مفصل کورٹ رپورٹ: نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اختر کیانی پرمشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادپرضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست پران کے وکیل خواجہ حارث جبکہ نیب کی طرف سے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ عدالت پیش ہوئے۔ اس موقع پرخواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے۔ سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹس پڑھ کرسنائیں جس پرجسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میڈیکل ٹرمنالوجیز نہ بتائیں بلکہ رپورٹس کی حتمی تجویز بتائیں۔

Read more

عمران خان کے چھچھورے خوشامدی

محمد علی جناحؒ کے بعد پاکستان میں جتنے بھی حکمران آئے وہ قصیدہ نویسوں میں گھرے رہے۔ شام کو جب محفل سجتی تو قصیدہ نویس ان کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے اور حکمران عش عش کر اُٹھتے۔ گورنر جنرل غلام محمد اپنے وقت کا افلاطون بھی تھا اور نوشیروان بھی تھا، اس کے منہ سے ہر وقت رال اور جھاگ بہتی تھی لیکن درباری اُسے کوثر و تسنیم کے چھینٹے قرار دیتے۔ (منٹو کے مرنے پر مولوی عبدالماجد دریا بادی نے پاکستان میں سوگ منائے جانے پر گورنر جنرل غلام محمد کی پارسائی کی دہائی دی تھی۔ مدیر) ریکارڈ پر یہ بات نہیں کہ کسی نے کہا ہو کہ جناب والا فاتر العقل اور مخبوط الحواس ہو چکے ہیں۔ اور جب زوال آیا تو ہر ایک نے گرہ لگائی اور لوگوں سے داد پائی۔

Read more

یہاں فرض شناسی کی سزا ملتی ہے

کسی کام کے سلسلے میں صدر راولپنڈی جا رہا تھا۔ حکمرانوں کے شہر اسلام آباد کی حدود سے نکل کر راولپنڈی شہر میں داخل ہوا ہی تھا کہ فیض آباد پُل کے نیچے کھڑے ٹریفک پولیس کے سارجنٹ نے رکنے کا اشارہ دیا۔

سارجنٹ کے اشارہ کرنے پر میرا دائیں پاؤں فوری بریک پر گیا اور گاڑی چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ رُک گئی۔ دوران ڈرائیونگ میری کوشش ہوتی ہے کہ کبھی قانون کی خلاف ورزی نہ کروں۔ گاڑی کا شیشہ نیچے کیا کہ جان سکوں کس قانون کی خلاف ورزی میں مجھے رکنے کے لیے کہا گیا سارجنٹ نے کھڑکی سے تھوڑا اندر جھانک کر پوچھا کہاں جا رہے ہیں؟ جواب دیا صدر ٹریفک سارجنٹ بولا مریڑ چوک تک جانا ہے مجھے ساتھ لے چلیں میں نے کہا جی بیٹھ جائیں۔

Read more

آج کل ریاست مدینہ کے دارالحکومت میں کیا چل رہا ہے؟

گزرے روز ایک دوست کے ساتھ اسلام آباد میں واقع ایک بڑے شاپنگ مال میں جانا ہوا۔ جانے کا مقصود عید کی خریداری نہیں بلکہ ونڈو شاپنگ اور قیمتوں کی جانچ کرنا تھی کہ آیا عید کے لیے ہم کوئی کُرتا وغیرہ لینے کی استعداد بھی رکھتے ہیں کہ نہیں۔ ہم ایک دکان میں گئے تو سیلز مین نے مجھے پیچان لیا۔ مجھے نام سے مخاطب کیا تو مجھے حیرانگی ہوئی۔ حیران تو ہونا تھا اس لیے کہ کبھی میری اُس سے ملاقات نہیں ہوئی۔

مجھ سے پوچھنے لگا کہ آج کل ریاست مدینہ کے دارالحکومت میں کیا چل رہا ہے؟ میں نے کہا بھئی یہ تو وہاں کے حکمرانوں کو پتہ ہو گا۔ ریاست مدینہ تو یہاں سے ہزاروں کلو میٹر دور ہے۔ وہ ہنسا اور بولا نہیں سر ریاست مدینہ سے مراد پاکستان ہے۔

Read more

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیوں نگاہوں میں کھٹکنے لگے ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دور حاضر کا قاضی شریح ہے۔ قاضی شریح کا تعلق یمن کے مشہور قبیلے کندہ سے تھا، جس میں بڑے بڑے علما و فضلا گزرے ہیں، قاضی شریح کی زندگی کا بڑا حصہ دور جاہلیت میں گزرا لیکن جب اسلام کی روشنی خطہ عرب پر پھیلی تو آپ بھی اس کے نور سے مستفید ہوگئے۔ آپ نے سچے دل سے رب العزت اور ان کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلیم کیا اور ایمان لائے۔

حق کی روشنی دل میں کچھ اس طرح اتری کہ جلد ہی آپ کے علم و فضل، اخلاق اور صفات حمیدہ سے لوگ واقف ہوتے گئے۔ آپ پورے ساٹھ برس منصف قضاء پر فائز رہے۔

Read more

ریاست مخلص ہے تو اسے حقیقی ماں جیسا جذبہ دکھانا ہو گا

خوش کن منشور، خوب نعرے، دو نہیں ایک پاکستان، تقریروں سے سماں باندھ دیا، خوش کرنے کے لیے عوام زندہ باد ایک نہیں کہیں بار کہا، سیاسی مخالفین کے لیے کارکنوں کے دماغوں کو زہر آلود کیا، چمکتے سورج میں خواب دکھائے، احتساب سب کے لیے، لیکن یہ طے کر رکھا تھا کہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا ہے کوئی بھی حربہ اختیار کیا جائے۔

بات یہی نہیں رکی اقتدار میں آنے کے بعد ریاست مدینہ بنانے کا اعادہ بار بار کرنا، نظام بدلنے کا کہنا، قانون سب کے لیے ایک کوئی قانون سے بالاتر نہیں یہ وہ باتیں ہیں جو وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنی ہر تقریر میں کرتے ہیں۔ خوش کن یہ الفاظ بچے سے کے کر نوجوان اور جوان سے لے کر بزرگ شہری تک ہر ایک کو ازبر ہو گئے ہیں۔

Read more

غیور قبائلی غدار نہیں ہو سکتے

دانشور واصف علی واصف کا قول ہے کہ جو انسان بیس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہو سکتا، جس کے ماں باپ کی قبریں اس ملک میں ہیں وہ غدار نہیں ہو سکتا۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ”ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔ “
یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔

Read more

بھارتی چیف جسٹس کا مواخذہ اور نواز شریف

اپریل دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے ہندوستان کے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس دیپک مشرا کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک پیش کی گئی یہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی گئی۔

انہی دنوں سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں روزانہ کی بنیادوں پر پیش ہوتے تھے۔ میاں نواز شریف مقررہ وقت سے 30 منٹ قبل کمرہ عدالت میں پہنچ جایا کرتے اور رپورٹروں سے گفت و شنید کرتے، جسٹس (ر) ثاقب نثار اُس وقت اعلیٰ عدلیہ کے قاضی القضاء تھے وہ جہاں بھی جاتے خبروں کی زنیت بنتے، کبھی نفسیاتی ہسپتال لاہور اور کبھی پشاور کے ہسپتالوں کا رُخ کرتے جہاں ہر روز نئی داستانیں رقم ہوتی۔

Read more

کیا اپوزیشن تحریک چلانے اور برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

اپوزیشن نے عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک کی قیادت کون کرے گا؟ لوگ تحریک کا حصہ بن بھی گئے تو اسے قائم رکھا جا سکے گا اور کون قائم رکھے گا؟ تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لیڈروں کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ تحریک کی شروعات زبردست کرتے مگر اسے قائم نہیں رکھ سکتے کچھ لیڈران ایسے بھی گزرے جو تحریک کی شروعات تو نہیں کر سکتے تھے مگر قائم رکھنے کی صلاحیت اُن کے اندر موجود تھی، چند لیڈران کے اندر دونوں صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود تھی۔

دیوان سنگھ مفتون نے اپنی کتاب ”ناقابلِ فراموش“ میں لکھا ہے کہ محمد علی جناحؒ تحریک جاری کر سکتے تھے مگر اُس کو قائم رکھنے کی صلاحیت ان میں بہت کم تھی، گاندھی کسی تحریک کو جاری اور قائم بھی رکھ سکتے تھے، مولانا محمد علی جوہر کے اندر بھی تحریک کو جاری کرنا اور قائم رکھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی، نہرو کسی بھی تحریک کے لیے لوگوں کو گھروں سے نہیں نکال سکتے تھے لیکن اگر لوگ نکلے ہوئے ہوں تو اس کو قائم رکھ سکتے تھے۔ علامہ مشرقی کے اندر تحریک جاری کرنے کی زبردست صلاحیت موجود تھی مگر قائم رکھنے کے حوالے سے وہ بالکل صفر تھے۔

Read more

عوام میں لاوا پک رہا ہے اور حکمران بے نیاز ہیں

ڈالر کی اونچی اُڑان جاری ہے مہنگائی آ نہیں رہی آ چُکی ہے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو کیا معلوم کہ اُس گھر کا کیا حال ہے جہاں موم بتی بھی نہیں جلتی، کروڑوں اربوں کی جائیداد کے مالک وزراء کو کیا خبر لاکھوں لوگ پانی کے ساتھ روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں قمیتی اور لمبی کاروں کے مشیروں کو کیا علم کہ بے کاروں، بے روزگاروں اور فاقوں کے ماروں کے دین ایمان اور عقیدے پر روزانہ کیا قیامتیں گزرتی ہیں؟

Read more

20 مئی کو مسلم لیگ (نواز) کا اہم اجلاس آئندہ حکمت عملی طے کرے گا

(بشارت راجہ)  20مئی بروز پیر مسلم لیگ ن کی صف اول کی قیادت پارلیمنٹ کے اپوزیشن چمبیر میں ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال پر سر جوڑ کے بیٹھے گی ۔اجلاس کی سربراہی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف بھی اجلاس میں شریک ہوں گی۔ بتایا گیا ہے کہ ن لیگ پر جب بھی مشکل وقت آیا، مریم نواز دلیری کے ساتھ صف اول میں

Read more

جنرل شاہد عزیز کے ڈی ایچ اے کے بارے میں انکشافات

انگریزی کے ایک مصنف نے لکھا ہے کہ ”مجھے اُن گنہگار وں کے ساتھ ہمدردی ہے جو بے نقاب ہو گئے“ جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب ہی گناہ کرتے ہیں مگر گنہگار وہی قرار دیے جاتے ہیں جن کے گناہوں کا لوگوں کو علم ہو جائے اور وہ لوگ گناہ کرتے ہوئے بھی معصوم و بے گناہ رہتے ہیں جو بے نقاب نہیں ہوئے۔

مجھے یہ الفاظ اس لیے یاد آئے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں زمینوں پر قبضے کے حوالے سے ریمارکس دیے فاضل وکیل کا کہنا تھا کہ ایسی تاریخ نہیں کہ ان زمینوں پر قبضے کے متعلق پوچھا جائے تو عزت مآب جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ پھر تاریخ بدلتے ہیں۔

Read more

مہرے کبھی کامیاب نہیں ہوتے

ُسن سُن کر کان پک گئے ہیں کہ سیاست خدمت کا نام ہے، سیاست عبادت ہے مگر پاکستان میں اس طرح کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، مدت ہوئی ہماری سیاست طوائف کی طرح ”تماش بینوں“ میں گھری ہوئی ہے لیکن نو ماہ سے مضحکہ خیز صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے، پیغمبری مشن کا درجہ رکھنے والی سیاست رفتہ رفتہ اس موڑ پر آ گئی ہے کہ ”مسخرے“ اس میدان کے شہسوار اور نظریات سے جڑے رہنے

Read more

نواز شریف کی جیل ریلی کامیاب رہی یا ناکام؟

زیادہ عرصہ نہیں گزرا چوبیس دسمبر کی بات ہے۔ احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ ہونا تھا۔ میاں نواز شریف اپنے رفقاء کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے احتساب جج نے فیصلہ سنایا۔ وقت گزرتا ہے۔ اڈیالہ جیل کا عملہ موجود ہوتا ہے۔ اسٹننٹ کمشنر میاں نواز شریف سے پوچھتا ہے۔ چلیں سر میاں صاحب جواب دیتے ہیں۔ گاڑی آپ کے پاس موجود ہے یا نہیں؟ وقت گزرتا ہے۔ میاں نواز شریف پابند سلاسل ہو جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں کیس چلتا ہے ضمانت کا۔ اعلی عدلیہ کے منصف چھ ہفتوں کی طبی بنیادوں پر ضمانت دیتے ہیں۔ یہ بھی وقت گزر جاتا ہے، وکلاء میاں نواز شریف کی خرابی صحت کی بناء پر اعلی عدلیہ میں ضمانت کی دی گئی مدت میں توسیع کی درخواست کرتے ہیں۔ وہ مسترد ہو جاتی ہے۔

Read more

نواز شریف کو دراصل کس بات کی سزا مل رہی ہے

کہا جاتا ہے کہ مرحوم جنرل ضیاءالحق کسی وجہ سے اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام غلام قادر آف لسبیلہ سے خفا ہو گئے، اور وہ کسی بہانے جام صاحب کو اس منصب سے ہٹانا چاہتے تھے، کسی موقع پر ملاقات ہوئی تو جنرل نے جام غلام قادر سے کہا کہ ”جام صاحب آپ کے خلاف بہت سی شکایات مل رہی ہیں یا تو پھر ان کا ازالہ کیجیے یا پھر ہمیں کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا“

اس لب و لہجے سے جام غلام قادر کو اندازہ ہو گیا کہ جنرل کے کیا ارادے ہیں انھوں نے بڑی متانت لیکن گہری فتانت سے جواب دیا۔”سر بے عیب ذات ایک تو اللہ کی ہے اور ایک آپ کی، باقی رہے ہم جیسے لوگ تو بندا بشر ہیں کوئی نہ کوئی غلطی تو ہو ہی جاتی ہے۔ فرمایئے میں کس طرح ازالہ کروں تاکہ دوبارہ کوئی شکایت کا موقع پیدا نہ ہو“

Read more

علی وزیر اور محسن داوڑ محب وطن ہیں یا نہیں؟ پارلیمانی کمیٹی میں بحث

پارلمینٹ کی راہداریوں میں کمیٹی روم نمبر پانچ میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کی صدرات میں ہوا۔ میں جب اجلاس کو کور کرنے پہنچا تو دیکھا کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے۔

Read more

اس شعبے میں بھارت ہم سے بہت پیچھے ہے

دو ہم عمر اور ہم عصر ممالک پاکستان اور ہندوستان، سیاسی کلچر، جغرافیائی محل وقوع معاشی سیٹ اپ اور انتظامی ڈھانچہ ایک جیسا، تاہم ہندوستان سیاسی حوالے سے ہندوستان ہم سے کہیں آگے، ہندوستان میں کبھی مارشل لاء نہیں لگا، ہم ستر سال میں آدھی عمر آمریت کے سائے تلے گزار چکے ہیں۔ ہاں ہندوستان ایک معاملے میں ہم سے کوسوں دور ہے وہ ابھی تک "غدار سازی” کی فیکٹری نہیں بنا سکا ہم اس معاملے میں ماشاءاللہ خود کفیل

Read more

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قصور کیا ہے؟

ماضی قریب کی بات ہے کہ مملکت خداداد میں ن لیگ کی حکومت تھی۔ وزارت اعظمی کا تاج شاہد خاقان عباسی کے سر سج چکا تھا۔ قاضی القضاء نے اپنی انا کی تسکین کے لیے میاں نواز شریف کو اقتدار سے علحیدہ کر کے لیگی حکومت اتھل پتھل کر دی تھی میاں نواز شریف کا بیانیہ "ووٹ کو عزت دو ” اور "مجھے کیوں نکالا” جی ٹی روڈ سے ہوتا ہوا پنجاب کے میدانوں، سندھ کے ریگستانوں، بلوچستان کے دور

Read more

نواز شریف نے اسد عمر کے استعفے کی پیش گوئی کب کی تھی؟

6  دسمبر 2018 کی بات ہے۔ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کر رہے تھے۔ میاں نواز شریف عدالت کے روبرو پیش تھے۔ خواجہ حارث تفتیشی آفیسر پر دھمیے مزاج میں تابڑ توڑ جرح کر رہے تھے۔ سماعت میں وقفہ ہوا۔ میاں نواز شریف رجسٹرار آفس سے متصل کمرہ میں چائے پینے کے لیے گئے۔ ان کے ساتھ مسلم لیگی رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ میں برآمدے میں کھڑا تھا کہ نواز

Read more

ایک صاحب اختیار کی باتیں

ہانکا لگایا گیا۔ بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا۔ سچائی کا لاشہ بے گوروکفن پڑا ہے اور حکمران سینہ ٹھونک کر کہہ رہے ہیں کہ عوام کی طاقت سے آئے ہیں۔ سب جھوٹ ہے، دھوکہ دہی ہے۔ عوام کے حق پر ڈاکہ مارا گیا اور سچ یہ ہے کہ انتخابات صاف شفاف ہوتے تو نواز لیگ کو شکست دینا ناممکن تھا۔ نواز لیگ نہ صرف پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی قابل ذکر نشستیں لینے میں کامیاب ہو جاتی۔ گزشتہ

Read more

نواز شریف کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے

میاں نواز شریف کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ آہستہ آہستہ دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے تاریخ شاہد ہے کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹ کے جاتی ہے اور ن لیگ بھی ماضی کی سیاست کی طرف گامزن ہے انقلابی بننے کے نعرے میں وہ دم خم نہیں رہا جو جی ٹی روڈ پر مجھے کیوں نکالا کے بعد تخلیق کیا گیا تھا۔ ن لیگ جان چکی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں مقتدر قوتوں کے ساتھ ٹکر لینا آسان نہیں اور نہ سیاست ہو سکتی ہے تو دوسری طرف بھی احساس ہو گیا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی شخصیات کو سیاست سے مکمل الگ کر کے بھی نظام نہیں چلایا جا سکتا۔ موجودہ حکومت کی نا اہلی نے بھی مقتدر قوتوں کو اپنے بیانیہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

نیب کی اسیری میں موجود اہم لیگی رہنما سے پوچھا کہ غصہ ٹھنڈا کیوں نہیں ہو رہا تو ترنت جواب ملا کہ غصہ کب کا ٹھنڈا ہو چکا ہے معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں پھر میں نے اُن پر سوال داغا کہ اگر یہ سب کچھ کرنا تھا تو پھر چوہدری نثار کی کیوں نہیں مانی گئی؟ ان سے ناراضگی کیوں مول لی گئی؟ کہنے لگے کہ کسے پتہ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ درست ثابت ہو سکتے ہیں ہاں میں مانتا ہوں کہ ہم سے غلطیاں کوتاہیاں ہوئی ہیں ہمیں دوسروں کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے تھی۔

Read more

مسئلہ معیشت کا نہیں، توسیع پسندی کا ہے

ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سرمایہ کار ملک سے بھاگ رہا ہے، روپیہ تیزی سے تنزلی کی طرف جا رہا ہے، بے روزگاری کا اژدھا پھن پھیلائے کھڑا ہے، افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، بھوک سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، تاجر پریشان حال ہیں، نیب کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، بنکوں سے پیسہ تیزی سے نکل رہا ہے، ملک میں جمود کی کیفیت ہے۔ کشتی بیچ بھنور پھنسی ہوئی ہے۔

Read more

آصف زرداری کی عدالت میں پیشی کا احوال

معمول کے مطابق صبح ہائی جانے کا قصد کیا میری اقامت چونکہ راولپنڈی ہے اس لیے ہائی کورٹ اور احتساب کورٹ جاتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع میاں نواز شریف پارک کے ساتھ ڈبل روڈ والا روٹ استعمال کرتے ہوئے کشمیر ہائی وے سے ہوتا ہوا جی ایٹ کے سنگنل سے اندر کی جانب جاتے ہوئے بائیں طرف سروس روڈ جسے بیلا روڈ کہا جاتا ہے استعمال کرتا ہوں۔ جی ایٹ کے اشارے سے بائیں جانب مڑا تو گاڑیوں کی طویل قطار لگی ہوئی تھی گاڑیاں چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھیں۔

Read more

82 ارب روپے کی بدعنوانی؟ عقیل کریم ڈھیڈی کے لئے حسن کارکردگی ایوارڈ

احتساب عدالت اسلام آباد کورٹ روم نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے 22 فروری کو اوگرا کیس میں نامزد ملزم عقیل کریم ڈھیڈی کے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کئے۔ اس موقع پر ان کا غصہ عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ کرسی انصاف پر بیٹھ کر احتساب کے جج محمد بشیر نے حکم صادر کیا کہ عقیل کریم ڈھیڈی اوگرا کیس میں نامزد ملزم ہیں۔ ان پر 82 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ اگلی سماعت پر انھیں

Read more

رانا ثنا اللہ کہتے ہیں، اسٹبلشمنٹ سے لڑائی جیتنا ممکن نہیں

”جتنے لوگ پیپلزپارٹی نے باہر نکالے اس سے کئی گنا زیادہ لوگ ن لیگ نکال سکتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ن لیگ اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کے موڈ میں نہیں۔ پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے کے لوگ میاں نواز شریف کے پاس گئے تھے کہ انتخابات میں جو دھاندلی ہوئی ہے اس کے خلاف سڑکوں پر نکلا جائے میاں نواز شریف نے تحمل سے ان لوگوں کی بات سننے کے بعد انھیں جواب دیا کہ آپ بتائیں ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ہمیں کامیابی ملتی ہے ہماری بات مان کر نئے انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے ہم متحمل نہیں ہو سکتے کہ نئے انتخابات میں جائیں۔ ملک کے معاشی حالات دگرگوں ہیں۔ ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملک کو کس طرح سنبھالا دیں گے۔ “

Read more

نواز شریف کی بیماری اور عمران خان

اس کالم نگار کا تعلق لکھنے والوں اُس خاموش گروہ سے ہے جس کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں نہ کوئی مفاد وابستہ ہے، قربت شاہی چاہیے نہ محل میں حاضری کا شوق ہے۔ عالی جاہ کے ساتھ بیرونی دوروں کی خواہش ہے اور نہ سلیفیاں بنانے کا شوق، کسی مقتدر سے اپنے کسی عزیز کو کوئی فائدہ دلوانا ہے اور نہ کسی میگا پراجیکٹس کا ٹھیکہ لینا ہے، کسی سے دشمنی ہے نہ کسی سے ایسی وابستگی جو قلم کی روانی میں رکاوٹ بنے، چاپلوسی و کاسہ لیسی میرے خون میں شامل نہیں، میرا یقین مجھے پیدا کرنے والے رب پر ہے جو اُس نے لکھ دیا وہ مل کر رہے گا۔نواز شریف جب اقتدار میں تھے تو اُن کی کچھ پالیسوں کے خلاف کھل کر لکھا، بحمداللہ قلم نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا اچھے کاموں پر تحسین بھی کی۔ تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو اُن کے حق میں لکھتا رہا۔ میرا بڑا مسئلہ ہے کہ میں ہمیشہ پانی کے بہاؤ کے اُلٹ چلتا ہوں۔

Read more

کشمیر کے بارے میں تلخ سچ

پرلے روز دفتر میں اپنے سینئرز کے ساتھ سماج کے ایشوز پر ڈسکس کر رہا تھا گفت و شنید کے درمیان کشمیر کا ذکر چل پڑا میرے ایک سینئر نے ایک جملہ بولا کہ ”کشمیریوں کو لتر پریڈ کرنی چاہیے“ اس جملے سے میرے تن بدن میں آگ لگ گئی بصد احترام کے ساتھ اُن سے گویا ہوا کہ آپ بزرگ ہیں اور آپ نے الفاظ کا چناؤ درست نہیں کیا۔ وہ کہنے لگے کہ کشمیری آج تک خودکُش بمبار پیدا نہیں کر سکے، جنوبی پنجاب سے مجاہد جا کر کشمیر میں لڑتے رہے انھوں نے کشمیریوں کے لیے جانیں قربان کیں، ہمارے ہندوستان کے ساتھ تعلقات خرابی کی بنیادی وجہ کشمیر ہے۔

Read more

عمران خان امن کا پیامبر

پاک ہندوستان کی حالیہ کشیدگی میں عمران خان امن کا پیامبر بن کر سامنے آئے مقام شُکر ہے کہ انھیں کسی نے غدار نہیں کہا ورنہ یہاں جو بھی امن کی بات کرتا ہے وہ غدار کہلاتا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہوا کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فوجی و سیاسی قیادت نہ صرف ایک صفحے پر تھی بلکہ ایک لکیر پر تھی۔ ہمارا ماضی ہندوستان کے ساتھ روابط کے حوالے سے اچھا نہیں جس بھی سویلین حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کی وہ غدار کہلایا۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے کوشش کی کہ ہندوستان کے ساتھ مدبھیڑ سے بچا جائے اور اُنھیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے وہ سیکیورٹی رسک قرار پائی۔ بات یہاں ہی نہیں رکی میاں نواز شریف کی کوششوں سے واجپائی لاہور آئے۔ واجپائی نے مینار پاکستان کے سائے تلے پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے واجپائی کو سیلوٹ کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انھوں نے مذہبی جماعتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کو مقتدر حلقوں کی آشیر آباد حاصل تھی جس کی وجہ سے جماعت کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے واجپائی کی آمد سے پہلے اعلان کیا کہ پاکستان آمد پر انھیں جوتوں کا ہار ڈالا جائے گا۔

Read more

نواز شریف کی رہائی: تانگہ آ گیا کچہریوں خالی

بارہ بج کر پنتیس منٹ عدالتی اہلکار کمرہ عدالت میں آتا ہے۔ گویا اس بات کا اشارہ تھا کہ ججز کی کرسی انصاف پر آمد آمد ہے۔ کورٹ روم سے متصل کمرے سے جسٹس محسن اختر کیانی کے پیچھے جسٹس عامر فاروق آتے ہیں۔ کرسی عدل پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کمرہ عدالت لیگی کارکنان، وکلاء، سابق وزیران، سینیٹرز سے بھرا ہوا ہے، ماحول میں پن ڈراپ خاموشی چھا جاتی ہے۔ عدالتی اہلکار آواز لگاتا ہے میاں نواز شریف

Read more

ڈکٹیٹروں کے دور میں کیا کھویا کیا پایا؟

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالمجید ملک نے اپنی کتاب ”ہم بھی وہاں موجود تھے“ میں لکھا کہ ”پاکستان آرمی دنیا کی بہترین اور منظم ادارہ ہے بدقسمتی سے اسے ماضی سے کچھ ایسی عادتیں پڑی ہوئی ہیں کہ اس نے اپنے آپ کو ایک قسم کی سپر پاور سمجھنا شروع کیا ہوا ہے“ ۔

میرے خیال میں انھوں نے درست بات کی ہے وقت میسر ہو تو آپ تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑ کر مطالعہ کریں تو سب کچھ آپ پر عیاں ہو گا کہ فوجی ڈکٹیٹروں کے دور میں ہم نے پایا کچھ بھی نہیں بلکہ بہت کچھ کھویا۔

Read more

نواز شریف کیس: نیب میڈیکل گراونڈ پر بات کرے، عدالت

راولپنڈی اسلام آباد یا ملک میں کون سا اچھا ہسپتال ہے جہاں علاج ہو سکے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کل آپ کو کون سی بیماری ہو گی؟ آپ میڈیکل گراؤنڈ پر بات کریں۔ یہ جملے میرے نہیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی کے ہیں جنھوں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کیس میں دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سے پوچھے۔

Read more

محمد بن سلمان اور عمران خان میں مماثلت

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد آمد ہے۔ ان کے استقبال کے لیے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویٰ دار وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے سئینر وزراء کے ساتھ بنفس نفیس خود ائرپورٹ پر استقبال کریں گے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ ولی عہد بننے سے قبل شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ جدید سعودیہ

Read more

جنرل (ر) شاہد عزیز کے نیب کے بارے میں انکشافات

نیب کے شکنجے میں پھنسے شہباز کو پرواز کی رہائی ملنے پر مجھے رتی بھر تعجب نہیں ہوا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ انھیں رہائی مل جائے گی۔ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جسے مقتدر قوتیں سیاست دانوں کا کان مروڑنے اور انھیں اوقات میں رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

جنرل شاہد عزیز دو ہزار پانچ میں نیب کے چیئرمین بنائے گئے۔ اپنے نام کے ساتھ (ریٹائرڈ ) کا لاحقہ لگنے کے بعد انھوں نے ایک ”یہ خاموشی کہاں تک“ نامی ایک کتاب لکھ ماری۔ کتاب میں وہ رقمطراز ہیں کہ مقتدر قوتیں اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے نیب کو کس طرح استعمال کرتی ہیں۔

All cases against Benazir Butto stand closed, tell Shahid to find ways and closing it۔

جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز یہ پیغام لے کر میرے پاس آئے اور پوچھا کہ اب اس کا کیا کیا جائے؟ وہ لکھتے ہیں کہ نیب میں میرے آنے کے بعد دو ڈپٹی چیئرمین لگا دیے گئے۔ میجر جنرل محمد صدیق اور حسن وسیم افضل۔ حاضر سروس جنرل کو مجھ پر چیک رکھنے کے لیے لگایا گیا اور حسن وسیم افضل کو بی بی کے خلاف اوپن کیے گئے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے۔

Read more

عدالت عالیہ سے: نواز شریف کو طبی بنیاد پر ضمانت ملے گی یا نہیں؟

”اگلی سماعت پر جیل ڈاکٹر کمرہ عدالت میں موجود ہوں ان سے جو معلومات لینی ہوں وہ فوری مل جاہیں یہ غیر معمولی کیس ہے اس کیس کو غیر ضروری التواء میں نہیں رکھنا چاہتے“ یہ الفاظ تھے جسٹس عامر فاروق کے جو طبی بنیادوں پر میاں نواز شریف ضمانت کیس کی سماعت کر رہے تھے۔

کمرہ عدالت میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پون ایک بجے آتے ہیں۔ چھ پکاروں کے بعد پکارا جاتا ہے میاں نواز شریف بنام سرکار، میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ روسٹرم پر جاتے ہیں۔ عدالت استفسار کرتی ہے کہ آپ پہلی سزا معطلی کی درخواست واپس لینے پر عدالت کو مطمئن کریں خواجہ حارث دلائل دیتے ہیں کہ درخواست واپس لینا درخواست گزار کا حق ہے نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ درخواست واپسی کی مخالفت میں دلائل دیتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق ریمارکس دیتے ہیں کہ اپ کے یہ دلائل دوسری درخواست کی صحت پر اثر کریں گے، ان کا اس درخواست سے کوئی تعلق نہیں۔ عدالت دلائل سننے کے بعد درخواست واپسی کی خواجہ حارث کی استدعا منظور کر لیتی ہے۔

Read more

عزت نہ رہے تو دولت، شہرت اور اقتدار کس کام کے

دیوان دیا رام گدو مل حیدر آباد (سندھ) کے ایک معزز خاندان میں سے تھے۔ آپ ممبئی پراونشل سول سروس جج تھے۔ ان کا زیادہ عرصہ سندھ اور ممبئی کے اضلاع میں بطور سیشن جج گزرا۔ ان کی تنخواہ ہزار روپے سے زیادہ تھی۔ آپ کا ذاتی خرچ چالیس پچاس روپے سے زیادہ نہ تھا۔ اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ غریبوں، محتاجوں کی خدمت میں صرف کرتے۔ چنانچہ سندھ میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے والدین، مزدور، قلی، برتن صاف کرنے والے، گھروں کے ملازم ادنیٰ قسم کے لوگ تھے۔ مگر دیوان دیا رام کے روپیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بہت بڑے اعلیٰ عہدوں پر پہنچے۔

دیوان دیا رام گدو مل ملک کے بہتر بڑے سوشل ریفارمرز بھی تھے۔ سندھ میں ان کی عزت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ حیدر آباد میں جب لوگوں کو علم ہوتا کہ آپ اس بازار سے گزریں گے تو لوگ وقت سے پہلے انتظار میں کھڑے ہوجاتے۔ ان کی راہ میں پھول برساتے تھے۔

Read more

وزیراعظم اب جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں

جسٹس قاضی فائز عیسی کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے۔ جو کھل کر آئین اور قانون کی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فیصلوں کا معیار پسند و ناپسند نہیں بلکہ آئین اور قانون ہے۔ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیتے ہوئے انھوں نے نقابوں میں چھپے کرداروں کو بے نقاب کیا اور ان کے خلاف آہینی اور قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

دسمبر دو ہزار سترہ کی بات ہے جنرل باجوہ پارلیمان کو سیکیورٹی معاملات پر بریفینگ دینے کے لیے ایوان بالا جاتے ہیں۔ پارلیمنٹرین ایوان میں اپنے تحفظات و خدشات کا تقاریر کے ذریعے کرتے ہیں۔

Read more

اسلام آباد کا موسم اور نواز شریف کی درخواست ضمانت

اسلام آباد میں رات کے پچھلے پہر سے ابر خوب برس رہا ہے۔ سردی میں شدت نہ ہونے کی وجہ سے موسم خوشگوار ہے۔ شاید اسی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کو کہا کہ اگلی سماعت پر آپ نہ آئیں۔ آپ کی ضرورت نہیں اور ساتھ ہی ریمارکس دیئے کہ آنا چاہیں تو بے

Read more

مجھے منظور پشتین پر اعتبار کیسے آیا؟

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے بارے میں میرے خیالات اچھے نہیں تھے. گزرے روز اس کی کسی تقریر کا ایک کلپ کسی دوست نے بھیجا، سنا تو پندرہ برس قبل کا ایک منظر میری آنکھوں کے سامنے آ گیا . انسان میں تجسس کا مادہ پایا جاتا ہے اگر کوئی چیز اس کے دماغ میں کلک کر جائے تو اُس کے ذہن میں کیوں، کیسے، کہاں اور کب جیسے  سوالات سر اُٹھاتے ہیں۔ پھر وہ ان کے

Read more

وہ لڑکا جسے گھر میں پالی مرغیوں اور ان کے انڈوں نے تعلیم دلوائی

عمران خان نے انڈے مرغی کی بات کی تو اس کا مذاق اُڑایا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر بتایا کہ کس طرح گائے کا دودھ زیادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جسے ہم فروخت کر کے اپنا معیار زندگی بلند کر سکتے ہیں۔ ایک بار پھر انھیں سینگوں پر رکھ لیا گیا۔ پاکستانی معاشرہ بھی عجیب ہے۔ یہاں جو لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے اور انھیں غربت سے نکالنے کی کوشش کرے اس کے اقدام کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جو غریبوں کا خون چوس کے آپنے اکاونٹ بھرے اس کی توصیف کی جاتی ہے۔

پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد دیہاتوں میں رہائش پزیر ہے اور آبادی کا یہی حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ مرغی اور انڈوں کی افادیت پوچھنی ہو تو گاؤں کے کسی مکین سے پوچھا جائے۔ یہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے۔ اسی پر ان کی گزر بسر ہوتی ہے۔

Read more

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کا امکان

جنوری کے آخری ہفتہ اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ اسلام آباد میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ آج اسلام آباد کا موسم صاف تھا نیلگوں آسمان پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ دھوپ کی تمازت کی وجہ سے درجہ سردی میں کچھ کمی ہوئی۔

بارہ بجے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر دو رکنی مشتمل بینچ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت کی سماعت کرنا تھی۔ پونے بارہ بجے میں عدالت جا پہنچا۔ عدالت کے داخلی دروازے پر ناروال سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے سئنیر رہنما سابق وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال سے ملاقات ہو گئی مصافحہ کرنے کے بعد پوچھا واپس جا رہے ہیں۔ بولے دس منٹ بعد واپس آ رہا ہوں۔

Read more

بلیک لسٹ کی بنیاد کوئی قانون نہیں بلکہ روایت ہے، ڈی جی پاسپورٹ

ہفتہ قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کو کور کرنے گیا ایجینڈے میں ٹاپ پر لوگوں کا نام بلیک لسٹ میں کس قانون کے تحت ڈالا جاتا ہے۔ کمیٹی نے ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر رکھا تھا۔

انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیری مزاری کو بھی کمیٹی نے طلب کر رکھا تھا۔ ڈی جی پاسپورٹ عشرت علی نے کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مینوئل پاسپورٹ 1957 ء میں بننا شروع ہوئے۔ چوہتر میں پاسپورٹ ایکٹ آ گیا لوگوں کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنا کسی قانونی پراسیس کا حصہ نہیں اور نہ ہی ملک میں کوئی ایسا قانون موجود ہے کہ اسے فالو کیا جائے۔ ایک روایت چلی آ رہی ہے۔ جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔

Read more

جمہوریت کے منہ میں دہی کب جمتا ہے؟

"میری زندگی میں آپ کو قناعت اور درویشی نظر آئے گی۔ میرے والدین کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں کی بارش کی اور اعلیٰ مناسب عطا کیے۔ مجھے اپنی صلاحتیوں سے زیادہ اس کی نگاہ کرم پر کامل بھروسہ ہے۔ ہر مشکل وقت میں اس نے دستگیری کی اور ہر آزمائش میں سرخرو کیا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میرے گزشتہ چار پانچ ماہ کس عذاب میں گزرے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ

Read more

جج انصاف سے ہٹے تو اس کا چہرہ چغلی کھاتا ہے

کسی دانشور کا قول پڑھا تھا کہ تعلیم کی حفاظت مطالعہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے اس سرمائے کی حفاظت کے لیے کتب بینی میرا محبوب مشغلہ ہے۔ یہ چسکا جسے پڑ جائے تو پھر مشکل سے چھوٹتا ہے۔ کتب بینی میرا محبوب مشغلہ ہے۔ فجر کی نماز کے بعد الطاف حسن قریشی کی کتاب ”ملاقاتیں کیا کیا“ کی ورق گردانی کر رہا تھا ایک جگہ نظریں رک گئی ”سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس کارنیلیس دوران انٹرویو قریشی کو بتا رہے تھے پاکستانی عدلیہ کبھی گراوٹ کا شکار نہیں ہو گی اس کی بڑی وجہ یہ ہے۔ کہ جج کے لیے جادہ حق سے ہٹنا حد درجہ مشکل ہے۔ دراصل مخالف وکلاء اپنے دلائل اور واقعات کے تجزیے سے صورت حال اس قدر واضح کر دیتے ہیں کہ جج کے لیے انصاف سے گریز ممکن نہیں رہتا جب جج عدالت کی کرسی پر بیٹھتا ہے۔ تو اس میں یہ احساس پوری شدت سے بیدار اور تازہ ہوتا ہے۔ کہ اس کا منصب بہت نازک ہے۔ اور اس کا فریضہ اس قانون کا تحفظ ہے۔ جو انسان کا تعلق خدا سے جوڑتا ہے۔ یہی احساس اس کو منصف مزاج بنائے رکھتا ہے۔ اگر کوئی جج انصاف سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا چہرہ اس کے ارادے کی چغلی کھاتا ہے“

Read more

تبدیلی آئی رے

تبدیلی کا ہر کوئی ثمر سمیٹ رہا ہے خواص سے لے کر عوام تک، جس کے پاس بھی جائیں، وہ تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ دوکاندار ہو یا حجام، موٹر مکینک ہو یا راج گیر، ٹیلر ماسٹر ہو یا جوتے مرمت کرنے والا، ایک ہی لفظ ان کہ منہ سے ادا ہوتا ہے اور وہ لفظ ہے، تبدیلی ۔ اگلے روز جوتے پالش کروانے کے لیے موچی کے پاس گیا۔ جوتے پالش ہو گئے تو جیب سے بیس روپے نکال

Read more

نواز شریف نے اپیل کر دی

میاں محمد نواز شریف نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے سزاکے فیصلہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے دائراپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی، 131 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کا مقدمہ ثابت کیا ہے، نواز شریف العزیزیہ اور ہل میٹل کے اصل مالک ثابت ہوئے جبکہ وہ اثاثوں کے لیے جائز ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کے ساتھ اڑھائی کروڑ ڈالر جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی۔ ہل میٹل جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا جبکہ نواز شریف 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لئے نا اہل بھی قرار پائے، احتساب عدالت کا مذکورہ فیصلہ غلط فہمی اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے، دستیاب شواہد کو درست انداز میں نہیں پڑھاگیا، ملزم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو احتساب عدالت نے سنے بغیر فیصلہ سنایا استدعاہے کہ احتساب عدالت کے مذکورہ فیصلہ کو کالعدم قراردیاجائے اور نواز شریف کی سزاکو بریت میں تبدیل کیا جائے۔

Read more

نواز شریف کی جرنیلوں سے کبھی کیوں نہیں بنی؟

فیصلہ آنے کے بعد آدھا گھنٹہ گزرتا ہے میاں نواز شریف اپنے مصاحبین کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے خوشگوار موڈ میں گپ شپ کر رہے ہیں۔ ایک گھنٹہ گزرتا ہے عدالتی اہلکار کھسر پھسر کرتے ہیں۔

ڈیڑھ گھنٹہ گزرتا ہے نیب کے افسر کمرہ عدالت میں آتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو ورانٹ گرفتاری دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں ”میاں صاحب چلیں“ میاں نواز شریف جواب دیتے ہیں۔
”جی چلیں گاڑی اپ کے پاس ہے اگر نہیں ہے تو ہماری گاڑی میں چلتے ہیں۔“ اعصاب بحال چہرے پر ملال نہیں اُٹھ کر ساتھ چل پڑتے ہیں۔

اسی ملک کی ایک عدالت سابق سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس میں گرفتاری کا حکم دیتی ہے اور فرد جرم عائد کرنا چاہتی ہے۔ گرفتاری کے خوف سے سابق ڈکٹیٹر کی ٹانگیں کانپ اُٹھتی ہیں۔ سابق ڈکٹیٹر گاڑیوں کے جلو میں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس سے نکلتا ہے اور عدالت حاضر ہونے کی بجائے سیدھا راولپنڈی ”سی ایم ایچ“ پہنچ جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر دل کے مرض میں مبتلا ہے وہی کمانڈو جو مُکے لہرایا کرتا تھا کہ میں بہادر کمانڈو ہوں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں عدالتوں کا سامنا بہادری سے کروں گا پھر ایسا باہر گیا کہ واپس نہ آیا۔

Read more

بظاہر نواز شریف کے خلاف فیصلے کی تیاری ہے

ملٹری کورٹس میں جو فیصلے ہوتے ہیں ان کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ سزا و جزا کے عمل سے قوم بے خبر ہوتی ہے۔ قوم یہ بھی نہیں جانتی ہوتی کہ ملزم کا جو ٹرائل ہو رہا ہوتا ہے اس میں ملزم کو صفائی کا کتنا موقع دیا جاتا ہے۔

احتساب کورٹ اسلام آباد چوبیس دسمبر کو ایک اہم فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ اس کیس میں ملزم پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف ہیں۔ احتساب کورٹ اسلام کے جج ارشد ملک نے اس کیس کو سنا۔ یہ ریفرنس احتساب کورٹ روم نمبر ایک کے جج محمد بشیر کے پاس تھا۔

محمد بشیر نے ایون فلیڈ ریفرنس میں میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی تو وکیل صفائی خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی کہ اس ریفرنس کو کورٹ روم نمبر دو میں منتقل کیا جائے۔

Read more

نواز شریف کو جج صاحب پر پورا بھروسا ہے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے

فیض احمد فیض کا یہ شعر میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران پڑھا۔ فلیگ شپ ریفرنس کی آخری سماعت تھی، میاں نواز شریف ساڑھے نو بجے اپنے سیاسی رفقاء کے ساتھ کمرہ عدالت میں پہنچے۔ سماعت شروع ہونے سے قبل جج کے عین اوپر لگا بجلی کا بلب دھڑام سے نیچے گرا کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص اس آواز پر چونکا۔ مجھے یہاں قدرت اللہ شہاب کی بات یاد آ گئی انھوں نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ جب جنرل یحییٰ نے اقتداد سنبھالا تو تقریب حلف برداری کے لیے جو شامیانے اور قناتیں لگائی گئی تھی عین حلف کے موقع پر آندھی کی وجہ سے اکھڑ گئیں۔ وہ لکھتے ہیں یہ قدرت کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ یہ شخص ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں۔ یہاں روشنی کا بلب گرا جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اندھیرا، اللہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو۔

Read more

کیا عدالت میں یہ جمعہ بھی نواز شریف پر بھاری ہو گا؟

اسلام آباد میں مری سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی بدولت رگوں میں خون منجمد کر دینے والی سردی پڑ رہی ہے۔ اب کی بار جاڑے کا موسم معمول سے زیادہ سرد ہے۔ اس سرد موسم میں احتساب عدالت میں پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے خلاف ایک اہم ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے۔ کیس حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ جمعہ تک فیصلہ آنے کا امکان ہے۔

”میں ٹی وی بالکل نہیں دیکھتا اور نہ مجھے کوئی شوق ہے۔ میرا کام انصاف پر مبنی فیصلے کرنا ہے۔ اللہ کو جواب دینا ہے۔ میرے گھر میں مہمان آئے ہم کھانا کھا رہے ٹی وی بند تھا میرے ماموں کو ٹی وی دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ کافی دیر گزر گئی ٹی وی آن نہ ہوا تو ماموں گویا ہوئے آپ ٹی وی نہیں دیکھتے؟ میرا جواب نفی میں تھا کہنے لگے ٹاک شوز دیکھا کریں کیسوں کے متعلق تو آدھی بحث تو ٹاک شوز میں ہو جاتی ہے۔ ماموں جان میں اسی لیے ٹی وی نہیں دیکھتا۔“ یہ الفاظ تھے احتساب جج ارشد ملک کے جو انہوں نے دوران سماعت سنائے۔

Read more

نواز شریف کے وکیل اور فیصل آباد کا گھنٹہ گھر

گزشتہ روز سے ملک کے طول و عرض میں رات گئے تک خوب ابر برسا۔ ابر برسنے اور مری میں برف باری کی وجہ سے اسلام آباد یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں ہے۔ سرد موسم میں ملک کا سیاسی درجہ حرارت گرم ہے۔ وزیراعظم ہاوس سے نکل کر لاہور کی جانب موٹروے پر رخت سفر باندھا جائے تو کشمیر ہائی وے سے گزرنا پڑتا ہے۔ پشاور موڑ سے تھوڑا آگے گزر کے دوسرا اشارہ جی الیون کی جانب جاتا ہے جی الیون ون میں ایک سیاہی مائل عمارت ہے جسے احتساب عدالت کا نام دیا جاتا ہے۔

اس عدالت میں اس وقت ملک کے تین سابق وزراءاعظم جن میں نواز شریف۔ یوسف رضاگیلانی اور راجہ پرویز اشرف کیس بھگتنے کے لیے آتے ہیں۔ شنید ہے کہ اس ٹیم میں ایک اور سابق وزیراعظم شاید خاقان کی صورت میں اضافہ ہونے والا ہے ان کے گرد بھی نیب نے شکنجہ کسا ہوا ہے۔ مشرف دور کے وزیراعظم شوکت عزیز کا کیس بھی یہاں چل رہا ہے اور عدالت نے انھیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس سے آگے بات بڑھی نہیں۔

Read more

پاکستان کھاد کا کارخانہ نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے: نواز شریف

میاں نواز شریف نے گفتگو میں تھوڑا توقف کیا تو میں نے سوال کر دیا کہ ”قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے کیا کہیں۔ گے اور کیا ن لیگ تیار ہے؟ “

ان کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم کے منہ سے یہ جملہ سن کر پاکستانی عوام نے سجدہ شکر ادا کیا کہ جلد ان سے جان چھوٹ رہی ہے۔ اپنی سیاسی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا کہ تین ماہ میں کوئی حکومت انتخابات کا کہہ رہی ہے۔ ن لیگ تو انتخابات میں جانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ہم نے تو ضمنی انتخابات میں بھی اعلیٰ کارکردگی دکھائی ہے۔ “

Read more

نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی پر قہقہوں کی گونج

میاں نواز شریف دو روز عدالتی استثنیٰ کے بعد آج احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس میں اپنے بیانات قلمبند کروانے کے لیے نو بج کر پچیس منٹ پر اپنے سیاسی رفیقوں کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پہنچے۔ میاں نواز شریف نے کریم کلر سوٹ کے اوپر براؤن کلر کی ویسٹ کوٹ زیب تن کر رکھی تھی گلے میں اٹالین مفلر بھی تھا۔ میاں نواز شریف کی طرف سے یو ایس بی میں جوابات عدالت کو دہیے گئے۔ جج ارشد ملک نے میاں نواز شریف سے پوچھا کہ میاں صاحب آپ نے بچوں سے پوچھ لیتے کہ وہ کیا کاروبار کر رہے ہیں؟ میاں نواز شریف نے جواب دیا کہ بچے جوان ہیں ان پر پریشر ڈالنا اچھی بات نہیں تھی۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کے بچے آ کر عدالت پیش ہو جاتے تو معاملات ہی ختم ہو جاتے صرف حسین نواز ہی آ جاتے اس پر میاں نواز شریف خاموش رہے۔

Read more

حکمران بھاگ دوڑ کر تو رہے ہیں

اتفاق سے ایک بندر جنگل کا بادشاہ بن گیا جنگل کے تمام جانور دن رات اس کی خدمت پر مامور رہتے تازہ پھلوں سے بادشاہ سلامت کی سیوا کی جاتی، کئی جانور تو بادشاہ سلامت کی مالش پر مامور تھے، بادشاہ سلامت زیادہ دیر سوئے رہتے ترنگ میں آتے تو درختوں کی ٹہنیوں پر لٹکنا شروع کر دیتے اقتدار ملنے کے بعد بادشاہ سلامت ابھی تک کسی آزمائش میں نہیں پڑے تھے۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک روز بادشاہ سلامت دھوپ سینک رہے تھے کہ ہانپتی کانپتی خرگوشنی دربار میں پیش ہوئی بادشاہ نے رعب سے پوچھا بتایا جائے کیوں حاضری دی؟ خرگوشنی روتے ہوئے مدعا بیان کیا کہ حضور سلامت رہیں میرے خاوند یعنی خرگوش کو قریبی جنگل کا بھیڑیا اُٹھا کر لے گیا

Read more

نواز شریف نے دیسی ککڑ اور کٹوں کے بارے میں موقف دینے کا اعلان کر دیا

”پیسہ ملک میں آ رہا ہے یہ تو اچھی بات ہے، جب ہمارا کوئی شہری روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جاتا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں پیسے بھیجو پیسے بھیجو“ یہ الفاظ میاں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سننے والے فاضل جج نے اس وقت کہے جب نیب پراسیکوٹر واثق ملک اپنے دلائل عدالت میں بیان کر رہے تھے۔ میاں نواز شریف اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے بولے یہ تو اعزاز کی بات ہے۔ فاضل جج نے ایک موقع پر نیب پراسیکوٹر کو جھاڑ پلا دی کہ بیٹی کو پیسے دینا جرم نہیں اگر اللہ توفیق دے تو جتنا ممکن ہو زیادہ دینے چاہیے۔

العزیزیہ ریفرنس کی سماعت صبح ساڑھے نو بجے شروع ہوئی میاں نواز شریف اپنے رفقاء کے ساتھ نو بج کر بیس منٹ پر کمرہ عدالت میں آئے۔ طویل عرصے بعد ان کے چہرے پر شادمانی دیکھی۔ آج وہ پرجوش لگ رہے تھے۔ کمرہ عدالت میں اپنے وکلاء سے کہنے لگے کہ ”میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنے کیس میں خود دلائل دوں، پیشاں بھگت بھگت کر قانون دی مینوں وی تھوڑی تھوڑی سمجھ آ گئی (پیشیاں بھگت بھگت کر مجھے بھی قانون کی تھوڑی تھوڑی سمجھ آ گئی ہے ) ۔ “

Read more

عمران خان کو سو دن اور دے دیں: نواز شریف

”عمران حکومت کے سو دن پورے ہو گئے کیا کہیں گے؟ “۔ ”سو دن اور دے دیں“ یہ الفاظ مملکت خداد داد پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کے ہیں جو انھوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہے۔

Read more

نواز شریف عدالت میں: ایک انڈسٹری بھٹو نے دوسری شیخ مجیب نے قومیائی

ریفرنس کی سماعت ہفتے میں پانچ دن روزانہ کی بنیادوں پر ساڑھے نو بجے ہوتی ہے میاں نواز شریف ہفتے کو ہفتے کے پانچ دن احتساب عدالت میں اپنی حاضری یقینی بنانا ہوتی ہے ان کا کہنا ہوتا ہے کہ لاہور سے پیشی پر میں اس وقت اسلام آباد کی طرف رخت سفر باندھتا ہوں جب لاہور شہر سویا ہوتا ہے فجر کی نماز راستے میں ادا کرتا ہوں۔

آج میاں نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں اپنا بیان قلمبند کروایا انھوں نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انیس سو سنتیس سے ہمارا خاندان کاروبار کر رہا ہے میں نے اپنے آپ کو چالیس سال کاروبار سے علیحدہ کر رکھا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں اتنا بے رحم احتساب شاید کسی کا نہ ہوا ہو تین نسلوں کا یہ احتساب کر چکے ہیں مگر ایک پائی بھی کرپشن کی ثابت نہیں کر سکے الحمدللہ میں مطمئن ہوں کہ میرے ہاتھ صاف شفاف ہیں جناب جج صاحب مجھے اللہ کے بعد اس عدالت پر پورا بھروسا ہے کہ مجھے انصاف ملے گا اپ اجازت دیں تو ایک دو واقعات آپ سے شئر کروں جج صاحب نے کہا ضرور کریں۔

Read more

نواز شریف بتاتے ہیں کہ وہ خاموش کیوں ہیں

”سپیدہ سحر پھوٹ رہا ہوتا ہے جب میں لاہور سے اسلام آباد پیشی کے لیے رخت سفر باندھ رہا ہوتا ہوں“ یہ الفاظ میاں نواز شریف نے گزشتہ روز احتساب عدالت میں اپنے مصاحبوں کو بتا رہے تھے۔ میاں نواز شریف بیانات قلمبند کروانے کے دوران ایک موقع پر جذباتی ہو گئے۔ وہ سیدھا فاضل جج سے مخاطب ہوئے اور کہا ”مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیس بنایا کیوں گیا؟ استغاثہ کو بھی معلوم نہیں ہو گا کہ کیس کیوں بنایا؟ دنیا بھر کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ میرے بچوں نے اگر مجھے پیسے بھیج دیے تو کون سا عجوبہ ہو گیا؟ میں وزیراعظم رہا ہوں میرے بچے یہاں کاروبار کریں تب مصیبت، باہر کریں تب مصیبت۔“

بحیثیت کورٹ رپورٹر مجھے بھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ ان ریفرنسز کی آخر بننا کیا ہے؟ بیانات قلمبند کروانے کے بعد جب وہ واپس اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ عموماً سماعت میں بیس منٹ کا وقفہ ہوتا ہے مگر آج معمول سے ہٹ کر وقفہ طوالت پکڑ گیا۔ ایک گھنٹے سے اوپر کا وقت جب ہو چلا تو میں نے ڈان اور پبلک نیوز کے رپورٹر ہرمیت سنگھ سے کہا چلتے ہیں اور میاں صاحب سے گپ کرتے ہیں۔

Read more