’رپورٹ کارڈ‘ کے دانشوروں سے کچھ سوال


junaid qaiser جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں امتیاز عالم اور بابر ستار کے استثنیٰ کے ساتھ تمام تجزیہ کاروں کی رائے میں کرپشن، غربت اور بری حکمرانی ( بیڈ گورننس) طالبان اور داعش سے بڑا خطرہ ہیں۔

ان تجزیہ کاروں نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے اس بیان کو اپنے دلائل سے درست قرار دے دیا ہے کہ قوم کو اصل خطرہ اقتدار میں بیٹھی ہوئی داعش سے ہے۔

میرا سوال ان قابل دانشوروں سے یہ ہے کہ غربت اور بری طرز حکمرانی تو سب کے لئے یکساں تھی اور کوئی خاص امتیاز بھی نہیں برتا گیا، بلکہ کئی شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ غربت اور بری طرز حکمرانی مذہبی اقلیتوں کے حصے میں زیادہ آئی تو پھر ان کے ہاں ہمیں کوئی لشکر، سپاہ اور جیش نظر نہیں آتا، کوئی جیش مسیح، کوئی رام لشکر، کوئی سپاہ نانک جیسی تنظیمیں پاکستان میں نظر نہیں آتیں؟ جن کے ملک بھر میں دفاتر ہوں، جو کھلے عام چندہ اکھٹا کرتی ہوں، جن کے ملک کی بڑی مارکیٹوں سے لے کر بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز تک ہر جگہ چندہ اکھٹا کرنے کے بکس پڑے ہوں۔ کیوں ہمیں ایسی تنظیمیں مذہبی اقلیتوں میں نظر نہیں آتی، جن کی بنیاد بندوق اوردہشت پر رکھی گئی ہو۔ جن کی اپنی مطبوعات، جرائد ہوں، جن پر جدید اسلحہ اور بکھری ہوئی لاشوں کے ٹائٹل ہوں، اور جن میں مخالف فکر اور عقائد کے لوگوں کو کفار قرار دے کر قتل کرنے کی تبلیغ کی جاتی ہو۔

ہماری ریاست اور اس کے دانشور اب بھی ایک انکار کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور وہ یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھی ہے، اس کے مقاصد ہمسایہ ریاست میں سٹرٹیجک گہرائی کی تلاش، انڈیا کو زک پہنچانا اور ریاست کے اندر جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کو ہدف بنا کر جمہوریت کی جڑیں کاٹنا ہے۔ جب ریاست کے پاس اپنے شہریوں کو تعلیم دینے کے لئے وسائل اور بجٹ نہیں تھا، ا±س وقت اربوں ڈالرز سے یہاں عسکری تربیت دینے والے مدارس کا انفراسٹرکچر قائم کیا گیا۔ اس میں امریکی سی آئی اے اور عرب ممالک کے ڈالرز بھی شامل تھے، ظاہر ہے اس سارے عمل میں ریاست کی منشا شامل تھی، اور پھر ہماری ریاست فرنٹ لائن سٹیٹ بنتے بنتے مکمل طور پر ایک کلائنٹ سٹیٹ بن گئی۔ بد قسمتی سے تاحال ریاست اس تمام عمل کو ریورس کرکے ایک نئے راستے پر چلنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اب بھی یہ خواب دیکھتی ہے کہ شاید دہشت پسند تنظیموں کی مدد سے وہ اس خطے میں ایک بڑی سٹیک ہولڈر بن سکتی ہے۔

Report Cardپاکستان میں سب سے بڑا بھیانک عمل دہشت گردی کو اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے، اور یہ بیانیہ کہ کرپشن، غربت اور بدترطرزحکمرانی/ بیڈ گورننس، طالبان اور داعش سے بڑا خطرہ ہے، اسی اخلاقی جواز فراہم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے، اس کو غور سے دیکھیں تو لگتا ہے کہ دہشت گرد کوئی مظلوم سی مخلوق ہے اور اصل ظالم منتخب حکمران اور بڑا خطرہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سراج الحق کے ساتھی عمران خان ہمیں دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ڈرون حملے بتاتے رہے ہیں اور دہشت گردی کا اخلاقی جواز ڈھونڈتے رہے ہیں، اب ڈرون حملے نہیں ہورہے مگر دہشت گرد اور ان کی دہشت گردی موجود ہے، اس سے بڑی اخلاقی ناانصافی کیا ہوگی کہ سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن دہشت گردوں کو شہید قرار دیتے تھے اور ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے فوجیوں کو شہید ماننے سے انکاری تھے۔

مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتیں فوجی آپریشن کی مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک مذاکرات کئے اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے پاکستان کسی اور ریاست سے امن مذاکرات میں مصروف ہے، اس طرح ریاست کے اندر ایک اور ریاست کا تصور مضبوط ہوا۔ اور ریاست دہشت گردوں کے سامنے ایک کمزور سی طاقت نظر آتی رہی۔

کرپشن، غربت اور گوڈ گورننس‘ کی بنیاد پر حکومت کو جانچنے کی باتیں بھی ہمیں منتخب جمہوری حکومتوں کے ادوار ہی میں سننے کو ملتی ہیں، ایک تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ منتخب جمہوری حکومتوں کی معیاد کتنی رہی، وہ اپنے فیصلوں میں کتنی آزاد تھیں، اور ا±ن کو کن کن بنیادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ اگر گڈ گورننس کی جدید تعریف کو دیکھیں تو منتخب جمہوری حکومتوں کا زمانہ آمرانہ حکومتوں سے بہتر نظر آتا ہے، اس زمانے میں اپنے نمائندوں تک رسائی آسان ہے، کسی عمل کی شفافیت جاننے کے لئے اور انصاف کے حصول کے لئے آپ کے پاس فورمز موجود ہیں۔ آمریت میں ایسا نہیں تھا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ غربت اور بری حکمرانی کی دہائی دینے والے تب خاموش تھے۔ بلکہ زیادہ قرین حقیقت تو یہ کہنا ہو گا کہ یہ عناصر تب بھی جمہوری قوتوں ہی کی جڑیں کاٹ رہے تھے اور آج بھی برنگ دگر یہی مشق جاری ہے ۔

امید ہے کہ ’رپورٹ کارڈ‘ کے دانشور تجزیہ کار ان گزارشات پر غور فرماتے ہوئے قوم کی درست سمت میں رہنمائی فرمائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments