نکودر کے تحصیل دار کا جلسہ اور کسان کی تقریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے کچھ اقتباسات ”ہم سب“ میں شائع ہو چکے ہیں ۔ بتاتے چلین کہ اس تحریر میں شامل تقریر اسی برس قبل جو باتیں کی گئی، بالخصوص تعلیم اور شوگر ملوں کے بارے میں، وہ حالات آج بھی اسی طرح ہیں۔ 

٭٭٭   ٭٭٭

ایک دفعہ (سنہ 1938 ء) محکمہ زراعت کے سب انسپکٹر کے کہنے پر تحصیل نکودر میں اہل کاروں کے جلسہ میں شرکت کے لیے چلا گیا جس کے صدر جناب تحصیل دار صاحب تھے۔ حاضرین کی تعداد کافی تھی۔ حاضرین جلسہ میں ذیلدار، سفید پوش، آنریری مجسٹریٹ، محکمہ تعلیم کے انسپکٹر، کواپریٹو سوسائٹی اور زراعت کے انسپکٹر، اور علاقے کے زمیندار تھے۔ یہ جلسہ زمینداروں سے ہمدردی اور دیہات سدھار کے لیے تھا۔ جلسہ کی کارروائی کی ا بتدا نظم پڑھ کر کی گئی جو ایک مدرس نے اپنی خوش الحانی سے سرکار کی تعریف اور دیگر احسانات کے بارے میں بنائی ہوئی تھی۔ جس کی تفصیل یہ تھی کہ سرکار انگلشیہ نے ہم لوگوں پر کتنے بڑے بڑے احسان کیے ہیں یعنی ہماری سہولت کے لیے ڈاک خانے، ہسپتال، ریل اور سڑکیں تعمیر کیں، نیز محکمہ زراعت اور بنک، عدالتیں وغیرہ مقرر کیں۔

اس کے بعد محکمہ زراعت، بنک زمیندارہ کے سب انسپکٹر نے محکمہ کی تعریف کی اور زمینداروں کو بنک مذکور سے قرض کے لیے ہدایات کیں اور بنک سے قرض لینے کے فوائد اور ساہوکاروں سے قرض لینے کے نقصانات سمجھائے۔ ان ہر دو کے بعد محکمہ زراعت کے انسپکٹر صاحب نے اپنے محکمہ کے فرائض اور کارآمد بیج استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو ہدایت کی، نیز زمین کی مربع بندی کرانے پر خوب زور دیا۔ اس کے لیے ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی گئی۔

ان سب کے بعد تحصیل دار صاحب نے اپنی پرتاثیر تقریر سے حاضرین جلسہ خاص کر زمینداروں کو مقدمہ بازی سے بچنے اور پنچایتیں قائم کرنے کے لیے بطور نصیحت سمجھایا اور دیہات سدھار کے مختلف طریقے بتائے۔ یعنی ہر ایک نے اپنا اپنا راگ گایا اور زمینداروں کو مریض ناتواں سمجھ کر اپنے اپنے نسخوں اور تجاویز سے آگاہ کیا اور عمل کرنے کے لیے سرکاری طور پر ہدایات دیں۔ زمیندار بے چارے خاموشی سے سنتے اور افسران بالا کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ میں بھی حسب بیان کردہ اس جلسہ میں موجود تھا۔ پس میں نے تحصیل دار صاحب سے اجازت لے کر اپنی تقریر یوں شروع کی:

جناب صدر اور معززین جلسہ، میں بھی ایک غریب زمیندار ہوں اور بطور ایک مریض آپ صاحبان کے سامنے حاضر ہوں۔ میری طرح اور بھی بہت سے زمیندار آپ کے بلائے ہوئے حاضر ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ آپ ہر ایک محکمہ کے افسران اپنے فرائض کو ادا کرنے میں حق بجانب ہیں او ر ہم غریب زمینداروں کے ڈاکٹر یا حکیم ہیں۔ ڈاکٹر یا حکیم ہمیشہ اپنے مریض کے لیے نسخہ صحت ہی تجویز کرتا ہے جو کہ مریض کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے لیکن مجھے سخت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ لوگ مریض کے مرض کی شناخت کیے بغیر نسخہ تجویز کر رہے ہو۔

اس پر طرہ یہ کہ مریض کو زبردستی پلاتے ہو اور بے چارے مریض سے بالکل پوچھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے کہ آیا فلاں فلاں نسخہ تمھاری طبیعت کے موافق یا فائدہ مند ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں تو کیا اس کے اجزا بدلے جا سکتے ہیں کیونکہ ہر ایک نسخہ ہر مریض کی طبیعت، وقت اور موسم کے لحاظ سے ہوتا ہے، ہونا چاہیے۔ میرے ان الفاظ پر سارے حاضرین جلسہ چوکنے ہو گئے اور تحصیلد ار صاحب نے میرے اس فقرے کے معنی دریافت کیے۔ جس کو میں نے مفصل طور پر اس طرح بیان کیا۔

نکودر ریلوے اسٹیشن

نمبر 1 محکمہ تعلیم۔ جو تعلیم ہم کو دی جاتی ہے وہ صرف نوکری یا پیٹ پالنے کے لیے ہے جو نہ ملنے پر دردر بھیک منگاتی ہے۔ جیساکہ عام کہاوت ہے، اتم کھیتی، مدھم بیوپار، نکھد چاکری، بھیک ندار۔ مثال کے طور پر میں ایک چشم دید اور گوش شنید واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ میں ایک وکیل کے جالندھر دفتر میں بیٹھا تھا۔ ایک عمر رسیدہ شخص آیا جس داڑھی حنا دار تھی اور بہت نیک اور شریف معلوم ہوتا تھا۔ آتے ہی وکیل صاحب کے سامنے رونے لگ گیا اور عرض کرنے لگا کہ میں دیوالہ دینے آیا ہوں۔

سبب دریافت کرنے پر کہنے لگا کہ میرے تین لڑکے ہیں۔ ایک کو میٹرک اور دوسرے کو آٹھویں تک تعلیم دلوائی۔ تیسرا بھی چھٹی میں پڑھتا ہے لیکن اب آئندہ پڑھائی کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔ زمین وغیرہ سب گروی ہو چکی ہے۔ لڑکوں کی حالت وہی ہے کہ جیسے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ نوکری ملتی ہے نہ ہی اب وہ کھیتی کے قابل رہ گئے ہیں اور زمین بھی نہیں جس میں کھیتی کی جاوے۔ بس میری مدد کرو اور اس مصیبت سے نجات دلواؤ۔ فقط یہ ہے ہماری تعلیم۔ اس کے علاوہ آپ کسی بھی گاؤں میں جاؤ تو آپ کو بہت سارے لڑکے بال سنوارے ہوئے بے کار پھرتے نظر آئیں گے۔ افسوس صد افسوس ایسی تعلیم پر۔

نمبر 2 محکمہ کواپریٹو سوسائٹی کے کارکنا ن نے بہت اندھیر گردی مچا رکھی ہے۔ گو یہ محکمہ گورنمنٹ نے عام زمینداروں اور دیگر لوگوں کے لیے قرضہ سے نجات حاصل کرنے اور ساہوکاروں کے پنجہء ظلم سے بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس محکمہ نے لوگوں کو زیادہ نقصان پہنچایا اور رسوا کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ گاؤں کے لوگ نوے فی صد ناخواندہ ہوتے ہیں۔ جو زمیندار بنکوں کے کرتا دھرتا ہوتے ہیں وہ بہت سے گاؤں کی بنکوں میں جعلی تمسک بنے یا بنائے ہوئے ہیں جو عدالتوں میں ثابت ہو چکے ہیں لیکن مظلوموں کی کچھ شنوائی نہیں ہوئی کیونکہ دیوانی عدالتیں بنکوں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتیں اور بنک کے ممبروں کی اکثریت جدھر ہو جاوے وہی فیصلہ برقرار رہتا ہے خواہ قرضہ کا اندراج غلط ہی ہو۔

اس محکمہ کو قرض دار کی زمین اور جگہ رہائش قرق کرنے کا بھی اختیار ہے جو کہ ساہوکاروں کو نہیں۔ اس کے علاوہ اس محکمہ کو زمینداروں کی زمینوں کی مربع بندی کا اختیار بھی دیا ہوا ہے جس کی بے انصافی اور غلط کارروایوں کی وجہ سے بہت سے گاؤں میں دھڑے بندی ہو کر کشت و خون تک نوبت پہنچ چکی ہے اور مقدمہ بازی کا بازار عرصہ تک گرم رہتا ہے۔ جو لوگ چالاک ہوتے ہیں وہ انسپکٹر اشتمال سے مل ملا کر فائدہ اٹھا جاتے ہیں اور اچھے اچھے قطعہ زمین حاصل کر لیتے ہیں۔ غریب بے چارے نقصان میں رہ جاتے ہیں۔

نکودر میں مسلم تہذیب کے مٹتے ہوئے آثار

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2