محمد رفیع کی سال گرہ


ایک زمانہ تھا جب گاؤں میں شادیوں کے موقع پر لاوڈ اسپیکر پر ہمیشہ ایک آواز گونجتی رہتی تھی۔ بڑے بزرگ کہا کرتے تھے چلو اس شادی پر چلتے ہیں۔ شادی کی تقریب بھی دیکھ لیں گے اور محمد رفیع کے گانے بھی سن لیں گے۔ اسی زمانے میں محمد رفیع سے میری تھوڑی بہت جان پہچان ہوئی۔ شاید اس وقت میری عمر کوئی چار پانچ سال ہو گی۔ محمد رفیع کی آواز بہت میٹھی اور سریلی محسوس ہوتی تھی۔ رات کو گانا بجتا رہتا تھا اور میں گھر کے صحن میں ان نغموں کو سنتا رہتا تھا اور اسی دوران نیند آ جاتی تھی۔ محمد رفیع میرے پیارے سے بچپن کی ایک خوب صورت یاد ہیں۔

محمد رفیع چوبیس دسمبر انیس سو چوبیس کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں گاؤں سے ایک فقیر گزرتا تھا، وہ گاؤں میں گاتے ہوئے داخل ہوتا تھا، معلوم نہیں یہ فقیر کہاں سے آتا تھا اور کہاں چلا جاتا تھا۔ گاؤں میں ایک بچہ تھا جو ہمیشہ اس فقیر کے پیچھے جاتا۔ وآپس آکر وہ بچہ گاؤں والوں کو اس فقیر کا پنجابی میں گایا ہوا گیت گا کر سناتا تھا۔ کوٹلہ سلطان سنگھ کے بازار میں لوگ جمع ہوتے تھے اور وہ اس بچے سے فقیر کے سریلے گیت سنتے تھے۔

کہتے ہیں وہ فقیر بھی کمال کا سریلا تھا اور وہ بچہ بھی کمال کا گلوکار تھا۔ فقیر کے بارے میں تو مجھے معلوم نہیں لیکن اس بچے کا نام تھا محمد رفیع۔ گیارہ برس کا یہ بچہ کوٹلہ سلطان سنگھ کے لئے قدرت کی طرف سے ایک نایاب تحفہ تھا۔ جس کے سریلے گیت گاؤں کی آب و ہوا کو خوش گوار بنائے رکھتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ وہ بچہ اور اس کا خاندان لاہور شفٹ ہو گیا۔ لاہور میں اس بچے نے بڑے بڑے استادوں سے موسیقی کا فن سیکھا۔ یہ بچہ جس کی عمر گیارہ سال تھی وہ استاد بڑے غلام علی، فیروز نظامی، پنڈت جیون لال کی شاگردی میں رہا۔ ان استادوں نے محمد رفیع کے فن کو خوب انداز میں تراشا اور نکھارا۔ محمد رفیع تیرہ برس کے ہو گئے۔

اسی زمانے میں لاہور میں گلوکاری کے ایک جلسے کی تقریب ہوئی۔ کسی معروف سنگر اور موسیقار نے جلسے میں گانا تھا۔ کسی وجہ سے وہ لیٹ ہو گئے اور محمد رفیع اس جلسے میں کچھ دیر کے لئے گاتے رہے۔ شائقین موسیقی محمد رفیع کی گائیکی پر اش اش کر اٹھے۔ جلسے میں عظیم موسیقار شیام سندر بھی موجود تھے۔ انھوں نے محمد رفیع کو بلایا اور کہا بیٹا آپ کی آواز بہت سریلی اور نایاب ہے، گاتے رہیے بیس برس کی عمر میں شیام سندر نے محمد رفیع کو ’گل پنجابی‘ نامی ایک فلم میں پہلا بریک دیا۔ یہ پہلا گیت تھا سوہنیے، ہیریے۔ اس کے بعد محمد رفیع کی گاڑی چل پڑی۔

وہ آل انڈیا ریڈیو پر اپنے سر بکھیرنے لگے۔ انیس سو چوالیس میں محمد رفیع لاہور سے ممبئی چلے گئے۔ بھنڈی بازار کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہنے لگے۔ شیام سندر بھی لاہور سے ممبئی آچکے تھے۔ ممبئی میں محمد رفیع نے شیام سندر کی فلموں کے لئے گیت گانے شروع کر دیے۔ انیس سو سینتالیس میں محمد رفیع نے فلم ’جگنو‘ کے لئے ایک سپر ہٹ گانا گایا۔ اس گانے کے بول تھے، ’یہاں بدلا، وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ ۔ اس فلم کے ہیرو دلیپ کمار اور ہیروئن نور جہاں تھیں۔ انیس سو سینتالیس میں تقسیم ہند ہو گئی۔ نور جہاں پاکستان چلی گئیں اور محمد رفیع نے اپنے خاندان کو لاہور سے مستقل بنیادوں پر ممبئی بلوا لیا۔ محمد رفیع نے کہا کہ اب وہ ہمیشہ ہمیشہ ممبئی میں رہیں گے۔

انیس سو اڑتالیس میں ایک انتہا پسند نے مہاتما گاندھی کا قتل کر دیا۔ راجندر کشن نے گاندھی کے قتل پر ایک گانا لکھا جس کا نام تھا ’سنو سنو دنیا والو، بابو کی یہ امر کہانی‘ ۔ اس کے بعد پورے ہندوستان میں محمد رفیع مشہور ہو گئے۔ جواہر لعل نہرو جو اس وقت بھارت کے وزیر اعظم تھے انھوں نے محمد رفیع کو اپنا پسندیدہ گلوکار قرار دیا۔ اب محمد رفیع بالی وڈ فلم انڈسٹری کی آواز بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع ہی بالی وڈ فلم انڈسٹری کی پہلی آواز تھے۔

اس کے بعد محمد رفیع نے ہزاروں گیت گائے۔ انھوں نے قوالیاں گائیں، بھجن گائے، نغمے اور غزلیں گائیں، انقلابی گیت گائے، پلے بیک سنگنگ کی بنیاد محمد رفیع ہی نے ڈالی تھی۔ انھوں نے اپنی گائیکی سے گانے اور اداکاری کے درمیان فاصلہ ہی ختم کر دیا۔ وہ اپنی طرح کے دنیا کے پہلے گائیک ہیں۔ وہ واحد گلوکار تھے، جن کو یہ معلوم تھا کہ محفل میں کیسے گایا جاتا ہے۔ اسٹیج پر گانے کا کیا انداز ہونا چاہیے۔ ان کی آواز کی کوالٹی ایسی تھی کہ جو بھی اداکار گاتا ایسے معلوم ہوتا تھا کہ یہ محمد رفیع کی نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز ہے۔

محمد رفیع کی آواز کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر اداکار کے ساتھ میچ کر جاتی تھی۔ محمد رفیع نے دلیپ کمار کے لئے گانے گائے، دیو آنند، شمی کپور کے لئے گانے گائے۔ ’میرے محبوب، تیرے حسن کی کیا تعریف کروں‘ ، ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے، کہ دل ابھی بھرا نہیں‘ ، ’میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم‘ ۔ ’آج ساتھ میرے دل کی سلامی لے لے‘ ، ’نین لڑ گئی‘ ، ’تعریف کروں میں کیا اس کی‘ ، ’چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے‘ ، یہ وہ نغمے ہیں جو آج بھی اس زمین پر کہیں نہ کہیں گونج رہے ہوتے ہیں۔

’یہ دیکھ کے دل جھوما، لی پیار نے انگڑائی‘ ۔ ’آسمان سے آیا فرشتہ پیار کا‘ ، کیا ان نغموں کو کوئی بھول سکتا ہے؟ ’دن ڈھل جائے ہائے، رات نہ جائے‘ ، اس طرح کے گیت گانے والا فن کار صدیوں میں بھی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محمد رفیع جیسا لیجنڈ گلوکار اپنی نوعیت کا اکیلا فن کار تھا۔ دنیا میں ایسے گلوکار بہت کم پیدا ہوئے ہیں، جن کو اپنی آواز پر ایسا کنٹرول ہوتا ہے۔

کچھ ایسے فن کار ہوتے ہیں، جو موسیقی کو پی لیتے ہیں۔ محمد رفیع بھی ایسے ہی فن کار تھے۔ گائیکی ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ ہر قسم کا نغمہ گا لیتے تھے۔ انیس سو انسٹھ میں ایک فلم بنی تھی جس کا نام ’دلاری‘ تھا۔ وہ فلم رفیع کے گانوں کی وجہ سے سپر ہٹ ہو گئی۔ اس فلم کا ایک نغمہ تھا، ’سہانی رات ڈھل چکی، نجانے تم کب آو گے‘ ۔ بیجو باورا کا ’اے دنیا کے رکھوالے‘ ایک نہایت مشکل گانا مانا جاتا ہے ۔ محمد رفیع نے اپنے زمانے کے ہر موسیقار کے ساتھ کام کیا۔ نوشاد، شنکر جے کِشن، اوپی نیر، ایس ڈی برمن جیسے عظیم موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ حسرت کا لکھا گانا، ’اس رنگ بدلتی دنیا میں انسان کی نیت ٹھیک نہیں‘ ، آج بھی کہیں سر بکھیر رہا ہو، تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ کیا کمال فن کار تھا۔

مجھے ان کا فنی گانا، ’ہم کالے ہیں تو کیا ہوا، دل والے ہیں‘ ، بہت پسند ہے۔ ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے چشم بدور‘ ، عظیم موسیقار او پی نیر کہتے ہیں کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ محمد رفیع نہ ہوتا تو اوپی نیر بھی نہ ہوتا۔ ’دل میں چھپا کر پیار کا طوفان لے چلے‘ ، ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے کہ دل ابھی بھرا نہیں‘ ، کون کم بخت ہے جو آج بھی اس طرح کے نغموں سے محروم رہنا پسند کرے گا۔ کاش آج کے نوجوان سنگر محمد رفیع کی گائیکی اور ان کی ادائی کو سمجھتے۔

ان کی خوب تر گائیکی نوجوان گلوکاروں کے لئے قدرت کی طرف سے عظیم نعمت ہے۔ ’زندگی بھر نہ بھولے گی وہ برسات کی رات‘ ، ’اب تمھارے حوالے وطن ساتھیو‘ ، یہ وہ گیت ہیں جو تا قیامت اپنا جادو بکھیرتے رہیں گے۔ محمد رفیع نے اپنی زندگی میں ساڑھے چار ہزار سے زائد گیت گائے، عظیم موسیقار جوڑی لکشمی کانت، پیارے لال کے ساتھ محمد رفیع نے سب سے زیادہ کام کیا۔ انھوں نے لکشمی کانت، پیارے لال کے لئے تین سو ستر گانے گائے۔ ’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے، آواز میں نہ دوں گا‘ ۔ یہ کمال نغمہ تھا جو آج بھی چوکوں چوراہوں میں سننے کو مل جاتا ہے۔

جولائی انیس سو اسی میں محمد رفیع اس جہان سے کہیں اور چلے گئے، لیکن ان کے گائے ہوئے نغمے آج بھی دنیا بھر میں گونج رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شرمیلے اور خاموش مزاج قسم کے انسان تھے۔ چپ چاپ بیٹھے رہتے اور بہت ہی کم بات کرتے تھے۔ لیکن اس شرمیلے انسان نے دنیائے موسیقی کو عظیم گیتوں سے نوازا۔ کہتے ہیں کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو بھارت کے مختلف حصوں اور کشمیر سے ہزاروں افراد بہت عرصے بعد ان کے گھر آئے اور کہا کہ کیا ہوا رفیع صاحب کہاں ہیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی کمائی کا بہت بڑا حصہ بھارت بھر میں غریبوں کے یہاں پہنچاتے تھے۔

میں صرف اتنا کہوں گا کہ کبھی موقع ملے تو اس عظیم گلوکار کی گائیکی ضرور سن لیا کریں، اس سے اندر کی دنیا میں امن و سکون اور شانتی آ جاتی ہے۔ محمد رفیع کا شکریہ کہ آج بھی ان کے گانے سن کر میرے جیسے انسان کی دنیا میں خوش گوار کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ محمد رفیع کی گائیکی سنیے اور ان کا شکریہ ادا کریں۔ وہ اس کائنات کا سر تھے، وہ اس کائنات کے نایاب سریلے پرندے تھے۔ انھوں نے ہمارے لئے یہ نغمہ بھی گایا تھا۔ ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے، سنگ سنگ تم بھی گن گناؤ گے‘ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں