مشرق وسطیٰ، معاملہ فہمی کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکوک میں امریکیوں پر حملہ اور پھر اس کے بعد عراق اور شام میں کرتائب حزب اللہ کے کیمپوں پر امریکی بمباری یہ واضح کر رہی تھی کہ صورتحال بہت تیز رفتاری سے خرابی کی جانب رواں دواں ہے لیکن امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کو براہ راست عراق کی سر زمین پر نشانہ بنانا ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کے اثرات بہت دیر تک قائم رہیں گے۔ اور اس اقدام سے نہ تو امن قائم ہو جائے گا اور نہ ہی ایران جہاں پر اپنے قدم جما چکا ہے وہاں سے واپسی کی راہ لے گا۔

پھر اس امریکی اقدام کی وجہ کیا صرف یہ ہے کہ ہم اس حد تک نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ نظریے کو تقویت پہنچائی جائے۔ یا نتائج اور بھی حاصل کیے جانے مقصود ہیں۔ معاملات اس حد تک کیوں چلے گئے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے کو عراق جنگ کے وقت سے اعلانیہ بے توقیر کر دیا گیا تھا۔ اور ان قوانین کی جو بین الاقوامی حیثیت رکھتے ہیں اور تیار بھی خود ہی کیے تھے کی دھجیاں اڑا دی گئی تھیں۔ سنجیدہ حلقوں میں اس رجحان کی مذمت اور اس پر تشویش واضح طور پر دیکھنے میں آ رہی تھی اور آ رہی ہے۔

جب افغانستان عراق اور لیبیا میں حکومتوں کو فوجی طاقت کے زور پر ختم کر دیا گیا اور یہی طریقہ کار شام میں اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو اس وقت وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فوجی طاقت سے قانونی حکومتوں کو گرانے کی مخالفت کی تھی جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتی تھی کہ نا تو ماضی میں اس طریقہ کار کو اختیار کرنے کے بعد ان ممالک کے عوام کے مصائب کا خاتمہ ہوا بلکہ وہ بڑھتے ہی چلے گئے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے سے کوئی مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

مشرق وسطی کی امریکی حکمت عملی میں اسرائیل کی سا لمیت بلکہ اس کی علاقائی بالا دستی کو قائم کرنا بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے اس خطے میں تمام اقدامات چاہے وہ کسی سے دوستی کی جانب بڑھتے قدم ہوں یا کسی کو تباہ کرنے کا ارادہ ہو۔ اسی پس منظر میں دیکھے جانے چاہیں۔ اسرائیل کو لامحالہ خطرہ جن ممالک سے ہے وہاں پر فرقہ ورانہ جذبات کو اشتعال دینا اور اس کے نتیجے میں رائے عامہ کو اسرائیل کی بجائے ایک دوسرے سے خوفزدہ کرنا پھر سفارہ کر ڈالنا اسرائیل کی سالمیت کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کارگر ہتھیار ہے۔

اور اسی کی آڑ میں ان ممالک کی حکومتوں کا بدستور حکومت رہنا بھی ممکن بنا ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ وطن عزیز میں بھی ایک قابل لحاظ تعداد ایران اور عرب ممالک کی کشمکش کو خالصتاً فرقہ ورانہ رنگ میں دیکھتی ہے۔ حالانکہ ان معاملات میں مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے فرقے ایک ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقی مقاصد اس سے کہیں پڑے موجود ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کا رد عمل کیا ہو گا۔ کیونکہ اس واقعہ کو بغیر کسی رد عمل کے چھوڑ دینا ایران کے لئے ممکن نہیں ہوگا لیکن ایران کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ اسی نوعیت کی کسی کارروائی میں امریکہ کو ایسا ہی نقصان پہنچا سکے۔

لازماً ایران کی نگاہیں اپنے ایران سے باہر حلیفوں یعنی حزب اللہ، حماس اور حرکت جہاد اسلامی فلسطین کی جانب اٹھے گی۔ خیال رہے کہ حماس اور حرکت جہاد اسلامی فلسطین مصر کی اخوان المسلمین کے نظریات سے متاثر ہو کر قائم کی گئی تھی۔ با الفاظ دیگر وہ ایران میں موجود اکثریتی مسلک کے ہم مسلک نہیں ہیں بلکہ سلفی ہے۔ لیکن ان کا اور ایران کا سیاسی نظریہ ایک ہے۔ حرکت جہاد اسلامی فلسطین نے جنرل قاسم سلیمانی کے واقعہ پر اپنی ویب سائیٹ پر یہ پیغام جاری کیا ہے کہ۔

”We will march together in the face of this aggression“

غزہ میں اس تنظیم کو غیر معمولی اثرو رسوخ بھی حاصل ہے۔ اس تنظیم کو سرایا القدس یا القدس بریگیڈ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ برسبیل تذکرہ یہ بیان کرتا چلوں کہ کچھ عرصہ قبل عراق کے معروف عالم دین مقتدیٰ الصدر کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بھی خوب چرچے ہوئے تھے۔ ایران کی فلسطین پالیسی اور سعودی ولی عہد کی یہ ملاقات باآسانی سمجھا رہی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے فرقہ ورانہ کتنے اختلافات ہیں یا صرف فرقوں کو جہاں صرف ضرورت ہو وہاں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بہرحال ایران، لبنان، عراق، شام، فلسطین اور یمن میں اس حکمت عملی کو اختیار کر چکا ہے کہ وہاں پر صرف مسلح گروہ ہی اس کے حامی نہیں بلکہ سیاسی طاقت رکھنے والی قوتیں بھی اس کی حلیف ہیں اور وہ ان دونوں کے اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اور جواب بھی جہاں کہیں بھی دیگا ان دونوں کے اشتراک سے دے گا۔ امکان غالب ہے کہ جواب اسرائیل کو دیا جائے گا کیونکہ بحری حالات کو زیادہ دیر تک کشیدہ رکھنا اس کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔

لہٰذا سمندر میں کسی بڑے تصادم سے بچنا چاہے گا۔ اب پاکستان نہ صرف کہ ایران کا ہمسایہ ملک ہے بلکہ ایک مسلمہ فوجی طاقت بھی ہے۔ اس لئے ہماری حکمت عملی ہر درجہ احتیاط اور معاملہ فہمی کا تقاضا کرتی ہے پھر ہماری اپنی حالت بھی اس وقت عجیب سی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دنیا بھر کے وزرائے خارجہ سے اس واقعہ کے بعد بات کی مگر ہمارے ہاں بری فوج کے سربراہ سے بات کرنا بہت مناسب خیال کیا۔ پیغام واضح کہ وہ یہاں کے حالات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس لئے خیال رکھنا چاہیے کہ نا تو ملائیشیا سمٹ والی غلطیاں دہرائی جائیں کہ مفادات اور حکمت عملی کو طے کیے بنا بڑھکیں اور پھر کہیں جا کر صفائیں دینا کہ اقتدار اعلیٰ ہی مشکوک ہو گیا۔ نظر صرف اس پر رکھنی چاہیے کہ ہماری سرحدیں اور بحری راستوں کی کیا صورتحال ہے اور اگر کہیں کچھ غیر معمولی ہو تو اس سے نبٹنا کیسے ہے۔ پرائی آگ میں جلنی سے خود کو محفوظ رکھنا ہی اصل کامیابی ہو گی جیسے یمن کے معاملے میں خود کو محفوظ رکھا تھا چاہے اس کے شخصی نتائج کو قیادت کو بھگتنا ہی پڑا۔

اس موقع پر ضروری یہ بھی ہے کہ میڈیا کی جانب روا رکھے جانے والا معاندانہ رویہ ریاستی اداروں کی جانب سے فی الفور ترک کیا جائے۔ جنگ گروپ اور ڈان کو زمین سے لگانے کی کوشش قومی یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچائے گی کیونکہ ان کا اثر پورے ملک میں یکساں طور پر موجود ہے اور اپنی پالیسیاں یہ ادارے پاکستان کے تناظر میں بناتے ہیں۔ اگر ان کو نقصان پہنچا تو اس وقت یہ وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے برابر ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *