عورتوں پر تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کرونا کی وبا کے دوران جو مسائل سامنے آئے ہیں، ان میں جانی و مالی نقصان کے علاوہ عورتوں پر ہونے والے تشدد میں اضافہ کی شکایات بھی شامل ہیں۔ عورتوں پر تشدد دنیا بھر میں عام ہے اور یہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔ یہ کوئی انفرادی یا کبھی کبھار ہونے والا کام نہیں، اس کی جڑیں صنفی بنیادوں پر قائم سماجی ڈھانچے میں چھپی ہوئی ہیں۔ عورت کی عمر خواہ کچھ بھی ہو، سماجی و اقتصادی حالات کیسے بھی ہوں، تعلیمی قابلیت ہو نہ ہو، وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتی ہو، اسے تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ صنفی عدم مساوات اور امتیاز کو ختم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے (اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 2006)

اقوام متحدہ نے عورتوں پر تشدد کی وضاحت یوں کی ہے : ”صنفی بنیاد پر تشدد کا ایسا فعل جس کا نتیجہ جسمانی، جنسی یا نفسیاتی نقصان یا تکلیف کی شکل میں نکلے یا نکل سکتا ہو۔ اس میں ایسے کسی عمل یا کارروائی کی دھمکی، جبراور عوامی یا نجی زندگی میں عورت کو آزادی سے محروم کرنا بھی شامل ہے۔ (جنرل اسمبلی قرارداد)

عورتوں کی چوتھی عالمی کانفرنس 1995میں بیجنگ میں ہوئی تھی، اقوا م متحدہ نے 1975کو عورتوں کا عالمی سال قرار دیا تھا۔ میں اس زمانے میں روزنامہ مساوات کراچی میں کام کرتی تھی۔ اقوا م متحدہ نے عورتوں کی پہلی عالمی کانفرنس میکسکو میں منعقد کی تھی۔ پاکستانی وفد کی قیادت بیگم نصرت بھٹو نے کی تھی۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ چوتھی اور اب تک کی آخری عالمی کانفرنس جو بیجنگ میں ہوئی، اس میں پاکستانی وفد کی قیادت بے نظیر بھٹو نے کی۔ بیجنگ کے بعد ابھی تک تو عالمی کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی لیکن بیجنگ کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر بعد میں بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کی شکل میں عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ 2020میں اس پلیٹ فارم کو بنے ہوئے پچیس سال ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی وعدوں اور داخلی مطالبات کی بدولت گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں عورتوں کے لئے بہت اچھے قوانین بنے ہیں۔ اس حوالے سے صوبہء سندھ سر فہرست ہے مگر عمل درآمد کے لحاظ سے صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی صنفی مساوات کی انڈیکس میں پاکستان کافی سالوں سے آخر سے دوسرے نمبر پر آ رہا ہے، اسی طرح زچگی کے دوران اموات، لڑکیوں کی تعلیم اور دوسرے اشاریوں میں پاکستان بہت پیچھے ہے۔ منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کی وزارت اور وزارت مالیات کے مطابق پاکستان نے 2017 تک ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کے حصول کے لئے چار اعشاریہ صفر چھ روپے خرچ کیے تھے مگر پھر بھی وہ ان مقاصد کے حصول میں ناکام رہا۔ اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی پاکستانی این جی اوز کی متوازی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں قوانین اور پالیسیاں بہت عجلت میں بنائی جاتی ہیں اس لئے ان پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ جن مسائل کے بارے میں قانون سازی کی جاتی ہے، ان پر مناسب تحقیق نہیں کی جاتی۔ عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹوں اور مانیٹرنگ کی ضروریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم (2010) کے بعد سے تعلیم، صحت اور عورتوں سے متعلق معاملات صوبوں کو دے دیے گئے ہیں۔ کوئی ایسا قومی ادارہ نہیں ہے جو عورتوں کے لئے منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ متعلقہ شعبے شاذ ہی ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ اس لئے ایک ہی مسئلے پر دہرا کام ہو رہا ہوتا ہے یا سرے سے کام ہی نہیں ہوتا۔ این جی اوز نے اپنی متوازی رپورٹ میں اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ متعدد اقدامات کے باوجود عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کی شرح زیادہ رہی ہے۔

پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق کاروکاری کے نتیجے میں 254 عورتیں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، 67 پر تیزاب پھینکا گیا اور جنسی تشدد کے 856 واقعات پیش آئے۔ ظاہر ہے اصل تعداد کہیں زیادہ ہو گی مگر بدنامی کے ڈر سے ان واقعات کو چھپایا جاتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو بھی بہت زیادہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو تشدد کے بارے میں ہونے والے ایک سروے سے معلوم ہواکہ چھپن فی صد عورتیں تشدد کے بارے میں خاموش رہتی ہیں۔

گھریلو تشدد کا سامنا ہر کمیونٹی کے افراد کو بلا لحاظ عمر، مذہب، صنف اور اقتصادی مرتبہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ جذباتی زیادتی اور کنٹرول کرنے کا رویہ بھی شامل ہوتا ہے۔ گھریلو تشدد کا نتیجہ جسمانی چوٹ، نفسیاتی صدمے اور بسا اوقات موت کی شکل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ امرتیا سین کی ریسرچ کے مطابق پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم ہو جانے پر لڑکیوں کو اس دنیا میں آنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ہندوستانی این جی اوز کی متوازی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010 میں 126 ملین لڑکیوں کو جنس معلوم ہو جانے پر اسقاط حمل کے ذریعے اس دنیا سے غائب کر دیا گیا۔ 2020 تک دنیا بھر سے 142 ملین عورتیں غائب ہو چکی ہوں گی۔ حیاتیاتی طور پر پیدائش کے وقت جنس کا تناسب 102 سے 106 لڑکوں کے مقابلے میں 100 لڑکیوں کا ہے۔ اگر لڑکیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ لڑکے پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ لڑکیوں کو اسقاط حمل کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے (UNFPA) ۔

ہندوستان میں عورتوں پر لڑکا پیدا کرنے کے لئے بہت دباؤ رہتا ہے (پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے ) ۔ لڑکیوں کو کم مرتبہ دیا جاتا ہے اور جہیز اور دیگر عوامل کی بنا پر انہیں خاندان پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو والدین بڑھاپے کی لاٹھی سمجھتے ہیں۔ الٹرا ساؤنڈ سے بچے کی جنس معلوم ہو جانے کی صورت میں ماں کو اسقاط حمل پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جنس کے تعین کی بنا پر کیے جانے والے اسقاط حمل کو روکنے کے لئے ہندوستان میں دو قانون بن چکے ہیں مگر ان قوانین کے باوجود 2000 سے 2014 کے درمیان ایک کروڑسے زیادہ اسقاط حمل کرائے گئے۔

جہیز کا معاملہ بھی عورتوں پر تشدد کا سبب بنتا ہے۔ ہندوستان کی حکومت کے 2015-16 کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق پندرہ سال کی عمر سے ہر تیسری عورت گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ 31 فی صد شادی شدہ عورتیں تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان جسمانی تشدد کے بعد دوسرا نمبر جذباتی تشدد کا آتا ہے۔ گھریلو تشدد کے ساتھ عورت کو جہیز نہ لانے یا کم لانے پر بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔

پاکستا ن میں تشدد کے خاتمے کے لئے کیے جانے والے بہت سے اقدامات کے باوجودعورتوں پر تشدد میں کمی نہیں آئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد سائبر کرائمز بھی سامنے آئے ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے عورتیں بڑی تعداد میں مختلف چینلز میں کام کر رہی ہیں لیکن ان میں سے جن کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، وہ یا تو خاموش رہتی ہیں یا نوکری چھوڑ دیتی ہیں، جو بولتی ہیں ان کو بھی انصاف آسانی سے نہیں ملتا۔ بہت سی میڈیا تنظیموں نے رضاکارانہ طور پر ضابطہء اخلاق اپنا رکھا ہے۔ 2017 میں اخلاقی صحافت نیٹ ورک سے وابستہ ایک گروپ نے صحافت کے لئے ایک قومی ضابطہء اخلاق تیار کیا تھا جسے سارے صحافیوں نے ماننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ’عکس‘ سمیت کچھ تنظیموں نے نیوز روم کے لئے ضابطہء اخلاق تیار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے لئے پاکستانی این جی اوز کی متوازی رپورٹ کے مطابق قانون سازی اور ویمن کمیشنوں کے قیام کے باوجود عورتوں کو ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عورتوں کے لئے انسٹیٹیوشنل میکانزم ناکافی ہیں۔ صنفی مساوات کی قومی پالیسی یا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ صوبائی سطح پر عورتوں کی ایمپاورمنٹ کی پالیسی اور پیکیج بنائے گئے ہیں مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صوبائی کمیشنوں کو مکمل خود مختاری حاصل نہیں ہے اور وہ وسائل کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ صوبائی ویمن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹس بھی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔

داخلی تنازعات، بحران اور امن عامہ کی صورتحال نے بھی عورتوں اور بچوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ مسائل تو تھے ہی کہ کرونا کی وبا نے ساری دنیا کو لاک ڈاؤن پر مجبور کر دیا۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر سے صنفی تشدد کے واقعات میں اضافے کی رپورٹس آ رہی ہیں۔ قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی سابق چئیرپرسن خاور ممتاز نے اس حوالے سے اعداد و شمار اور معلومات جمع کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے عورتوں پر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ اس کا بھی امکان ہے کہ بیروزگاری کی وجہ سے مرد اپنی فرسٹریشن عورتوں پر نکالیں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت نوے ممالک میں لاک ڈاؤن ہے اور چار بلین لوگ گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہ ایک حفاظتی اقدام ہے مگر اس میں ایک اور خطرہ پوشیدہ ہے کہ اب عورتوں پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہو گا۔ اس کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومتوں کو لوگوں کی اقتصادی طور پر مدد کرنا ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply