ان چار ملزموں نے جب عابدہ کو دن دھاڑے اغوا کیا اور پھر راولپنڈی شہر میں ہی کسی جگہ اس کا گینگ ریپ کیا تو اس وقت انہوں نے اپنے اس کارنامے کی کچھ ویڈیوز اور فوٹوز بھی بنائے تھے۔ ان کا مقصد شاید یہ ہو گا کہ آئندہ اس لڑکی کا ریپ کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور صرف اسے اس کے فوٹوز دکھا کر ہی کام چلا لیا جائے۔ ان فوٹوز میں صرف عابدہ ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی موجود تھے۔ وہ عابدہ کے مقابلے میں بہت طاقتور تھے اور صاف ظاہر ہے کہ ملزمان کو اپنی طاقت پر بے پناہ گھمنڈ تھا اسی لیے وہ بلا جھجھک اپنے اتنے گھناؤنے جرم کا ثبوت فوٹوز کی شکل میں ریکارڈ کرتے رہے۔ انہیں اپنی طاقت کا گھمنڈ تو تھا لیکن دوسری جانب ایک غریب اور مظلوم لڑکی کے ڈٹ جانے کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا۔
عابدہ نے مقدمہ درج کروا دیا اور بتایا کہ ملزمان نے فوٹوز بھی بنائے ہیں۔ پولیس نے کمال ہوشیاری سے ملزمان سے وہ فوٹوز برآمد کر لیے۔ کہتے ہیں کہ وہ فوٹوز ایک اعلی پولیس افسر نے دیکھے تو اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ ان ظالموں کو ان کے جرم کی سزا ضرور دلواؤں گا۔ وہ فوٹوز بھی مقدمے کی فائل کا حصہ بنے۔ بھلا ہو اس پولیس افسر کا جسے کوئی رشوت یا سفارش زیر نہ کر سکی اور کیس اپنی صحیح شکل میں عدالت تک پہنچ گیا۔ عابدہ کی خوش قسمتی جاری رہی۔ کیس ایسے نیک سیشن جج صاحب کے پاس لگا جو اپنی تنخواہ میں گزارا کرنے میں مشہور تھے۔ ان سے انصاف کی امید تھی۔ کوئی دو سال مقدمہ چلا۔
Read more