اغوا شدہ پاکستانی کرنل صاحب کو دہلی میں ڈھونڈیے


(شکیل اختر)۔

نیپال۔ انڈیا بارڈر پر لمبینی خطے میں سب سے بڑی سرحدی چوکی ’سونولی‘ ہے۔ سونولی بارڈر پر نیبال کی جانب لمبینی ہے اور دوسری جانب انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع گورکھپور کا خطہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس چوکی سے ہزاروں بھارتی اور نیپالی شہری ہر روز ایک دوسرے کے یہاں آتے جاتے ہیں۔

لمبینی کا ہوائی اڈہ یہاں سے محض چند کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ پاکستان کے سابق کرنل محمد حبیب ظاہر آخری بار اسی ہوائی اڈے کے باہر دیکھے گئے تھے۔ ہوائی اڈے پر طیارے سے اترنے کے بعد انھوں نے جہاز کے نزدیک اپنی تصویر بھی کھنچوائی تھی۔ بہت ممکن ہے کہ تصویر کھینچنے والا شخص کھٹمنڈو سے ان کے ساتھ رہا ہو۔

اس خطے میں صرف لمبینی شہر ایک سیاحتی مرکز ہے۔ یہاں بودھ مذہب کے بانی گوتم بدھ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ یہاں بودھ مذہب سےمنسوب متعدد ایسے مندر بنے ہوئے ہیں جنھیں جرمنی، جاپان، تھائی لینڈ اور دوسرے ملکوں نے تعمیر کرایا ہے۔ بیشتر وہی سیاح یہاں آتے ہیں جو بودھ مذہب میں یقین یا دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہاں کوئی دفاتر یا بین الاقوامی ادارے وغیرہ نہیں ہیں۔ کسی نوکری کے سلسلے میں کرنل حیبیب ظاہر کے یہاں آنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

لمبینی کی مقامی پولیس اور کرائم بیورو کے افسران کرنل حبیب کی گمشدگی کی تفتیش کر رہے ہیں۔ نیپال پولیس کے ترجمان سرویندر کھنال نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ جو اطلاعات گمشدگی کے پہلے دن ملی تھیں اسی کی بنیاد پر تفتیش ہو رہی ہے۔ ایئر پورٹ کے باہر جس فوٹیج کا ذکر ہو رہا تھا اس کے بارے میں بھی پولیس اب واضح طور پر کچھ نہیں بتا رہی ہے۔ پاکستانی سفارتخانہ تفتیش میں مدد کر رہا ہے۔ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی تفتیش کار بھی یہاں آنے والے ہیں۔
پاکستانی اور انڈین میڈیا کی طرح یہاں بھی ہر جگہ یہی تاثر ہے کہ کرنل حبیب کو انڈین ایجینسیوں نے پکڑا ہے۔ صحافی سنتوش شرما گھیمرے کہتے ہیں ’لوگ بھارت کو ذمے دار سمجھتے ہیں۔ یہ ایک کھلی سرحد ہے۔ یہاں ایک تسیرے ملک کے شہری کی گمشدگی کا معاملہ ہے۔ اس لیے شک بھارت پر جاتا ہے۔ ‘

اسی بارے میں: ۔  اُدبا کے رویے اور صنف نازک

وہ مزید کہتے ہیں: ’انھیں بھارت میں ڈھونڈیے۔ اس معاملے کا کوئی نہ کوئی تعلق کلبھوشن جادھو کے معاملے سے ہے۔ ‘

بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس افسر ’آف دی ریکارڈ‘ یہ بتاتے ہیں کہ کرنل حبیب کو بھارتی ایجنسیاں لے گئی ہیں۔ لیکن حکومتی سطح پر اس کے بارے میں تشویش ہے۔ نیپال کے وزیر اعظم کے سابق مشیر گوپال کھنال کا خیال ہے کہ یہ نیپال کا معاملہ نہیں ہے ’یہ بھارت اور پاکستان کا معاملہ ہے۔ لیکن چونکہ یہ نیپال کی سرزمین پر ہوا ہے اس لیے نیپال کو اس کے بارے میں تشویش ہے۔ ‘

گوپال کا خیال ہے کہ نیپالی حکومت اور پولیس کے لیے یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس تفتیش میں نیپال پولیس کے پاس محدود سکوپ ہے۔ نیپال حکومت پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ لیکن یہ آسان کیس نہیں ہے۔ اس تفتیش کا کوئی نتیجہ نکلے گا یا نہیں، اس کے بارے میں کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ ‘

نیپالی میڈیا میں کرنل حبیب کی گمشدگی کی خبریں ابتدا میں شا‏ئع ہوئی تھیں۔ بیشتر اطلاعات پاکستان اور انڈیا کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے حاصل کی گئی تھیں۔ صحافیوں کا خیال ہے کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’بلیم گیم ہے‘۔

پاکستان نے کرنل حبیب ظاہر کی گمشدکی کے لیے انڈیا پر الزام لگایا ہے۔ جبکہ انڈیا ابھی تک اس سے انکار کر رہا ہے۔ لیکن اگر پاکستانی افسر بھارتی ایجینسیوں کے ہاتھ لگے ہیں تو اس کی تفصیلات آنے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔ اگر اس کا تعلق کلبھوشن جادھو کی گرفتاری اور انھیں سزائے موت سنانے سے ہے تو خاص طور سے کرنل حبیب کو اغوا کرنے کا کوئی خاص سبب ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  انڈیا سے آئی ’جہادی گولیوں‘ کی بڑی کھیپ ضبط

انڈین میڈیا میں ’ذرائع‘ کے حوالے سے ایسی خبریں آنی شروع ہو گئی ہیں کہ کرنل حبیب نیپال کے سرحدی علاقوں میں انڈیا کے خلاف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ بعض خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کلبھوشن جادھو کو ’جھانسہ‘ دے کر ایران سے پاکستان لانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

لمبینی سے کرنل حبیب ظاہر کی اچانک گمشدگی ابھی تک پر اسرار بنی ہوئی ہے۔ نیپالی تفتیش کار بھی اسی نقطہ نظر سے تفتیش کر رہے ہیں شاید ان کی تفتیش پوری ہونے سے پہلے ان کے ملنے کے بارے میں بھی کوئی خبر پاکستان یا انڈیا سے آنی شروع ہوجائے بالکل اسی طرح جس طرح ان کے غائب ہونے کی خبر آئی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 853 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp