روس میں سینکڑوں استانیوں کا نیم برہنہ احتجاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس میں گزشتہ روز سینکڑوں خواتین سکول ٹیچرز نیم برہنہ ہو کر احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ٹیچرز اپنی ایک ساتھی خاتون ٹیچر کی برطرفی کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔ اس خاتون ٹیچر کو پیراکی کا لباس ’بکنی‘ اور دیگر انتہائی مختصر ملبوسات پہن کر تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر نوکری سے نکالا گیا تھا۔ اس ٹیچر کے خلاف والدین نے شکایت کی تھی کہ سوشل میڈیا پر اس کی قابل اعتراض تصاویر دیکھ کر اس کے پاس پڑھنے والے لڑکے اس کے متعلق ذہنوں میں غلط خیال پال سکتے ہیں اور ان کے بے راہ رو ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سکول انتظامیہ نے والدین کی طرف سے متعدد شکایات موصول ہونے پر 38 سالہ تیتیانا کووشین نیکووا کو نوکری سے نکال دیا۔ کئی طالب علموں کے والدین نے اپنے شکایات میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”کووشین نیکووا جسم فروش خواتین جیسا لباس پہنتی اور ان جیسا میک اپ کرتی ہے اور پھر تصاویر بنا کر اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر پوسٹ کرتی ہے۔

اپنی اس ساتھی ٹیچر کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور اس کی برطرفی کے خلاف جہاں سینکڑوں ٹیچرز نیم برہنہ ہو کر سڑکوں پر نکلیں وہیں درجنوں خواتین ٹیچرز اپنے سکول میں پہننے والے کپڑوں کے ساتھ سمندر میں نہا کر بھی احتجاج کرتی رہیں۔ احتجاج کرنے والی ٹیچرز میں سے ایک داشا لوکاشین سکایا کا کہنا تھا کہ ”لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔ جب آپ ساحل سمندر پر چھٹیاں منانے جاتے ہیں تو بکنی پہن کر ہی پیراکی کرتے ہیں۔ سکول یونیفارم پہن کر سمندر میں نہیں نہایا جاتا۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •