اولاد کا مستقبل سنوارا یا برباد ہوا!

ہمارے معاشرے میں دہائیوں سے رواج چلتا آ رہا ہے کہ مرد کو جب رشتہ ازدواج میں باندھ دیا جاتا ہے تو اس کو زوجہ محترمہ اور آنے والے نسل کے رزق اور مستقبل کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ پہلے تو وہ والد کی دولت کا عادی ہوتا ہے لیکن رشتہ ازدواج اسے یہ احساس دلا دیتی ہے کہ اب میں نے بھی اپنے والد محترم کے راستے پر گامزن ہونا ہے۔ جس طرح والد صاحب نے پردیس جانے کا ارادہ کیا تھا اس طرح بیٹا بھی اسی راہ پر بغیر کسی سوچ کے چل پڑتا ہے سوچتا ہے اس سے آنے والی نسل کا مستقبل سنوار جائے گا اور قدرے محفوظ ہو جائے گا۔

رواج کے مطابق پردیس جانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے ہم عمروں کے لیول پر لایا جائے کہ وہ پردیس جا کے زیادہ پیسہ کما رہے ہیں تو میں کیوں نہ ان کا مقابلہ کروں۔ اسے یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ کہی میرے اولاد کو کوئی یہ طعنہ نہ دے کہ میرا والد پردیس میں زیادہ پیسے کما رہا ہے، اس کو اپنے اولاد کے روشن مستقبل کی تعمیر کی فکر کھاتی ہے اور اسی وجہ سے وہ دولت بٹورنے میں اس قدر مگن رہتا ہے کہ اپنے اولاد اور گھر والوں کی خیر خبر سے بالکل غافل رہتا ہے۔

والد کے پرائے ملک میں ہونے کی وجہ سے اولاد احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ سوچتے ہے کہ چونکہ والد محترم تو ہماری خیر خبر نہیں لیتے صرف پیسے ہی بھیج دیتے ہیں جس سے والدہ بمشکل گھر کا خرچہ چلا لیتی ہے تو اپنی ضروریات کہاں سے پوری کی جائیں؟ والد کی اس لاپرواہی کی وجہ سے بچہ غلط صحبت میں رہنے لگتا ہے کیونکہ اس پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہوتا۔

پھر جب اولاد کی ضروریات بڑھتی ہے اور والد سے رابطے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی تو وہ ضروریات پوری کرنے کے لیے غلط راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ یا تو چوری شروع کر دیتا ہے اور یا اپنی عزت داؤ پر لگا دیتا ہے۔ چونکہ میں اس معاشرے میں پلا بڑھا ہوں تو مجھے ان چیزوں کا بخوبی علم اور اندازہ ہے کہ کیسے اعلیٰ خاندان کے بچے اس احساس کمتری کی وجہ سے اپنی اور اپنے خاندان کی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں اور بد فعل اور ہوس کے پجاری ان بچوں کو دولت کا لالچ دے کر ان کی مستقبل کو داغدار کر دیتے ہے۔ جب ہم بچے تھے تب اس قسم کے بچوں کی شرح بہت کم تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نہیں تھا بلکہ بہت کم تھا لیکن آج یہ شرح بہت بڑھ گئی ہے۔ ہمارے علاقے کے تقریباً نویں فی صد بچے اس جسم فروشی میں مبتلا ہیں۔

معمول کے مطابق میں بازار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک چھوٹا سا بچہ جس کی عمر بمشکل بارہ سال ہوگی؛ جو انتہائی اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور جس کے والد بہت ہی محترم انسان ہے، ایک دکاندار کے پاس آ جاتا ہے اور دھیمی آواز میں اسے کچھ یوں کہتا ہے ”جناب مجھے پانچ سو روپے کی سخت ضرورت ہے اگر آپ مجھے دیتے ہیں تو میں آپ کو اپنا جسم بیچ دوں گا“ ۔ اب یہ بچہ یہ نہیں جانتا کہ میں بھی اسے سن رہا ہوں۔ جب اس نے میرے طرف دیکھا تو چہرا اس قدر لال ہو گیا جیسے جسم کا سارا خون چہرے میں سما گیا ہو پھر وہ اس قدر بھاگا کہ دو سیکنڈ میں غائب ہو گیا لیکن یہ سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ کس طرح والدین کے لاڈلے کو زمانے کے چھپڑوں نے اتنے کم عمر میں اتنا بڑا کر دیا کہ وہ اپنے ضروریات خود حل کرنے کے لیے غلط قدم اٹھا رہا ہے۔

بچہ چونکہ کم عمر کا تھا وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ بات اس کے مستقبل پر کس قدر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے والد کو ان پیسوں کے لئے بھی بات نہیں کر سکتا تھا۔ والد محترم چونکہ دور تھا اس تک اپنی ضروریات کی خبر پہنچانا ناممکن تھا اس لیے بچے نے اس راستے کو صحیح مانا۔ اور وہاں والد محترم صرف پیسے بھیج کر یہ سمجھتے ہے کہ میرا بیٹا ان پیسوں سے اپنی مستقبل سنوار رہا ہوگا اور بیٹے سے یہ تک نہیں پوچھتا کہ تمھیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟

میں اگر اپنی بات کروں تو میرے والد صاحب بھی سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی عمر عطا کرے اور انہیں ہر مشکل سے دور رکھے۔ انہوں نے ہماری پرورش اس طرح کی کہ میرے والدین، بڑے بھائی اور بہنوں میں صرف عمر کے ہندسے کا فرق ہے۔ ہم اس طرح بڑے ہوئے ہیں جس طرح کوئی دوست ساتھ رہتے ہوئے بڑے ہو جائے اور ایک دوسرے کی ہر بات اور ہر ضرورت کا پتہ ہو۔ ہمارے والدین نے ہماری تربیت اس طرح کی ہے ہم میں سے کسی کو بھی کوئی ضرورت پیش آتا تو ہم بلا جھجک ایک دوسرے کو بتاتے اور اس ضرورت کو ساتھ مل کر پورا کرتے۔ اس سے ہمارے دماغ میں بات پختہ ہو گئی تھی کہ جو کوئی ضرورت یا مسئلہ پیش آئے گھر میں ساتھ مل کر حل کرو اور باہر کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کہ جس وقت والدین اپنے بچوں کو سکس ایجوکیشن دینے سے کتراتے تھے مجھے وہ بھی اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے ملا۔

انسان کو چاہیے کہ جب وہ خاندان بنانے کا فیصلہ کرے تو سب سے پہلے اس کے لئے مفید حکمت عملی کرنی چاہیے جس سے اس کے اولاد کی مستقبل بھی محفوظ ہو اور ان کی تربیت بھی مثبت انداز میں ہو۔ اگر ایک والد پردیس جانے کا سوچے تو پیچھے اس کو ایسی تربیت چھوڑنی چاہیے کہ نہ تو اس کے اولاد کی مستقبل خراب ہو اور نہ اس کے اولاد کی وجہ سے اس کی عزت پامال ہو۔ ایسے والدین جو بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لئے وطن چھوڑ دے انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اہل و عیال سے رابطے میں رہے، ان کے حالات جانے اور ان کی ہر ضرورت کے بارے میں ان سے پوچھے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اولاد سے ایسا دوستانہ برتاؤ رکھے جس میں اولاد اپنے والدین سے ہر قسم کی باتیں شریک کرے۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کو سیکس ایجوکیشن دے اور ان کو بتائیے کہ کس طرح خود ان خطرات سے نمٹے اور جب گھر آئے تو اپنے والدین کو آگاہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
انس احمد جان کی دیگر تحریریں