ملالہ پاکستان کی مگر پاکستان ملالہ کا نہیں


اگر کوئی کہانی کار چھ سات سال پہلے کسی ایسے ناول کا خاکہ بنانے بیٹھتا کہ جس کا مرکزی کردار پوری دنیا میں پاکستان کا چہرہ بن سکے تو اندازہ لگائیے کہ یہ اس کی خواب بننے کی صلاحیت کا کتنا بڑا امتحان ہوتا۔ یوں تو افسانوی ادب میں حقیقت سے گریز اور تخیل کی بازی گری کے تمام امکانات موجود ہیں لیکن کہانی کہنے کے چند بنیادی اصول بھی ہیں۔ ڈرامائی کیفیت تو اسی طرح پیدا کی جاسکتی ہے کہ دو یا اس سے زیادہ قوتوں کے درمیان کشمکش یا ٹکراؤ کو واقعات کے روپ میں ڈھالا جائے اور پڑھنے والے کے ذہن میں یہ تجسس پیدا ہو کہ اب کیا ہوگا۔ جاسوسی ناولوں میں حیرت کے اس عنصر کو فوقیت حاصل ہے لیکن اعلیٰ ادب بھی اپنے کرداروں کی زندگی کے نشیب و فراز کو غیر متوقع واقعات اور حادثات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔۔۔ تو پھر آپ سوچئے کہ پاکستان کی کہانی کو کوئی کس طرح بیان کرے کہ اسے پوری دنیا کی توجہ حاصل ہو جائے۔ آپ کہیں گے کہ پاکستان تو یوں بھی دہشت گردی اور سماجی افراتفری کے سبب دنیا میں ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ پرتشدد انتہاپسندی کے مظاہرے عالمی میڈیا کی چھوٹی بڑی سرخیاں بنتے رہتے ہیں۔ البتہ پاکستان کی سانس لیتی ہوئی سچائی ان سرخیوں تک محدود نہیں ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سچائی سیاست دانوں اور تبصرہ نگاروں کی سمجھ میں اس طرح نہیں آسکتی جس طرح ادیب اور شاعر اسے تخیل کی قوت کے سہارے بیان کرسکتے ہیں۔

آخر منٹو سے بہتر کون آپ کو 1947 کے فسادات کی دیوانگی کی خبر دے سکتا ہے۔ آج کل بھی پاکستان کے انگریزی میں ناول لکھنے والوں نے پاکستانی معاشرے کی جو تصویر کشی کی ہے اسے ہم عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کا ایک اہم پہلو سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی گنجائش موجود نہیں ورنہ میں محسن حامد اور ندیم اسلم کے ناولوں کا کچھ زیادہ ذکر کرتا۔ ندیم اسلم کی کہانی کے کردار تو فرضی ہیں لیکن ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ بھی یہاں موجود ہے اور ایک صحافی کے قتل کا حوالہ بھی ہے۔ عیسائی برادری پر کئے جانے والے وہ حملے بھی کہانی کا حصہ ہیں جن کی حقیقت کی ہم گواہی دے سکتے ہیں۔ محسن حامد کی کہانی میں تو ایسے دروازے بھی ہیں جو دوسرے کمرے میں نہیں بلکہ دور دراز کے کسی ملک میں کھلتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے ماحول سے بھاگنے والے پناہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب ہمارے عہد کے آشوب کی علامتیں ہیں۔
بہرحال میں اس تصوراتی کہانی کار کا ذکر کر رہا تھا جو چھ سات سال پہلے اس کوشش میں تھا کہ کسی ایسے پاکستانی کردار کی تشکیل کرے کہ جو پوری دنیا کو حیران کر دے۔ اس ضرورت کا بھی اسے احساس تھا کہ یہ کردار اس جنگ کا استعارہ بھی بن سکے جو پاکستان میں انتہا پسندی اور روشن خیالی کے درمیان لڑی جارہی ہے۔ ایک سوال اس کے ذہن میں یہ آسکتا ہے کہ یہ کردار کسی مرد کا ہو یا عورت کا۔۔۔ اچھا فیصلہ یہ ہوتا کہ یہ کردار کسی عورت کا ہو جو پاکستان کی معاشرتی پسماندگی اور قدامت پرستی سے تصادم کی علامت بن سکے۔ اب یہ مسئلہ حل طلب ہوگا کہ اس نسوانی کردار کا اپنا معاشرتی پس منظر کیا ہو اور یہ بھی کہ اس کی عمر کیا ہو۔ کیا کوئی بینظیر بھٹو جیسی شخصیت جو ایک اونچے سیاسی گھرانے کی وارث بنے اور جس نے دنیا کی سب سے اچھی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی ہو؟ یا کوئی عالمی ریکارڈ توڑنے والی کھلاڑی یا ایک سائنس دان جس کی ایجاد دنیا میں ہلچل پیدا کر دے؟ بظاہر یہ سوچا جائے گا کہ ایسے کردار کو جدید سوچ اور مغربی طرز زندگی کا پروردہ ہونا چاہئے اور یوں اس کا تعلق کسی ڈیفنس سوسائٹی کے مالدار گھرانے سے ہونا مناسب ہے۔ اب آپ یہ فرض کیجئے کہ جیسے ہمارے کہانی کار کے ذہن میں ایک بجلی کوندی اور اسے اس کا کردار اسے مل گیا۔ یہ کردار ایک لڑکی کا ہوگا جو کسی بڑے گھرانے یا بڑے شہر میں پیدا نہیں ہوئی، اس کا تعلق ایک دور دراز کے علاقے میں ایک ایسے متوسط گھرانے سے ہوگا جو بڑی حد تک مذہبی ہے۔ تقدیر اسے ایسے حیرت انگیز حادثات سے دوچار کرے گی کہ جن سے سرخرو ہو کر وہ ایک اعلیٰ مقام اور منصب پر پہنچ جائے۔ لیکن ایک ایسی لڑکی کی منزل آخر کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں کہانی کار اپنے تخیل کی بے کنار وسعتوں پر ناز کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس لڑکی کو دنیا کی ایک بڑی شخصیت بناؤں گا، اسے نوبیل انعام ملے گا، وہ اقوام متحدہ کے اسٹیج پر اپنی خطابت کا جادو جگائے گی اور سمندر پار کے ملکوں میں اجنبی لوگ اس کی تقریر غور سے سنیں گے اور اس تقریر کو سن کر ان کی آنکھیں نم ہوجائیں گی۔

جی ہاں۔۔۔ یہ ساری تمہید محض یہ کہنے کے لئے کہ اگر ملالہ یوسف زئی ایک حقیقت نہ ہوتی تو اس کی تصوراتی تخلیق ناقابل یقین ہوتی۔ اس ہفتے ملالہ نے اقوام متحدہ کی امن کی سفیر بن کر ایک اور اعلیٰ اعزاز حاصل کیا ہے۔ یوں اس کے بارے میں کئی خبریں شائع اور نشر ہوئی ہیں۔ نیویارک کی تقریبات کے بعد وہ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا گئی جہاں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اسے اپنے ملک کی اعزازی شہریت کی سند دی۔ جیو نیوز سے گفتگو میں ملالہ نے کہا کہ اسے اپنے وطن پر فخر ہے اور یہ بھی کہ پاکستان بہت یاد آتا ہے اور یہ کہ وہ شاید جلد وطن واپس آئے گی۔ اب یہ مسئلہ کہ ملالہ پاکستان سے باہر کیوں رہتی رہی ہے، میرے خیال میں اب نئے سرے سے غور طلب ہے۔ طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ ملالہ جیسے اپنے ہی ملک میں ایک ناپسندیدہ شخصیت ہو۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ طالبان نے ملالہ کو قتل کرنے کی کوشش کیوں کی۔ وہ بچیوں کی تعلیم کے جانی دشمن ہیں جب کہ ملالہ پوری دنیا میں بچیوں کی تعلیم کے حق کی علمبردار ہے، لیکن یہ عوامی سطح پر طالبان کی سوچ سے قربت کا ایک اظہار ہے کہ ملالہ کو کسی مکروہ مغربی سازش کا حصہ قرار دیکر اس سے نفرت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ گویا ہمارا معاشرہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جاری جنگ میں کئی کامیابیوں کے بعد بھی انتہا پسند سوچ کی گرفت میں ہے۔ یا شاید اب جب کہ وزیراعظم نوازشریف بھی متبادل بیانیے کی بات کرتے ہیں کسی حد تک حالات تبدیل ہو رہے ہوں۔ اس تبدیلی کا ایک اعتراف حکومت کی جانب سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ملالہ اور تعلیم کے سلسلے میں اس کی مہم کی واضح حمایت کرے۔ وہ ایسے ماحول کو ممکن بنائے کہ جس میں ملالہ اپنی تحریک کو آزادی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔ جیو سے اپنی گفتگو میں ملالہ نے یہ کہا کہ دہشت گرد پاکستان کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ وہ اور جو لڑکیاں تعلیم کے لئے کھڑی ہوئی ہیں وہی پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ دنیا اور اپنے ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے اب یہ طے کرنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کون، کس طرح کرے گا۔ بظاہر یہ سوال غیر ضروری ہے کیونکہ حکومت بار بار تعلیم بلکہ بچیوں کی تعلیم اور عورتوں کی آزادی کی بات کرتی ہے۔ لیکن جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کا پیغام کچھ اور ہے۔۔۔ ملالہ جو باقی دنیا کے لئے ہے وہ ہمارے لئے نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔