ابن صفی کا ناول اور مولوی صاحب سے مجادلہ

میں نے جس ماحول میں شعور کی آنکھ کھولی اس میں کتاب کا حصول بہت مشکل کام تھا۔ اس لیے پسند کے بجائے جو میسر آ جائے اس پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ کتابوں کی کمی سے میرے اندر ایک ہی کتاب کو بار بار پڑھنے کی عادت پیدا ہوئی۔ میٹرک میں پہنچنے تک گھر…

Read more

عقل کا چراغ ضروری ہے

علامہ اقبال کا ایک شعر بہت لہک لہک کر پڑھا جاتا ہے: گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چراغ گل کر دیا جائے تو اندھیرے میں راستہ کیسے طے ہو گا؟ جا بجا ٹھوکریں لگیں گی۔ من کی روشنی…

Read more

میرے اساتذہ ۔۔۔۔ کوئی ایسا بھگت سدائے

میں ایک دیہاتی سکول کا طالب علم تھا۔ ہائی سکول تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر دوسرے گاوں میں تھا۔ اس زمانے میں تھوڑے سے طالب علم آٹھویں جماعت کا بورڈ کا امتحان دیا کرتے تھے جسے وظیفے کا کہا جاتا تھا۔ وہ امتحان میں نے بھی دیا تھا لیکن وظیفے کی رقم کا بوجھ…

Read more

محمد کاظم اور ابن خلدون

ستر کی دہائی میں عزیز دوست باصر سلطان کاظمی کی بدولت احمد ندیم قاسمی صاحب کا مجلہ فنون باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا رہا کیونکہ فنون باصر کے گھر آتا تھا۔ اس میں محمد کاظم صاحب میرے بہت مرغوب مصنف تھے۔ ان کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں تھا۔ تحریروں سے بس اتنا…

Read more

اردو تاریخ نگاری میں جذبات کی آمیزش

ایک دن شعبہ فلسفہ میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم تشریف لائے۔ وہ مجھ سے مدد کے خواہاں تھے۔ انھوں نے اپنا تحریر کردہ خاکہ دکھایا جس کا سرآغاز کچھ یوں تھا: مغرب کی حیا باختہ، اخلاق سوز تہذیب۔ ان سے عرض کیا یہ پی ایچ ڈی کے مقالے کی زبان…

Read more

کیا تاریخ جھوٹ کا پلندہ ہے؟

ان دنوں دانش وران ملت تاریخ پر بہت برہم ہیں بالخصوص مغربی مورخین پر کہ انھوں نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اب تاریخ کو درست کرنے یا نئی تاریخ رقم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ایک مشہور سفر نامہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار نے اپنے کالم میں بیان…

Read more

کیلنڈر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

پاکستان کے مذہبی علما، جدید تعلیم یافتہ افراد اور عوام جس جوش و خروش سے قمری تقویم کی حمایت اور جس شد ومد سے شمسی تقویم کی مخالفت کرتے ہیں اس پر مجھے ایک بار اپنے طلبہ سے کہنا پڑا تھا کہ ایسے لگتا ہے جیسے چاند اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور سورج شیطان…

Read more

ہمارے تصور انصاف سے عبرت خارج کرنے کی ضرورت ہے

بچپن میں جو کہانیاں سنا کرتے تھے ان میں ایک عادل بادشاہ کا بہت ذکر ہوتا تھا۔ اس بادشاہ کو عادل اس لیےکہا جاتا تھا کہ اس کے دور میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے اور اس کی رعایا بہت امن چین سے زندگی بسر کرتی تھی۔ جرائم نہ ہونے کا سبب یہ تھا…

Read more

مدراس میں ملازمت، ادنیٰ اہل کاروں کی خباثت اور انگریز افسروں کی دیانت

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا…

Read more

مولوی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں

میرا زندگی کا تجربہ یہی ہے کہ مولوی یا افسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ ان سے ڈرنے سے انکار کر دیں تو یہ آپ کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج ہم سب میں حاشر ابن ارشاد کا کالم پڑھ کر مجھے بھی…

Read more