی آخری ملاقات

Read more

گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب

ریگستان صحرا کے شمال مغربی کنارے پر واقع بی بی جان کلا کی چھوٹی سی منڈی میں صبح سویرے سنگلاخ ٹیلوں پر مال سجا دیا جاتا۔ دور دراز سے آنے والے خریداروں کا ہجوم سارا دن موجود رہتا پھر بھی یہ دو رویہ دکانیں بھری رہتیں۔ اب پچھلے کئی دنوں سے مال تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس منڈی میں عرصہ ہوا ایسے حالات نہیں دیکھے گئے تھے۔ ایسی ویرانی تو بیس سال پہلے طالبان کے دور میں ہوتی تھی۔

Read more

بن بیاہی بیوہ اور معلق بوسہ

کوہ قاف کی پری، رقاصہ اپنے بستر پر بیٹھی تھی۔ جلد کی رنگت سفید پڑ چکی تھی لیکن اس کے نیچے بہتے خون میں زعفران کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ گول کتابی چہرے پر بھویں کمان کی طرح اوپر اٹھی ہوئیں تھیں۔ پر کشش لب خاموش سے جھانکتے دانت موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ سیدھی مانگ سے نکلتے ہوئے کالے بالوں نے ماتھے کے کناروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ دونوں بازو سینے کے نیچے لپیٹے تھے گویا نرم و نازک کومل جسم میں سلگتے الاؤ کو بھڑکنے سے روک رہی ہے۔ پنجرے میں بند چیتے کی طرح، بغاوت کے ڈوروں سے دمکتی سرکش شرابی آنکھیں، آنے والی عورتوں کے جسم کو چیرتی، مٹی کی دیواروں کے پار دیکھ رہی تھیں۔

Read more

مرد جب شیو لنگ بن جائے

”صدیوں پرانے کٹاس راج میں جن کہانیوں نے جنم لیا مہا بھارت ان سے بھری پڑی ہے۔ ہماری دھرتی پر جنم لینے والے اس مذہب میں صرف دیومالائی داستانیں ہی ہیں یا ان کا اصل انسانی زندگی سے کوئی تعلق بھی ہے؟“ میرا سوال سن کر وہ پریشان ہو گیا۔ طارق مجھے بہت گہرا شخص لگ رہا تھا۔ مقامی لوگ کہتے تھے کہ وہ مخبوط الحواس ہے۔ کئی دنوں سے وہ میرے ساتھ تھا۔ میں نے کوئی ایسی بات نہیں

Read more

کیا طالبان کابل پر قبضہ کر لیں گے؟

فروری 1989 میں آخری روسی سپاہی ’حیرتان پل‘ کے راستے آمو دریا کے پار اتر گیا۔ اس وقت پشتون ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو کمزور جانا جا رہا تھا۔ 1988 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جنیوا معاہدہ میں سوویت یونین اور امریکہ ضامن تھے۔ امریکہ نے دسمبر 1985 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ مجاہدین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ اس وعدے کی صریحاً خلاف ورزی کے باوجود گوربا چوف نے افغانستان سے اپنی فوجیں

Read more

نسوانی الوہیت

منزل کی تلاش میں جویا حق برسوں سرگرداں پھرا تھا۔ اس کے پاؤں پورے ہندوستان کی دھول سے اٹے ہوئے تھے۔ چودہ سال بیت گئے تھے۔ تقدیر اسے کھینچ کر کشمیر لے آئی تھی۔ راستے میں اسے بہت سے لوگ ملے۔ پیدل بھی اور گاڑیوں، گھوڑوں، خچروں پر سوار بھی۔ گھیروے رنگوں کی چادروں میں ملبوس ہندو اپنے متبرک مقامات کی یاترا کرنے جا رہے تھے۔ وہ سب مارتنڈ سوریا تیرتھ، کھیر بھوانی اور امرناتھ کے مندروں کی طرف رواں دواں تھے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد شکتی فرقہ کے ان ہندوؤں کی تھی جو اپنی دیوی ماں کو بہ حیثیت خدا مانتے ہیں۔

Read more

ہمارا ماضی اور ملالہ کا مستقبل

عورت چاہتی ہے کہ اسے معاشی آزادی بھی حاصل ہو۔ جائیداد کے حصول اور وراثتی قوانین میں اس کے ساتھ کوئی تفریق روا نہ رکھی جائے۔ اسے کام کرنے کے بھی مساوی مواقع مہیا کیے جائیں۔ معاشرت کا یہ مسابقتی نظریہ ابھی تکمیل کے مراحل سے بہت دور ہے۔ پوری دنیا میں کسی بھی شعبہ میں عورت مرد کے ہم پلہ نہیں اور کہیں بھی کامل مساوات نظر نہیں آتی۔ مرد کی فضیلت اور برتری ابھی بھی ہر جگہ موجود ہے۔

Read more

مریم یا شہباز؟ تاریخ کے آئینے میں

انڈین نیشنل کانگریس دنیا کی سب سے پرانی فعال سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔ 1962 کی چین بھارت جنگ کے بعد انڈیا کا مقبول ترین لیڈر، تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیراعظم، جواہر لال نہرو مقبولیت کھو چکا تھا۔ 1964 میں اس کی اچانک موت کے بعد اندرونی اختلافات کی وجہ سے پارٹی مزید کمزور ہو گئی۔ کانگریس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ کیرالہ کانگریس، اوڑیسہ کانگریس، بنگلہ کانگریس اور کئی مختلف ناموں سے اس کے حصے بخرے

Read more

شیخوپورہ کی سیاست اور ”غدار“ جاوید لطیف

شیخوپورہ پانچ لاکھ تیس ہزار کی آبادی پر مشتمل پاکستان کا سولہواں بڑا شہر ہے۔ ضلع کی آبادی چونتیس لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ یہ شہر شہنشاہ جہانگیر نے آباد کیا۔ اس سے پہلے اس علاقے کو مقامی جٹ برادری کی نسبت سے ’ورک گڑھ‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مغل بادشاہ اکبر کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی زمینداروں نے جن کی قیادت باغی سانول شہید کا پوتا اور فرید شہید کا

Read more

اورنگزیب اور سرمد

یہ اس وقت کی کہانی ہے جب بساط ہند پر ایک نئی چال چلی جا رہی تھی۔ سترہویں صدی نصف سے زیادہ گزر چکی تھی۔ ہندوستان اس وقت کرہ ارض پر ایک عظیم ملک تھا۔ اس کی سرحدیں کیرالہ سے غزنی تک اور بنگال سے قندھار تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تجار پوری دنیا سے سونا اور ہیرے جواہرات اکٹھے کر کے ہندوستان لاتے اور ان کے بدلے اناج اور مصالحہ جات خرید کر لے جاتے۔ لیکن ملک کا عجیب حال

Read more

مقابلہ، مقابلہ

واپسی پر ہم ناران بازار میں ہی اتر گئے۔ شام ہو رہی تھی۔ کچھ دیر کی مٹر گشت کے بعد تم نے ایک جیپ کو روکا اور اس سے ہوٹل تک جانے کا پوچھا۔ ہم اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر ہی بیٹھ گئے۔ جوں جوں شام اپنی رنگت کھو کر سیاہ قبا اوڑھ رہی تھی تمہارے چہرے پر پھول کھل رہے تھے۔ مقابلہ، مقابلہ جاری تھا۔ اب میں بھی اس کھیل میں پھر پور شامل ہو چکی تھی۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ ڈرائیور کے چہرے پر شرمندہ سی ہنسی کھل اٹھی۔ ہوٹل پہنچ کر تم نے کرایہ دیا تو اس نے وصول کرنے سے انکار دیا۔ سیڑھیاں چڑھتے میں نے پوچھا کہ اس نے کرایہ کیوں نہیں لیا۔ تمہارے جواب سے میری ریڑھ کی نس میں ایک سرد لہر سی دوڑ گئی۔

Read more

کایا پلٹ

سردی ہی سردی۔ دھند ہی دھند، کئی دنوں سے سورج نے منہ نہ دکھایا تھا۔ خنک ہواؤں کی سنگینی تن بدن میں سرایت کر رہی تھی۔ سرشام ہی اندھیرا پوری کائنات پر چھا جاتا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے دن نکلے صدیاں بیت گئی ہیں۔ زہرہ کا معبد سمندر کنارے آسمان کی بلندی کو چھوتی پہاڑی پر پھولوں کے کنج میں واقع تھا۔ سارا دن قربانیاں، ذبیحے اور نذرانے گزرانے والوں کا ہجوم دھکم پیل کرتا رہا تھا۔ شام ڈھلتے

Read more

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

گولڈن گرل رابعہ الربا نے اپنے کالم ’اچھا اور گندا لمس‘ میں ایک جملہ لکھ کرمنافقت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔ ”جو مجھے دنیا کے سامنے پا نہیں سکتا، میں اس کو چھپ چھپا کے چاہ نہیں سکتی۔“ اس جملہ کی داد نہ دینا منافقت میں حصہ داری کے مترادف ہے۔ ایک افسانہ حاضر خدمت ہے۔ وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز پانی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب سے وہ پول کی حدود میں

Read more

محبوب دیوتا: وہ عشق جو مذہب بن گیا

دوسری صدی عیسوی میں عظیم رومی سلطنت پر پانچ بڑے شہنشاہوں کی حکومت رہی۔ میکاولی نے لکھا ہے ”اس دور کا مطالعہ کرنے سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ ایک اچھی حکومت کا قیام کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ تمام رومی بادشاہ جنہیں حکومت وراثت میں ملی (ماسوائے تیٹس) برے حکمران ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس 96 سے 180 عیسوی کے درمیان نروا سے لے کر مارکس تک پانچوں عظیم حکمران اصل اولاد نہیں، لے پالک تھے۔ ان کے بعد جونہی

Read more

تاریخی حقائق اور پیریڈ پارٹی

انسانی زندگی پیدائش سے موت تک مختلف مدارج طے کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں پر خوشی اورغمی کے اظہار کے لیے ہر دور میں انسان مختلف رسوم و رواج اپناتا رہا ہے۔ وہ جب مذہب کے تصور سے آشنا نہیں ہوا تھا اس وقت بھی اپنے مردوں کو دفناتا تھا اور کچھ رسوم ادا کرتا تھا۔ یہی رسوم بعد میں مذاہب کی بنیاد بنیں۔ قدیم حجری دور میں مبہم اور درمیانی دور میں اس کی واضح نشانیاں ملتی ہیں۔ پنتیس سے

Read more

عائشہ کا مرثیہ،’زندہ‘ دلہنوں کے نام

بابا آپ سنایا کرتے تھے، اندھیری راتوں میں، جب مجھے خوف آتا تھا اور آپ کی باہوں میں سمٹ کر لیٹ جاتی تھی، آپ مجھے پیاری پیاری کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ اچھی اچھی کہانیاں۔ مجھے آپ کی سنائی ہوئی کہانیوں کا حرف حرف یاد ہے۔ فرعون کی کہانیاں، موسیٰ کی، دریائے نیل کی۔ وہ دلہن والی کہانی آپ کی پسندیدہ تھی اور میری بھی۔ آپ بہت مزے سے سناتے تھے۔ ان دنوں کی بات ہے جب دنیا ایک جنگل تھی۔

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ (صوفیہ کاشف سے معذرت کے ساتھ)۔

محترمہ صوفیہ کاشف بہت اچھی افسانہ نگار، بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ خواتین کے سلگتے مسائل پر لکھتے وقت ان کا قلم آگ کے شعلے اگلتا ہے۔ کیا خوبصورت الفاظ ہیں، ”لال کپڑے پہنا کر، دنیا کے سامنے ڈولی میں بٹھا کر اپنی عزت کی پگڑ پھر سے بلند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی پگڑ پر آہ لگ چکی تھی ۔  رسیوں سے باندھ باندھ عزت کو سنبھالنا پڑا ۔  راتوں رات عزت دار گھر چھوڑ کر کہیں دور دیس نکل گئے۔ کچھ ہی روز میں پاگل عورت کی لاش سڑک کنارے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔“

دو تین دن پہلے شائع ہونے والا ان کا کالم ”دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ“ ہم سب کی مقبول ترین فہرست میں شامل تھا۔ میٹھے سے طنز کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ ”درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ روحانی بلندی کا طالب ہر کوئی ہے۔“ اگلا فقرہ سارے کالم کی جان ہے، ”کوئی بھی انسان نہیں بننا چاہتا، سب کو صوفی، پیغمبر اور فرشتہ بننا ہے۔“

Read more

قدیم ترین عشقیہ گیت

انیسویں صدی عیسوی تک عہد نامۂ قدیم میں شامل ”غزل الغزلات“ قدیم ترین عشقیہ گیت جانا جاتا تھا۔ یہ اس مجموعہ میں شامل سب سے متاثر کن کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کو بائبل کا حصہ متصور کرنے پر ابتدائی عہد کے ربیوں میں بہت بحث و تمحیص جاری رہی لیکن جب شامل کر لیا گیا تو سب سے زیادہ اس کی تشریحات کی گئیں۔ کچھ لوگ اس کو خدائی نعمت، جنسی محبت کا ایک نغمہ کہتے ہیں اور

Read more

غزل الغزلات: عہد نامہ قدیم کا محبت بھرا نغمہ

غزل الغزلات (song of Solomon) عہد نامہ قدیم میں شامل ایک کتاب ہے۔ یہ باقی تمام مذہبی کتابوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں کسی ایک جگہ پر بھی خدا کا ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی اس میں کہیں مذہبی قوانین و فرامین یا رہبانیت اور علم و حکمت کی طرف کوئی اشارہ کیا گیا ہے۔ یہودیوں کے ماضی کا بیان، مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیاں یا زمانہ حال کی بہتری کے لیے دعوت و

Read more

نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک (افسانہ)

”میرے شہنشاہ! میں نے کہا تھا، جب تک یہ کنیز آپ کے چرنوں میں رہے گی آپ کے سرِ پُرغرور پر سایہ بال ہما موجود رہے گا۔“ ”ہاں! سچ کہا تھا، آپ نے۔“ ”یہ خاتم سلیمانی جو نسل در نسل چلتی ہوئی مجھ فقیر تک پہنچی ہے، یہ اسی کی برکت ہے۔ اسی کے صدقے میں نے آپ کو تخت کی بشارت دی تھی۔ ”ہاں! یہ سب کچھ ہوا۔ یہ اس پر نقش اسم اعظم کی برکت کے ساتھ ساتھ،

Read more

بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام

شدید گرمی جھلسائے دے رہی تھی۔ لو چل رہی تھی۔ گاڑی آ کر نہر کے کنارے درختوں کے سائے میں رکی۔ چھوٹی سی نہر بھٹے کے پاس سے گزرتی تھی۔ گاڑی کو دیکھتے ہی بھٹے پر کام کرنے والی مزدور عورتیں نہرسے نکل کراپنی ڈھیری کی طرف بھاگ گئیں۔ وہاں بیٹھ کر انہوں نے مٹی کو گوندنا شروع کر دیا۔ سفید گاڑی سے صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے شاہ صاحب نیچے اترے۔ گاڑی دیکھتے ہی بھٹے کا مالک چوہدری بھلوال

Read more

نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

پاکستانی سیاسی تاریخ کے اہم ترین دن کا آغاز ملک کے وزیراعظم نے کتوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے جبکہ دن کا اختتام عوام نے شدید سردی اورکرونا کے خوف کی موجودگی میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں گریٹر اقبال پارک میں، جہاں مینار پاکستان کے سوا کسی اور چیز کا سایہ موجود نہیں تھا، کھلے آسماں کے نیچے ٹھٹھرتے ہوئے کیا۔ سردی ایسی تھی جس میں فر کا گرم کوٹ پہنی ہوئی مریم کی بھی قلفی جم گئی۔

Read more

مشرقی عشق اور شاطر شرفا (ڈاکٹر خالد سہیل سے معذرت کے ساتھ)

گوتم بدھ نے کہا تھا ”گرچہ وہ ہزار آدمیوں کو ہزار بار فتح کر لے لیکن پھر بھی، جو خود کو فتح کر لیتا ہے وہی سب سے عظیم فاتح ہے۔“ قدیم چینی مذہب تاؤ مت کے بانی، 600 سال قبل مسیح کے دیوتا لاؤزی کہتے ہیں ”جو دوسروں کو فتح کرتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے لیکن جو خود کو فتح کر لے وہ قوی تر ہے۔“ اس مذہب کی اخلاقیات میں خواہشات اور جذبات پر قابو پانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں خواہشات کو قابو میں لانے کی جدوجہد کو ’جہاد اکبر‘ کہا جاتا ہے۔ لارڈ بدھا کا ہی کہنا ہے ”اچھی صحت سے لطف اندوز ہونے، اپنے کنبے کو سچی خوشی پہنچانے اور سب کو امن و آشتی مہیا کرنے کے لئے سب سے پہلے سوچ پر قابو پانا اور خود کو نظم و ضبط کا پابند کرنا پڑے گا۔“

Read more

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

”وقائع سیرو سیاحت ڈاکٹر برینئر، بعہد شاہ جہان و اورنگ زیب“ میں ایک ایسا قصہ ملتا ہے جس نے مصنف اور اس کے مترجم سید محمد حسین دونوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ عنوان ہے ”ایک واقعہ کا ذکر جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوجوں کو بھی تعشق ہو سکتا ہے۔“ برینئر لکھتے ہیں ”انہیں دنوں ایک ایسا افسوسناک واقعہ دہلی میں ہوا کہ جس کا تمام شہر اور بالتخصیص شاہی محل سرا میں بہت چرچا تھا اور

Read more

نانا پلازہ کی نوکری

”لیکن میں اس کمپنی کو کیوں چھوڑوں؟“ شاردہ نے اس سے پوچھا۔ ”میں اس کمپنی میں خوش ہوں۔ وہ میری ہر بات مانتے ہیں۔“ اس ملاقات کے لئے وہ بصد اصرار راضی ہوئی تھی۔ دوست کا کہنا تھا کہ وہ صرف ایک مرتبہ ناظم سے مل لے۔ شاردہ بہت محنتی عورت تھی۔ جس کمپنی میں بھی کام کرتی، جو بھی ڈرگ اسے دی جاتی، دنوں میں ہی اس کی سیل بڑھ جاتی۔ کچھ مہینوں کے بعد وہ ٹاپ ٹن میں

Read more

حضور ﷺکی سیاسی بصیرت اور معاہدے

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، بادشاہت کرنے کا طریقہ۔ نگہبانی، تنبیہ کرنا، دبدبہ، رعب اور لوگوں کو قصور و جرم کی سزا دینا۔

اسلام میں سیاست اس کام کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں کی اصلاح ہو اور فساد کا خاتمہ ہو۔

حضورﷺ کی سیاسی زندگی کے مطالعہ میں نزول وحی سے پہلے کے چالیس سال سب سے اہم ہیں۔ ان سالوں کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں چند صفحات ہی ملتے ہیں اور ان میں بھی حضور ﷺکی جوانی، روزگار، میل ملاپ اور تعلقات کا ذکر انتہائی کم ہے۔ ان کا اعلیٰ سیاسی تدبر کعبہ کی تعمیر کے وقت ہجر اسود کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار میں لگانے پر اٹھنے والے تنازع کے حل میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ حلف الفضول میں بھی ان کی شمولیت اعلیٰ سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔ جاہلیت کے دور میں ہونے والے اس معاہدہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے ”اگر اس معاہدہ کی رو سے اسلام میں بھی کوئی دعویٰ ہو تو میں اس کو ضرور قبول کروں گا۔

Read more

حکومت شکست کھا رہی ہے

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک بڑ بولے ترجمان کا ارشاد تھا ”انہیں کون سا چٹاگانگ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان کے اپنے اتحادی کی حکومت ہے اور گرفتاری بھی ان کی پولیس نے ہی کی ہے۔“ پتا نہیں کیوں ان کو ان دنوں میں اور ان حالات میں مشرقی پاکستان کی اس بندرگاہ کی یاد آئی ہے اور انہوں نے کراچی میں ہونے والی گرفتاری کو اس حوالے سے یاد

Read more

دیوتاؤں کے دیوتا

اماوس کی رات تھی۔ دھرتی گھور اندھیرے کی کالی چادر اوڑھے دبکی بیٹھی تھی۔ اندھیرا اتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ سر سبز درخت جن بھوت کی پرچھائیں لگتے تھے۔ پہاڑی کے اوپر واقع شہر کا سب سے پرانا مندر کالی گھٹا کی طرح سناٹے اور خوف میں ڈوبا ہوا کھڑا تھا۔ تاریکی اتنی کہ مندر کے فانوس بھی شکست خوردہ دکھائی دیتے تھے۔ اس کے روشن دانوں سے چھنتی ہوئی روشنی خوف میں اور بھی اضافہ کر رہی تھی۔ آج کل اس مندر میں انسانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔

Read more

ناگ کنڈلی اور جیون دان

پھن کاڑھے سیہ مار اس کے سامنے تھا۔ ناگ جھومنے لگتا تواس کی پھنکار تن بدن میں آگ لگا دیتی۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا۔ سدھو بھی اس کے ساتھ ساتھ مست ہو تا جاتا۔ ڈنک مارنے کے لئے کالا پھنیئر جب اس کی طرف بڑھتا تو وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتا۔ ناگ کے پھن کے گردا گرد اس کا ہاتھ بھی تیزی سے گھومتا رہتا تھا۔ دوسرے ہاتھ میں موجود بین وہ ہونٹوں سے لگائے مسلسل بجاتا

Read more

ہاں! میں مقدس ہوں، ڈاکٹر خالد سہیل سے معذرت کے ساتھ

میں پہاڑوں پر پیدا ہوا۔ آسمانی بجلیوں نے مجھے خوراک مہیا کی۔ صحراؤں میں پلا بڑھا۔ جنگلوں، غاروں نے مجھے سنوارا۔ جب زلزلوں سے زمین لرزتی تھی۔ طوفان خاک کے ساتھ انسان، جانور، درخت سب اڑا کر لے جاتے تھے۔ سیلاب اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ادھیڑ کر رکھ دیتے تھے۔ بے کسی کا جال چہار سو پھیلا ہوا تھا۔ دل و نگاہ پر جہالت کی دھند چھائی ہوئی تھی۔ بے بس انسان، بے اختیاری و تحیر سے صرف دیکھتا رہ جاتا تھا، تب میں نے اسے حوصلہ دیا۔ ان آفات سے ٹکرانے کی ترغیب دی۔ میں انسانوں سے اوجھل تھا۔ اس کی آنکھ ابھی اس نور سے شناسا ہی نہیں تھی۔ انسان نے درختوں کی چھال پر ناخنوں سے جب لکیریں لگائیں تو میرا عکس ابھرنا شروع ہوا۔ اس کے ہاتھوں نے پتھروں سے مجھے تراشا اور میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے اسے اندھیری کھوہ سے نکالا۔ میں نے اہل کہف کو ضیا بخشی۔ پھر وہ شہروں میں آ بسا۔ میرے دبستان سجے اور میری آموزش گاہوں نے وہ ہیرے پیدا کیے جنہوں نے علم کلام، ابدان، فلسفہ، نجوم کے ساتھ دیگر علوم کی بنیاد رکھی۔

Read more

شینشوب کے پھول

جھرنے کے کنارے اس کا ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ پانی کی سطح کافی نیچی تھی۔ دور دراز کے ایک چشمے سے کاریز بنا کر پانی باغ تک لایا گیا تھا۔ لیکن سوکھے کے موسم میں پانی کی سطح اتنی کم ہو جاتی کہ کاریز بھی سوکھ جاتی۔ آج پہاڑیوں پر بارش ہوئی تھی اور جھرنا زور و شور سے بہہ رہا تھا۔ بارش کے پانی کا قطرہ قطرہ باغ کے لئے آب حیات تھا۔ میر بلاچ بہتے ہوئے پانی کو پودوں کی طرف جاتے دیکھ کر نہال ہو رہا تھا۔ سیب کی فصل تیار ہونے کے قریب تھی۔

زمردیں سیبوں کے رخسار سرخی مائل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جولائی اگست کے مہینوں میں ویران بنجر زمینیں بھی جنگلی پھولوں سے سج جاتی تھیں۔ اونچے ٹیلوں پر کاسنی رنگ کے شینشوب کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ پھول اتنے زیادہ تھے کہ پورا ٹیلہ ہی چھپ گیا تھا۔ بارش کے بعد اس کے پتے تھوڑے بڑے اور زیادہ سبز جبکہ پھول بھی دھل کر مزید چمک اٹھتے ہیں۔ وہ جب بھی کلی آتا تو گھر کی نسبت زیادہ وقت جھرنے کے کنارے پھولوں کے اس تختے کو دیکھتے ہی گزارتا تھا۔ وہ پودوں کو چھوتا نہیں تھا۔ صرف ان کے درمیان بیٹھا رہتا۔ بھینی بھینی خوشبو کا وہ متوالا تھا۔

Read more

جن کا پی سنگ بیتے ساون ان دلہن کی رین سہاگن

وارث شاہ سال کے مہینوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیٹھ کے مہینے میں مینہ منع ہے۔ برصغیر میں اس مہینے میں لو چلتی ہے۔ گرمی اتنی شدت کی پڑتی ہے کہ چیل انڈہ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں گرمی بڑھتی ہے، فصلیں سوکھ جاتی ہیں۔ بارش کی دعائیں اور امیدیں کسان کا اکلوتا سہارا ہوتی ہیں۔ آندھیاں شروع ہو جاتی ہیں، فضا گرد آلود ہو کر زمین پر چھا جاتی ہے۔ ، صر ف ایک ہی آس

Read more

فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )

بہت وقت بیت چکا ہے۔ ہاں! بہت وقت بیت چکا ہے، تو لطف بکھیر کر چلا بھی گیا۔ ایک آرزو تھی، تجھے پانے کی۔ ہمیشہ کے لئے نہیں، کچھ سمے کے لئے ہی۔ مجھے یاد ہے، پل پل یاد ہے۔ ہر ہر لمحہ میرے سریر، میرے بند بند کے نہاں خانے میں محفوظ ہے۔ میں بار بار ان میں جھانک کر دیکھتی رہی ہوں۔ اتنی مدت کے بعد بھی ان میں تیرے وصال کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ میرا انگ

Read more

لاہور سے شیلا باغ تک

خوشیا لاہورسے جعفر ایکسپریس پر سوار ہوا تھا۔ وبا کے سبب چھ افراد کے کمپارٹمنٹ میں چار کی بکنگ ہو رہی تھی۔ وہ کل چھ افراد تھے مجبوراً دو کمپارٹمنٹ بک کروانے پڑے۔ بچے اور اس کی بیوی ایک میں چلے گئے اور تمام سامان دوسرے میں رکھ دیا گیا۔ وہ بھی اسی کمپارٹمنٹ میں آ گیا۔ بظاہر پورا خاندان اس کے ساتھ تھا اور ٹرین بھی بھری ہوئی تھی۔ لیکن وہ تنہا تھا۔ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو

Read more

کنوارے افسر کا ون پوائنٹ ایجنڈا

ایک کنوارے کا بار بار تیار ہو کر برد کھوا کے لئے متوقع سسرال کے سامنے پیش ہونا ایک جانگسل مرحلہ ہے۔ شادیوں کی تمام رسمیں ایک بار منائی جاتی ہیں لیکن یہ چلتی ہی جا رہی تھی۔ آج شاید پینتیسویں بار اسے گالیں رگڑا کر ان کے سامنے پیش ہونا تھا۔ پہلے حجام کے سامنے صم بکم ہو کر ایک گھنٹے تک بیٹھا رہا۔ چھوٹی بہن نے کہا تھا کہ جس مرد کو اپنی مردانگی پر شک ہوتا ہے

Read more

گرگ زادہ

میری بہت سی کہانیوں کی طرح یہ بھی ایک سچی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار میرے پاس ہی رہتے ہیں۔ جو بقید حیات ہیں وہ موت سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں اور جو مر چکے ہیں ان میں سے کچھ بھوت پریت اور سایہ بن کرزندہ لوگوں کے جیون کو دہشت زدہ کر رہے ہیں اور کچھ دوسری قسم کے مردوں کی روحیں اپنی حسرتوں اور موہوم امیدوں کی وجہ سے ابھی تک بھٹکتی پھر رہی ہیں۔

Read more

Transsexuality (شعوری جنسیت)

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے ہی بادلوں میں چھپ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ دونوں کنچنیاں پسینے سی بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے لال سرخ اورجسم تپایا ہوا کندن بن چکے تھے۔ جوں جوں شعلے ٹوٹ رہے تھے، روپ سوا ہوا جا رہا تھا۔ یوں لگتا کہ گھٹائیں امڈ آئیں، بجلیاں کوند

Read more

شاہی محلہ کے سید

وہ اس بازارکا سوچ کر ہی شرمندہ ہورہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ اس کے گاؤں کے کچھ لوگ ادھرآتے جاتے رہتے ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو بہت باتیں بنیں گی۔ آج صبح ہی ڈی ایس پی صاحب نے اسے حکم دیا تھا کہ اس کیس کی تفتیش تم کرو گے۔ اس نے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا، ”صاحب! یہ علاقہ میرے تھانے کی حدود میں نہیں آتا؟“ وہ ادھر جانا نہیں چاہتا تھا، پھر

Read more

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

طارق عزیز ایک کامیاب شخص، ایک دنیا جس کی دیوانی تھی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی کا کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا، جو اس کو نہ جانتا ہو۔ شو بز انڈسٹری کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کی چمک دمک میں انسان کی اصلیت دب جاتی ہے۔ کہیں کھو جاتی ہے۔ طارق عزیز کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور انجام میں اس کی شخصیت کا وہ پہلو، جو شاید اس کا آئیڈیل تھا، کہیں نظر نہیں آتا۔

ستر کی دہائی میں پی ایس ایف پنجاب یونیورسٹی کے لیڈر، بھٹو کے مشیر برائے لیبر اینڈ سٹوڈنٹ یونینز، راجا انور، اپنے ناول ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں :

Read more

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

وہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوا۔ پھٹے پھٹے کالے بد وضع پاؤں، جیسے ساری عمر جوتا نہ پہنا ہو۔ ٹیڑھی نچی کھچی ٹانگیں، پرانے لیکن دھلے ہوئے، صاف ستھرے کپڑے جو گھس گھس کر اتنے باریک ہو چکے تھے کہ ان کے اندر بھوکا پیٹ، خشک جلد اور سوکھا پنجر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ پسلیوں کی ہڈیاں اور ان سے جڑا چمڑا دیکھ کر دھونکنی کا گماں ہوتا تھا۔ سکڑے ہونٹ، پھیلے نتھنے، جھریوں والے گال، خوف و اضطراب اور خوشی کی آمیزش سے مسکرانے کی کوشش کرتی، بڑے بڑے گڑھوں کے اندر سے دکھائی دیتی ہوئی آنکھیں، اس کے بولنے سے پہلے ہی تمام کہانی سنا رہی تھیں۔

میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ لکڑ بنا کھڑا رہا۔ ”تم اس عمر میں یہ کیوں کروانا چاہتے ہو۔“

Read more

ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

آج اس کی کالی سیاہ چمکتی جلد والی بھینس نے دودھ میلہ جیت لیا تھا۔ صبح اس نے تیرہ سیر دودھ دیا ا ور شام کو اس کے تھنوں سے رستا ہوا دودھ دیکھ کر بہت سے گوالے اپنی بھینسوں کو مقابلے میں لائے ہی نہیں تھے۔ بالٹی میں اب دس سیر سے زائد دودھ تھا۔ ایک سیر فی گھنٹہ سفید سونا اگلتی لاڈو نے میدان مار لیا تھا۔ منشی لدھا رام کے باغ میں ہونے والا یہ سالانہ میلا کالے گجر کی بھینس نے دو سال بعد جیتا تھا۔ اس سے پہلے کئی سال سے وہ ہی یہ میلا جیتا کرتا تھا۔ پھر اس کی بھینس کو کسی نے زہر دے دیا۔ اب اس کی ہی یہ کٹری جوان ہوئی تھی۔ یہ لاڈو کا پہلا سووا (حمل/ پیدائش) تھا۔

کالا گجر راوی کے بیلے کا بے تاج بادشاہ تھا۔ سینکڑوں بھینسوں کا مالک۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ اس کی یہ خوشی لاڈو میراثن کو ملے بغیر ادھوری تھی۔ وہی لاڈو جس کی رس بھری شاداب گولائیوں دیکھ کر ہی اس نے اپنی بھینس کا نام لاڈو رکھا تھا۔ دربار پر سالانہ عرس چل رہا تھا۔ آج اس کا خاص مجرا تھا۔ اسے پتا تھا کہ نتھی بائی نے دور دراز کے بڑے بڑے رئیسوں کو دعوت دی ہوگی۔ زمیندار اور جاگیر دار بھی ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مقابلہ بھی وہ ہی جیتے گا۔

Read more

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن: مسیحا روپ استاد کورونا سے ہار گیا

سنتے آئے ہیں کہ ڈاکٹر مسیحا کا روپ ہوتا ہے۔ جب میڈیکل کالج میں قدم رکھا تو بہت سے نام سنے اور پھر کئی معجزے دیکھے۔ اس زمیں پر اعجاز احسن کو وہ مسیحا پایا جو کہ اوتار تو نہیں تھے لیکن نو آموز ڈاکٹرز، سنئیر سرجن اور دکھیارے مریض ان کے سامنے عقیدت سے سرنگوں رہتے تھے۔ ان کے ہاتھ کا قلم و نشتر اتنے احسن طریقے سے اعجاز رقم کرتا کہ مادر زاد روگی اپنے دکھوں کی پوٹ

Read more

وبا کے موسم میں شادی اور شادی ہال

مارچ، اپریل اور رجب، شعبان شادیوں کا سیزن تھا۔ لوگوں نے مکمل تیاری کی ہوئی تھی۔ یک دم حکومت کی طرف سے حکم نامہ موصول ہوا کہ کل صبح کی شادیاں بھی منسوخ کر دی جائیں۔ شادی ہال سیل کر دیے گئے۔ اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ اس سال گندم کی کٹائی رمضان کے مہینے میں ہوئی۔ اس مہینے میں شادیاں نہیں ہوتیں۔ اس طرح شادیوں پر پچھلے تین ماہ سے مکمل پابندی ہے۔ گندم کی کٹائی کے

Read more

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

” شیلا، دیکھو! میں سنبل کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہی ہوں۔ صاحب ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگ جائیں، انہیں ناشتہ دے دینا۔“

”جی، بی بی جی، ٹھیک ہے۔ لیکن صاحب کب جاگیں گے؟“
”تقریباً جاگ ہی رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دیکھ لینا۔“
” اور میرے آنے تک سارے کام بھی مکمل کر لینا۔“

Read more

ہرڈ امیونٹی: پاکستان میں کرونا سے کتنی اموات کا امکان ہے؟

 جنرل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق، پچھلے ایک ماہ میں نیویارک کے ہسپتالوں میں کورونا کی بیماری کے باعث داخل ہونے والے 5700 افراد جن میں کورونا کے علاوہ کوئی اور بیماری موجود نہیں تھی اور ان کی عمر 45 سال سے کم تھی، ایسے افراد میں اموات کا تناسب اعشاریہ دو فی صد رہا۔ یہی تناسب اٹلی میں اس بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد، جن کی عمر 40 سال سے

Read more

انسانی جبلت اور عشق

میرے عشق نوں جاندے ڈھول باشک، لوح قلم تے زمین آسمان میاں (وارث شاہ) ہیر قاضی کو مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ میرا عشق اس وقت سے قائم ہے جب کائنات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس کو ہندو متھالوجی کے مطابق کرۂ زمین کو اپنے سینگوں پر اٹھانے والا بیل، دھرتی کو سہارا دینے والا ناگ، سب جانتے ہیں۔ لوح پر بھی اس کا ذکر موجود ہے اور وہ لوگ جو کسی خدا کو نہیں مانتے وہ بھی

Read more

ایک مرد جو پرہیز گار نہیں، محتاط تھا

وبا کیا پھیلی، پور ے ملک میں اداسی چھا گئی۔ فیکٹریاں بند اورکاروبار ٹھپ ہو گئے۔ بازاروں میں دھول اڑنے لگی۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے ہوتے ناپید ہو گئے۔ گھروں میں بھوک پنپنے لگی۔ بدحال گھروں کی بدحالی بڑھتے بڑھتے جنجال بن گئی۔ دکانوں سے کھانے پینے کی اشیا اٹھ کر تہہ خانوں میں دفن ہو گئیں۔ اجناس کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں اور انسان کی قیمت گرنا شروع ہو گئی۔ گلابو اور اس کا خاوند دونوں ہی

Read more

جنس اور شادی کی نفسیات۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے نام ایک کھلا خط

محترم خالد سہیل السلام علیکم، میرا آپ کا تعارف صرف ’ہم سب‘ کی وساطت سے ہے۔ میرے اور آپ کے استاد محترم وجاہت مسعود کا کہنا ہے ”ہم عصر کی تعریف ذرا مشکل ہوتی ہے۔ چشمک کا پہلو موجود نہیں ہو تب بھی خود آرائی آڑے آتی ہے“۔ لیکن میں چوں کہ آپ کا ایک لحاظ سے ہم عصر نہیں بلکہ بہت چھوٹا ہوں (عمر نہیں قد، اور قد بھی جسمانی نہیں بلکہ ادبی قد) اس لئے مجھے یہ کہنا

Read more

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

داتا کی نگری، رنگ بدلتا لاہور۔ سب بدل گیا، نہیں بدلا تو داتا نہیں بدلا۔ داتا آج بھی ویسا ہی ہے۔ عرصہ ہوا، دربار کے سامنے بہت وسیع و عریض علاقہ خالی پڑا ہوتا تھا۔ ’سرکلر باغ‘ جسے مقامی لوگ ’کِیسی باغ‘ کہتے لاہور کے چاروں طرف گھومتا تھا۔ ٹکسالی کے بعد یہ باغ کافی کشادہ ہوجاتا۔ عرس سے بہت پہلے اس علاقے میں ناچنے گانے والے، ڈھول تماشا والے، مانگنے والے، مزدوری کرنے والے، دور دراز سے آکر ادھر

Read more

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے؟ کیا وہ سب کچھ سچ ہے جو کہ میڈیا پر بتا یا جا رہا ہے؟ کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

دنیا میں جہاں کہیں بھی اور جب کبھی بھی کوئی وبا پھوٹتی ہے تو لوگ، حکومتیں، میڈیا اور صحت کے ادارے ہمیشہ ایک ہی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، ایک وبا شروع ہو چکی ہے۔ یہ سٹیج انکار کی ہو تی ہے۔ چین کا بھی شروع میں یہی رویہ تھا۔ (جس ڈاکٹر کو اب نیشنل ہیرو قرار دیا جارہا ہے اسے معاشرہ میں جھوٹی خبر پہلا کر خوف پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ )

Read more

وبا اور پہلی محبت

دھیرے دھیرے رات ڈھل رہی ہے برسوں کے بعد آسمان صاف نظر آ رہا ہے۔ بچپن میں ایسی چمک دیکھا کرتے تھے پھر فیکٹر یوں، مشینوں اور گاڑیوں کے دھویں نے آسمان کی اصل شکل ہی گم کردی۔ وبا پھیلی، سب اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تو فضا بھی گم صم اور مردے کے کفن کی طرح صاف ہو گئی۔ میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑ ا بے چین و بے قرار ستاروں کی بادلوں کی ساتھ

Read more

وبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں

لوگو! گواہ رہنا۔ جو میں نے دیکھا، مجھ پر فرض عائد ہوتا تھا کہ تمہیں بتا کر جاتا اور اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ میرے بعد آنے والوں کو تم بتاؤ۔ لوگو میں اس دور میں زندہ رہا ہوں جو مصیبتوں، بیماریوں اور وباؤں کا دور تھا۔ پوری قوم کے لئے یہ سب ایک امتحان تھا۔ سمجھانے والا سمجھا رہا تھا۔ سیدھا راستہ دکھا رہا تھا لیکن جاہل، ضدی اور ہٹ دھرم مغرور لوگ خدائی فیصلہ ماننے کو تیا

Read more

شریعت کا پابند شوہر اور چھنال بہو

”ہمارے بیٹے کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا جو شریعت اسلامی کی پابند ہوگی“ سر پر چار مون کا ہاتھ کی کڑھائی کا دو پٹہ اوڑھے لڑکے کی ماں بولی۔ دوپٹے کے پلو کے ساتھ موتی جڑے کروشیے کی لیس تلے کے ساتھ جوڑی گئی تھی۔ کندھوں پر پڑی پشم کی دوشالہ شال بار بار پھسل کربازووں پر گر رہی تھی۔ وہ ا س کو اٹھا کر ٹھیک کرتی تو کلائیوں میں موجود سونے

Read more

جنوبی پنجاب بل، شریعت بل اور جاتی ہوئی حکومت

اسی اور نوے کی دہائی ملک میں اسلامی نطام کے نفاذ کے نعرہ کی تھی۔ تحریک ِنظام مصطفے ٰکے نتیجے میں ’امیر المومنین‘ جنرل ضیا الحق کی حکومت قائم ہوئی تھی اور اس کی بنیاد پر یہ آمریت برقرار رہی۔ یہ حکومت اپنے دور اقتدار میں ملک میں نظام شریعت کو مرحلہ وار لاگو کرنے کی دعویدار رہی۔ جو کہ صرف ڈراؤنا خواب بنا رہا۔ 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں پارلیمنٹ دوبارہ وجود میں آئی تو جونیجو

Read more

تو کیا، تیری اوقات ہی کیا ہے؟

میرا نام آگنس (رومی) ہے۔ میں ابھی بارہ سال کی ہوں۔ روم کے معزز خاندان کی۔ اعلیٰ خاندانوں کے بہت سے نوجوان اور افسر مجھ سے شادی کے خواہش مند ہیں۔ میں خدا سے لو لگا چکی ہوں اس لئے یہ سب میرے دشمن بن گئے ہیں۔ حکم ہوا ہے، ”اسے بازاروں میں ننگے گھسیٹتے ہوے لے جا کر چکلے میں پھینک دیا جائے۔ “ میرا خدا میری مدد کو آیا اور میرے بدن کی عفت کو برقرار رکھنے کے

Read more

ہوٹل کا کمرہ

صاحب نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلا یا۔ ہوٹل کے وسیع ہال کے سٹیج پرمحکمے کے مختلف افراد اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ پروگرام ختم ہونے والا تھا۔ ”یہ چابی لو! میری گاڑی میں پڑا سامان اور بریف کیس کمرے میں پہنچا دو۔ “ اس کے صاحب نے آج پھر ہوٹل میں ہی ٹھہرنا تھا۔ ان کی بہت سی خفیہ سرگرمیوں کا وہ گواہ تھا۔ صاحب اکثر ضمنی انتظامات کے لئے ہوٹل میں اسے ہی بھیجتا تھا۔

Read more

ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں

یہ رواج تو اِس علاقے کا ہے ہی نہیں۔ ایسی قبریں تو میں نے سمر قند میں افراسیاب کے کھنڈرات کے کنارے واقع قدیم قبرستان ’شاہی زندہ‘ (زندہ بادشاہ) میں دیکھی تھیں۔ اس قبرستان کو یہ نام نبی پاکﷺ کے غسال، چچا زاد بھائی قثم بن عباس  کی نسبت سے ملا ہے۔ آپ  غسل دیتے وقت حضر ت علی کے ساتھ جسم اطہر کو کروٹیں بدلتے رہے تھے۔ ان کا روضہ مبارک اس قبرستان میں موجود ہے۔ وہاں

Read more

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

اترسوں رات سے موسم خراب تھا۔ اس سال سردی کڑاکے کی پڑی تھی۔ موسم کی شدت ہر چیز کو غارت کردینے پر تلی تھی۔ بہار کا موسم شروع ہو چکا تھا پھاگن کا مہینہ تھالیکن سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بادلوں کے اوٹ سے جھانکتے تر چھے سورج کی زرد روشنی ابھرتی ہوئی گندم کے خوشوں کو پیلا رنگ رہی تھی۔ کبھی کبھی دکھائی دیتے سورج میں حدت ذرا برابر بھی نہیں تھی۔ شمال کے پہاڑوں سے

Read more

جوتے اور جنسی علامت پرستی

سنڈریلا کو جوتی کی وجہ سے شہزادہ مل گیا تھا۔ عصمت چغتائی کا ’میٹھے جوتے‘ کھانے کو دل چاہتا تھا۔ املیڈا مارکوس اور اس کا خاوند جب ملک سے فرار ہو رہے تھے تو اسے کپڑوں کے ساتھ جوتے کے انتخاب کی پڑی تھی۔ یہ مشکل کام اسے چھ سو کے لگ بھگ قیمتی جوتوں اور سینڈلز میں سے کرنا تھا جواس کے خزانے میں موجود تھے۔ ایک مرتبہ ہمارا سب سے مہنگا اور تیز رفتار جہاز ملک کے ایک

Read more

بچہ اس کا جس کے بستر پر پیدا ہو

جیسے جیسے میرے جانے کے دن قریب آ رہے ہیں دل پر پڑا بوجھ زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں اس کے ساتھ کیسے مدفون ہو جاؤں، یہ ممکن نظرنہیں آرہا۔ مرنے کے بعد میراسینہ پھٹ جائے گا یا پھر میری قبر اس کی تپش سے سلگے گی اور لاوا ابل پڑے گا۔ جس راز کو میں نے ساری زندگی اپنی چھاتی میں چھپائے رکھا اب میرے لئے مزید اسے دبانا ممکن نہیں رہا۔ اور پھر اس کے ساتھ میرے

Read more

جوتے کی نوک پر

”اری او سوہنی! کہاں ہو؟ جب دیکھو جوتوں سے ہی کھیلتی رہتی ہو۔ “ ”جی، بی بی جی۔ آئی۔ “ ”صبح سے کیا کام کیا ہے؟ “ ”بی بی جی، سارا صحن صاف کر چکی ہوں۔ کمرے جھاڑ پونجھ لئے، اب صاحب کے جوتے پالش کر رہی ہوں۔ “ ”اب چھوڑ بھی دو ان کو۔ کوئی اور کام بھی کر لو۔ “ ”بی بی جی، اگر یہ چمکتے نہ ہوں تو آپ پھر بھی غصہ کرتی ہیں۔ اور مجھے یہ

Read more

مجھے مرد چاہیے، نکھٹو نہیں

ہمارے قریب ہی سکھوں کی متروکہ ایک بہت بڑی پرانی حویلی ہے جس کا داخلی دروازہ بڑی سی کمان کی شکل کا اتنا اونچا ہے کہ اس میں سے ہاتھی باآسانی گزر جائے۔ چالیس سال پہلے جب پرائیویٹ سکولوں کو کاروبار کی دوبارہ اجازت ملی تو علاقے کی ایک معتبر خاتون خانم جہاں آرا نے اسے الاٹ کروا لیا اور مناسب تبدیلیاں کر کے اس میں سکول بنا لیا۔ اندر ایک بڑا سا صحن ہے جس میں کبھی لے پالک

Read more

کنج کنواری نہیں، کنواری

”ماں تم ہمیشہ میری شادی کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہو۔ اب چھوڑ بھی دو۔ بیس سال میں کوئی نہیں آیا۔ خدا نے میرے لئے کوئی پیدا ہی نہیں کیا۔ اب وہ پیدا کر بھی دے تو مجھ سے چالیس سال چھوٹا ہو گا۔ اب جب کہ میری آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی ہے ان کے گرد حلقے گہرے ہو گئے ہیں۔ میک اپ کے بغیر میں بیمار اور بوڑھی لگتی ہوں۔ مجھے شادی نہیں کرنا ہے۔ ” ”

Read more

عشق کینہ ور کی آگ

وہ میرے پاس آیا تو سخت تکلیف میں تھا۔ تین لڑکے اس کو پکڑکر لائے تھے۔ انتہائی خوبصورت لڑکا تھا۔ نزاکت، اسم با مسمیٰ۔ چہرہ اتنا ملائم کہ نگاہیں پھسل پھسل جاتی تھیں۔ موٹی موٹی آنکھیں جن میں خدا نے اپنے ہاتھ سے سرمہ لگایا تھا۔ رخساروں پر سبزہ کا آغاز ہوا ہی تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ بال موچنے سے صاف کیے ہوئے تھے۔ ٹھوڑی پر ایک گودنا گودا ہوا۔ شوخ رنگت کا عطریات میں بسا ہوا

Read more

مقدس ناتا

اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پرہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم جیسی عورتوں کی زندگی میں کبھی کوئی رنگ نہیں چڑھتا۔ جوانی کا ذائقہ چکھا ہی تھا کہ اس کے ارمان سڑک پر کار کے اندر ہی کچلے گئے اور وہ سفید چادر اوڑھے کوکھ میں چار ماہ کاحمل لئے ماں کے گھر واپس آگئی تھی۔

Read more

غلطی بانجھ نہیں ہوتی، بچے جنتی ہے

زوجہ شاہ حاملہ تھی۔ سارے حمل کے دوران عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بچہ شایدزیادہ صحت مند تھا۔ جب بھی حرکت کرتا ایک ٹیس سی اٹھ کرریڑھ کی ہڈی کے راستے سر تک چلی جاتی۔ وہ پریشان اورخوفزدہ بھی تھی۔ وہ کوئی کمزور عورت تھی اور نہ ہی یہ اس کا پہلا حمل تھا۔ اس کے بچے تو حمل سے کود کرآتے اوروہ اسی دن مملکت کے کاموں میں شامل ہو جاتی۔ اب بھی اس نے

Read more

وٹا سٹا

دونوں ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے۔ عورت کومرد نے تقریباً گود میں اٹھا رکھا تھا۔ اس کے پاؤں زمین کے ساتھ رگڑ کھا رہے تھے۔ اس کوکمرے میں پڑے ہوئے بنچ پر لٹا کر مرد کو کچھ حوصلہ ہوا۔ ”ڈاکٹر صاحب، ان ظا لموں نے میری بیوی کو بہت مارا ہے۔ دو دن ہمیں کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں دیا۔ آج جب اس نے خون تھوکنا شروع کر دیا تو ہمیں چھوڑا۔ اب بھی میرے بچے ان کے

Read more

جب شب زفاف داغدار ہو جائے (دوسرا حصہ)

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں جب شب زفاف داغدار ہو جائے (پہلا حصہ) ***           *** وہ روتی جا رہی تھی۔ روتے روتے میرے ساتھ لگ جاتی۔ اور زیادہ زور سے روتی۔ کچھ حوصلہ ہوتا تو پھرمجھ سے دور ہو جاتی۔ غصے سے بولنا شروع کر دیتی۔ اسے آج موقع ملا تھا کسی مرد پر اس رات کاغصہ نکالنے کا۔ وہ مسلسل بول رہی تھی۔ پھر وہ تھک کر سو گئی اور میں اپنے

Read more

شب زفاف جب داغدار ہو جائے

مجھے ڈاکٹر بنے تین سال ہو گئے تھے۔ میری ماں کہہ رہی تھی کہ یہ سال میری شادی کا ہے۔ کوئی لڑکی میرے دل کو بھاتی ہی نہیں تھی۔ بہت سی شعلہ، شبنم، مہتاب جبیں اردگر د موجود تھیں، میرا دل کسی پر جمتا ہی نہیں تھا۔ آج جب گھر سے نکلا تو ماں نے پھر وہی سبق یاد کروایا تھا۔ نئے دن کا آغازتھا، کھِلے کھِلے چہرے وارڈ میں موجود تھے۔ ہاؤ س جاب کرنے والوں کا نیا بیج

Read more

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

بہت انوکھی لڑکی تھی وہ۔ باپ ملک کا مشہور باکسر، چھ فٹ پانچ انچ قد۔ رِنگ میں مخالف اس کی مار سے بے حال ہو جاتے تھے۔ اس کے مکے کوہساروں میں زلزلے کے جھٹکوں سے گرنے والے پتھروں کی طرح برستے تھے۔ رِنگ کے باہر اس کاشوق صرف جنس مخالف تک ہی محدود تھا۔ بھدے، چپٹے ناک اور موٹے ہونٹوں کے ساتھ بھی وہ اپنی جسامت اورحرکات و سکنات کی وجہ سے خواتین میں مقبول تھا۔ ان کی موجودگی

Read more

محبت کی نفسیات: ڈاکٹر خالد سہیل کی توسیع میں

ڈاکٹر خالد سہیل کا ایک اور بہت اچھا مضمون۔ انہوں نے بہت سی باتوں کو تھوڑے سے الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ”محبت کا تعلق جنس اور شادی سے ہے۔ جنس ایک جبلی اور جسمانی رشتہ ہے۔ محبت ایک نفسیاتی و جذباتی اور شادی ایک سماجی و ثقافتی۔ “ ان کی لکھی ہوئی بہت سی دوسری باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جنسی ضرورت، محبت اور شادی وہ اہم باتیں ہیں جو کہ اور زیادہ

Read more

ایک بوند لہو

(یہ ایک افسانہ ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس کو افسانہ ہی سمجھا جائے۔ ) اٹھارویں صدی پنجاب میں قیامت بن کرآئی۔ مغل سلطنت رو بہ زوال تھی۔ سکھ اورمرہٹے مغل سلطنت پرچڑھ دوڑے تھے۔ وارث شاہ نے اشارے کنائے میں کہہ دیا تھا کہ وہ عورتیں جو بھری سیج پر چڑھ کربیٹھ گئی ہیں ایک دن حاکم آکران کو پکڑ لیں گے۔ اس نے پنجاب کی تباہی کے بارے میں پیش گوئی کردی تھی، ”ایک دن وہ گھوڑے

Read more

پھول اور پھل کے درمیاں

یونیورسٹی میں آج رجھا کا پہلا دن تھا۔ ایف ایس سی میں ڈاکٹر بننے کے سپنے، دن اسکول، شام اکیڈمی اور رات دیر گئے تک گھر میں پڑھائی، یوں لگتا تھا کہ انسان نہیں روبوٹ ہے، جس کے اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں، اِدھر ادھر ہٹنانا ناممکن ہے۔ بہت قریب پہنچ کر داخلہ نہیں ہو سکا۔ میرٹ میں صرف ایک آدھ نمبر کی کمی رہ گئی۔ اب اس نے سوچا تھا کہ آسان سے مضامین لے کر یونیورسٹی کی

Read more

آندھ راجہ بے داد نگری

رشنو  یمنا کنارے شُکری کے مقام پرپیدا ہوئی۔ اس کا پِتا دیوتاؤں کی دھرتی کا سب سے بڑاراجہ تھا۔ اس کی رحم دلی، انسان دوستی اور عدل کی کہا نیاں دوردور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دیوتاؤں کی دھرتی پر اس کے آباؤ اجداد نے صدیوں حکومت کی اگر چہ وہ خود دیوتاؤں کے پجاری نہیں تھے۔ اس کا باپ بھی صرف ایک ناقابل ادراک، غیر ذاتی خدا کو ماننے والا تھا۔ تین سو تیس کروڑ دیوتاؤں کی زمین میں خدائے

Read more

مشتری ہشیار باش، فضل الرحمان آرہا ہے

خاکسار یاد آ گئے۔ خاکی کپڑے اور کندھوں پر بیلچے۔ اگر چہ یہ تحریک بھی زیادہ تر مذہبی تحریکوں کی طرح اپنے بانی کی زندگی تک ہی زندہ ر ہ سکی اور اپنے تمام تر جذبات و احساسات کے ساتھ وقت کے اٹھتے طوفانوں کی نذر ہوگئی۔ لیکن مارچ 1940  میں یہ اتنے نڈر اور طاقتور ہوگئے تھے کہ ڈبی بازار لاہور میں انہوں نے جلوس روکنے والے پولیس آفیسر کو قتل کر دیا۔ پولیس نے گولی چلا دی۔ ہزاروں

Read more

ڈاکٹر صاحبہ کہیں حمل تو نہیں ہے؟

ڈاکٹر صاحبہ! یہ بوڑھا کھوسٹ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ایک پوتا ہے، بیٹی بھی بیاہ چکی ہوں، اس کا دل ابھی نہیں بھرا۔ سولہ سترہ سال کی تھی، ساتھ والے گھر میں یہ رہتا تھا دور پارکا رشتہ دار بھی تھا۔ ہمارے گھرا ٓنا جاناتھا، جانے وہ کون سا وقت تھاکہ میں اس کی آنکھوں کو بھا گئی۔ چھپ چھپ کے دیکھتا رہتا۔ گھر کا کوئی کام ہوتا بھاگ کر آجاتا۔ ”لاؤ! میں کر دیتا ہوں۔ “ ایک دن ماں

Read more

ارض ِموعودہ

مکھڑا اس کا بسانِ آفتاب ِتاباں، کالی گھٹا زلفیں، گیسوے مشک فام، ناگن بل کھاتی ہوئی، پیشانی پر چاند چمکتا۔ رخسار ابھرے ابھرے، گلابی کنول کھلے ہوے۔ ستواں ناک الف حسینی، دہن مانند تنگ غنچہ، لب نازک برگ ِگل سے سوا، یا قوت رمانی یا لعل بدخشانی؟ کچھ بھی مناسب نہیں۔ بس قدرت ِخدا ہی کہنا بجا ہے۔ میرے ہاتھوں کے گھیرے میں یوں سجا، اس کا مکھڑا جیسے پجارن کے برنجی کاسہ میں، صندل پوجا کا رکھا ہوا۔ ہاتھوں

Read more

حکومت ایک پیج پر نہیں، ایک ہاتھ میں ہونی چاہیے

پچھلے مہینے ڈیل کی باتیں عروج پر تھیں۔ سیاست اور سیاسی جوکروں کی فسوں سازی نئے نئے رنگ بکھیر رہی تھی۔ عوامی دباؤبڑھتا جا رہا تھا۔ ریت کا بورہ ہمیشہ عوامی لیڈر بنے ہیں۔ دباؤ کی سمت موڑنے کے لئے ڈیل کا ڈول ڈالا گیا۔ جوں جوں زعفران کے کھیت خون آلودہ ہوئے، چھروں سے کشمیری آنکھیں اندھی ہوئیں، ہماری اپنی آنکھیں مردہ ہوتی گئیں۔ خون کا نوحہ تو لکھا نہیں گیا، خون ہوتے ارمانوں کا نوحہ کہنے اور عالمی

Read more

پشاور میں ڈاکٹروں کے احتجاج کی وجوہات

یورپ میں صنعتی ترقی، ٹریڈ یونینز اور جمہوریت کا آغاز ساتھ ساتھ ہوا۔ مزدور دیہاتوں میں کام کرتے تھے تو ان کی مشکلات انفرادی تھیں۔ جب وہ شہروں میں آے اور کارخانوں میں کام شروع کیا تو وہاں پیش آنے والے مسائل اجتماعی نوعیت کے تھے جس سے ان میں مشترکہ سوچ کا ظہورہوا اور مزدوروں میں گروپ بندی شروع ہوگئی۔ مزدور اپنے مسائل کے حل کے لئے توڑ پھوڑ کرنے لگے تو سرمایہ داروں نے محسوس کیا کہ سارے

Read more

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

تقریباً ایک مہینہ ہوا ہے کہ کراچی میں ایک پندرہ سالہ لڑکا، جس پر چوری کا الزام تھا، کچھ لوگوں نے جنگلے کے ساتھ باندھ کر مارڈالا۔ اس کی شرٹ پر لکھا ہو ا تھا، ”اپنا ٹائم بھی آے گا“۔ اس کا ٹائم کیا آنا تھا، وقت سے بہت پہلے اس کی موت کاٹائم آگیا۔ پورا ملک چیخ اٹھا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ جوں جوں ملک میں لا قانونیت بڑھ رہی ہے، اس طرح کے واقعات بڑھتے جا رہے

Read more

ڈاکہ زنی، لا قانونیت اور امن عامہ

حکمرانوں کا دعویٰ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا ہے۔ مقصدکے حصول کے لئے چور ڈاکو پکڑنے اور ان کو سزائیں دینے کے لئے وہ اور ان کے آقا واٹس ایپ سمیت تمام طریقے کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن چور، ڈاکو آگے بڑھتے ہوے اب روزانہ کی بنیاد پرکارروائیاں کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے شہروں، گاؤں اور سڑکوں پر ناکے لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ ڈاکو شہروں میں ڈکیتی کے دوران قتل کرنے سے ذرا نہیں ہچکچاتے۔ یہ حالات

Read more

شاعر کا خط، نامرد دل اور حور

خطوط قدیم زمانہ سے حالات، واقعات اور جذبات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں۔ اب خطوط نویسی عنقا ہو گئی ہے۔ برقی پیغامات کا دور ہے جو تما م مرئی اور غیر مرئی حدود پھلانگ کر محبوب کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ نامہ بر کی حاجت نہیں رہی۔ پیغام میں تبدیلی کا امکان اور نہ ہی اس کی رقابت کا خوف۔ دیا ہے دل اگر اس کو، بشر ہے، کیا کہیے ہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے لیکن

Read more

طاہر القادری کی خطابت اور سیاست

سورۃ التکاثر پر درس قران دینا تھا۔ سب نے انکار کر دیا۔ کہا کہ صرف امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری ہی ان آیات میں مراد خداوندی متعین کر سکتے ہیں۔ صرف ان میں ہی اس سورۃ کی ترجمانی اور تفصیل و توجیح بیان کرنے کی لیاقت کے ساتھ ساتھ اہلیت موجود ہے۔ وہ مشترکہ ہندوستان کے مقبول ترین لیڈرتھے۔ گھنٹوں تقریر کرتے اور عوام صم بکم ان کی طرف دیکھتے رہتے۔ آغا شورش نے لکھاہے، ”اتنے مقبول عوامی مقرر کہ سوائے ان دنوں کے جو قید میں بسر ہوئے، کوئی دن بغیر تقریر کے نہ گزارا۔ “

Read more

اعلیٰ عدلیہ سے آنے والی خبر، حکومت کے لئے بد شگونی

افتخار عارف ایک مرتبہ شاید ایک عجیب سی گھڑی میں الجھ گئے تھے۔ عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں پڑی تھی گر پڑی تھی یا کسی نے اٹھا کر پھینک دی تھی۔ بالکل ہماری سبز کتاب کی طرح جس پر اکثر عنان اقتدار پر مسلط، ملک کو ضیا بخشنے کے دعویٰ دار ”اپریشن فئیر پلے“ کھیلتے کھیلتے اتنا کیچڑ ملتے رہے ہیں کہ اصل معانی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے تھے۔ اب انوکھے لاڈلے نے اسی کتاب میں سے صرف

Read more

کارڈ چور کا قتل، خاتون کانسٹیبل کو تھپڑ، ڈی پی او کو گالیاں

جب کبھی ہندوستاں اور اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے بارے میں پڑھا کرتے تھے تو ایک لفظ دماغ میں الجھ جایا کرتا تھا۔ وہ تھا، طوائف الملوکی۔ اکثر ایک فقرہ پڑھنے کو ملتا تھا، ”ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو زوال آیاتو ملک میں طوائف الملوکی پھیل گئی۔“ طوائف کے معنی سے تو آشنا تھے ہی لیکن اس وقت ہم اس پوری ترکیب کو اسی کا ہم معنی سمجھتے تھے۔ اب پتا تو چل گیا ہے کہ عربی کی

Read more

کیا نواز شریف کی ملک بدری سے حالات بہتر ہو جائیں گے؟

حق حکمرانی کس کو ہے؟ اسے یہ حق کس نے دیا ہے اور کیا حق دینے والاخود اس لائق تھاکہ حکمرانی کا حق تفویض کر سکے؟ ان سوالات کاجواب ہر حکمران کو دینا پڑتا ہے۔ اساطیرالاولین کا مطالعہ اور تاریخ کا تجزیہ موجودہ اور آنے والے حالات کوجاننے میں بہت ممد ومعاون ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں حکمرانوں کا یہ دعویٰ ہوتا تھا کہ ان کو یہ حق ان دیکھی خدائی قوتوں اورمقبول شہنشاہوں سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل، یہ تم نے کیا کہہ دیا؟

واہ! اے ذی شعور، ذی وقار شخص، لذت لمس اور لذت وصل کو دنیا تو نئے رنگوں میں رنگ ہی رہی ہے، تو نے اس راز کو کھول کر اسے دل و دماغ کے لئے مرغوب خاطر بنا دیا۔ انسان کی جرات گناہ کی داد تو فرشتوں کو بھی الٹے لٹک کر دینا پڑی، تم نے تو اس کے معنی ہی بدل دئیے۔ احساس گناہ کا خوف تم نے ہوا میں اڑا دیا۔ لیکن یہ کیا کہہ دیا، ”صرف ذہنی

Read more

سیاست اور ادب کے مشاہیر کی رومانوی زندگیاں

اٹھارویں صدی کو روشن خیالی کا دور کہا جاتا ہے۔ اس کوسیکولر ازم، دانشوری، فلسفہ اور استدلال کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ اس صدی میں ہر کام میں وجہ اور نفع نقصان کی بحث عروج پر پہنچی۔ طبقاتی حقوق کی لڑائی بھی شدو مد سے جاری رہی۔ اسی دور میں خواتین کے حقوق کی تحریکوں کاآغاز ہوا۔ اسی صدی کے کچھ لکھاریوں نے فیمینسٹ خیالات کا اظہار کیا۔ فیمینزم تحریک ٖFeminism کا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی کے اختتام کے

Read more

کشمیر: بھولے ہیں ہم کہاں سے

برطانوی راج کے اختتام پر ہندوستان میں پانچ سو باسٹھ آزادریاستیں تھیں۔ ماسوائے کشمیر، جوناگڑھ اور حیدرآباد کے ان تمام نے ہندوستان میں شمولیت اختیارکر لی۔ حیدر آباد ایک امیر ریاست تھی جس کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب بیس فی صد سے بھی کم تھا۔ یہ ریاست چاروں طرف سے ہندوستان سے گھری ہوئی تھی۔ اس کے برعکس کشمیر میں مسلمان اکثریت میں تھے اور حکمران سکھ تھا۔ نظام حیدر آباد اپنی ریاست کو آزاد حیثیت دینا چاہتے تھے۔

Read more

سپریم کورٹ کا فیصلہ

بچپن اور لڑکپن میں پڑھی ہوئی کچھ کہانیاں، دیکھی ہوئی فلمیں اور ان کے کیریکٹرکچھ اس طرح سے دماغ میں نقش ہیں کہ آج سب حقائق کاپتا ہونے کے باوجود ایسالگتا ہے کہ وہ سب بالکل سچ ہیں اور ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک شرلاک ہومز کا کردارہے۔ ایک لمبے عرصہ تک تو ہم اسے حاتم طائی، امیر حمزہ، سندباد، الہ دین، سکندر و خضراور جیمز بانڈکے ساتھ ساتھ اصلی ہیرو ہی سمجھتے رہے۔ یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہماری طرح کے اوربھی بہت سے افراد کا یہی خیال ہے۔

Read more

سماجی و سیاسی اختلافات اور نا انصافی: تباہی کے اسباب

موجودہ دور میں دولت معروضی طور پرسکوں اور نوٹوں کی شکل میں ملتی ہے اور اس کو اسی شکل میں جمع اور لین دین میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کاغذ کا نوٹ ایجاد ہونے سے پہلے مال و دولت کو سونا اور ہیرے جواہرات کی شکل میں جمع کیا جاتا تھا۔ اب کاغذ کا نوٹ یا کانسی کا سکہ دے کر سونا سمیت سب کچھ خریدا جا سکتاہے۔ کاغذ کے نوٹ اور دھات سے بنے سکے کی اس اہمیت کی

Read more

وزیر خارجہ قریشی۔ باتیں لاکھ کی، کرنی خاک کی

موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ تجربہ کار اور ماہر سیاست دان محترم شاہ محمود قریشی ہیں۔ نسل در نسل سے محلات کی غلام گردشوں میں پنپنے والی حکمرانی کے اسرارو رموز سے واقف حال ہیں۔ ملتاں کے قریشی خاندان سے تعلق ہے۔ یہ خاندان اہل اقتدار طبقہ کے ساتھ ہمیشہ سے شیر و شکر رہا ہے۔ پنجاب کے جاگیر داروں میں اس خاندان کا نام دنیاوی وجاہت و برتری، عزت و تکریم اور شان و شوکت کے ساتھ ساتھ

Read more

کیا مریم نواز کو مستقبل کا لیڈر بنایا جا رہا ہے؟

لیڈر کیسے بنتے ہیں؟ کیا وجوہات ہیں کہ کچھ لوگ لیڈر بن جاتے ہیں؟ مختلف نظریات اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فلاسفرانسانی تاریخ میں ہمیشہ سے لیڈرشپ کے بارے میں لکھتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں اس پر بہت کام ہوا ہے۔ اور بہت سے نئے نظریات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ تو ان لیڈرز کے کردار کے متعلق ہیں اورکچھ ان رویوں کے بارے ہیں جومختلف قسم کے حالات میں اختیار کر کے لوگ

Read more

پاکستان میں عوامی تحریکیں کیسے اٹھتی ہیں؟

پچھلے ستر سال میں دیکھا جائے توپاکستان میں کچھ حکومتیں انتہائی طاقتور آئی ہیں۔ ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کی فوجی حکومتیں تقریباً ایک ایک دہائی چلیں۔ یہ تینوں سخت قسم کے آمر تھے اور تینوں نے اپنی پسندکے مطابق سختی سے اپنے اپنے نظریات لاگو کیے جو کہ ایک دوسرے سے متضا د اور متصادم بھی تھے۔ تینوں کو ان کی خوش قسمتی سے اس وقت کے بین الاقوامی حالا ت کی مجبوریوں کی وجہ سے غیر

Read more

کرکٹ، سیاست اور پیسہ

کھیلوں کی تاریخ انسان جتنی ہی پرانی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں میں مختلف قسم کے کھیل ملتے ہیں۔ ان میں زیادہ مقبول وہ ہیں جن میں افراد کے درمیان دو بدو لڑائیاں ہوتی تھیں۔ ان کھیلوں میں ایک دوسرے کو نقصان بھی پہنچ جاتا تھا اور بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی تھی  حضرت خالدؓ بن ولید سے بچپن میں ہونے والی کشتی میں حضرت عمر ؓ کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ ان کھیلوں میں پورے

Read more

فواد چوہدری کا اپوزیشن کو مشورہ اور مولانا فضل الرحمان

فواد چوہدری نے کہا ہے، ”مولانا فضل الرحمان مذہبی کارڈ استعمال کر رہے ہیں، پی پی اور نون لیگ ان سے دوری اختیار کرے۔ مدرسہ کے بچوں کو سیاست کا آلہ کار بنایا جارہا ہے۔ “ مولانا ایک مذہبی پارٹی کے سربراہ ہیں، اہل سنت کے مدرسہ دیوبند کے پیرو کار ہونے کے باعث وہ دیوبندی حنفی کہلواتے ہیں۔ دیوبندی ہی تبلیغی جماعت اور طالبان کے مذہبی و روحانی استاد ہیں۔ مولانا دائیں بازو کی سیاست کرتے ہیں اور انتہائی

Read more

اس ملک میں اختیار کی سیاست کرپشن میں گندھی ہے

پاکستان کی سیاست میں کرپشن کو ہمیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس ملک کے سیاستدان، حکمران اور عمال حکومت ہردور میں ہر قسم کی کرپشن کے مرتکب رہے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد مہاجروں کی آباد کاری اور الاٹمنٹ سے وسیع پیمانے پر شروع ہونے والی کرپشن سے لے کر آج تک کی تمام حکومتوں میں اس کی ہر قسم کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ پاکستان کے تمام محکمہ جات اور حکومتوں کے ہاتھ اس میں رنگے ہوئے

Read more

عمران خان کی امریکہ یاترا

لیاقت علی خان سے لے کر خاقان عباسی تک پاکستان کے تمام وزرائے اعظم، وہ جیسے بھی مسند اقتدار میں آئے ہوں، عوام کی نمائندگی کے دعویٰ دار رہے ہیں۔ ان کے پیچھے عوامی پارلیمنٹ کا ہاتھ رہا ہے۔ پارلیمنٹ ان کو طاقت اور عوام ان کو مضبوطی فراہم کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ملکی اور غیر ملکی محلات کی غلام گردشوں میں سے گزر کر اس خوشنمالیکن کانٹوں بھری سیج تک پہنچے۔ کچھ کو تو یہ

Read more