صد شکر کہ عدالتی کرسی کی پوشش بچ گئی


عزت مآب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بجا طور پر کہا ہے کہ ”قانون کو اندھا ہونا چاہیے جج کو نہیں“۔ جب سے دنیا میں تحریری قوانین کا رواج ہوا ہے بعض جج اس نامناسب روایت پر چلتے رہے تھے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، انصاف نہیں کریں گے۔ پاکستان کے نمایاں ترین ججوں میں سے ایک جسٹس ایم آر کیانی تو اپنی کتاب ”افکارِ پریشاں“ میں اسی معاملے پر اپنی بے بسی کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں کہ

ایک دفعہ جب میں سینئیر جج تھا ایک شخص کا مقدمہ زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے خارج ہوا۔ اس نے کہا کہ یہ عدالت تو نہ ہوئی۔ میں نے تلخی سے جواب دیا، تلخی میرے دل میں تھی زبان پر نہ تھی، اور تلخی کا سبب یہ تھا کہ میں بے اختیار تھا۔ میں نے کہا کہ ”کون کہتا ہے کہ یہ عدل و انصاف کی جگہ ہے۔ یہ تو کچہری ہے“۔

یوں جسٹس ایم آر کیانی نے قانون کے اندھے پن کی خاطر انصاف کا خون کر ڈالا۔ ہمیں سمجھ نہیں آئی ہے کہ یہ جج صاحب کیوں مشہور تھے۔ حالانکہ آگے چل کر وہ یہ بات خود تسلیم کرتے ہیں کہ ”ہمارے جج صاحبان اور وکلا صاحبان قانون میں بہہ جاتے ہیں اور قانون کا اصل مقصد نہیں دیکھتے کہ عدل و توازن ہے“۔ حالانکہ وہ خود قانون کا اصل مقصد دیکھے بغیر عدالت کو کچہری بناتے رہے ہیں۔

شکر ہے کہ یہ بری روایت اب ختم ہوئی۔ اب یہ درست روایت بنی ہے کہ قانون کے الفاظ چاہے کچھ کہیں، اس کی باطنی منشا پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ اب قانون خواہ جتنا چاہے جتنا بھی اندھا ہو، جج اندھا نہیں ہو گا۔ وہ اچھا برا دیکھ بھال کر ہی فیصلہ کرے گا۔ جج اب جسٹس رستم کیانی کی طرح بے اختیار نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی خاطر کچھ بھی کرے گا۔

اسی بارے میں: ۔  یاد کے گھونسلے میں رمضان کا پرندہ

”افکارِ پریشاں“ میں آگے ایک جگہ چل کر جسٹس رستم کیانی مزید لکھتے ہیں کہ ”شائستہ قوموں نے عدل و انصاف کے تصویر کی تشکیل اس طرح کی ہے کہ اس کا مجسمہ یا تو ایک آنکھ کے ساتھ بنایا ہے یا بغیر آنکھ کے۔ ایک آنکھ سے مراد یہ ہے کہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھا جائے اور اندھا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ انصاف کی ترازو چشم ظاہر بین کے فریب سے متاثر نہیں ہوتی۔ انصاف کا مجسمہ بینائی سے تو محروم ہوتا ہے لیکن گویائی سے محروم نہیں ہوتا۔ یہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ اس کے ہونٹوں پر مہر ہو یا وہ سلے ہوئے ہوں“۔ جسٹس کیانی کے زمانے میں ایسی روایت ہو گی لیکن اب قانون کے مجسمے کی آنکھوں سے پٹی اتر گئی ہے اور دونوں آنکھیں کھول کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ عیار سیاستدان اب انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی نہیں باندھ سکیں گے۔ یہ مکار سیاستدان ہی تو ایسے قوانین بناتے ہیں جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسی رکاوٹوں کو توڑ کر ہی عدل ہو گا۔

لیکن ”افکارِ پریشاں“ پڑھ کر یہ سمجھ آتی ہے کہ جسٹس رستم کیانی کس وجہ سے انصاف کرنے کی بجائے قانون پر چلنے کی ضد کرتے تھے۔ وہ خود بتاتے ہیں کہ ”جب سے یہ سیشن ہاؤس بنا ہے، یہ کرسیاں بنی ہیں، سیشن ججوں کے روغن آلود بالوں کی چکناہٹ نے ان کی پشت کو ایسا کر دیا ہے جیسے ہر وقت دیا جلنے سے مزاروں کے سرہانے ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے ان کی پوشش بدلوائی ہے۔ اب سیشن جج تیل بھی کم لگاتے ہیں۔ میرے مخاطب نے کہا شاید اس لئے بعض کے سروں میں خشکی بڑھ جاتی ہے۔ آپ ضرور سر میں تیل ملا کریں اور مجسٹریٹوں کو بھی اس بارے میں ہدایت کریں۔ سرسوں کا تیل سر کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور ہتھکڑی کے نغمے کی طرف مائل نہیں کرتا“۔
ہمارا گمان ہے کہ جسٹس ایم آر کیانی نے اپنے مخاطب کی بات پر توجہ نہیں دی اور ان کے زمانے سے جج تیل کم لگا کر کرسی کی پوشش بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ماضی سے نفرت نہ کی جائے

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 728 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar