سگریٹ پیتی ہوئی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابو جی نے سرخ رنگ کی گرگابی پہنی ہوئی تھی، کندھے پر حسب معمول صافہ تھا، ایک ہاتھ سے تہمد پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔

ابو جی نے سروسز ہسپتال کے سامنے والی سڑک عبور کرنے کے لیے بڑے اشارے کیے، ہاتھ ہلا ہلا کر کہا کہ کوئی گاڑی، موٹر سائیکل یا رکشہ آہستہ کرے، ٹریفک آہستہ ہو تو ہم سڑک کراس کرسکیں لیکن گاڑیاں آتی تھیں اور شراٹے بھرتے ہوئے گزر جاتی تھیں۔

میں ابو جی سے بھی زیادہ سہما ہوا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ بے ہنگم طریقے سے ٹوں ٹوں ٹاں ٹاں کرتیں گاڑیاں ہمیں اپنے ٹائروں تلے روندتے ہوئے گزر جائیں گی۔ ابو جی دو چار قدم آگے بڑھتے لیکن گاڑیوں کی سپیڈ اور حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے فوراً پسپائی اختیار کر لیتے۔ میرا دل شاید ان سے بھی زیادہ تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا، ہم پریشان تھے کہ لاہور کی سڑک کراس کرنا ہی ہمارے لیے نانگا پربت سر کرنے جیسا ہو گیا تھا۔ پھر اللہ بھلا کرے وہاں کھڑے ایک شخص کا، جس نے کہا کہ آؤ بزرگو! میں آپ کو سڑک پار کرواتا ہوں۔ نوشہرہ ورکاں کی چھوٹی سی دنیا سے نکل کر یہ لاہور سے میرا پہلا تعارف تھا۔

ڈاکٹر عبدالجبار اب تو شاید کینیڈا میں ہوتے ہیں لیکن اس وقت سروسز ہسپتال کے شعبہ امراض دل کے انچارج تھے۔ ہفتے میں ایک دن نوشہرہ ورکاں بھی آتے تھے۔ جوان ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے خوبرو بھی تھے، لہجہ دھیما اور نرم تھا۔ پڑھے لکھوں والی ایک عینک تھی اور کلین شیو بھی تھے۔ ان دنوں پورے نوشہرہ ورکاں میں شاید ہی کوئی اکا دکا شخص ہو گا، جو کہ کلین شیو ہو۔ مجھے ابھی بھی اچھی طرح یاد ہے کہ فرسٹ ائر میں جب میں نے کلین شیو کی تو محلے کے لڑکوں اور یار بیلیوں نے کیسی کیسی آوازیں کسی تھیں اور کن کن ناموں سے پکارا تھا۔ خیر ڈاکٹر صاحب تھوڑے عرصے کے لیے نوشہرہ میں آئے اور چھا گئے، ہر محلے میں ان کا ذکر اور ان کی تعریف ہونے لگی تھی۔ انہوں نے امی جی سے کہا کہ بچے کا آپریشن ضروری ہے، آپ اسے لاہور کسی دن لے آئیں۔

بڑی سوچ بچار کے بعد ابو جی نے کہا کہ وہ مجھے لاہور لے جائیں گے۔ دو تین دن ابو جی لاہور میں میرے ساتھ سروسز ہسپتال میں ہی رہے لیکن بعد میں بڑے بھائی اعجاز ان کی جگہ آ گئے۔

لاہور کی گہما گہمی، رونقیں اور لوگوں کا ہجوم میرے لیے نیا تھا۔ مجھ جیسے پینڈو کے لیے سروسز ہسپتال کی نرسیں ہی ”بے واچ“ سے زیادہ پرکشش تھیں۔ میرے لیے ان کے لمبے ناخن، نیل پالش، لپ اسٹک اور اردو بولنے کا شگفتہ اور دل آویز اسلوب ہی ناقابل یقین حد تک جان لیوا اور متاثر کن تھا۔ وہاں پہلی مرتبہ مجھے یوں لگا کہ میں واقعی کسی فلمی دنیا میں قدم رکھ چکا ہوں۔

پتا نہیں یہ کب اور کیسے ہوا لیکن جب میں آپریشن کروا کے واپس آیا تو کئی ہفتے تو گاؤں میں دل ہی نہیں لگا۔ شام آٹھ بجے ہی ہر چیز جیسے نیند کا غلاف اوڑھ لیتی ہو، ہر گلی جیسے اجڑ گئی ہو، بلبوں اور ٹیوب لائٹوں سے جیسے روشنی ہی ختم ہو گئی ہو۔ سردیوں کی شامیں اور ہر طرف سناٹا مزید اداس کر دینے والا تھا لاہور میں رات آٹھ بجے کے بعد رات کی دنیا جاگنے لگتی تھی لیکن ادھر رات نو بجے لائٹیں مکمل بند ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔ لیکن تین چار ہفتے لگے اور پھر وہی کھیت، بھینسیں، بکریاں، گلیاں، بے رنگ مکان، اپلے تھاپنے اور میل زدہ ناخنوں والی لڑکیاں چاند جیسی خوبصورت لگنے لگیں۔

دوسری مرتبہ ایسا ہی ایک سو بیس وولٹ کا جھٹکا مجھے آئی سی آئی پولیسٹر فائبر پلانٹ کی ریسپشنسٹ کو دیکھ کر لگا تھا۔ یہ بارہویں کلاس کی بات ہے، میں وہاں انٹرنشپ کے لیے انٹرویو دینے گیا تھا۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ لائیو دیکھا کہ ایک لڑکی کی زلفیں انتہائی سلیقے کے ساتھ تراشی ہوئی ہیں، شیمپو کی وجہ سے بال پھولوں کی طرح اجلے اور کھلے ہوئے ہیں۔ اس نے ہلکی لپ اسٹک لگائی ہوئی ہے اور مختصر سا دوپٹہ گلے میں وی شکل بناتے ہوئے کمر پر دراز تھا۔ صراحی نما سفید موتیے جیسی گردن تھی اور کمر کی طرف قمیص پر ایک زپ لگی ہوئی تھی۔ ہاں، میرے لیے سب سے متاثر کن یہی زپ تھی، میں نے شاید اس سے پہلے ایسی زپ والی کوئی لڑکی انڈین فلم یا پی ٹی وی کے ڈرامے میں ہی نہ دیکھی ہو لیکن لائیو کبھی نہیں دیکھی تھی۔

آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ اس میں انوکھی کیا بات ہے؟ لیکن اس وقت میرے لیے یہ حیران کن دنیا تھی۔ شہروں کے رہنے والوں یا انگلش میڈیم کے اسٹوڈنٹس کے لیے شاید یہ معمول کی بات ہو لیکن پرائمری اسکول نمبر چار سے نکلے ہوئے امتیاز احمد کے لیے یہ ایک ”بہت بڑی جست تھی۔“

واپسی پر میرے ایک دوست نے پوچھا کہ انٹرویو کیسا رہا لیکن میں نے اسے انٹرویو کی بجائے سب سے پہلے یہ بتایا کہ یار وہاں جو لڑکی تھی، اس نے زپ والی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ جتنی حیرانی میری آنکھوں میں تھی، اس سے کہیں زیادہ اس کی چمکتی اور پرتجسس آنکھوں میں بھی تھی۔

آئی سی آئی شیخوپورہ میں انٹرن شپ کے دوران ہی میں نے لاہور میں کلمہ چوک کے قریب واقع ”دا رینیسنس اسکول“ کی شام کی کلاسز میں جرمن زبان سیکھنا شروع کر دی۔

یہ انگلش میڈیم اسکول تھا اور میرا کسی پرائیویٹ اسکول سے ماضی میں کبھی دور دور کا کوئی واسطہ نہیں رہا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں پرائیویٹ اسکول جانے والے بچوں کو ہمیشہ حسرت کی نگاہ سے ہی دیکھا تھا۔ ہمیشہ دل میں یہ خواہش رہی کہ میں بھی سیاہ شوز پہنوں، ٹائی لگاؤں، کاندھے پر کپڑے کے تھیلے کی بجائے کمر پر بستہ لٹکا کر جاؤں، میری بھی ایک سائیکل ہو، مجھے بھی روٹی ایک لنچ باکس میں ملے لیکن دسویں کلاس تک میری یہ حسرت حسرت ہی رہی۔ میری یہ خواہشیں انتہائی شدید تھیں، مجھے کاپی پر پینسل سے لکھنا پسند تھا لیکن پرائمری اسکول میں ہمیشہ قلم دوات سے تختی پر لکھنا اور سلیٹ کو ہمیشہ تھوک سے صاف کرنا پڑتا تھا۔

امریکی طرز کے ”دا رینیسنس اسکول“ میں شام کو مظہر نت صاحب جرمن زبان سکھایا کرتے تھے۔ شام ہی کو وہاں جی میٹ وغیرہ کی کلاسز بھی ہوتی تھیں۔ جی میٹ کے زیادہ تر طلبہ و طالبات ایلیٹ یا اپر کلاس کے تھے۔ چمکتی ہوئی اور باہر سے امپورٹ کی گئی گاڑیاں انہیں عین گیٹ کے سامنے اتارتی تھیں۔ کچھ نازک مزاج لڑکیاں تو اس وقت تک نیچے قدم نہیں رکھتی تھیں، جب تک شوفر کار سے نکل کر ان کا دروازہ خود نہیں کھولتا تھا۔ لڑکے تو جینز وغیرہ پہنتے ہی تھے لیکن میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ لڑکیاں بھی ٹائٹ جینز پہنتی ہیں۔

یہ شاید پہلا موقع تھا کہ مجھ میں احساس کمتری پیدا ہونا شروع ہوا، میں ان کی ایک ایک ادا اور حرکت سے مرغوب ہو جاتا تھا۔ میں حقیقت میں ان کے انداز تکلم، شام کو سن گلاسز لگانے، کھلے بالوں کے ساتھ فرفر انگریزی بولتی ماڈرن لڑکیوں، دائیں ہاتھ کی انگلی میں گاڑی کی چابی گھماتے گھماتے اچانک اسے ہوا میں اچھالنے والے لڑکوں اور گھٹنے سے پھٹی ہوئی جینز پہننے والی امیر گھرانوں کی لڑکیوں سے نا چاہتے ہوئے بھی متاثر ہو چکا تھا۔

یہ وہی دن تھے، جب میں نے شلوار قمیص چھوڑ کر لنڈے سے پینٹ شرٹ خریدنا شروع کر دیے تھے۔ لیکن ان تمام تر سطحی کوششوں کے باوجود دور ہی سے پتا چل جاتا تھا کہ یہ بندہ کوئی شدید قسم کا پینڈو ہے۔ بے اعتمادی صرف چال ڈھال سے نہیں باتوں سے بھی چھلکتی تھی یا شاید سر پر تیل لگانے کی عادت نہیں گئی تھی، یا صحیح اور سلیقے سی انگلش بولنا نہیں آتی تھی، جو اب بھی نہیں آتی۔ بہرحال یہ عادتیں تو اب بھی مجھ میں ہیں۔ مجھے اچانک اپنے لنگوٹیے دوستوں وکی اور عامر کا ایک فقرہ یاد آ گیا ہے۔ وہ دونوں کہا کرتے تھے، ”تاج دین کچھ لوگ بیسیکلی پینڈو ہوتے ہیں لیکن تم بنیادیکلی پینڈو ہو۔“

تو یہ انہی دنوں کی بات ہے۔ مظہر نت صاحب نے بتایا کہ چند روز بعد اسکول کی طرف سے فیشن شو اور کیٹ واک منعقد ہو رہی ہے اور آپ سب نے بھی ٹکٹیں لازمی خریدنی ہیں۔

مجھ سے ان کا خاص لگاؤ تھا تو انہوں نے مجھے مفت میں ہی ایک ٹکٹ تھما دی اور ساتھ یہ بھی تاکید فرما دی کہ ہفتے والے دن شام سات بجے تک پہنچ جانا۔

ٹی وی اور اخبار جہاں وغیرہ میں تو کئی مرتبہ فیش شو کی تصاویر دیکھ چکے تھے لیکن میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی لائیو فیشن شو دیکھنا تھا تو احتیاطاً ساڑھے چھ بجے ہی وہاں پہنچ چکا تھا۔ وہاں جا کر دیکھا کہ ابھی تو کرسیاں ہی لگ رہی ہیں۔ خیر رات گیارہ بارہ بجے شو شروع ہوا۔ معروف اداکار اور گلوکار علی ظفر نے اپنا ”جگنوؤں سے بھر لو آنچل، چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے“ اور کئی دیگر گیت سنائے۔ میں نے پہلی مرتبہ کسی مشہور گلوکار کو لائیو سنا تھا، میرے لیے یہ بھی ایک نئی اور الگ تھلگ دنیا تھی۔

ہر طرف ولایتی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں، انگریزی موسیقی تھی، زرق برق لباس تھے، ریمپ کی اطراف سے مصنوعی دھواں اٹھ رہا تھا، کیٹ واک کرنے والوں کی ایڑیوں کی دھمک میرے سینے کے ایک کونے میں سہمے ہوئے دل پر پڑ رہی تھی۔ سنجیدہ چہروں اور خوبصورت نین نقوش والی ماڈلز کی چمکتی پنڈلیاں اور سانچے میں ڈھلے ہوئے جسم تھے۔ ان حسیناوں کے قدم اور بدن مغربی موسیقی کے ساتھ انتہائی ہم آہنگ تھے۔ کوئی ماڈل ریمپ کے بالکل سامنے آ کر شان بے نیازی سے گھومتی تو تالیوں کی گونج اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیر دیتی۔

میں ایک کرسی پر بیٹھا دیکھتا رہا۔ میرا حال بالکل اس چوزے کی طرح تھا جو ابھی ابھی کسی انڈے کے خول سے باہر نکلا ہو اور دنیا کو حیرت زدہ نظروں سے پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہو۔

میرے قریب ہی بائیں طرف ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی، کچھ دیر بعد اس نے ایک لڑکے کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا، شاید اس کا واقف کار ہی تھا۔ لڑکی نے اپنے برانڈڈ پرس سے سگریٹ کی ایک ڈبیہ نکالی، سلم سمارٹ سا ایک سگریٹ اپنے سرخی لگے نرم ہونٹوں کے درمیان دبایا، لڑکے نے لائٹر سے سگریٹ سلگایا اور دونوں کی آنکھیں معنی خیز قہقہوں سے گونج اٹھیں۔

میں کیٹ واک چھوڑ کر ترچھی آنکھوں سے اس لڑکی کو دیکھتا رہا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کے ہونٹوں سے سیٹی کی صورت نکلنے والا تھوڑا سا دھواں ریمپ سے نکلنے والے تمام دھوئیں کو اپنے اندر جذب کر چکا تھا۔ دو انگلیوں کے درمیان سگریٹ پکڑ کر جب اس نے آخری کش لگایا تو مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے میرے پھیپھڑوں سے کسی نے آکسیجن کھینچ لی ہو۔ میرے لیے یہ ایک نئی طلمساتی دنیا تھی، دماغ میں کبھی گاؤں کی گلیاں رقص کرتیں تو کبھی کانوں میں انگلش میوزک کی لہریں ایک دم پردہ سماعت پر ٹھوکر لگاتیں۔

شاید میں اپنے قد سے بڑی کسی محفل میں جا بیٹھا تھا۔ رات دیر گئے جب سبھی اپنی اپنی کاروں پر روانہ ہو رہے تھے تو میں نے دور والے اسٹاپ پر جا کر وین لینا مناسب سمجھی۔ ایک انجانا سا خوف تھا کہ وہاں بیٹھا ہوا کوئی شخص مجھے پہچان نہ لے۔ اگلی صبح جب دیر تک نہ اٹھا تو فلیٹ کے ایک دوست نے پوچھا سب خیریت تو ہے؟

پہلے تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر اس نے دوبارہ پوچھا تو میں نے لیٹے لیٹے ہی ایک آنکھ ہلکی سی کھولی، میرے کمرے میں ابھی تک اس آخری کش کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پھر ایک نحیف سی آواز پتا نہیں کہاں سے آوارہ گردی کرتے ہوئے خشک ہونٹوں کی فصیل پھلانگ کر باہر نکلی، ”ہاں سب ٹھیک ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *