مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط

ماں جی میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیظ و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی

Read more

مدینہ منورہ کے خواجہ سرا

 میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو مدینہ منورہ کو زندگی کا حصّہ پایا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی اماں اور بابا کے عشق کا رُخ مدینہ منورہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ دونوں میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ منزل تھی، جہاں ہر سال انہیں روضہِ پاک کے سامنے جا کھڑے ہونا ہوتا تھا اور اپنے وجود کے پورے عجز و انکسار کے ساتھ سلام پیش کرنا ہوتا تھا نبیؐ جی کے حضور۔ میں کچھ دن

Read more

ادھورے لوگ جنہیں انسان نہیں سمجھا جاتا

قرآن مجید کا چونکہ اصل موضوع تکمیل انسانیت ہے سو اس وجہ سے قرآن مجید میں انسانیت کے ساتھ بہترین اخلاق و برتاؤ کرنے کا حکم جابجا موجود ہے۔ مذاہب کے علاوہ عالمی چارٹر آف ورلڈ میں بھی انسانیت کے ساتھ عمدہ طرزعمل رکھنے پر زور ہے اور اس متعلق بنیادی انسانی حقوق پر سینکڑوں قوانین بنائے گئے ہیں۔ انسانی معاشروں میں خواجہ سراء یعنی مرد و عورت کے بیچ تیسری ساخت کی ایک معصوم مخلوق بھی موجود ہے۔ جنہیں ان کی جسمانی ساخت کی وجہ سے مرد اور عورت دونوں طبقوں میں نہ صرف کمزور سمجھا جاتا ہے، بلکہ انہیں انسانیت سے بھی کم درجے میں گنا جاتا ہے، حالانکہ پوری جسمانی ساخت، ڈھانچے کی ترتیب اور حواس کے ساتھ وہ مکمل انسان ہیں۔ خواجہ سراوں کو مختلف تضحیک آمیز القاب اور توہین آمیز ناموں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بالخصوص تیسری جنس کی اہمیت سے غالباً سب لوگ انکاری ہیں۔ یہاں جس طرح اُن پر ظلم و ستم ہورہا ہے شاید ہی کسی عام شہری پر ہو

Read more

خواجہ سرا اور ان کے حج عمرے

نوکری کرتے کرتے ایک وقت ایسا آیا کہ حاجی کیمپ کے اندر ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ صبح صبح وہ کیمپ کھول دیا جاتا عین اس طرح جیسے دکان کھلتی ہے۔ جا کر سب سے پہلے کاؤنٹر باہر نکالنے ہوتے، پھر کسی صفائی کرنے والے بھائی کو بلا کر جھاڑو دلوایا جاتا، پھر کرسیاں ترتیب سے رکھی جاتیں، پیڈسٹل فین چلایا جاتا اور یوں دکان جم جاتی۔ جب تک دھوپ صرف سامنے سے آتی، تب تک مختلف بینر لٹکا

Read more

بوٹا، ریما اور ڈاکٹر ثمینہ

بوٹے کے یہاں پہلا ”بوٹا“ کھِلنے والا تھا۔ وہ پریشانی، بےچینی، خوشی اور تجسس کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ اپنے بیڈروم، جو اس وقت لیبر روم کا منظر پیش کر رہا تھا، کے باہر ٹہل رہا تھا۔ ہر دائی کی طرح، یہ دائی بہت سیانی تھی۔ پر بوٹے کی میٹرک کی سند اس کے دل میں، دائی اور گھر پر ڈلیوری کے خلاف قِسم قِسم کے وسوسے پیدا کر رہی تھی۔۔۔ بوٹا خاندانی مالی تھا۔ باپ کے شوق، اور

Read more

خواجہ سراؤں سے گفتگو: کیا آپ کی کمائی حلال ہے؟

سوال: نیکی کیا ہے؟ جواب: اللہ کے بندوں کو خوش کرنا۔ خاندان کا خیال رکھنا۔ سوال: گناہ کیا ہے؟ جواب: اللہ کی مخلوق کو دُکھ دینا۔ سوال: کیا آپ کی کمائی حلال ہے؟ جواب: ہم کونسا کسی سے زبردستی کچھ لیتے ہیں۔ فن دکھاتے ہیں اور گھر والوں کے لئے روزی کماتے ہیں۔ سوال: آپ فحاشی نہیں پھیلاتے؟ جواب: آپ اپنی فلموں کا ڈانس دیکھ لیں اور ہمارا دیکھ لیں۔ اور خود فیصلہ کریں۔ سوال: آپ میں سے کئی اصل

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more