بڑودہ میں سیلاب، ریلوے کی تعمیر نو اور بھگت کبیر کا جزیرہ

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“

Read more

تاریخ: حقیقت یا افسانہ؟

سکول کے زمانے میں نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم پڑھا۔ اسی زمانے میں مولانا غلام رسول مہر کی کتاب تاریخ اسلام ہاتھ لگی تو اسے بھی پڑھنا شروع کیا۔ محمد بن قاسم کے حالات پڑھتے ہوئے اس بات کا افسوس ہوا کہ مولانا مہر نے محمد بن قاسم کے اس دوست کا کوئی ذکر نہیں کیا جس نے نسیم حجازی کے بیان کے مطابق اس کی جان بچانے کی خاطر بڑی تگ و دو کی تھی۔ میں نے

Read more

کیا سچ کی کوئی حقیقت ہے؟

نطشے نے اپنے خارا شگاف انداز میں کہا تھا کہ پورے عہد نامہ جدید میں صرف ایک جملہ ہے جو فلسفیانہ اہمیت کا حامل ہے۔ اور وہ جملہ اس رومی گورنر کی زبان سے ادا ہوا تھا جس کے سامنے جناب مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔ دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد اس کے پوچھا تھا سچ کیا ہے؟ فلسفے میں اس کو اس رومی گورنر کے نام پر پیلاطوس کا سوال

Read more

ذات کی تلاش

اس عالم خاک و باد میں جب سے آنکھ  کھولی، جادہ حیات کے کچھ مرحلے طے ہو چکے ہیں۔ ان مرحلوں میں مسرتوں کے چہچہے ہیں تو غموں کے لہریے بھی۔ یافت کی لذتیں ہیں تو نایافت کی اذیتیں بھی۔ وصال کی حکایتیں ہیں تو فراق کی شکایتیں بھی۔ غرض روح و جسم پر بیتے ہوئے جاں گسل مرحلوں اور دل نواز لمحوں کی بہت سی کہانیاں ہیں۔ کشمکش حیات میں جس چیز کی سب سے زیادہ تلاش رہی ہے

Read more

استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار

مجھے جولائی 2010 میں ترکی کے سفر کا موقع میسر آیا۔ انقرہ، قونیہ، ازمیر سے ہوتا ہوا،20 جولائی کو استنبول پہنچا۔21 جولائی کو میرا حضرت ابوایوب انصاری کے مزار پر جانے کا پروگرام تھا۔ میرا ہوٹل سلطان احمت (احمد) ایریا میں تھا۔ ہوٹل والے سے میں نے مزار پر جانے کا راستہ اور ذریعہ دریافت کیا۔ اس نے نقشے پر ایک ایسی جگہ پر نشان لگایا جو یورپی استنبول کے شمال مغرب میں شاخ زریں (گولڈن ہارن) کے دہانے سے

Read more

تقسیم ہند کے فسادات کیوں ہوئے؟

میں نے جس گاؤں میں شعور کی آنکھ کھولی وہ مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجروں کا گاؤں تھا۔ آبادی کے بڑے حصے کا تعلق ضلع جالندھر سے تھا، دیگر دو بڑے گروپوں کا تعلق گورداسپور اور امرتسر کے اضلاع سے تھا۔ چند گھرانوں کا تعلق ہوشیارپور، لدھیانہ اور فیروزپور سے بھی تھا۔ ہجرت کو اجاڑا کہا جاتا تھا اور یہ جملہ بہت سننے میں آتا تھا: جدوں اجاڑا پیا سی (جب گھر اجڑے)۔ دیس اور وطن کو لوگ بہت

Read more

کشمیر تنازع سے جڑی کچھ یادیں

بہت ابتدائی بچپن سے مسئلہ کشمیر کے متعلق سنتا چلا آ رہا ہوں۔ کس طرح قبائلی لشکر کےسرینگر پہنچنے میں تاخیر ہونے پر کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ میں ساتویں میں پڑھتا تھا جب بھارت اور چائنا کے مابین سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ بعد میں قدرت اللہ شہاب سے لے کر بہت سے دانش وران ملت کو یہ کہتے سنا کہ ایوب خان کی بزدلی نے کس طرح کشمیر پر قبضہ کرنے کا یہ سنہری موقع ضائع کر دیا۔

Read more

ابن صفی کا ناول اور مولوی صاحب سے مجادلہ

میں نے جس ماحول میں شعور کی آنکھ کھولی اس میں کتاب کا حصول بہت مشکل کام تھا۔ اس لیے پسند کے بجائے جو میسر آ جائے اس پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ کتابوں کی کمی سے میرے اندر ایک ہی کتاب کو بار بار پڑھنے کی عادت پیدا ہوئی۔ میٹرک میں پہنچنے تک گھر میں اتنی کتابیں جمع ہو چکی تھیں جن سے لکڑی کا ایک صندوق بھر چکا تھا۔ میں شاید نویں جماعت کا طالب علم تھا جب

Read more

عقل کا چراغ ضروری ہے

علامہ اقبال کا ایک شعر بہت لہک لہک کر پڑھا جاتا ہے: گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چراغ گل کر دیا جائے تو اندھیرے میں راستہ کیسے طے ہو گا؟ جا بجا ٹھوکریں لگیں گی۔ من کی روشنی باہر اجالا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اندھیرے میں ہم سانپ کو رسی سمجھ کر پکڑ سکتے ہیں۔ اگر چراغ کی روشنی ساتھ ہو گی

Read more

میرے اساتذہ ۔۔۔۔ کوئی ایسا بھگت سدائے

میں ایک دیہاتی سکول کا طالب علم تھا۔ ہائی سکول تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر دوسرے گاوں میں تھا۔ اس زمانے میں تھوڑے سے طالب علم آٹھویں جماعت کا بورڈ کا امتحان دیا کرتے تھے جسے وظیفے کا کہا جاتا تھا۔ وہ امتحان میں نے بھی دیا تھا لیکن وظیفے کی رقم کا بوجھ کبھی حکومت پر نہیں ڈالا۔ امتحان کا ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا لیکن ہم نے نوویں جماعت میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ میٹرک کی

Read more

محمد کاظم اور ابن خلدون

ستر کی دہائی میں عزیز دوست باصر سلطان کاظمی کی بدولت احمد ندیم قاسمی صاحب کا مجلہ فنون باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا رہا کیونکہ فنون باصر کے گھر آتا تھا۔ اس میں محمد کاظم صاحب میرے بہت مرغوب مصنف تھے۔ ان کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں تھا۔ تحریروں سے بس اتنا تعارف ہوا کہ عربی زبان پر بہت عمدہ دسترس رکھتے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وہی محمد کاظم السباق ہیں جنھوں نے مولانا

Read more

کیا تاریخ جھوٹ کا پلندہ ہے؟

ان دنوں دانش وران ملت تاریخ پر بہت برہم ہیں بالخصوص مغربی مورخین پر کہ انھوں نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اب تاریخ کو درست کرنے یا نئی تاریخ رقم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ایک مشہور سفر نامہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار نے اپنے کالم میں بیان کیا ہے کہ تاریخ ایک بے ہودہ چیز ہے کیونکہ یہ عام طور پر زور آوروں اور صاحبان اقتدار کی گود میں بیٹھ کر لکھی

Read more

کیلنڈر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

پاکستان کے مذہبی علما، جدید تعلیم یافتہ افراد اور عوام جس جوش و خروش سے قمری تقویم کی حمایت اور جس شد ومد سے شمسی تقویم کی مخالفت کرتے ہیں اس پر مجھے ایک بار اپنے طلبہ سے کہنا پڑا تھا کہ ایسے لگتا ہے جیسے چاند اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور سورج شیطان کا کارنامہ ہے۔ چنانچہ جب رمضان کی آمد قریب آتی ہے تو ہم شمسی اور قمری تقویم کے مسائل پر گتھم گتھا ہونا شروع ہو

Read more

ہمارے تصور انصاف سے عبرت خارج کرنے کی ضرورت ہے

بچپن میں جو کہانیاں سنا کرتے تھے ان میں ایک عادل بادشاہ کا بہت ذکر ہوتا تھا۔ اس بادشاہ کو عادل اس لیےکہا جاتا تھا کہ اس کے دور میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے اور اس کی رعایا بہت امن چین سے زندگی بسر کرتی تھی۔ جرائم نہ ہونے کا سبب یہ تھا کہ وہ بادشاہ مجرموں کو بہت بھیانک سزا دیتا تھا۔ اس کی پسندیدہ سزا یہ تھی کہ مجرم کو نصف دھڑ تک زمین میں گاڑ

Read more

مدراس میں ملازمت، ادنیٰ اہل کاروں کی خباثت اور انگریز افسروں کی دیانت

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی

Read more

نفرت کے کاروبار کو روکنا ہو گا

اگرچہ میرا بچپن تقسیم ہند کے موقع پر ہونے والے فسادات اور قتل و غارت کی داستانیں سننے میں بسر ہوا لیکن پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اپنے جسم و جاں پر اذیتیں جھیلنے والوں کے دل نفرت سے پاک تھے۔ لوگ ان فسادات کو معمول کی زندگی سے ایک انحراف سمجھتے ہوئے آگے بڑھ چکے تھے۔ یہ صرف میرے گاوں کی یا میرے تاثر کی بات نہیں۔ اس کا بڑا ثبوت پچاس کی دہائی

Read more

سلیم احمد کی کتاب ’اقبال ایک شاعر‘ : ایک تنقیدی مطالعہ

سنہ 1981 ء کی بات ہے۔ ہم تین دوستوں (جاوید احمد غامدی، ابوشعیب صفدر علی مرحوم اور خاکسار) نے اپنے محترم بزرگ دوست اور مربی ڈاکٹر فرخ ملک مرحوم کی مالی اعانت سے ایک دو ماہی جریدے الاعلام کا آغاز کیا۔ اس کے دوسرے شمارے (جنوری 1982 ) میں راقم نے ممتاز نقاد اور شاعر جناب سلیم احمد کی کتاب ”اقبال: ایک شاعر“ پر تنقیدی تبصرہ شائع کیا تھا۔ زمانہ طالب علمی کے بعد یہ میری اولین تحریر تھی۔ میرے

Read more

بنگلہ دیش نامنظور: حوالات میں گزرے دنوں کی یاد

سن 1973 فروری کا مہینہ تھا۔ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ سارا شہر اھلاً و سھلاً مرحبا کے بینروں سے سجا ہوا تھا۔ 21 فروری کو میں نے یارعزیز جاوید احمد (غامدی) صاحب کے ہمراہ باصر کاظمی کے گھر پر ٹی وی پر سربراہان کے ایرپورٹ پر استقبال کے مناظر دیکھے۔ اگلے روز جمعہ کے دن صبح کے وقت اسلامی سربراہی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس اسمبلی ہال میں منعقد ہوا۔ اس کے بعد تمام مہمان بادشاہی

Read more

تدریسی زندگی کے چالیس برس مکمل ہونے پر

قبلہ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ آدمی اگر ایک دفعہ پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔ اس قول سدید کے بعد پروفیسری کے چالیس برس مکمل ہونے پر کسی قسم کا فخر کرنا تو بنتا نہیں۔ رہ گئی سمجھ داری کی بات تو وہ نہ ہم نے پروفیسر بننے سے پہلے کبھی کی اور نہ بعد میں۔ 7 فروری 1979 کو

Read more

پیروں تلے جلتی دھرتی

سنہ 1980 کی بات ہے، پنجاب یونیورسٹی میں تدریس کا آغاز کیے ابھی سال ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا کہ ایک دن شعبہ فلسفہ کے سابق سربراہ کا، پروفیسر خواجہ غلام صادق، مجھے فون آیا۔ خواجہ صاحب اس وقت لاہور انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیرمین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ خواجہ صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر محمد افضل صاحب، جو ان دنوں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چئیرمین تھے، تشریف لا رہے ہیں اور

Read more

میں نے انجینئرنگ کیسے سیکھی؟

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

فلسفہ غیر ضروری ہے

1975  کی بات ہے۔ الفلاح میں پاکستان نیشنل سنٹر میں چائلڈ سائکالوجی پر ایک سیمینار تھا جس کی صدارت اس وقت کے وفاقی سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر محمد اجمل صاحب فرما رہے تھے۔ ہم کچھ دوست بھی ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے وہاں جا حاضر ہوئے۔ اپنے خطبہ صدارت میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ وہ نفسیات کی افادیت کے متعلق شک میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ وجہ یہ بتائی کہ ایک امریکی وفد چین کے دورے پر گیا تو انھوں

Read more

بڑودہ میں ملازمت اور مولانا شوکت علی کی آمد

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے

Read more

گاؤں اور بچپن کی کچھ یادیں

   پنجاب میں جدید طرز کے گاؤں ہیں جنھیں چک کہا جاتا ہے اور اس کی جمع چکوک بنائی جاتی ہے۔ یہ گاؤں ایک باقاعدہ نقشے کے تحت بنے ہوئے ہیں، کھلی اور کشادہ گلیوں اور راستوں کے ساتھ۔ انگریزوں کے زمانے میں جب دریاؤں سے نہریں نکال کر بار کے علاقوں کی زمینوں کو آباد کیا گیا تواس وقت یہ چک بسائے گئے تھے اس لیے ان میں پرانی تہذیبی اور ثقافتی روایات کی کوئی گہری جڑیں نہیں تھیں۔

Read more

آج ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے

(ناصر کاظمی کے یوم پیدائش پر مشفقی ڈاکٹر ساجد علی کی خصوصی تحریر) میں نے جس گھرانے میں شعور کی آنکھ کھولی وہاں اقبال، اکبر الہ آبادی اور حالی کے اشعار سننے کو ملے۔  جب نویں جماعت میں پہنچا تو اردو کے نصاب میں میر تقی میر، میر درد اور مرزا غالب کی تین تین غزلیں شامل تھیں؛ چودہ پندرہ برس کی عمر میں جب میر صاحب کی یہ غزل پڑھی : فقیرانہ آئے صدا کر چلے، تو ایک عجیب

Read more

تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ: اقبال کا ایک تاریخ ساز فکری کارنامہ (اقبال میموریل لیکچر)

  پرائمری سکول کے زمانے سے اقبال کی شاعری کا مطالعہ شروع کیا تھا اور بحیثیت شاعر وہ مجھے آج بھی پسند ہے۔ اس کے باوجود کبھی کبھی میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش اقبال شاعر نہ ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہماری شاعرانہ روایت بہت رفیع الشان ہے، اس کے برعکس ہماری فکری بالخصوص فلسفیانہ روایت بہت ضعیف بلکہ خوار و زبوں ہے۔ فکری سوالات اٹھانا، ان پر تفکر کی صلاحیت رکھنا اور

Read more

80 برس قبل جالندھر کا انگریز ڈپٹی کمشنر، وفادار تحصیل دار اور محکوم رعایا

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے

Read more

کربلائے معلیٰ کی زیارت اور ایران میں محرم

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

ڈاکٹر جاوید اقبال: دلِ ناصبور

ایک شخص اس دنیا میں طویل عمر بسر کرتا ہے۔ اس دوران میں وہ اعلیٰ ترین تعلیمی اسناد حاصل کرتا ہے، تحریر و تصنیف میں نام پیدا کرتا ہے، ہائی کورٹ کا جج بنتا ہے، چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا جج بننے کا اعزاز حاصل کرتا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد سینٹ کا رکن بھی رہتا ہے،دنیا بھر میں لیکچر دیتا ہے۔ آسودہ اور کامیاب و کامران زندگی گزارنے کے بعد91 برس کی عمر میں

Read more

تحریک خلافت،  ترک بغاوت، مسلم جذبات اور گاندھی جی

علامہ اقبال نے بال جبریل میں جرمن سے ماخوذ شیر اور خچر کا ایک مکالمہ نظم کیا ہے: شیر: ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟ خچر: میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو یہ شعر یاد آنے کا سبب برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کا عجیب و غریب طرز عمل ہے۔ ہم خواہ کتنی ہی تکلیف میں کیوں

Read more

ایرانی پولیس، سیلونی ڈاکٹر کی بیوی اور ہندو کی شوخ چشمی

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام” سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے

Read more

رضا شاہ پہلوی  ایران کا بادشاہ کیسے بنا؟

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

شاہ قاچار، وزیر جنگ اور رضا خان: محلاتی سازشیں اور بدقسمت ایرانی قوم

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

کچھ ذکر ایران کا: چالاک سرکار انگلشیہ، دھوکے باز رضا پہلوی اور عربوں کی ذلت

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

صوبہ بہار کی دیدہ دلیر میم صاحبہ اور آسام کا اینگلو انڈین جوڑا

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی

Read more

حریت انسان کی پہچان ہے

جب انسانی شعور نے آنکھ وا کی تو اس نے اپنے آپ کو فطرت کی بے رحم طاقتوں کے سامنے بے بس محسوس کیا۔ انسانی فکر کی معلوم تاریخ دس ہزار برس سے کم ہے۔ اس تمام عرصے میں جس فکر کو غلبہ حاصل رہا وہ جبر کا فلسفہ ہے۔ دیومالائی قصوں سے لے کر جدید سائنس تک غالب رجحان اسی طرف ہے کہ انسان کی زندگی میں جو کچھ اسے درپیش آتا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہوتا

Read more

ایک صدی پہلے برما ریلوے میں ملازمت اور رنگون کی عورتیں

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی

Read more

ایک صدی قبل اجمیر شریف کی زیارت کا سبق آموز احوال (مع نادر تصاویر)

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی

Read more

پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت اور شعبہ فلسفہ

یکم جنوری 1979ء کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ دو تین برس تو خیریت سے گزر گئے۔ لیکن اس کے بعد جمعیت کے ساتھ معاملات کچھ الجھنا شروع ہو گئے۔ 1983 کا سال تھا جب ان کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا۔ ہر تدریسی شعبے میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرنے اور جانے والوں کے اعزاز میں پارٹیاں منعقد کرنے کا رواج ہے۔ اسی زمانے میں پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت نے

Read more

1937ء کا الیکشن اور دیہاتی سیاسی شعور

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی

Read more

احمدیت: برداشت سے عدم برداشت تک

مسلم تاریخ و ثقافت میں ایک پرانا مسئلہ نبوت کے دعوے داروں کا ہے تاہم نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ہونے والے واقعات کے علاوہ عموماً اسے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا گیا۔ اس وقت بھی یہ مسئلہ مذہبی سے زیادہ سیاسی تھا، یعنی اسے مسلمانوں کی نئی نئی قائم ہونے والی حکومت کے خلاف بغاوت شمار کیا گیا اور اسی طرح اس کے ساتھ نمٹا گیا۔ بعد ازاں عباسی دور کی تاریخ میں ہمیں بہت سے مدعیان

Read more

عقل سے دشمنی….  جہل عیار ہے

گزشتہ صدی کی اسی کی دہائی کی بات ہے جب پہلی دفعہ یہ خبر آئی کہ ایڈز نام کا کوئی نیا مرض دریافت ہوا ہے۔ اس وقت ہمارے میڈیکل ڈاکٹروں کو بھی اس مرض کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں مگر اگلے دن کے اخبار میں ایک حکیم صاحب کا بیان چھپا ہوا تھا کہ ان کے پاس اس مرض کا علاج موجود ہے۔ یہاں کونسا حکیم ہے جو دل،سرطان ، شوگر، ہیپا ٹائٹس کا علاج کرنے کا دعوی

Read more

محمود غزنوی اور سومنات: حقیقت یا افسانہ

فیس بک پر ایک عزیز نے مشہور بھارتی مورخ رومیلا تھاپر کے حوالے سے ایک پوسٹ لگائی ہے جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ محمود غزنوی کے ہاتھوں سومنات کی تباہی کی داستان انگریزوں کی گھڑی ہوئی ہے۔ اس قصے کا مقصد مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین تفرقہ پیدا کرنا تھا۔ پوسٹ میں رومیلا تھاپر کے خیالات کو جس طرح بیان کیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ان کا اصل موقف کیا ہے۔

Read more

رومیلا تھاپر، سومنات اور محمود غزنوی

موجوہ بھارت کے مورخین میں رومیلا تھاپر ایک بہت محترم اور معتبر نام ہے۔ وہ جواہر لال یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطا ہیں۔ وہ قدیم ہندوستان کی تاریخ پر متعدد کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کو بین الاقوامی پذیرائی ملی ہے۔ وہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں تدریس و تحقیق کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی ایک بہت مشہور کتاب Penguin History of Early India ہے جو اولاً ساٹھ کی دہائی میں چھپی تھی مگر2002 ءمیں

Read more