حمل سرا سے مرد کا بلاوا اور عورت کا گناہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا بصیرت افروز لیکچر سنا !مرد کے بلاوے پر عورت کے انکار کی پاداش میں ارواح قدسی کی لعنت کی وعید پا کر، یقین جانیے، روح تک لرز گئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، ٹھنڈے پسینے آنے لگے، رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ہمیں ماضی کی اپنی سب کج آدائیاں یاد آ نے لگیں۔

 تب سے ہم یہ بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ نہ معلوم اب تک فرشتوں کی لعنت والے رجسٹر کا وزن کیا ہو چکا ہو گا اور کیا ہمارے کچھ نیک اعمال، جن پر ہمیں عالم غفلت میں اچھا خاصا بھروسہ رہا ہے، ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے بیان کردہ نادانستہ گناہوں کا وزن کم کرنے میں مددگار ہوں گے یا مرد کے بلاوے پر انکار کا گناہ بھاری پڑے گا۔

مرد کا بلاوا تو کچھ ایسا یک طرفہ بندوبست ہے کہ ہمارے لئے قریب قریب ایک اجنبی تصور ہے۔ ہمیں تو کائنات کے دو ٹکروں میں اس کشش کا علم ہے جسے نیوٹن نے دریافت کیا تھا اور جس کی کیفیت کو ثنااللہ میرا جی نے “سمندر کا بلاوا” کے عنوان سے نظم کیا تھا۔ ابتدائی سطریں آپ بھی پڑھ لیجئے

یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے

دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے

کبھی ایک پل کو، کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہے

بلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گا

اب آپ ہماری خوش فہمی کا تو کچھ نہیں کر سکتے جو ہمیں رشتوں میں تو نہیں، انسانیت میں تولتی ہے اور بنیادی انسانی تقاضوں کا اس دنیا میں حقدار قرار دیتی ہے۔

ڈاکٹر فرحت صاحبہ کا معاشرے میں ایک مقام ہے۔ پرجوش عقیدت مند ان کے فرمودات ملک کے گوشے گوشے تک بڑے جذب دل سے پھیلاتے ہیں۔ سو وہ سب عورتیں جو اب تک اپنے مجازی خدا کی اطاعت کرنے میں سرکشی کی مرتکب تھیں، ان کو سدھرنے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔

کرنا کیاہےآخر ، دماغ و روح کو قفل ہی تو لگانا ہے اور بلاوے پہ آمنا و صدقنا کہنا ہے۔

لیجئے فرشتوں کی لعنت سے محفوظ!

کچھ عرصہ پہلے ایک خبر دیکھی تھی کہ مغرب کے ایجاد گروں نے چند مخصوص خواہشات کے لئے ایک گڑیا بنائی ہے۔ گڑیا کیا ہے؟ بنی بنائی عورت ہے۔ وہی سراپا ، وہی لوچ ، وہی خوبصورتی، سریلی آواز کی ڈبنگ، جذبات کی آمیزش۔

تو فرق کیا ہے بھائی !

فرق یہ ہے کہ سب کچھ ہے پر خواہش نہیں، خواہش کا اظہار نہیں، اور فریق ثانی کی خواہش سے انکار نہیں۔

بس بیٹری میں سیل ڈالنے کی دیر ہے!

یوں سمجھ آتا ہے، اس گڑیا کا ڈیزائن ڈاکٹر فرحت کی بیان کردہ عورت کو دیکھ کے بنایا گیا ہے۔ جسے صرف بلایا جاتا ہے اور بس بلایا ہی جاتا ہے۔ خواہش واقرار وانکار کی تو گنجائش ہی نہیں۔

دیکھئے ہم ویسے ہی مغرب کی ایجادات سے مرعوب ہوتے رہتے ہیں۔ اور اب سمجھ میں آتا ہے کہ وہ تو معتقد ہیں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے مثالی نمونوں کے۔ اور ویسا ہی ڈیزائن بنا کے پیش کر دیتے ہیں اپنے معاشرے کے مردوں کی تفنن طبع کے لئے جو ہمارے مشرقی معاشرے میں مرد کو دستیاب اعلیٰ مقام پہ فائز نہیں اور جنہیں بلاوے کی آسان سہولت میسر نہیں۔

ہمیں ایک اور فکر بھی لاحق ہو چکی ہے۔ کچھ ایسا ہے کہ ہمارا پیشہ ہے غیر پوشیدہ کے ساتھ پوشیدہ امراض کا علاج کا، سو ہم ہر صورت حال کو باریک بینی سے کھنگالنے کے عادی ہیں۔ اب تک کی معلومات کے مطابق شوہر کے بلاوے کا ذکر ہے اور انکار پہ فرشتوں کی بے شمار لعنت کا۔

اب پوچھنا یہ ہے ڈاکٹر صاحبہ سے کہ فرشتے تب کیا کر تے ہیں جب مہینہ بھر بلاوا ہی نہ آئے۔ یا پھر دوسری صورت میں بلاوے کی اہلیت ہی نہ ہو جیسا کہ ملک عزیز میں سڑک کنارے لگے تفصیلی اشتہار اس درون خانہ راز پہ کافی روشنی ڈالتے رہتے ہیں۔

کیا کچھ ایسا بندوبست بھی ہے کہ فرشتے خواتین کی ہمدردی میں اپنی لعنت کی توپوں کا رخ دوسری طرف موڑ دیں؟ اور اگر ایسا ہے تو اس صورت میں لعنت و ملامت کا دورانیہ کیا ہو گا؟ حکیم صاحب کی معجون اور کشتوں کے استعمال کا عرصہ بھی شامل کیا جائے گا یا بوجوہ یہ مدت ساقط قرار دی جائے گی۔

ہماری ایک مریضہ کو شادی کے بعد پتہ چلا کہ صاحب کی اہلیت ہی کچھ ڈانواں ڈول ہے۔ بلاوا ہی کوئی دو تین ماہ کے بعد آتا تھا۔ پھر بھی صاحب کبھی مان کے نہ دیے کہ کہیں کچھ خلل ہے۔ وہ اس تاخیری بلاوے کو بھی کسی ثواب کے مسائل سے جوڑے بیٹھے تھے۔

اور ایسی تو بہت سی خواتین دیکھیں جن کے نصف بہتر شروع میں ہی قدموں میں بیٹھ کے اقرار کر لیتے کہ وہ قابل تو نہیں ہیں لیکن خاندان نے ان کی ایک نہیں سنی اور اب ان کی عزت نئی نویلی دلہن کے ہاتھ ہے۔ خواتین نے تو مرد کی نام نہاد عزت کا بوجھ اٹھانا ہی ہوتا ہے، تو یوں ہوا کہ لب سی کے زندگی گزار لی۔

عصمت چغتائی کا “ لحاف”ایسی بہت سی کہانیوں کا آئینہ ہے۔

چلتے چلتے آپ کو ایک جی دار خاتون کی بات سنا دیں۔ ناک میں دم تھا، دن کو چکی کی مشقت اور رات کو بلاوے پہ بلاوا۔ انکار کی صورت میں زمین پہ مجازی خدا کی ملامت تھی اور آسمانوں سے پرے فرشتوں کی ساری رات پھٹکار کی نوید بھی۔

ایک دن تنگ آ کے بول ہی پڑیں “چلو ہمارا نام ہی لیں گے نا فرشتے، چاہے کسی مد میں لیں۔ رہی بات عذاب و ثواب کی، تو ابھی کون سا سکون میں ہیں ہم “

ہمیں یقین ہے کہ خاق کائنات، جو رحمان ورحیم اور عادل و ارفع ہے۔ آسمانوں پہ مقیم اپنی پاکیزہ واعلیٰ مخلوق کو حقارت و تنفر جیسے جذبات کے حوالے نہیں کر سکتا۔ اپنی ہی بنائی ہوئی اور زمین کے طوفانوں کا سامنا کرتی ہوئی ایک اور مجبور مخلوق پہ لعنت بھیجنے کے لئے۔

اسے آپ ہمارا حسن ظن سمجھنا چاہتے ہیں تو سمجھیے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •