ہمارے بڑوں کا بچپن


usman Qaziعزیزم ظفر اللہ خان کے مضمون کے دیگر مندرجات سے اتفاق، چنانچہ صرف نظر کرتے ہوۓ خادم، ممتاز مورخین ڈاکٹر صفدر محمود اور سید رضوان احمد کی تحقیق دقیق کی داد دینا چاہے گا.  مقام شکر ہے کہ محترم صفدر محمود نے درسی کتابوں میں مندرج فقرے میں ترمیم کر لی ہے جس کی رو سے نبی رحمت (ص) کا نام لنکنز ان میں آویزاں قانون دانوں کی فہرست میں “سب سے اوپر” لکھا دیکھا تو قائد اعظم نے اس درسگاہ کو چنا. اب اس حوالے سے ایک چٹکلہ سنیے.  خادم پچھلی صدی کے آخری عشرے میں برطانیہ میں زیر تعلیم تھا. ایک بار اختتام ہفتہ پر لندن جانا ہوا تو ارادہ باندھا کہ اس “فہرست” کی زیارت کر کے اپنے ایمان اور قائد اعظم کی صیابت نظر کے تاثر کو تقویت پہنچائی جاے.  کسی نے بتایا کہ لنکنز ان نامی ادارہ “لندن سکول آف اکنامکس” کے قریب واقع ہے، چنانچہ زیر زمین ریل میں “ہوبرن” نامی سٹیشن پر اتر کر، پوچھ تاچھ کرتے لنکنز ان کے صدر دروازے پر پہنچ ہی گیا.  وہاں جا کر پتا چلا کہ ادارہ بوجہ تعطیلات بند ہے.  غالب کی روایت کو بروے کار لاتے ہوۓ “منت درباں” کا ڈول ڈالا تو دروازے پر مامور اہل کار سمجھ گئے کہ خادم کو محض حسرت دیدار ہے، چنانچہ حضرت کا دل پسیجا اور انہوں نے اپنی نگرانی میں عمارت کی ڈیوڑھی اور غلام گردشوں پر ایک نظر ڈالنے کی اجازت دے دی. مذکورہ فہرست کا پوچھا تو موصوف نے اس حوالے سے یکسر لا علمی کا اظہار کیا.  ہم اسے اس کی کور چشمی سے زیادہ اس کی اسلام دشمنی پر محمول کرتے ہوۓ لوٹ رہے تھے کہ ایک جانب دیوار پر لگے ایک وسیع و عریض فریم پر نظر پڑی جس میں ایک پر ہجوم “گروپ فوٹو” طرز کی روغنی تصویر لگی ہوئی تھی.  ہمارے پر زور اصرار پر دربان صاحب نے نیم تاریک کمرے کی روشنی جلائی تو دیکھا کہ کسی باکمال مصور نے دنیا بھر کی تاریخ کے اہم قانون سازوں کا مرقع کھینچا ہے.  درست تعداد کا اندازہ تو مشکل ہے، سو سے کچھ اوپر ہی رہے ہوں گے. اس انبوہ میں ایک غیر واضح خدوخال کی حامل عربی عمامہ پوش شبیہہ بھی تھی، جس پر ذرا سی دقت کے بعد نظر پڑتی تھی.  تصویر کے نیچے اس میں مصور لوگوں کے ناموں کی ایک فہرست، تصویر میں ان کے مقام کی ترتیب سے، نہایت باریک حروف میں چھپی، آویزاں تھی.  اس میں کافی تلاش کے بعد مذکورہ بالا شبیہہ سے تطابق رکھنے والا نام ختمی مرتبت (ص) کا نکلا. ہمیں اگرچہ علم تھا کہ ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں، مگر اس تصویر پر ہمیں کافی وقت صرف کرنا پڑا تب مطلوبہ معلومات ہاتھ آئیں. قائد اعظم کے پاس اس روز بہت سا وقت رہا ہوگا کہ انہوں نے اس تصویر اور فہرست کے وجود کا پہلے سے علم نہ ہونے کے باوجود اس میں سے گوہر مقصود نہ صرف ڈھونڈ نکالا، بلکہ اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ بھی کر ڈالا.

قائد اعظم کے والد کے شام کو بچوں کو قرآن پڑھانے کی روایت پر، اگر ان کے مذہبی رجحانات کے متعلق دستیاب معاصرمواد کی روشنی میں بات کی گئی تو ڈر ہے کہ کہیں سوے ادب کے زمرے میں نہ آجاے.  جن احباب کو اس موضوع سے دلچسپی ہے، وہ محترم خالد احمد کے مضامین کا مجموعہ “قائد اعظم کے خاندانی تنازعے ” دیکھ لیں.  مختصر یہ کہ قائد اعظم کے والد سے اس عمل کو منسوب کرنا محض خوش خیالی ہے.  سچ تو یہ ہے کہ قائد اعظم کی اصل جاے ولادت پر آج تک محققین میں اتفاق نہیں ہو پایا، تو نجانے ان کے بچپن میں ان کی والدہ کی سنائی گئی مذہبی کہانیوں کی گونج کیسے خوش عقیدہ لکھاریوں کے کانوں میں آن پڑی .

خادم کی راے میں قائد اعظم اور ان کے پرکھوں کا مذہبی عقیدہ سراسر ان کا ذاتی معاملہ ہے، اور اس کا کوئی اثر ان کی سیاسی زندگی، خصوصا ان کے وقت کے ساتھ بدلتے سیاسی نظریات پر، ڈھونڈنا کار عبث ہے.  ویسے بھی یہ منطق بہت بودی ہے کہ وہ بچپن میں کہاں زیر تعلیم رہے، ورنہ قائد اعظم سے کہیں بڑھ کر “اسلامی سیاست” کا نشان سمجھے جانے والے علامہ اقبال تو اول تا آخر سکاچ مشن سکول میں پڑھے.  اس منطق کی رو سے تو انہیں “کرسٹان” ہو جانا چاہئے تھا. جمہوری سیاسی عمل شخصیتوں کے بچپن میں قائم کردہ اعتقادات پر نہیں چلا کرتا.  قائد اعظم، علامہ اقبال اور دیگر اکابرین کی ذات سے منسوب کرامات کی تلاش در اصل ہمارے ملوکیت زدہ ماضی کی بازگشت ہے، جب حکمران کو ظل الہی کہہ کر پکارا جاتا تھا اور اس کی ذات کو عوام کالانعام سے، نسبی اور پیدائشی طور پر بالاتر قرار دیا جاتا تھا. قائد اعظم نے “ہندو مسلم اتحاد کا سفیر” سے “تقسیم کرو اور ہندستان چھوڑ دو” سے گیارہ اگست کی تقریر تک کے سفر میں بہت نشیب و فراز پر مشتمل مسافت طے کی تھی اور وہ برملا اس کا اقرار کرتے تھے.  کیا ستم ہے کہ کبھی بلند بانگ القاب سے گریزاں “صرف مسٹر جناح” کو، آج کی چھوٹی چھوٹی سیاسی موقع پرستیوں کو سہارا دینے کے لئے دستار فضیلت پہنائی جاتی ہے، تو کبھی اس اقبال کے کلام کا بے سیاق و بے سباق استعمال کسی خود ساختہ “مرد مومن، مرد حق” کے دفاع میں کیا جاتا ہے جس کا فرمودہ ہے کہ، “مینار دل پہ اپنے خدا کا نزول دیکھ.. یہ انتظار مہدی و عیسی بھی چھوڑ دے”..


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ہمارے بڑوں کا بچپن

  • 31-03-2016 at 3:59 pm
    Permalink

    جب میں نیا نیا ولایت وارد ہوا تھا تو اس فہرست کی زیارت کا شوق کسی منہ زور دریا کی طرح اس دل میں بھی موجزن تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈا ہو گیا

    بہت عمدہ تحریر ہے کوزے میں دریابندکرنا کوئی آپ سے سیکھے

  • 31-03-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    قائداعظم کی شبیہہ پہ داڑھی سجانے کی حسرت اب ہمارے دل میں ہے
    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے ریاست میں ہے

  • 31-03-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    ایک وزیر اعظم کی پھانسی زدہ لاش کے ختنے چیک کرنے والی ذھنیت اگر جناح صاحب کو ڈاڑھی پہنوا دے تو کوئی تعجب نہیں ھو گا، ویسے شیروانی تو پہنا ھی دی تھی امیرالمومنین نے

  • 01-04-2016 at 3:16 pm
    Permalink

    یہاں ہمارے والدین کی تاریخ پیدائش کنفرم نہی ہے تو جناح صاحب تو ان سے بھی پرانے دور کے ہیں

Comments are closed.