نیا پاکستان: چلے ہوئے کارتوس  اور دھوپ میں رکھی بندوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کو معلوم ہے، نئے پاکستان کا کیا مطلب ہے ؟

مجھے معلوم ہے !

نئے پاکستان کا مطلب ہے، نیا وزیر اعظم، شطرنج کے پٹے ہوے مہروں کے ساتھ۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے پرانے جوتے، نئے ریپنگ پیپر میں لپیٹ کے کسی کو تحفہ دے دیں۔

کیسے مان لوں کہ فردوس عاشق اعوان نیک پروین بن گئیں ہیں۔ حفیظ شیخ تو پچھلا خزانہ لوٹے جانے کے وقت بہت معصوم تھے، تب انہیں معلوم ہی نہ ہوا کہ حکومت ان کی ناک تلے کیا کر رہی ہے۔ بریگیڈیر اعجاز محلاتی سازشوں کا ایک اہم کردار، جو شاید ایک دور میں ممکنہ قاتلوں کی فہرست میں کھڑے تھے، نے اب دودھ سے نہا کے توبہ کر لی ہے۔ فواد چوہدری سیاست پہلے بھی کرتے تھے پر اب کے ماہیت قلب کی تبدیلی ہے۔ شاہ محمود قریشی کو شاید پہلی دفعہ پاکستان کی خدمت کا شوق ہوا ہے۔ شیخ رشید بےچارے بڈھے ہو گئے مختلف جماعتوں کے ساتھ، زبان بھی تھک گئی اول فول بولتے لیکن اس دفعہ عالم غیب سے سچا اشارہ ہوا ہے۔

کس کس کا نام لوں کہ علی بابا چالیس چور کی کہانی ہے۔ البتہ کپتان کا ارمان پورا ہو گیا ہے نیا پاکستان بنانے کا، وہ بھی ہمارے ارمانوں کی چتا پر۔

جب لوگ ملک سے نئی دنیاؤں کو ہجرت کر جاتے ہیں، ایک اور سرزمین سے رشتہ بنتا ہے، رزق کمایا جاتا ہے۔ زندگی کے میلے میں سب کچھ ہی ہوتا ہے، لیکن دل کا ایک حصہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ان گلیوں میں جہاں بچپن بیتا تھا، ان شہروں میں جہاں جوانی آئی تھی، وہ خاک جس میں پیارے ماں باپ ابدی نیند سوتے ہیں۔

پھر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دھرتی ماں کی یاد دل کی ہر دھڑکن میں بس جاتی ہے کہ پرانی اور پہلی محبت آرام سے نہیں بھولا کرتی۔ دیس میں نکلا ہوا چاند، برستی بارش، ساون کے جھولے، تہوار، بدلتے موسم سب ہر پل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایسے میں دیس میں ہونے والی تبدیلیاں، بھلے اچھی ہوں یا بری، آپ کی توجہ کھینچتی ہیں۔

آبادی کاہل پادری کی توند کی طرح بڑھ رہی ہے، تعلیم اور صحت کا فقدان ہے، مہنگائی کا سیلاب ہے، دہشت گردی کا عذاب ہے، توانائی کہیں نہیں ہے، یہ سب دل جلانے کو کافی ہے۔ اور مرے پہ سو درے، نکمی سیاسی پارٹیاں۔

بہت برسوں سے ہم بیرون ملک رہنے والوں کو لگتا تھا کہ قیادت اور حواریوں میں جو فہم و فراست اور شعور کی کمی ہے، اس کی وجہ انہی پرانے کھلاڑیوں کا بار بار سٹیج پہ آنا ہے، نئے ڈرامے کے ساتھ۔ اور یہ پٹی ہمیں پڑھائی تھی اس لیڈر نے جس کی وطن دوستی اور وفاداری پہ ہمیں کوئی شبہ نہیں تھا۔

ہم جیسے دیوانوں نے اپنی سادگی میں یہ باور کر لیا کہ جب بھی وہ آئے گا، ملک وقوم کی تقدیر بدلے گی اور بنے گا ایک نیا پاکستان۔ ہم جو ہرے پاسپورٹ کی ناقدری سے بہت تنگ تھے، ان سب افسانوں پر ایمان لائے اور نئے پاکستان کا سپنا آنکھوں میں سجائے ان کے پیچھے ہو لئے۔ اس سفر میں بہت جنگیں لڑیں، زبان سے، قلم سے۔ بہت سے قدردانوں کو دشمن بنا لیا، بہت سے خونی رشتوں میں دراڑ آگئی لیکن ہیرو کے ساتھ اس عزم کا سفر ہمارا نصب العین بن چکا تھا۔

ماتھا تب ٹھنکا جب تحریک کے بانی رہنما آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہوۓ اور وہی استعمال شدہ گھاگ چہرے کپتان کے ساتھ کھڑے ہونا شروع ہوۓ۔ توجیہہ گھڑی گئی کہ ان کہ بغیر الیکشن جیتنا ممکن نہیں تھا۔

چلیے یہاں تک بھی برداشت کیا مگر جب ترین صاحب کا ہیلی کاپٹر سارے پاکستان میں گھوم گھوم کے کرائے کے سپاہی بھر بھر کے لاتا رہا تو بات پھر سمجھ سے باہر تھی۔ آخر نئے پاکستان میں پرانے لوگ کیسے آسکتے ہیں، آئیڈیالوجی کیسے بدل سکتی ہے۔

کسی بھی شخص کا نظریاتی یقین، اعتماد اور سفر ایک دن کی بات نہیں ہوتی۔ اس سب کے پیچھے برسوں کی کمائی ہوتی ہے افکار کو خون جگر دے کے پروان چڑھایا جاتا ہے اور احساسات و نظریات پہ ایمان رکھ کے ہی منزل کی طرف گامزن ہوا جاتا ہے۔

یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پکی عمر کے بڈھے توتے جو پہلے “آسمان نیلا ہے” پہ ایمان رکھتے تھے، ان پہ یک لخت انکشاف ہوا کہ “آسمان تو ہرا ہے” اور اب پوری قوم کے ساتھ ان کی بھی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ ایک سو اسی درجے کی قلابازی کھائیں اور لوٹن کبوتر بن کے کپتان کی ولولہ انگیز قیادت کی چھتری پر آن اتریں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ کپتان کی قیادت ہونی چاہیے اور قبلہ درست ہونا چاہئے، بھلے ساتھی کیسے بھی رہے ہوں کہ ان کا کام تو پیچھے چلنا ہے۔ خیال رہے کہ یہ سٹھیائے ہوئے بے ضمیر ساتھی جو رستہ بدلنے کے عادی ہیں، صرف اور صرف طاقت کی چکاچوند کے لالچ میں قافلے کے ہمرکاب ہو چلے ہیں۔ وہ کپتان کی زبان کو چٹخارے دار بنوا کے سستی سیاست تو سکھا سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کا انہیں نہ شوق ہے اور نہ ہی ان کی طبیعت اس کی عادی۔

پرانے زمانے میں جب بات نبھانے کا وعدہ کیا جاتا تھا تو زبان دی جاتی تھی۔ پھر دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، لاکھوں کا نقصان ہو جاے، رشتے ناتے سولی چڑھ جائیں، پر زبان قائم رہتی تھی۔

پاکستانی سیاست میں بغیر کسی ضمیر اور آئیڈیالوجی کے، ادھر ادھر لڑکھنے والے بے پیندے کے لوٹوں کے دماغ تو چیک ہونا ہی چاہیے، لگے ہاتھوں زبان بھی دیکھ لینی چاہئے ۔

رہا نئے پاکستان کا خواب، تو اس پہ ہم نے بھاری دل سے فاتحہ پڑھ لی ہے۔ یہ پچھلے لوٹوں والا ہی پاکستان ہے، بس اب کے بڑی مسند پہ کپتان براجمان ہے۔ چلے ہوئی کارتوس اس نے زنبیل میں جمع کر لئے ہیں اور تبدیلی کی بندوق دھوپ میں رکھ دی ہے۔۔۔ دُھپ لگ سی تے ٹھس کر سی۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •