سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق

جیسا کہ ہم جانتے ہیں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ سے گہری محبت رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خود ترک قوم اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا بستر لپیٹ رہی تھی، برصغیر کے کونے کونے میں نہ صرف مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے بلکہ مسلمان عورتوں نے خلافت کے دفاع کے لئے اپنے زیور تک اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دور کا ادب بھی اس مذہبی حمیت

Read more

وہ جنہوں نے دشمن سے داد شجاعت پائی

مکمل تباہی کا شکار ہونے والی اور بہادری کی عظیم مثال قائم کرنے والی 57 وین رجمنٹ کا جھنڈا کینبرا کے عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے نیچے یہ الفاظ کندہ ہیں:

’رجمنٹ کا یہ جھنڈا گیلی پولی سے لایا گیا ہے لیکن اسے جھکایا نہیں جا سکا تھا۔ ترک فوج کی روایات کے مطابق، رجمنٹ کا جھنڈا اس وقت تک نہیں جھکتا جب تک کہ اس کا آخری فوجی بھی موت کا شکار نہیں ہو جاتا ہے۔ یہ جھنڈا ایک درخت پر ملا تھا جس کے نیچے رجمنٹ کا آخری سپاہی ابدی نیند سو چکا تھا۔ اس جھنڈے کے پاس سے، جو کہ بہادری کی علامت ہے، سیلوٹ کیے بغیر مت گزریں‘۔

Read more

طیب ایردوان ۔ ترکوں کا با اعتماد گُرو

ترکی کے حالیہ مشترکہ انتخابات (پارلیمانی و صدارتی ) سے پہلے بہت سے مبصرین، خصوصاً مغرب کے اہل ِ نظر کو طیب ایردوان کی جیت ایک انہونی سی بات لگتی تھی۔ لیکن 24 جون کی رات کو یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح ہوگئی کہ ایردوان کو اب بھی ترک عوام کا اعتماد حاصل ہے ۔ وزارت عظمیٰ کی ہیٹرک اور پھر 2014 میں صدارت کی پہلی باری لینے کے بعد تُرکوں نے دوسری مرتبہ بھی ایردوان کو صدر کے

Read more

ترک صدر اردوان کو یقین تھا کہ عوام جمہوریت کے لئے نکلیں گے

اُنیس سو بیس کے لگ بھگ جب تُرکی اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہا تھا تو ایک دن ترک فوج کے ایک میجر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے نرغے میں آگیا۔ اور شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ میجر اور ایک سپاہی نے بھاگ کر مورچے میں پناہ لی، جب کہ ان کا ایک ساتھی فائرنگ کی زد میں آگیا اور گر پڑا۔ ساتھی سپاہی نے دیکھا تو گولیوں کی بوچھاڑ میں دوڑ کر اپنے ساتھی کو اُٹھایا اور

Read more