آرمی چیف کے بارے میں پیپلزپارٹی کا یوٹرن


usman ghaziآصف زرداری کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں بیان میڈیا میں آیا ۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ بیان ان کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے دفتر سے جاری نہیں ہوا

بلاول ہاؤس کے ترجمان جمیل سومرو اور آصف زرداری کی قریبی سیاسی رفیق شیری رحمان نے بھی یہ بیان جاری نہیں کیا

پھر یہ بیان آخر آیا کہاں سے؟

میڈیا ذرائع کے مطابق یہ بیان دراصل آصف زرداری کی ایک معروف صحافی سے ٹیلی فونک بات چیت کا نتیجہ تھا

اگر ایسا ہے تو اب پیپلزپارٹی اس بیان سے کیوں انکار کررہی ہے؟

پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک چینل کے مالک معروف صحافی سے وہ گفتگو نہیں ہوئی, جو نشر یا شائع کی گئی یعنی آصف زرداری نے اپنی ٹیلی فونک بات چیت میں آرمی چیف کے کردار کی تو تعریف کی تاہم مدت ملازمت میں توسیع کی بات اپنے پاس سے گھڑ لی گئی

چلیں اس مو¿قف کو بھی تسلیم کرلیتے ہیں تاہم پھر پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے رکن خرم وٹو کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مطالبے کے بارے میں قرارداد کو کہاں فٹ کیا جائے گا؟آصف زرداری نے اگر یہ بیان نہیں دیا تو اس بیان میں ظاہر کی گئی خواہش کے عین مطابق پنجاب اسمبلی میں قرارداد کیا فرشتوں نے پیش کی ہے؟

اگر پیپلزپارٹی اس قرارداد سے لاتعلقی کے اظہار کی کوشش کرتی ہے تو یہ اس بات کی جانب بھی اشارہ ہوگا کہ پارٹی میں دھڑے بندیاں ہیں، یہ بیان جن کے اشاروں پر جاری ہوا، انہوں نے ہی قرارداد بھی جاری کروادی مگر اس اٹکل پچو بات کوعوام کے لیے ہضم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

آصف زرداری رات بارہ بجے حامد میر کو کال کرکے اپنے سے منسوب بیان کی وضاحت کرتے ہیں مگر حیرت انگیز طور پر رات دوبجے جنگ اخبار کی کاپی جب فائنل ہوتی ہے تو اس میں حامدمیر کے ٹویٹ کا کوئی ذکر نہیں تھا یعنی جنگ اور جیو گروپ کو اپنے حریف چینل کے مالک کی جانب سے جاری ہونے والی خبر کی صداقت کا اتنا یقین تھا کہ اپنے سینئر رپورٹر اور تجزیہ کار کی بات کو اہمیت نہیں دی، آصف زرداری نے حامد میر کو کال کرکے کیوں وضاحت دی، وہ یہ وضاحت اپنے ترجمان کو دے دیتے تو ایک تردیدی ۔بیان سے سارا معاملہ ختم ہوجاتا

پیپلزپارٹی نے باضابطہ طور پر ابھی تک آصف زرداری سے منسوب بیان کی تردید نہیں کی ہے۔ پی پی رہنماو¿ں کی جانب سے اس بیان کو من گھڑت قرار دیناکسی لطیفے سے کم نہیں، اگر یہ بیان غلط ہے تو اس کی باضابطہ آفیشل چینل سے تردید کیوں نہیں آرہی؟

بظاہر پیپلزپارٹی اپنے اینٹ سے اینٹ بجانے کے مو¿قف سے یوٹرن لے چکی ہے، آصف زرداری کے بیان پر یہ بدحواسیاں عوام کے سامنے اپنے دیرینہ مو¿قف کے کمزور دفاع کے سواکچھ نہیں ہیں

ایک ہفتہ بھی نہیں گزرے گا۔ یہ بیان شاید سیاسی ہنگاموں کی نذر ہوجائے۔ تاہم اس بیان کے نتیجے میں آرمی چیف کی توسیع اور پیپلزپارٹی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے خلاصی، دونوں ممکن ہوجائیں گے اور شاید ذوالفقار مرزا سے عزیربلوچ کے حوالے سے پوچھ گچھ کے ساتھ ہی خلاصی کے اس سلسلے کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments