جنوبی ایشیا پر کورونا وائرس کا خوفناک حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں کورونا وائرس کی تازہ لہر نے قیامت صغریٰ بپا کر دی ہے جہاں ہر جانب لاشوں کے انبار ہیں، کورونا وائرس مذہب، عقیدہ، رنگ، نسل اور علاقہ ہر تعصب سے بالاتر ہو کر صرف انسانوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے۔ نسل انسانی کے اس دشمن نے بھارت کے عوام کو بالکل بے بس کردیا ہے اور ایسی تباہی مچائی ہے کہ جس کی مثال ماضی قریب میں پیش نہیں کی جا سکتی۔ انتہائی افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اس وائرس کے مضمرات سے محفوظ رہنے اور اس موذی وائرس سے نبرد آزما ہونے کے ضمن میں صحت کی حفاظت کے انتظامات انتہائی ناکافی دیکھنے میں آۓ ہیں۔ ڈاکٹرز کی رائے میں کورونا کے مریضوں کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے لہذا اس مرض کو شکست دینے کے لیے سب سے اہم اور بنیادی ضرورت آکسیجن کی بلا تعطل فراہمی ہوتی ہے جو سلنڈرز کے ذریعے ہی ممکن ہے تاکہ ایسے مریض میں پیدا ہونے والی آکسیجن کی کمی کو فوری پورا کیا جاسکے لیکن یہاں سلنڈرز کی شدید کمی کا سامنا رہا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت بھارت جو کھربوں روپے سالانہ خرچ کرکے کسی بیرونی دشمن کے حملے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی تدبیر کرتا ہے وہ ملک اس موقع پر اپنے عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت دینے سے محروم رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے حالات بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

بھارت کی موجودہ صورتحال نے بالعموم ساری دنیا اور بالخصوص پڑوسی ملک پاکستان کو انتہائی تشویش کا شکار کر دیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم سے قبل صدیوں سے یہاں کے لوگ ایک ساتھ رہے ہیں۔ ان کے مزاج اور ان کی عادتیں ایک ہی طرح کی ہیں۔ یہ سب ایک ہی طرح سے سوچتے، سمجھتے اور برتاؤ کرتے ہیں لہذا ہمیں خطرے سے نمٹنے کیلئے ابھی سے احتیاطی تدابیر اختیار کر لینی چاہیے۔

 کورونا وائرس کی پچھلی لہر کے موقع پر یہ دیکھا گیا تھا کہ جس وقت بھارت میں یہ لہر اپنے عروج پر تھی اس وقت پاکستان قدر محفوظ تھا لیکن اس کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ لہر پاکستان میں آئی لیکن چونکہ گزشتہ لہر اس قدر مضراورشدید نہیں تھی لہٰذا ہم قدرتی طور پر اس کے بتاہ کن نقصانات سے بچے رہے۔ اس بار کورونا وائرس کی لہر بہت شدید اور مضر ہے لہذا اس سے بچاؤ کے لیے ہمیں قبل از وقت ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ ماہرین کی رائے میں اس بیماری سے محفوظ رہنے کا سب سے موثر اور واحد طریقہ ہر فرد کی سماجی علیحدگی ہی میں پوشیدہ ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی جو وجوہات بیان کی جا رہی ہیں ان میں ایک سبب ایک ماہ قبل وہاں ہونے والا کمبھ کا میلہ جبکہ دوسری بڑی وجہ ڈیڑھ ماہ قبل خوب دھوم دھام سے منائی جانے والی ہولی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بالکل اسی طرح آج کل ہم پورے ایمانی جذبے کے ساتھ ماہ رمضان المبارک میں تراویح اور شبینہ کی محافل منعقد کرنے میں مصروف ہیں، پھر ابھی یوم علی کا جلوس بھی نکلنا باقی ہے ۔اس کے بعد عیدالفطر کی خوشیوں میں سماجی فاصلے کی پرواہ کئے بغیر ایک دوسرے سے گلے لگیں گے۔ ہمیں اس مرحلے پر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مفتی اعظم نے اپنے فتویٰ میں احتیاط اختیار کرنے کو لازم قرار دیا ہے۔ ایسے میں خود کو ہلاکت میں ڈالنا یا کسی دوسرے شخص کی ہلاکت کا سبب بننا دونوں ہی فعل اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہیں۔

ویسے ایک سوال یہ بھی ہے کہ آج دنیا جنوبی ایشیا کے دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کی سوچ و فکر اور خیالات کے بارے میں کیا رائے قائم کرتی ہو گی کہ یہ اپنی جھوٹی اناؤں کے اسیر کیسے بندے ہیں؟ اور یہ جنگی جنون میں کیونکر اس قدر غرق ہو چکے ہیں کہ ستر سال قبل کھینچی گئی لکیر کی زندہ حقیقت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے اور قوموں کے درمیان صحت مند تعلقات کے امکانات تلاش کرکے اپنے اپنے ممالک کے عوام کو بھوک، افلاس، غربت، جہالت سے نجات دلانے اور اپنی قوم کو علم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر اپنی تمام توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے مفروضوں کی بنیاد پر اختلافات پیدا کرنے اور پھر ان اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ ماضی میں مفروضوں کی بنیاد پر پیدا ہونے والے اختلافات کو اس حد تک بڑھایا کہ اب ایک دوسرے کے وجود کو ختم کر دینے کے در پہ ہیں۔

 جنگی جنون میں مبتلا یہ دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے اس حد تک نفرت کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو نیست ونابود کردینا چاہتے ہیں۔

جنگی جنون میں مبتلا لگ بھگ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیا کی یہ دو پڑوسی ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو تباہ و برباد کردینے کے خواب کو تعبیر بخشنے کے لیے اپنے قومی وسائل کی خطیر رقم انسانوں کو قتل کرنے اور انہیں محکوم بنانے کے مشن پر خرچ کرتی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ گولہ بارود کی تیاری اور خریداری میں ضایع کر دیتے ہیں لیکن اپنی جھوٹی اناؤں کے اسیر، انسانوں کی زندگیوں کو آرام دہ اور خوش گوار بنانے کی جانب توجہ کرنے سے قاصر ہیں۔

اپنے پڑوسی کو مکمل تباہ کر دینے کے جنون میں ہم نے اپنی قوم کی اس درجہ حق تلفی کی کہ ہم انہیں آزادی کے 73 برس بعد بھی زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات تک نہیں دے سکے ہیں اور آج بھی ہر روز شام کو واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں دونوں پڑوسی ممالک کے فوجی جوان دوسرے ملک کے فوجی جوان سے زیادہ فضا میں اپنی ٹانگ بلند کرکے اپنی سبقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اپنے ملک کے عوام سے داد و تحسین پاتے ہیں لیکن ان کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتے۔ جس کی زندہ مثال آج پڑوسی ملک بھارت میں کورونا وائرس کی تازہ اور نئی لہر ہے کہ اس نے جس بے دردی کے ساتھ بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہی مچائی ہوئی ہے اور وہاں کے حکمراں عوام سے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں ہیں۔ بھارت میں موت کا رقص جاری ہے اور انسانیت شرمسار ہے۔ کورونا وائرس کی تازہ لہر نے ہمارے حکمرانوں کی اجتماعی بے حسی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اپنے پڑوسی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی صلاحیت پر فخر کرنے والے دونوں ممالک بد قسمتی سے اپنے اپنے شہریوں کو آکسیجن تک فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ بھارت میں کورونا وائرس کی اس تازہ لہر سے جس طرح وہاں کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور ریاست ان کے علاج معالجہ کروانے کی اہلیت ، صلاحیت اور قدرت کھو چکی ہے۔ اگر خدا نخواستہ اسی انداز میں کورونا وائرس کی تازہ لہر پاکستان پر حملہ آور ہوئی تو ہمارے یہاں بھی اسی طرز کے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے۔

شاید یہ آفت قدرت کی جانب سے جنوبی ایشیا کی ان دونوں اٹیمی طاقتوں کے حکمرانوں کے لیے سوچنے اور اپنے طرز عمل میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک نادر موقع ہو ، کہ اب اہم اپنی 73 سالہ روش کو خیر باد کہتے ہوئے برصغیر میں پائیدار امن کے فروغ کا پرچم بلند کریں اور اپنے وسائل اپنے اپنے ملک کی تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی کے منصوبوں پر خرچ کریں تاکہ مستقبل میں ہر طرح کی آفات کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کیا جاسکے اور اسے شکست دی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ناصرالدین محمود کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *