جھرک، کراچی اور مٹھائی کا ڈبہ!


تاریخ سے معمولی شد بد رکھنے والے خواتین و حضرات جھرک کے نام سے باخبر ہی ہوں گے!
وکی پیڈیا سندھی کے مطابق:

”یہ شہر“ جھرکا ”ذات کے لوگوں کا بسایا ہوا ہے۔ جو دراصل سماٹ (قبائل میں سے) ہیں۔ 1758 میں، کہ جب دریائے سندھ نے اپنا رخ تبدیل کیا اور کوٹڑی اور ٹھٹہ کی طرف سے بہنے لگا تو دریا کے کنارے دوسرے شہروں کے ساتھ جھرکن کا شہر بھی آباد ہوا۔ یہ شہر ارغونوں اور ترخانوں کے دنوں سے اسماعیلی بزرگان کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔“

لیکن ہم آج اس شہر کا ذکر اس کی تاریخ یا جغرافیہ کے حوالے سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک اہم ترین معاملے کے سلسلے میں کر رہے جو کہ سندھ اور اہل سندھ کے لیے قطعی متنازعہ نہیں۔ اور وہ معاملہ ہے قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کا کہ اہل سندھ ہمیشہ سے دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ”قائداعظم محمد علی جناح کراچی نہیں بلکہ جھرک میں پیدا ہوئے، جو کہ اب ضلع ٹھٹہ کا حصہ ہے۔“

اس لحاظ سے یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ بانی پاکستان، کراچی ضلع میں ہی پیدا ہوئے۔ ایسے ہی جیسے کہ کوئی انہیں ہندوستان کا پیدائشی بھی قرار دے سکتا ہے، کہ کسی زمانے میں پاکستان ہندوستان کا حصہ تھا۔

قائداعظم کے والد کا پورا نام جھینڑاں پونجا تھا، اور جناح اسی سندھی اور گجراتی لفظ ”جھینڑاں“ بمعنیٰ کمزور انسان یا ہلکی آواز کا مؤرد ہے، لیکن یہ اور بات ہے کہ ہمعصر تاریخ انہیں مسلمانوں کا طاقتور قائد اور صدائے بلند قرار دیتی ہے۔

مولد قائد کے سلسلہ میں سندھی علما، تعلیمی ماہر، سیاستدان، ادیب دانشور اور مورخین اور سیاست کے طلبہ و طالبات کی اکثریت ہم آواز ہے۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے تو ان کے دور میں، 1976 میں معروف سندھی سہ ماہی رسالے مہران میں قائداعظم کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر جاری شدہ قائداعظم نمبر میں ایک مضمون میں ان کا مولد جھرک لکھا گیا لیکن پھر کسی قسم کے دباؤ پر اس سطر پر کراچی کی پٹی چسپاں کر دی گئی۔

جب آپ اختیار کے نشے میں بے اختیار ہو جائیں اور صاحب سیف و قلم بھی ہوں تو مارشل لا اور ون یونٹ کے نفاذ اور کسی خطے کی تاریخ اور جغرافیہ سے چھیڑ چھاڑ کے سمیت آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ سندھ کو سابق سندھ اور پنجاب کو سابق پنجاب بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن تاریخ کا چکر آپ کو ہی سابق نہیں بناتا آپ کی حرکتوں کے باعث مشرقی پاکستان کو ہی سابقہ پاکستان قرار دے دیتا ہے۔

قائد اعظم کے مولد کے بارے کئی کئی بار مختلف مواقع پر خاص طور پر سندھی زبان کے اخبارات و رسائل میں اس قسم کی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں کہ جن میں کبھی کسی نصابی کتاب کا حوالہ اور تراشہ شائع کیا گیا، کبھی کسی ماہر سیاست یا مورخ کا بیان شائع ہوا جس میں یہ قدیم دعویٰ دہرایا گیا، کہ ”قائد اعظم محمد علی جناح کراچی میں نہیں بلکہ جھرک میں پیدا ہوئے۔“ لیکن اس قسم کی آواز قومی نقار خانہ میں صوبائی طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔ حالانکہ آواز خلق کو نقارہ خدا کہا گیا ہے لیکن شاید خلق، خلق اور آواز آواز میں فرق ہے! ؟

حیرت تو یہ ہے کہ اس قسم کی آرا و دعاوی کو اسلام سے دشمنی، پاکستان سے غداری اور بھارت نوازی سے تعبیر کیا گیا!

قائد اعظم سے محبت اور تاریخ کی درستی کے مطالبہ پر کیا اس قسم کے الزامات مناسب ہیں!
”خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے؟“

حالانکہ ہم نہ تو مورخ ہیں نہ ہی سیاستدان، بس مطالعے اور ”دخل در منقولات“ کے شوقین ہیں ؛ سو قارئین کرام دل تھام کے بیٹھیے کہ اس وقت ہم بھی اسی قسم کا دعویٰ کر رہے کہ، ”قائداعظم کراچی میں نہیں، بلکہ جھرک میں پیدا ہوئے تھے۔“

ثبوت کے طور پر کسی سندھی کتاب یا سندھی شخصیت کا دعویٰ نہیں پیش کر رہے بلکہ لاہور سے مطبوعہ انگریزی کتاب ”مسلم ہیروز آف پیس اینڈ وار“ کا حوالہ مع تحریر و تصویر پیش کر رہے ہیں۔ مکتبة المعارف لاہور کی اس کتاب کے مصنفین ابراہیم شمیم ایم اے لنڈن، ٹی ڈی آئی پی۔ پی ای ایس ہیڈماسٹر سینٹرل ماڈل اسکول لاہور اور عبدالغفور ایم اے، پی ای ایس سینئر لیکچرر ایمرسن کالج ملتان ہیں۔

اس کتاب کے صفحہ 102 پر موجود تحریر کے مطابق:

”The savior of eight cror Muslims Quid e Azam Muhammad Ali Jinnah، was born on Sunday 25 December 1876، in a small village near Karachi۔“

یعنی: ”آٹھ کروڑ مسلمانوں کے نجات دہندہ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی کی قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔“

اس تحریر اور تصویر کو دیکھ کر کوئی اس تاریخی حقیقت کو مانتا ہے تو اچھی بات ہے نہیں تو کبھی نہ کبھی کوئی دور ایسا آئے گا جب امریکیوں اور انگریزوں اور اسی قبیل کے لوگوں کی طرح کوئی نہ کوئی تاریخ کو مسخ کرنے اور جغرافیہ کے بگاڑ پر معافیاں مانگ رہا ہوگا۔ حالانکہ ابھی تک 21 فروری کے مادری زبانوں کے عالمی دن قرار دیے جانے کے حوالے سے وطن عزیز میں ہر قسم کے اداروں پر سناٹا چھایا ہوا ہے جب کہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس پر ہمارے دانشوروں اور مورخین کو علاقائی اور عالمی سطح پر خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا!

اس سلسلہ میں گورنمنٹ نیشنل کالیج کراچی کے مجلہ ”علم و آگہی“ نے ”قائد اعظم محمد علی جناح: حیات افکار و خدمات“ کے عنوان سے ایک خصوصی شمارہ (سن درج نہیں، لیکن اندازہ 77 یا 78 ع) شائع کیا جس میں ایک مضمون ”قائداعظم کی جائے پیدائش“ مصنفہ پروفیسر سرور حسین خان میں مصنف موصوف رقم طراز ہیں کہ: ”سرکاری طور پر وزیر مینشن (کراچی) کو قائداعظم کی جائے پیدائش تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ جھرک کے مقام پر پیدا ہوئے۔ جھرک میں پونچا پٹ (درستی: پونجا پٹ) کے نام سے اب بھی ایک میدان (پٹ) ہے جس کے قریب قائداعظم کا کراچی میں پہلا آبائی مکان بتایا جاتا ہے۔ اس وقت جھرک ضلع کراچی کا ہی ایک حصہ تھا اس لئے قائد اعظم کا کراچی کو اپنی جائے پیدائش بتا دینا خلاف واقعہ نہیں ہے کہا جا سکتا۔“

پروفیسر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ، ”رضوان احمد کی تحقیق کے مطابق قائداعظم چھاگلی سٹریٹ (درستی: چھاگلہ اسٹریٹ) کراچی کے کنارے واقع ایک مکان میں پیدا ہوئے جو ان کے والد نے شادی کے بعد کرائے پر لیا تھا۔“

اگلی سطروں پر غور فرمائیں، لکھتے ہیں : ”یہ نوٹ نہ صرف لکھا جا چکا تھا بلکہ کتابت و تصحیح کے مراحل سے گزر کر کاپی جوڑی جا رہی تھی کہ روزنامہ نوائے وقت ( مارچ 77 کے نصف آخر کا کوئی پرچہ ہے ) اس سے معلوم ہوا کہ بعض نصابی کتابوں میں ابھی تک یہی درج ہے اور بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ قائداعظم جھرک میں پیدا ہوئے، میرا خیال ہے کہ یہ کتابیں پنجاب بورڈ کے دائرہ اثر میں ہوں گی اس لیے کہ سندھ بورڈ کے دائرہ اثر میں بہت پہلے کتابوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ میں (پروفیسر صاحب) نوائے وقت کے مضمون نگار کے اس خیال سے بالکل متفق ہوں کہ قومی سطح پر کراچی کو قائداعظم کا مقام پیدائش طے کر لینے کے بعد نصابی کتابوں میں بھی یہ تبدیلی کر دینی چاہیے۔ بلاشبہ اہل علم و ارباب تحقیق کے لیے یہ ایک اہم موضوع ہے وہ ضرور داد تحقیق دیں گے۔“

کیا خوب دلیل ہے کہ، ”چونکہ آم کو ایک سرکاری ادارے اور اس کے چند افراد نے امرود قرار دے دیا ہے تو اب اسے آم پکارنا قومی مفاد کے خلاف ہے؟“

اگر تاریخ کا مطلب صرف میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور متفق علیہ ہونا ہی ہے تو پھر ہمیں اس لطیفے پر متفق ہو جانا چاہیے کہ جس میں ایک بچے سے کہا گیا کہ، ”بیٹا آپ جہاں مہمان بن کر چل رہے ہیں وہاں میٹھی میٹھی باتیں کیجیے گا۔“

سو جب بچے سے نام پوچھا گیا تو گڈو کے بجائے بتایا، ”لڈو!“
اماں ”امرتی“ کہلائیں اور والد قبلہ، ”قلاقند۔“
اب میزبان نے ازراہ تفنن قائداعظم کی جائے پیدائش دریافت کی، ”بیٹا قائداعظم کہاں پیدا ہوئے؟“
تو بڑا میٹھا جواب ملا، ”مٹھائی کے ڈبے میں،“
جو سوال نہیں پوچھے گئے ان کے جواب ہم سے سنیے :
سوال 1 : قائد اعظم کی والدہ کا نام کیا ہے ”
جواب: مٹھی بائی!
سوال 2 : قائداعظم کی دوسری بہن کا نام کیا ہے؟
جواب: شیریں جناح!

تو جناب جھگڑا ختم اور طے یہ ہوا کہ قائد اعظم نہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے نہ جھرک میں : ”مٹھائی کی ڈبے میں پیدا ہوئے تھے۔“

واللہ اعلم بالصواب!

Comments - User is solely responsible for his/her words