EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کر کے گھنٹوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ علیخیل کی بیٹی کو کل دن ڈیڑھ بجے جناح سپر مارکیٹ سے اغوا کیا گیا اور ساڑھے پانچ گھنٹے کے بعد اغوا کنندگان تشدد کے بعد بے ہوشی کے عالم میں ہاتھ پاؤں باندھ کر بلیو ایریا میں تہذیب بیکری کے پاس چھوڑ گئے۔

افغان وزارت خارجہ نے مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا ہے

کابل – اسلامی جمہوریہ افغانستان کی وزارت برائے امور خارجہ کو گہرے افسوس کے ساتھ کہا گیا ہے کہ 16 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی محترمہ سلسلہ علیخیل کو گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور کئی گھنٹوں تک انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اغوا کاروں کی قید سے رہا ہونے کے بعد ، محترمہ علیخیل اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

وزارت خارجہ اس گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان میں سفارتی عملے ، ان کے اہل خانہ ، اور افغان سیاسی اور قونصلر مشنز کے عملے کے ممبروں کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

وزارت خارجہ امور نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنوں کے مطابق افغان سفارت خانے اور قونصل خانے کی مکمل حفاظت کے ساتھ ساتھ ملکی سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری ضروری اقدامات اٹھائے۔

جب کہ افغان وزارت خارجہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ اس معاملے کی پیروی کر رہی ہے ، ہم پاکستانی حکومت سے زور دیتے ہیں کہ جلد از جلد مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

وائس آف امریکہ: افغان سفیر کی صاحبزادی پر اسلام آباد میں حملہ، سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی

بی  بی سی: افعانستان کے سفیر کی بیٹی کا ’اغوا‘: افغانستان کو سفارتی عملے اور ان کے خاندانوں کے تحفظ پر تشویش

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے