وزیراعظم،جے آئی ٹی اور ممکنہ خودکش حملہ


آج صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف وہی نواز شریف بطور وزیراعظم سپریم کورٹ کو نہیں بلکہ اس کی بنائی ہوئی ایک تحقیقاتی ٹیم کو اپنے مرحوم باپ کا حساب کتاب دینے کا سزاوار ٹھہرایا گیا ہے بلکہ اس کی اولاد بھی تحقیقاتی ٹیم کے ملزموں کی قطار میں کھڑا کر دیا گیا ہے، اوپر والا جانتا ہے کہ میری نہ تو نواز شریف سے کوئی دوستی ہے نہ رشتہ داری اور نہ ہی میں اس حق میں ہوں کہ کوئی بھی شخص جو اس قوم کا پیسہ لوٹے اس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت برتی جائے، لیکن شریف فیملی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وزیراعظم کسی غریب یا مڈل کلاس فیملی کے فرد نہیں بلکہ ان کے والد میاں شریف نے اپنی محنت سے ایک صنعتی ایمپائر کی بنیاد
لال حویلی کے مکین سمیت سیاسی مخالفین کا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف خودکش حملوں کا عادی ہے، مجھے خدشہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وزیراعظم ایک اور خود کش حملہ کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ معزز ارکان جے آئی ٹی کو یہ گزارش کریں کہ حضور میری زندگی کے جو چند صفحات غائب ہیں وہ 1999 میں لاہور میں میری رہائش گاہ کی ایک کمانڈو کے ہاتھوں فتح کے دوران غائب ہو گئے تھے، براہ کرم اس کو طلب کر کے دریافت کیجئے، سنا ہے کوئٹہ کی عدالت اس کو بغیر کسی پیشی کے باعزت بری کر چکی ہے لیکن راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت روز اس کے نام کی دہائی دیتی ہے،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ


