شکر ہے ہڈی نہیں ٹوٹی


akhter hafeezکیا ہوا اگر دنیا نے مریخ قدم جما لیے ہیں اور سائنس نے اب کائنات کے رازوں کو اتنا ٹٹول لیا ہے کہ اب انسان زمین کے اس گولے کو چھوڑ کر کسی دوسرے سیارے پر نئی دنیا آباد کرنے کا سوچ رہا ہے۔ ایک ورچوئل دنیا تعمیر کرکے انسان کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات پیدا کی جارہی ہیں۔ میڈیکل سائنس مزید نئے نئے معجزات دکھا رہی ہے مگر یہ سب معاملات ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ بیوی کو کتنا پیٹا جائے۔ اسلام میں تو ویسے بھی بیوی کو پیٹنے کی گنجائش رہی ہے مگر ہمارے سماج میں تو بیوی اور عورت کو پیٹنے کی اتنی گنجائش ہے جو شاید کسی بھی سماج میں نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ اتنی گنجائش ہے کہ آپ عورت یا بیوی کو مار مار کر اس کی جان بھی نکال سکتے ہیں۔

چند روز سے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی “نظریاتی” کاؤنسل کے ماہرین اس بات پہ بحث کر رہے ہیں کہ عورت کو کتنا پیٹا جائے اور کتنا نہیں۔ خاص طور پہ بیوی کو اتنا مارا جائے کی اس کی ہڈی نہ ٹوٹے۔

چند روز قبل جب میری بیگم صبح کو بیڈ ٹی کے ساتھ ناشتہ لے کر آئی تو چائے میں مزا نہیں تھا۔ اس میں چینی کچھ زیادہ  محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے غصہ آ گیا میں نے چائے اس کے منہ پہ پھینک دی اور کہا،  “یہ کیسی چائے بنائی ہے، جس میں اتنی چینی ڈال دی ہے کہ میرے دانت چپک رہے ہیں”. مگر یہ بھی میرے تشدد کا ایک طریقہ تھا، کیونکہ ہلکا پھلکا تشدد جائز ہے۔ خیر اس نے میری آنکھوں میں امڈتے ہوئے غصے کو دیکھ کر اپنا منہ دھو لیا اور مشرقی لڑکی کے طرح اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر اس عمل کو ٹال دیا۔

دن کو جب میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ میرے کپڑے استری کر دو تو کپڑے استری کرتے کرتے میری قمیض کی کالر اس سے بے خیالی میں جل گئی۔ میں اس وقت اپنے موبائیل سیٹ میں مصروف تھا اور یہ دریافت کرنے میں لگا ہوا تھا کی عورتوں پہ تشدد کے کون کون سے طریقے رائج ہیں۔ مگر اس معاملے میں مجھے اتنی سنجیدگی کہیں اور نظر نہ آئی جتنی ہمارے ملک میں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جا رہا ہے۔ دین کے خدمت گار دیکھیں نہ کیسے سر جوڑ کر اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ بیوی کو کس انداز میں مارا جاسکتا ہے۔

اسی وقت میری نگاہ اپنی قمیض پر پڑی جوکہ استری گرم ہونے کی وجہ سے جل گئی تھی، مجھے غصہ آ گیا اور ظاہر ہے “غیرتی مرد” ہوں سو غصہ تو حق بجانب تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا۔ “یہ کیا کیا تم نے میری قمیض جلا دی، ابھی تو میں نے اسے ایک بار ہی پہنا تھا”. وہ کچھ نہ بولی اور سر جھکا کر کھڑی رہی، میں نے اس کے چہرے پہ ایک… دو… تین تھپڑ رسید کیے۔ اس کے چہرے پہ میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان ابھر آئے۔ مگر شکر ہے کہ اس کے چہرے کی کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ وہ کمرے کا کونہ پکڑ کر روتی، اپنے آنسو پونچھتی رہی۔ اور میں موبائیل میں بیوی کی پٹائی کرنے کے  وہ طریقے ڈھونڈنے لگ گیا جس میں ہڈی نہ ٹوٹے۔

اسی دوران میں یہ بھی سوچنے لگا کہ یہ اسلامی نظریاتی کاؤنسل والے مولوی حضرات اس بات کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں کہ بیوی پر کس قسم کا تشدد کیا جائے، کیا انہیں ساس دکھائی نہیں دیتی؟ وہ بھی تو عورت ہے، اس کے لیے بھی کسی قسم کی تجویز اپنی مجوزہ بل میں پیش کرنی چاہیے۔ وہ صرف بیوی کی پٹائی پر ہی زور دے رہے ہیں۔ مگر خیر میں نے یہ بات اپنے من سے نکال دی کیونکہ ساس بھی تو کسی کی بیوی ہوتی ہے، لہٰذا اسے سسر ہی دیکھ لے گا۔

میری بیوی نے پینٹ شرٹ استری کر دی اور میں وہ پہن کر آفس چلا گیا، جیسا کہ اس بار اسے مار نہیں کھانی تھی، اس لیے کپڑے جلنے سے بچ گئے۔ آفس سے واپس گھر پہنچا تو رات کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ بیوی سے معلوم کیا کہ “آج رات کے کھانے میں کیا ہے”؟ اس نے بتایا کہ دال، چاول اور آم ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آج بہترین قسم کا کھانا ہے۔ اس نے میرے سامنے کھانا رکھا، میں کھانا کھانے بیٹھا تو میں نے محسوس کیا کہ دال میں نمک کم ہے۔ مجھے صبح والی چائے یاد آگئی، جوکہ بہت میٹھی تھی اور اب یہ دال جوکہ بہت پھیکی تھی۔ مجھے غصہ آگیا، میں نے بیوی سے کہا “دال میں نمک کم ہے” تو اس نے جواب میں کہا “ آپ ہی تو کہتے ہیں کہ نمک کم استعمال کروں اس لیے کم نمک ڈالا ہے، اگر آپ کو ضرورت ہے تو میں نمک لاتی ہوں” مجھے ایک بار پھر غیرت آ گئی میری آنکھیں غصے میں لال ہوگئیں۔

 “مجھ سے زبان لڑاتی ہو، تمہیں بات سمجھ میں نہیں آتی” وہ کانپ اٹھی، مگر مجھے اس بار زبردست قسم کی ٹھکائی کرنی تھی، اس لیے میں نے سوچا کہ کوئی زوردار پٹائی کروں تاکہ ہمیشہ کے لیے سدھر جائے۔ اس بار میں نے اپنی پینٹ سے چمڑے کا بیلٹ نکالا اور اسے مارنا شروع کر دیا۔ مجھے یہ سمجھ میں تو نہیں آیا کہ اسے کہاں کہاں بیلٹ کی وجہ سے چوٹیں لگ رہی ہیں مگر بیلٹ لگنے کی آواز اور اس کی چیخیں مل گئی تھیں۔ میں اسے مسلسل مارتا رہا، اس کے چہرے، بانہوں، ٹانگوں اور ہاتھوں پہ بیلٹ لگنے سے نیل پڑگئے۔ وہ بے ہوش ہوگئی، اور میں نے بھی بس کی۔

مگر میں نے اس بات کا خیال رکھا کہ کہیں ہڈی میں چوٹ نہ لگ جائے۔ کیونکہ بیوی کو اتنا مارنا جائز ہے کہ اس کی کوئی ہڈی نہ ٹوٹے۔ وہ کافی دیر تک بے ہوش پڑی رہی، میں نے فیصلہ  کیا کہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں، کیونکہ اس کی حالت بگڑتی جارہی تھی۔ میں نے اسے ہسپتال پہنچایا، جب ڈاکٹر کے پاس پہنچا تو ڈاکٹر نے اس پر کیے گئے تشدد کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ڈاکٹر کی بات پہ کان نہیں دھرے، ہاں مگر یہ ضرور پتا کیا کہ سب ٹھیک تو ہے نہ کہیں کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی؟

ڈاکٹر نے کہا “ایسی کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، شکر کریں کہ کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی ہے، نہیں تو آپ کی بیوی کافی عرصے تک بستر پکڑ کر پڑی رہتی اور اوپر سے ہسپتال کا خرچا بھی بہت آجاتا”۔

اس تمام دن کی کارروائی اور بیوی پر تشدد کرنے کے بعد میں نے شکر ادا کیا کہ اس کی کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی، اور وہ صحیح سلامت ہے۔ اسی وقت مجھے احساس ہوا کہ اب میں بنا ہڈی توڑے ہی بیوی پر بہترین قسم کا تشدد کر سکتا ہوں۔ جس کے لیے اسلامی نظریاتی کاؤنسل تبلیغ میں مصروف عمل ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 12 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez