دوران حمل ذہنی و جسمانی مسائل (رابعہ نساء)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"ایک ماں بچے کو اپنے اندر پرورش دینے اور اسے اس دنیا میں لانے کے دوران کن مراحل سے گزرتی ہے اس کا تذکرہ شاید بہت بار ہوا ہو کہ وہ جسمانی طور پر کن تکالیف کو برداشت کرتی ہے مگر اس کے ساتھ ذہنی اور روحانی طور پر اسے کیا اذیت ناک مسائل دیکھنے پڑتے ہیں شاید یہ بات کم ہوئی ہو کیونکہ یہ ہمارا معاشرتی مسئلہ ہے کہ ہم ان تکالیف کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتے جو ہمیں انمٹ زخم دیں۔

پہلے تھوڑا سا تذکرہ ان حالات کا جو بچہ نہ ہونے کی صورت میں ایک خاتون کو دیکھنے پڑتے ہیں۔ شادی کے بعد دو تین ماہ مشکل سے برداشت کیے جاتے ہیں اس کے بعد گھر والے، رشتےدار، آس پڑوس، اور اگر گھر میں خوش حالی ہے تو گھر میں کام کرنے والی ملازمہ بھی پوچھے گی کیا وجہ ہے بچہ کیوں نہیں ہو رہا۔ مشق ستم بیوی سے شروع ہوگی وہ اپنا چیک اپ کروائے گی، غیر ضروری دوائیاں کھائے گی، جب کچھ مہینوں کے بعد نتیجہ نہیں ملے گا تو پھر میاں صاحب کی بارے آئے گی کہ صاحب آپ بھی اپنا ٹیسٹ کروا لیں، اب زیادہ تر مرد حضرات کمال مہربانی سے ٹیسٹ پر راضی ہو جاتے ہیں لیکن ایسے حضرات کی تعداد بھی کم نہیں جو بالکل اس طرف نہیں آتے۔ سالہا سال گزر جاتے ہیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔

عالمی تناظر میں بھی اب انفرٹیلیٹی یا بانجھ پن بڑھ رہا ہے۔ ہر سات جوڑوں میں سے ایک اس مسئلے کا شکار ہے، اس میں وجوہات دونوں طرف ہیں۔ اب جس کی طرف وجہ ہو اسے اپنے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔ خواتیں میں اس کے علاج میں پیچیدگیاں کچھ زیادہ بھی ہو سکتی ہیں کہ اسے کچھ سرجری کے مراحل سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر عورت بالکل ماں نہ بن سکتی ہو تو مرد بہت آرام سے دوسری شادی کے بارے میں سوچتا ہے مگر عورت سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم اس صورت حال میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہو گی یا نہیں اور اگر مرد میں یہ صلاحیت نہ ہو تو پھر کوئی مسئلہ نہیں یہاں بھی یہ حق عورت کو نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی چاہے گی یا نہیں نہ کبھی عورت یہ سوچتی ہے کہ میں ایسا کر لوں۔

اب آتے ہیں بچہ ہونے کی طرف اگر بچہ بغیر کسی تردد کے سال کے اندر ہو گیا تو ٹھیک ہے خاتون کا سر بلند ہو گیا کہ میرے اندر یہ صلاحیت ہے اور اگر بہت محنت مشقت، مطلب خاتون بیچاری بہت ساری دوائیاں کھا کے اور کئی ایک پروسیجرز کے مراحل سے گزر کر اسے یہ مسند ملی تو وہ شکر گزار ہو جاتی ہے۔

اب مرحلہ شروع ہو گیا اور مشکلات کا۔ پہلی سہ ماہی ہارمونز کی تبدیلی کی وجہ سے قے، متلاہٹ، بھاری پن، معدے میں درد، بوجھ، دل کر رہا اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر پڑا رہا وغیرہ محسوس ہوگا۔ ایک دن بھی اگر کسی کو الٹی اور متلی کی تکلیف ہو تو جان عذاب میں آ جاتی اور کہاں تین ماہ مگر یہ مجاہدہ گھریلو خاتون ہے تو گھر کی تمام ذمہ داریاں دیکھے گی اور اگر ملازمت پیشہ ہے تو یہ بھی بخیر وخوبی کام ہوتا رہے گا۔ اب یہاں ان دنوں کھانے پینے کے لحاظ سے خواتیں بہت چنیدہ ہو جاتی ہیں کہ کچھ مخصوص خوارک ہی اچھی لگ رہی ہوتی ہے اور کوئی ضروری نہیں کہ جب سب کھانا کھا رہے ہوں آپ بھی تب کھائیں، ہو سکتا ہے تب کھانے کی طرف دیکھنے سے متلاہٹ ہو رہی ہو اور آدھی رات کو دل چاہنے کہ میں نے گولگپے کھانے ہیں۔ اس وقت خاتون کے ساتھ اس کے ساتھی کا بھی امتحان ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے ہمسفر کا خیال رکھتا ہے۔ زیادہ تر ایسے وقت پر کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا اور اگر بچہ دوسرا تیسرا ہے تو پھر تو بالکل نہیں کہ یہ تو اس کے لیے روٹین ہوگی کون سا نئی بات ہے۔

پھر دوسری سہ ماہی اس میں پہلے والی کیفیات کچھ بہتر ہوتی ہیں اور حالات قابل برداشت ہو جاتے ہیں مگر بچہ بڑھ رہا ہے تو ساتھ ساتھ بچے کی حرکت کا ہونا اور کچھ درد کا ہونا لازمی صورت حال ہے۔

اس کے ساتھ تیسری سہ ماہی میں اور مشکلات ہیں جیسے کہ کمر درد، پیٹ کے نچلے حصے میں درد، دباؤ اور بوجھ، غذا کا ہضم نہ ہونا وغیرہ۔ یہ سارے مسائل جسمانی ہیں اور وہ احساسات جن سے خاتون دو چار ہوتی ہے کہ اپنے شوہر کا ساتھ سب سے زیادہ پوری زندگی میں شاید وہ ان دنوں اور پیدائش جیسے مشکل مرحلے سے گزرتے ہوئے چاہتی ہے۔ اس کی خواہش کہ اس کا پھولوں کی طرح خیال رکھا جائے، اس کے مزاج کے چڑچڑے پن کو سہا جائے، اسے اصرار کر کے کھلایا جائے۔ بچے کے حوالے سے اس کی گفتگو کو شوق اور توجہ سے سنا جائے۔ اسے اپنے شوہر کی توجہ چاہئے ہوتی ہے۔ بعض اوقات کچھ شوہر پہلے بچے کے حوالے سے پرجوش ہوتے ہیں مگر زیادہ نہیں ان کو لگتا ہے کہ گھر میں کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے اور کچھ زیادہ جس میں پھل اور دودھ آجاتا وغیرہ اگر ہو رہا ہے پھر تو سمجھیں گے کہ وہ بہت کچھ کر رہے ہیں اور اپنی ساری ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں اور اگر بچہ دوسرا تیسرا یا چوتھا ہے تو یہ سہولیات بھی ختم ہو جاتی ہیں کہ اب تو خاتون عادی ہو گئی ہے اس کے لئے کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب کہ جذباتی طور پر سہارے کو تو ایک طرف رکھ دیں کہ اکثر خواتین ایک یا دو بچوں کے بعد اس ضرورت کو بھی قربان کر کے صرف اپنی اور اپنے بچوں کے لئے مادی ضرورت کی فراہمی پر ہی اکتفا کر لیتی ہیں۔ مگر بعض خواتین چاہتی ہیں کہ ہر بچے کی دفعہ ان کا خیال رکھا جائے جو ان کا حق بھی ہے مگر ایسی خواتین شاید اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر پوری ہوتی ہیں۔

جن خواتین کے حمل کے دوران کچھ پیچیدگیاں ہو جائیں ان کے بارے میں بھی ایسے دلائل ہوتے ہیں کہ انوکھا بچہ نہیں پیدا کر رہی ہو میری والدہ اور رشتہ دار خواتین نے بھی پیدا کیے ہیں، ڈرامہ بازی کے نامناسب الفاظ کا استعمال بھی ہوتا ہے جو اور دکھ اور پیچیدگی بڑھانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ شوہر حضرات بھی یقیناً باہر سے روزی رزق کے لئے سر کھپا کر آتے ہیں۔ انہیں بھی آرام چاہئے مگر خاتون بھی گھر کی ساری ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ایک انتہائی نازک اور اہم ذمہ داری کو پورا کر رہی ہوتی ہے۔ کچھ توجہ کی حق دار تو ہے کہ میاں حمل کے سخت دورانیے میں یہ بچہ صرف میرا نہیں ہمارا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply