اگر آپ سیکس مخالف نہیں تو ریپ مخالف کیوں

جنسی فعل کی آزادی، ریپ، جنسی ہراسانی، اور بچوں کا جنسی استحصال یہ سب الگ الگ اور ایک دوسرے سے بہت مختلف چیزیں ہیں لیکن ہم پاکستانیوں کی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ یہ ساری گڈمڈ ہو گئی ہیں۔

فیس بک کو سکرول کرتے ہوئے کسی خاتون کی ایک پوسٹ نظر سے گزری جو مفتی صاحب کی تازہ تازہ لیک شدہ ویڈیو کے متعلق تھی۔ اسی پوسٹ کے کمنٹس میں خاتون نے کسی صاحب کے تبصرے کے جواب میں کہا کہ وہ تو جنسی فعل کی آزادی کی قائل ہیں اور اس پر قانونی قدغن کو ناجائز سمجھتی ہیں۔ اس کے جواب میں ان صاحب نے کہا ”اگر آپ سیکس کو برا ہی نہیں سمجھتی ہیں تو پھر ریپ کے خلاف کیوں ہیں“ ۔ ان صاحب کے اس کمنٹ سے سمجھ آتی ہے کہ ہم عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں کہاں کھڑے ہیں۔ یعنی ریپ اور سیکس میں فرق ہی نہیں پہچانتے۔

Read more

ملالہ کے خلاف پراپیگنڈا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے

ملالہ پندرہ سال کی بچی تھی اور وہ سکول سے واپس آ رہی تھی کہ ایک بندوق بردار دہشتگرد نے راستے میں اس کی گاڑی روکی اور شناخت کے بعد ملالہ پر کئی گولیاں چلائیں۔ ملالہ شدید زخمی حالت میں تھی۔ اس کے بچ جانے کی امید بہت کم تھی۔ طالبان نے بچی پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس وقت بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملالہ کے خلاف تھی اور سازشیں ڈھونڈ رہی تھی۔ اور اب تو ملالہ نمبر ون فیشن میگزین کے کور پر ہے تو اس وقت وہ لوگ اپنی جہالت بگھارنے سے کیسے باز رہ سکتے ہیں۔

Read more

حامد میر کی بے باک تقریر اور اس کے موضوعات

اسد طور کے گھر پر گھس کر اس پر شدید تشدد کرنے کے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ ان مظاہروں میں صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بنیادی انسانی حقوق کا احساس رکھنے والے پاکستانی شہریوں نے شرکت کی۔ موڈ سے واضح تھا کہ احتجاج میں شامل لوگوں کی اکثریت اپنے غم اور غصے کو چھپا نہیں پا رہی تھی۔ احتجاج میں شامل کئی لوگوں نے تقاریر کیں۔ حامد میر صاحب نے بھی ایک پر جوش اور

Read more

بیٹی کے خلاف بلیک میلنگ میں والد کا کردار

لڑکی نے انتہائی سہمی ہوئی آواز میں کونسلر کو بتایا کہ وہ اپنے ایک سیکنڈ کزن کے ساتھ دو تین دفعہ اکیلے میں ملی ہے اور ایک دفعہ چند گھنٹوں کے لیے گھر سے باہر بھی اس کے ساتھ گئی تھی۔ وہ کزن اس کو اچھا لگتا تھا اور اس سے پیار کا دعوی بھی کرتا تھا۔ ملاقات کے دوران اس کزن نے اپنے فون سے کچھ عام سے فوٹو بھی بنا لیے تھے۔ لڑکی کو گھر میں اپنا الگ موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اسی کزن نے اسے ایک چھوٹا سا فون بھی لے دیا جو اس نے گھر والوں سے چھپا کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور اس کے ذریعے وہ آپس میں بات بھی کر لیتے تھے۔ لڑکی کی عمر بائیس تئیس برس ہو گی اور وہ کزن اس سے چھ سال بڑا تھا۔

Read more

ہوائی جہاز میں بوس و کنار اور نازیبا حرکات

ہماری تو اتنی عمر ہو گئی پاکستان میں کسی کو ”بوس و کنار“ کرتے نہیں دیکھا لیکن پولیس کو ایسے کیس آئے دن مل جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ لوگ جونہی پولیس کو دیکھتے ہیں تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے اور ”بوس و کنار“ میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک جاری رکھتے ہیں جب تک کہ پولیس انہیں پکڑ نہ لے۔ عجب تاثیر ہے پولیس کی موجودگی کی۔

بوس و کنار اور نازیبا حرکات اس قوم کا پسندیدہ موضوع ہیں۔ اس پر انگریز نے قانون بنا کر اسے قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا تھا جس کا اصل فائدہ پاک و ہند میں صرف پولیس کو ہی ہوا۔ انگریزوں کے اپنے ہاں تو اب یہ جرائم کی لسٹ سے نکل چکا ہے لیکن ہم نے اسے پکڑا ہوا ہے اور ساری جنتا مل کر اس کا اطلاق کرتی ہے۔

Read more

اپنے بچے مغربی یونیورسٹیوں میں اور غریبوں کے بچے جہاد میں

جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب لیاقت بلوچ صاحب کے بیٹے نے کینیڈین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور لیاقت بلوچ صاحب نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ردعمل میں لوگوں نے کہا کہ وہ غریبوں کے بچوں کو ورغلا کر جہاد پر بھیجتے ہیں اور اپنے بچوں کو مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم دلاتے ہیں۔

دوہرے معیار کی ایک اور مثال یہ بھی تھی کہ جماعت اسلامی کی لیڈرشپ ایک طرف تو مغربی تہذیب کو گھٹیا اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار سمجھتی ہے لیکن دوسری جانب اپنی اولاد کو وہیں تعلیم کے لیے بھیجتی ہے۔

Read more

مائی ڈیئر ایمبیسیڈرز شرم سے ڈوب مرو

سب سے پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایمبیسی کیا ہوتی ہے، اس کا کام کیا ہوتا اور ایمبیسیڈر کون ہوتا ہے اور اس سے نیچے کا سٹاف کیا ہوتا ہے اور ایک صاف ٹائلٹ کا امپریشن کتنا اچھا ہوتا ہے۔ غریب لوگوں کا تو آپ کو پتا ہی نہیں۔ اور میں آپ کو بتا دوں کہ میں بہت دفعہ باہر کے ملکوں میں گیا ہوں۔ کیونکہ مجھے تو ویزے کا کوئی پرابلم ہی نہیں ہوتا تھا۔ میں کوئی عام آدمی تو تھا نہیں، میں کرکٹ کھیلتا تھا تو ویزے تو فوراً لگ جاتے تھے۔ ظاہر ہے یہ بڑی اہم بات تھی کیونکہ پاکستانیوں کو ویزے تو کوئی دیتا نہیں تھا اور پھر یورپ کا ویزہ، وہ تو بھول ہی جاؤ۔

اور ہاں میں جب وزیراعظم بنا تو میرا سب سے اہم کام یہ تھا کہ ساری دنیا میں پھیلی پاکستانی ایمبیسیوں کو دیکھوں لیکن بدقسمتی سے ہم اس ڈومیسٹک چکر میں پڑ گئے۔ کام کا تو خیر ہمیں علم تھا نہ تجربہ۔ اور میرے سارے لوگ جو پہلے کہتے تھے کہ انہیں سارا کام آتا ہے وہ تو بعد میں پتا چلا کہ ہم نے ٹکٹ ہی غلط لوگوں کو دے دیے ہیں اور کام کا کسی کو بھی پتا نہیں۔ ہاں تو میں ہو گیا بہت بزی ڈومیسٹک فرنٹ پر اور جو سب سے اہم کام سوچا ہوا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایمبیسی میں سہولت دلانی تھی وہ تو بھول گیا۔ پھر ہمارے پورٹل پر شکایات آنا شروع ہو گئیں۔ کوئی ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اس بات کو تو میں نے سوچا آج آپ لوگوں کو اپنی تقریر سے نواز دوں۔

Read more

پاکستانی مذہبی اقلیتوں سے بھی آگے

پاکستانی مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے چند دن قبل شائع ہونے والے آرٹیکل ہمیں اپنی اقلیتوں کی قوت برداشت پر فخر ہے پر ایک قاری نے کچھ یوں تبصرہ کیا۔ ”سلیم ملک بھول گئے کہ پاکستان میں اقلیتوں سے بھی زیادہ مظلوم ایک ایسا گروہ ہے جو کسی گنتی میں ہی نہیں آتا۔ پاکستان کا یہ وفادار گروہ جماعت احمدیہ کے نام سے تمام دنیا میں اپنی امن پسندی اور رفاہی کاموں کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے جسے

Read more

بے چاری ملنڈا گیٹس کا گھر ٹوٹ گیا

ہائے بے چاری ملنڈا گیٹس کا گھر کتنی آسانی سے ٹوٹ گیا۔ اس کے ظالم شوہر بل گیٹس نے صرف ایک ٹویٹ کی اور ستائیس سال کی شادی ختم۔

ایسا نہیں ہوا۔ یہ ٹویٹ غصے میں نہیں لکھا گیا۔ یہ طلاق طلاق طلاق والا معاملہ نہیں۔ یہ فیصلہ انہوں نے بہت سوچ بچار اور بحث مباحثہ کے بعد کیا ہو گا۔ اور طلاق ابھی بھی ہوئی نہیں۔ ابھی صرف یہ فیصلہ ہوا ہے کہ وہ مزید اکٹھے نہیں رہنا چاہتے اور شادی کے رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دھیان سے دیکھا جائے یہ پرامن طلاق کا فیصلہ مغربی معاشرے میں پائی جانے والی کچھ اہم خوبیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

Read more

ہمیں اپنی اقلیتوں کی قوت برداشت پر فخر ہے

ہمارے بہت احسانات ہیں ہماری اقلیتوں پر۔ ہم تو بڑے دل کے لوگ ہیں جتاتے نہیں ہے لیکن ہمارے احسانات بہرحال سامتے آ ہی جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم انہیں کہتے ہی اقلیتیں ہیں تاکہ ان کا ایک الگ سٹیٹس قائم رہے۔ ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ انہیں گلے میں ایک گولڈن کلر کا سٹار بھی ڈالنے کا کہہ دیا جائے۔ لیکن چلو ابھی تک یہ نہیں ہو سکا۔ ہو سکتا ہے کہ ٹی ایل پی کچھ اور کوشش کرے تو حکومت اور سیاسی پارٹیاں تو ان سے زیادہ سرگرم ہونے کی دعوے دار پہلے بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔ اور عوام تو ہے ہی ٹی ایل پی کے ساتھ۔

Read more

سب سے پہلے مجھے کوئی بتائے کہ حکومت کیا ہوتی ہے

سب سے پہلے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کورونا کیا ہوتا ہے۔ یہ میڈیکل سائنس کو چھوڑیں کیونکہ رحونیت کے بغیر سائنس کچھ بھی نہیں ہے اور رحونیت کو ہم اپنی سوہاوہ والی یونیورسٹی سے سپر سائنس بنا کر سامنے لائیں گے تو مغرب حیران ہو جائے گا۔ مجھے پتا ہے، ان کی حیرانی کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اور جتنا حیران انہیں میں نے کیا ہے اتنا انہیں کسی نے بھی نہیں کیا تھا۔ میرے بیانات سن کر تو وہ جمائما پر بھی حیران ہونے ہی لگے تھے کہ جمائما نے ٹویٹ کرنے شروع کر دیے۔

کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ وہ ٹویٹ میری سمجھ بوجھ کے متعلق ہیں لیکن میں نے گھبرانا نہیں ہے۔ مودی اب تھوڑا سا گھبرا گیا ہے حالانکہ سائنس کے متعلق ہم دونوں کے نظریات ایک جیسے ہی ہیں۔

اور ڈاکٹروں کا کیا ہے انہیں تو ویسے بھی بیماریوں کے متعلق کچھ پتا نہیں ہوتا۔

Read more

عورتوں کے حقوق کی تحریک اور مذہبی لوگوں کی پریشانی

چند دن قبل ”ہم سب“ پر میرا ایک پرانا آرٹیکل ”سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد“ دوبارہ شائع ہوا تو اس پر ایک صاحب نے تبصرہ کیا جو ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے:

”کافی عرصہ پہلے ٹی وی پروگرام میں نعیم بخاری صاحب کی گفتگو سنی تھی کہ پاکستان میں مخلوط تعلیم عام ہونی چاہیے۔ ہمارے جو لڑکے گرلز کالجز کے باہر خجل ہو رہے ہوتے ہیں وہ اطمینان سے لڑکیوں سے بات کر لیا کریں اور ان کو اس طرح سڑکوں پر خجل بھی نہ ہونا پڑے۔

Read more

سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد

پچھلے برس میں اپنی فیملی کے ساتھ سڈنی ساحل سمندر، باؤنڈی بیچ، گیا۔ یہ نہایت خوبصورت اور صاف ستھری جگہ ہے۔ آسٹریلیا میں آج کل سردیوں کا موسم ہے اور بیچ کی اصلی رونقیں تو گرمیوں میں ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی دن کو اگر آسمان صاف ہو جو کہ یہاں اکثر ہی ہوتا ہے تو سردی کا احساس کم ہو جاتا ہے اور لوگ اپنا ضروری سامان اٹھاتے ہیں اور بیچ کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ سمندر میں

Read more

بھٹو صاحب، نواز شریف اور گورباچوف کی سیاست

جب پاکستان بنا تو بھٹو صاحب کی عمر انیس برس تھی۔ اس کے دس برس بعد یعنی 1957 میں بھٹو صاحب کا نام سیاست میں سامنے آنا شروع ہوا۔ جب تک 1958 میں بھٹو صاحب کو پہلی وزارت کی آفر ہوئی تو پاکستان کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کے سات وزرائے اعظم اپنی مدت پوری کیے بغیر نوکری سے نکالے جا چکے تھے اور آٹھویں کو بھی آئین سمیت نکالنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ پاک فوج کے

Read more

ماڈرن ارینج میرج

ابھی تک ہمارے ہاں شادی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اس بات سے بھی آگاہی نہیں ہے کہ اصل چیز تو ایک محبت بھرا رشتہ ہے، جو کہ قدرتی ہوتا ہے اور اس کی قدر کرنا چاہیے۔ ارینج میرج کے رواج کی وجہ سے محبت اور نکاح دونوں کا ایک جگہ مل جانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

Read more

ارینج میرج میں صرف فرائض ہی پورے ہوتے ہیں

اس کی عمر کوئی پچپن سال کے لگ بھگ ہو گی۔ تیس سال احتیاط سے نوکری کی۔ نوکری اچھی تھی، گھر کی مالی حالت مسلسل بہتر ہوتی رہی۔ گھر کا خرچ پورا کیا اور بچت بھی جاری رکھی۔ جوانی میں شادی ہو گئی۔ بیوی دور کی رشتہ دار بھی تھی۔ شادی گھر والوں نے ارینج کی تھی جو اس نے خوشی سے قبول کی۔ اس کے علاوہ کسی اور ارینجمنٹ سے وہ واقف بھی نہ تھا۔ وہ سال میں ایک

Read more

میرا جسم میری مرضی کا مطلب کیا ہے؟

آپ جیتے جاگتے زندہ انسان پیدا ہوئے لیکن آپ کے گھر والے آپ کی پیدائش پر دکھی ہوئے اور روئے۔ کیوں؟ اس لیے کہ آپ لڑکا نہیں تھے۔ ایک عورت نے نو مہینے تکلیف برداشت کی۔ اپنی زندگی کا رسک لیا اور نئی زندگی تخلیق کی۔ اس کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا کیونکہ جو زندگی اس نے تخلیق کی وہ لڑکا نہیں تھی۔ آپ کہیں گے کہ لڑکی جب پیدا ہوئی تو وہ اتنی چھوٹی سی اور معصوم

Read more

مقدس رفیق، ابونائل اور مغرب زدہ عورتوں کی پارٹیاں

ابونائل تو عورتوں کے حقوق کے قائل نکلے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگر ہماری عورتوں کو بھی تعلیم ملے اور صحت کا خیال رکھا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جیسے ہم اپنے موٹرسائیکل یا کار کی صحت کا بھی تو خیال رکھتے ہیں۔ وقت پر اسے ورکشاپ لے کر جاتے ہیں۔ کیونکہ ہم اگر اسے اچھی کنڈیشن میں رکھیں گے تو کار ہماری بہتر خدمت کر پائے گی۔ اور اپنی کار کی خوراک یعنی اس میں پٹرول ڈالنا تو اور بھی لازمی ہے، اس کے بغیر تو وہ ہمارے مقاصد پورے ہی نہیں کر پائے گی۔ اور ہماری جو پراپرٹی ہماری خدمت نہ کر پائے اس کا کیا فائدہ۔

Read more

کپتان صاحب کی پیش گوئیاں

اپنی پیش گوئی پر ان کے اعتماد کی حد یہ ہے کہ خاتون کے ساتھ نکاح پہلے پڑھا لیتے ہیں اور شادی کا پروپوزل بعد میں بھیجتے ہیں۔ ان کی پیش گوئی کے عین مطابق پروپوزل قبول بھی ہو جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ وہ عین اس جگہ کرتے ہیں جہاں طلاق ہونے ہی والی ہوتی ہے اور پھر ان کے کہے کے مطابق طلاق ہو بھی جاتی ہے۔ یہ پروسیس وہ اپنی پیش گوئی کے بھروسے پر ریورس

Read more

عربی سیکھنے سے ہم سب نیک ہو جائیں گے

بھلا ہو ہمارے سینٹرز کا جنہیں اچانک یہ احساس ہو گیا ہے کہ وہ نیک لوگ نہیں ہیں۔ ہر روز ان سے بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں اور وہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر پیدل چلتے ہوئے بہت ساری دکانوں اور مارکیٹوں کے سامنے سے گزرتے ہیں اور ان مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والوں کے کردار کے بارے میں یقین سے کچھ بھی کہا نہیں

Read more

وزیراعظم عمران خان کی فون پر عوام سے گفتگو

جناب وزیراعظم صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ اور آپ کی ٹیم آخر یہ کیسے کر لیتے ہیں؟
جی میں سمجھ گیا کہ آپ زرتاج گل، علی محمد، فردوس عاشق اعوان، شبلی فراز، شیخ رشید، شہباز گل، شہریار آفریدی، بابر اعوان، چوہدری سرور اور میرے وسیم اکرم ٹو عثمان بزدار کی بات کر رہے ہیں۔ تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا لیڈر میں ہوں اور ان کے تمام کاموں کا، جن کے بارے میں وہ خود ہی بتاتے ہیں، کا کریڈٹ مجھے ہی جاتا ہے۔

جی سر لیکن میں کہنا۔ ۔ ۔
میں آپ کے سوال کا باقی حصہ بھی سمجھ گیا ہوں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اپنی حکومت کے کارناموں کو بتانے کے لیے ہم نے کوئی پچیس تیس اور لوگ بھی رکھے ہوئے ہیں، میں ان کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں کر سکا۔ اس کے لیے ہم ایک الگ محکمہ اور ویب سائیٹ بھی بنائیں گے جو ہمارے سپوکس پرسنز کا ٹھیک سے حساب رکھ سکیں گے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی سپیشل اسسٹنٹ ٹی وی پر آ کر پیناڈول کی ڈیمانڈ بڑھائے بغیر مفت میں سرکاری خزانے سے تنخواہ لے جائے۔

Read more

ہم اور ہمارے پراڈو میں گھومتے ویکسین شدہ کتے

ان کو شرم آنا چاہیے۔ ہمارے کتوں کو پراڈو میں سفر کرتے دیکھ کر واویلا مچاتے ہیں۔ یہ عمران خان، پی ٹی آئی اور ہمارے کتوں کے دشمن ہیں۔ یہ اپنی کرپشن بچانا چاہتے ہیں۔ اپنی کرپشن بچانے کے لیے یہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ حتی کہ کتوں پر سفری پابندی لگانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ لیکن جو مرضی ہے کر لیں این آر او نہیں ملے گا۔ ہاں این آر او سے یاد آیا

Read more

پی ڈی ایم کی کامیابی کا مطلب کیا ہو گا؟

پاکستان میں جمہوریت کمزور ہے اس لیے جمہوری اتحاد بھی اکثر کمزور ہی ہوتے ہیں۔ لیکن موجودہ کاوش یعنی پی ڈی ایم نے آغاز اچھا کیا ہے۔ ایک مسئلے کو جڑ سے پکڑا ہے۔ ایک ہی تقریر سے کھلبلی مچا دی ہے۔ ایک پرامن انقلاب ہماری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا۔ الیکشن شفاف ہو گئے۔ آئین اور قانون کی عملداری شروع ہو گئی۔ منتخب حکومت مضبوط اور بااختیار ہو گئی۔ طاقت کا توازن بحال ہو گیا اور ماتحت ادارے ماتحت

Read more

برطانیہ نے سکول میں بچوں کے قتل عام کے مسئلے سے کیسے نمٹا

یہ مارچ 1996 کا واقعہ ہے۔ اسلحہ سے لیس تینتالیس سالہ ایک گورا اسکاٹ لینڈ کے ایک پرائمری سکول میں داخل ہوا اور چھوٹے بچوں کی ایک کلاس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس نے چند منٹوں میں کلاس کے سولہ بچوں اور بچیوں کو ان کی ٹیچر سمیت قتل کر دیا۔ باقی ماندہ پندرہ بچے اور بچیاں زخمی ہوئے۔ آخری گولی اس نے اپنے سر میں ماری اور خودکشی کر لی۔ اس غیرمعمولی واقعہ نے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ قتل و غارت کے ایسے واقعات وہاں روٹین نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں تو قتل و غارت کے ایسے واقعات روٹین ہی بن گئے ہیں اس لیے حکومت کے لیے ایسے واقعات اور ان میں قتل ہونے والے لوگ محض ’نمبر‘ ہی ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں جب یہ واقعہ ہو گیا تو انہوں نے ایسے اقدامات کیے تاکہ یہ واقعات برطانیہ میں روٹین نہ بن جائیں۔

Read more

سیکس، ڈرگز اینڈ راک اینڈ رول دور کے وزیراعظم عمران خان

ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان نے پچھلے دس سالوں میں ہمیں بہت ایجوکیٹ کیا ہے۔ ان کی تقاریر اور انٹرویوز کی بدولت آج ہم بخوبی جانتے ہیں کہ وہ گرمیاں برطانیہ میں گزارتے تھے، سردیاں رضائی میں اور یہ کہ ہمارے یعنی ان کی پیاری راج دلاری عوام کے لیے سکون قبر میں ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کرکٹ کھیلتے تھے۔ انہوں بہت کرکٹ کھیلی اور دنیا دیکھی ہے۔ انہوں نے پنجاب کا وزیراعلی ایک سادہ آدمی کو

Read more

امریکی صدارتی الیکشن میں دھاندلی کی اندرونی کہانی

امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے بہت محب وطن ادارہ ہے۔ اسے امریکہ کی عزت اور اس کی زمینی، سمندری، ہوائی اور نظریاتی سرحدوں کی بہت فکر رہتی ہے۔ اسے علم ہے کہ امریکی سیاست دان نالائق، چور، کرپٹ اور غدار ہیں اور انہیں اگر کھلی چھٹی دے دی گئی تو وہ امریکہ کو بیچ کے کھا جائیں گے اس لیے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے الیکشن کے حوالے سے کسی پر بھروسا نہیں کرتی اور اس معاملے کو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے۔

Read more

تیرہ سالہ مسیحی لڑکی آرزو کو اغوا کرنے والا اکیلا مجرم نہیں ہے

کیا روح پرور سماں ہے۔ تیرہ سالہ آرزو صرف ایک خوبصورت لڑکی ہی نہیں بلکہ سہولت کا ایک مکمل پیکج ہے۔ لڑکی انتہائی غریب خاندان کی ہے۔ مسلمان نہیں ہے۔ اسے حقیقت میں لونڈی یا باندی بنانا ہم مسلمان مردوں کا پورا حق ہے۔ قانون ایک اسلامی ملک میں مسلمان مردوں کے اس حق کو جائز سمجھتا ہے اور اس حق کا تحفظ بھی خوب کرتا ہے۔ سارے عوام کی رائے یہی ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کو سچے دین پر لے آنا اس غیر مسلم پر بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اسے دوزخ کی آگ سے چھٹکارا دلانا کوئی معمولی بات نہیں۔

Read more

نواز شریف کی ہارس ٹریڈنگ: پی ٹی آئی کو بھی خرید لیا

نواز شریف صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ صرف کھلے راز ہی کو کھولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین، قانون، یا سیاسی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہاں پر مارشل لاء ہوتا ہے یا پھر مارشل لاء کا خوف ہوتا ہے۔ سیاسی حکومت کسی اہم فیصلے میں اپنا اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔ ورنہ سخت نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ بات ان کی ٹھیک بھی ہے اور سبھی جانتے بھی ہیں۔ بے نظیر کی

Read more

کراچی آبادی میں ایک سو اکیس ملکوں سے بڑا ہے

میں ایک ایسے زبردست نوجوان کو جانتا ہوں، جو اپنے والدین کا پہلا بچہ تھا۔ اس کی عمر سولہ برس تھی اور وہ چھے بہن بھائی ہو چکے تھے۔ وہ ماں کی صحت کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔ ایک دن اس نے عملی قدم اٹھایا۔ اپنی ماں کو اسپتال لے گیا اور اس کی ٹیوبلائیگیشن کروا دی۔

اپنے شہروں کو دیکھیں۔ ہمارا پیارا کراچی دنیا کے ایک سو اکیس ممالک سے بڑا ہے۔ یورپ کے درجنوں ملک آبادی کے لحاظ سے کراچی سے چھوٹے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے کہ ہم نے لوگوں کو فیملی پلاننگ کی تربیت دی اور نہ ہی فیملی پلاننگ کی سہولت ان تک پہنچائی۔ اب کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جتنے پیسے درکار ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے ہم کراچی کے مسائل شاید ہی کبھی حل کر پائیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کراچی اور پاکستان کی آبادی بھی اسی طرح بڑھتی رہے اور ہم اپنی عوام کی زندگیاں رہنے کے قابل بنا پائیں گے، تو یہ جھوٹ ہے۔ یا پھر احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔

Read more

فیملی پلاننگ ہی اکسیر اعظم ہے

سائنس کی کوئی ایک ایجاد جو پورے گھر، پورے ملک اور خاص طور پر عورتوں کو فوری سکھ دے سکتی ہے۔ زندگی میں سکون کے کئی سال دے سکتی ہے۔ غربت کو اگلی نسل میں شفٹ ہونے روک سکتی ہے۔ عورتوں کو خوب صورت اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے دوستی اور پیار کے اظہار کا موقع دے سکتی ہے۔ وہ

Read more

اپنی بیٹیوں سے خوف زدہ مرد

آپ کیمرے کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں تو آپ کی بیٹی یہ پیغام لے سکتی ہے کہ مرد اور خاتون کا ہاتھ ملانا جائز ہے۔ وہ بھی کسی مرد سے ہاتھ ملا سکتی ہے یا ایسا سوچ سکتی ہے۔ آپ یہ پیغام اپنی بیٹی کو دینا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی غیرت گھر کی عورتوں کے بدن سے جڑی ہوئی ہے۔ اور آپ ہر وقت اپنی بیٹی کو یہ

Read more

انصار عباسی بھی ریپ شیپ کی شکایت کرنے کے قائل نہیں

ویک اینڈ کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت خوبصورت شام تھی لیکن مجھ سے بڑی سستی ہوئی۔ کمپیوٹر کے ساتھ چپکا رہا اور اٹھ کر کچن تک بھی نہیں گیا۔ نتیجہ یہ کہ سکون کے چند لمحے بھی ہاتھ نہ آئے اور شام حقیقی ماحول میں گزار دی۔ اپنی تعلیم و تربیت کے لیے انصار عباسی صاحب کے ٹویٹر پر گیا کہ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر ان کا ٹویٹ تو دیکھوں لیکن ابھی وہاں پہنچا ہی نہیں تھا کہ عباسی صاحب کا بالکل تازہ ولاگ سامنے آ گیا۔ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر اس ولاگ میں جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ صاحب کا ذکر پہلے چار منٹ تک کہیں نہیں تھا۔

انصار عباسی صاحب نے بتایا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب پاکستان میں فحاشی اور عریانی کے بہت بڑے مخالف ہیں لیکن وہ، یعنی جنرل صاحب، مایوس نہیں ہیں۔ جنرل صاحب کا حوصلہ وزیراعظم صاحب کی باتوں کی وجہ سے بلند ہے۔ وزیراعظم صاحب پرعزم ہیں کہ وہ پاکستان سے فحاشی اور عریانی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ جنرل صاحب کا اس بات پر خوش ہونا ان کے نیک آدمی اور اچھے مسلمان ہونے کی بہت مضبوط دلیل ہے۔ اور اس سلسلے میں جنرل صاحب نے عباسی کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: کچھ باتیں ابھی رہتی ہیں

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا کیونکہ آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ریپ یا زبر جنسی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عورتیں، بچیاں، بچے اور ٹرانس جینڈر اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس پر قوانین کو بہتر کر دیا ہے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں سیکس کرائمز پر حساس بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ قانون بہتر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کرنا بھی کافی قدر آسان ہو گیا ہے۔

Read more

ہم کراچی کو پلک جھپکنے میں اڑا سکتے ہیں، سنبھال نہیں سکتے

دنیا میں کل ایک سو ترانوے ممالک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں۔ ان میں صرف بہتر ممالک آبادی کے لحاظ سے ہمارے پیارے شہر کراچی، جی صرف کراچی شہر، سے بڑے ہیں، باقی ماندہ ایک سو اکیس ممالک آبادی کے لحاظ سے کراچی یعنی صرف کراچی سے چھوٹے ہیں۔ اس موازنے کے لیے کراچی کی آبادی کے حوالے سرکاری اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں جس کے مطابق کراچی کی آبادی صرف ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔

Read more

کراچی کے بادشاہ گر بنام عوام اور بھتہ

پچھلے تیس سال، کراچی میں ہمارا بادشاہ گری کا سیاسی تجربہ بہت ہی کامیاب رہا۔ اس لئے اسے جاری رکھا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے بادشاہی اور بادشاہ گری کے باقی تمام تجربات بہت کامیاب رہے ہیں اور وہ بھی ہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام اور سیاستدانوں کی ایک قلیل تعداد، جو ہمارے اس تجربے سے مفید ہوئے یا وہ ہمارے دوسرے تجربات، پالیسیوں اور ہماری موثر ٹویٹر سروس کی وجہ سے مکمل آگاہ ہیں، وہ تو ہماری شاندار کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے۔ اور ہمارے اسی تجربے کو کراچی میں دہرانے کے حامی بھی ہیں۔ لیکن عوام کی ایک بھاری اکثریت اور کچھ سیاست دان جو ہماری شاندار ٹویٹر سروس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا جنہیں ہم نے گھاس نہیں ڈالی وہ واویلا مچاتے رہتے ہیں۔ اور کراچی میں لاشوں کی تعداد اور امن یا کاروبار کی بربادی کو بنیاد بنا کر ہماری بادشاہی اور بادشاہ گری کے فن کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کی باتیں بد نیتی پر مبنی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو اس بد نیتی کے ساتھ وطن دشمنی اور غداری کے جرم (الزام نہیں ) کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور آہنی ہاتھوں کا قانونی ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔

Read more

میں بطور قاتل ہی ڈیزائن ہوا ہوں

انسانوں کو تو چھوڑ ہی دیجیئے کیونکہ ان کے لیے تو یہ زندگی محض ایک امتحان ہے اور تیاری ہے اگلے جہان کے لیے۔ اگلی دنیا میں جنت یا دوزخ ملے گی۔ اس لیے اس آرٹیکل میں انسان بحث سے باہر ہیں۔

میں بات کرنا چاہتا ہوں انسانوں کے علاوہ تمام جانداروں کی۔ خاص طور پر ان جانوروں کی جو گوشت خور ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کے لیے یہ دنیا کیسی ڈیزائن کی گئی ہے۔ کیونکہ جانوروں کی تو صرف یہی دنیا ہے۔ انہیں اگلی دنیا میں نہیں جانا، جنت یا دوزخ، سزا یا جزا ان کے لیے نہیں ہے۔ کم از کم ابھی تک کسی نے اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔

Read more

پی ٹی آئی حکومت کی شاندار کامیابی کے دو سال

عمران خان کوئی کٹھ پتلی نہیں بلکہ ایک با اختیار وزیراعظم ہیں۔ اپنے بالوں کا رنگ اپنی مرضی سے منتخب کرتے ہیں۔ اپنے جوتے کا اسٹائل اپنی مرضی کا ہوتا ہے۔ اور اپنے کتے کا نام اپنی مرضی سے رکھتے ہیں۔ اور بھی کئی میدان ہیں جن میں وہ صرف اپنی مرضی کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنی مرضی کا موڈ اور ترنگ ملے۔ وہ کسی کی نہیں سنتے۔ ان کے تمام یوٹرن بھی ان کی مرضی کے ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد کراچی میں اپنے پہلے دورے کے دوران ہی انہوں نے کسی سے پوچھے بغیر تمام افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ جو دودھ اور شہد کی نہریں پاکستان میں بہہ رہی ہیں یہ صرف پی ٹی آئی کی دو سالہ کامیاب حکومت کا نتیجہ ہے۔ ویسے تو خیر پاکستان پہلے بھی جنت سے کم نہیں تھا لیکن ان دو سالوں میں تو ترقی اور خوشحالی کی نئی مثالیں قائم ہوئی ہیں۔

Read more

ڈی این اے کے تقاضوں سے آزادی ممکن نہیں

اب سائنس نے یہ جان لیا ہے کہ انسانوں کے لیے شخصی آزادی نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔ انسان کا رویہ ہارمونز اور کیمیکل ری ایکشنز کا نتیجہ ہے۔ یہ اپنی پسند نا پسند اور باقی خصوصیات لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔ اپنی مرضی سے کچھ بن جانا اس کے بس میں ہی نہیں ہے۔ یہ اپنی مرضی نہیں رکھتا، سب کچھ قدرتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کب اور کہاں پیدا ہوا ہے۔ لڑکا،

Read more

آدھی نوجوان آبادی کو جاب چاہیے، باقی تو لڑکیاں ہیں

لڑکیاں، لڑکے اور ٹرانس جینڈر پاکستانی نوجوان، کیا ہے ان کے پاس۔ کیا دیا ہے انہیں ہم نے۔ نوجوانوں کے سوچنے سمجھنے اور سوال اٹھانے کی اہلیت ہم نے چھین لی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے فساد روک لیا ہے لیکن اصل میں ہم نے مکالمہ، ترقی اور ایک بھرپور زندگی گزارنے کے مواقع روکے ہوئے ہیں۔ اب ہم انسان کے بچوں کو گائے کے بچھڑوں کی طرح پالتے ہیں اور بچھڑوں کو گھاس یا مشین کی طرح،

Read more

عدالت میں قتل: دہشت گرد کو بے نام اور بے چہرہ رہنے دو

دہشت گرد کو نام اور چہرے سے محروم کر دینا چاہیے تا کہ معاشرے میں قتل و غارت گری کے علاوہ بھی ہیرو بننے کا کوئی راستہ کھلنے کی امید بن سکے۔ ہماری کہانی اتنی مشکل نہیں ہے۔ کہانی تب مشکل ہو جب ہمارے پاس کچھ تو اچھا بھی ہو۔ لیکن چونکہ کچھ بھی اچھا نہیں ہے، کچھ بھی امید افزا نہیں ہے اس لیے کہانی بہت آسان ہو گئی۔ اس لیے ہمارے مستقبل کی پیش گوئی بالکل بھی مشکل

Read more

بلی کا ریپ: انفرادی فعل یا قوم کی کوتاہی؟

یہ ایک بہت ثقیل اور سچی کہانی ہے، افسانہ نہیں ہے۔ یہ کہانی آج سے صرف بارہ سال پہلے 2008 میں یورپ کے ایک بہت ترقی یافتہ اور اہم ملک آسٹریا میں سامنے آئی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جوزف نامی ایک شخص نے 1984 میں اپنی اٹھارہ برس کی سگی بیٹی الزبتھ کو اپنے گھر کے تہہ خانے میں بند کر دیا اور چوبیس سال تک بند رکھا۔ اس نے پولیس میں بیٹی کے گم ہونے کی رپورٹ

Read more

واحد قومی نصاب

ایک پرانی کہانی ہے۔ اوریجن یا تخلیق کار کا علم نہیں، ایک بزرگ رضاکار نے اپنی کمیونٹی کا تعارف کراتے ہوئے سنائی تھی۔ کہنے لگے کسی شہر کے حاکم نے اپنے کچھ اہم مشیروں کی ذمہ داری لگائی کہ اس کی رعایا کو اتنا فرمانبردار بنا دو کہ کبھی کسی حکم یا پالیسی پر سوال اٹھانے کا سوچیں بھی نا۔

مشیروں نے خوب محنت کی اور رعایا کی ایسی تعلیم و تربیت کی کہ انہیں بادشاہ کا فرماں بردار بنا دیا۔ جب انہیں پورا اعتماد ہو گیا کہ اب رعایا فرماں بردار بن گئی ہے تو وہ بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کی رعایا آپ کے حکم کی تابع ہے۔ آپ کے جی میں جو آئے کریں، وہ آپ کے کسی حکم پر یا کسی بات پر کوئی سوال نہیں اٹھائیں گے۔

Read more

سکول میں بچیوں کی جنسی ہراسانی کی خبر کے بارے میں

لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول میں کچھ بچیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا گھناؤنا واقعہ سامنے آیا ہے تو پاکستانی حکومت، عام شہری اور میڈیا نے ردعمل کچھ یوں ظاہر کیا جیسے پاکستان میں بچیوں اور عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ ہوا ہے۔ اتنا شور کیا کہ جیسے اس معاشرے میں جنسی ہراسانی کبھی ہوئی ہی نہیں اور قوم یہ انہونی دیکھ کر دنگ رہ گئی ہے۔ یوں لگا جیسے کہ عورتوں، بچیوں اور بچوں کے خلاف جنسی ہراسانی اور دوسرے جنسی جرائم ہمارے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہمیں علم ہونا چاہیے اور بہت حد ہے بھی لیکن ہم اس بات کو اپنے شعور میں آنے نہیں دیتے کہ پاکستان میں ہر روز لاکھوں بچیاں، بچے اور خواتین جنسی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔ جی آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے لاکھوں بچیاں روزانہ اس ظلم کو برداشت کرتی ہیں۔ ویسے تو باقی تمام شعبوں کی طرح اس سلسلے میں بھی کوئی باقاعدہ تحقیق موجود نہیں ہے، لیکن 2002 میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ایک اتحاد ”آشا“ (الائنس اگینسٹ سیکسوئل ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس) نے ایک قدرے چھوٹی سی ریسرچ کی تھی۔ اس کے مطابق اسی فیصد عورتیں جو کوئی جاب کرتی ہیں انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ہم دیکھ بھی سکتے ہیں کہ جنسی ہراسانی ہماری سڑکوں پر، بازاروں اور دوسری عوامی جگہوں میں کتنی عام ہے۔

Read more

بیری کے صوفے اور قومی مفاد کے سافٹ ویئر

ماسٹر غلام سرور صاحب ضلح سرگودھا کے ایک دور دراز چھوٹے سے گاؤں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے تھے۔ پاکستان کے دور دراز گاؤں کے پرائمری سکولوں میں بچوں کی تعلیم صرف ٹیچر کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ کام بچے اور ٹیچر مل کر ہی کرتے ہیں۔ کام کی تقسیمم کچھ یوں ہوتی ہے کہ تعلیم دینے یعنی پڑھانے کا کام بچوں کے ذمے ہوتا ہے۔ بچے لیکچر دیتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کلاس ٹیسٹ لیتے ہیں، ہوم ورک دیتے ہیں اور چیک بھی کرتے ہیں۔

ٹیچر کے ذمے ڈسپلن ہوتا ہے۔ اور ٹیچر اس کام کو بہت تن دہی سے کرتے ہیں۔ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کلاس مانیٹر جس بچے کو ٹیچر کے سامنے کسی شکایت کے ساتھ پیش کرتا ہے، ٹیچر اپنے موڈ کے مطابق سکول کو بدنامی سے بچانے کے لیے سزا دیتا ہے۔ جو عام طور پر گالیاں، تھپڑ کی صورت میں ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق ڈنڈے کو بھی کام میں لایا جا سکتا ہے۔ بعض استاد صاحبان یہ کام بھی شاگردوں ہی سے کروا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی سیکھ سکیں۔ وہ کلاس کے کسی تگڑے لڑکے کو بلا کر کہتے ہیں کہ پیش کیے گئے ملزم کو کچھ تھپڑ رسید کر دے۔

Read more

مندر نہیں سکول اور ہسپتال

مجھے جگہ کا نام ٹھیک سے یاد نہیں لیکن ہم ملتان شہر کی ایک نہایت غریب کچی آبادی میں تھے۔ ہم اس بستی کے بچوں کے لیے کوئی ترقیاتی منصوبہ بنانے کی کوشش میں تھے اور اسی سلسلے میں ہم لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہے تھے۔ مقصد ان کے مسائل جاننا تھا۔ اس آبادی میں کافی گھر ہندوؤں کے بھی تھے۔ ان گھروں سے بھی کچھ بچیاں اور بچے اس محفل میں موجود تھے۔

Read more

کاش جنرل ضیا الحق کو قانون کے کٹہرے تک لا سکتے

چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیا الحق نے 1977 میں جب بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تھا تو پاکستان لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پاکستان کی، بحیثیت آزاد مملکت، تیس سالہ مختصر تاریخ میں آئین و قانون اور غریب عوام کے خلاف شب خون مارنے کی یہ تیسری گھناؤنی واردات تھی۔ ہاں البتہ اس بنیادی جرم کے بعد جو کچھ ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ کیا اس کی مثال پہلے مارشل لاؤں میں کم ہی ملتی ہے۔

اس کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ اس ظالم ڈکٹیٹر کو امریکی صدر ریگن اور برطانوی وزیراعظم تھیچر جیسے بے حس جرائم پیشہ حکمرانوں کی حمایت حاصل تھی۔ جنرل ضیاء نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جنگ کے لیے پاکستانی اور افغان نوجوانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنا تھا اور اس کے بدلے میں انہوں نے جنرل ضیا الحق کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں فوٹو بنوانے تھے اور ڈالروں کی بھیک دینا تھی۔

Read more

وطن عزیز کے مینجرز کے شیدائیوں کے نام

اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان کھینچا تانی پر بحث کے دوران ہمارے چکوال کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار صاحب نے شدید حیرانی اور کسی قدر غصے میں کہا ”تو تم چاہتے ہو کہ جنرل راحیل، شریف نواز شریف کو کھلی چھٹی دے دے تاکہ وہ من مانی کرتا پھرے“ ۔ بدقسمتی سے وہ صوبیدار صاحب اکیلے نہیں ہیں جو اس ملک میں کیے جانے والے پراپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ہم کروڑوں کی تعداد میں ان کے ساتھ ہیں۔

آج یورپین یونین کا خط میڈیا کے ذریعے ساری دنیا تک پہنچا۔ اس خط میں لکھا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ریاست پاکستان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے جہازوں کو قابل قبول معیار کے مطابق ٹھیک حالت میں رکھ سکتی ہے یا پائلٹ کے جعلی لائسنس کے معاملے کو ڈیل کر سکتی ہے اس لیے وہ پاکستان کی قومی ائرلائن، پی آئی اے کو کم از کم چھ مہینے کے لیے پوری یورپی یونین سے بین کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قطر، ویتنام اور متحدہ عرب امارات والوں نے اپنی ائر لائنوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنی تمام ائرلائنوں میں کام کرنے والے پاکستانی انجینئرنگ سٹاف کو بھی فی الحال کام سے روک دیا ہے۔

Read more

وزیراعظم صاحب نے شہید اسامہ کو یاد فرمایا

وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی میں حاضری دی اور حسب معمول ایک زبردست تقریر فرمائی۔ اس تقریر کے زبردست ہونے کی اس سے بھی زیادہ زبردست دلیل یہ ہے کہ ان کی تقریر ان کے اپنے علاوہ پی ٹی آئی کے باقی لوگوں نے بھی بہت پسند کی ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اپنی اس تقریر میں اپنی حکومت، ریاست مدینہ اور اپنی سابقہ تقریروں کی تعریف کی اور ہمیں یہ بتایا کہ ان کی پہلی تقریروں کی وجہ سے آج دنیا میں پاکستان کو کتنی عزت مل رہی ہے۔ بس انہوں نے امید اور خواہش ظاہر کی کہ دنیا میں ملنے والی عزت اب اگر نظر بھی آنا شروع ہو جائے تو بہت مزا آئے گا۔

ایک بات کا اعتراف تو ان کے مخالفین کو بھی کرنا پڑے گا کہ ان کی یہ تقریر حقیقت پر مبنی تھی۔ مثال کے طور پر اس تقریر میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں ہمیں اور ساری دنیا کو بتایا کہ ان کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی تقریریں ہی ہیں اور ان کی تقریروں کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی بڑے لیڈر کی طرح یوٹرن ہی لے لیا ہے۔ پہلے امریکہ پاکستان کی عزت نہیں کرتا اور باقی دنیا کی عزت کرتا تھا۔ اب امریکہ پوری دنیا میں کسی کی عزت نہیں کرتا لیکن پاکستان کی عزت کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہ ان کی زبردست تقریروں اور مودی کی پھیکی تقریروں کا نتیجہ ہے۔

Read more

جوائنٹ فیملی کا عذاب اور ہماری عورت

پروین بی بی کی عمر تئیس برس ہے اس کی شادی کو سات سال ہو گئے ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں۔ بڑی بیٹی چھ سال کی ہے اور سکول جاتی ہے۔ پروین ایک جوائنٹ فیملی میں رہتی ہے۔ اس کی دو نندیں، ایک دیور اور ساس سسر بھی ساتھ رہتے ہیں۔ پروین کی اپنی سسرال کے ساتھ نہیں بنتی۔ اس کا سسر اکثر اسے ڈانٹ دیتا ہے اور گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ اس نے کئی دفعہ پروین

Read more

میڈم گل کھل کھلاتی ہیں

اے جاہل قوم کل میں نے آپ لوگوں کو کووڈ۔ 19 کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ اس کے 19 نقاط ہوتے ہیں اور وہ مختلف ممالک میں جا کر اپنے نقاط آفر کرتا ہے۔ یہ اس ملک پر منحصر ہے کہ وہ کون سا نقطہ پسند کرتا اور قبول کرتا ہے۔ اس ملک میں پھر کورونا کا وہی نقطہ کام کرتا ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت نے تو بہت اچھا کیا کہ اس کا کوئی بھی نقطہ تسلیم

Read more

کورونا کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں

عرفان صاحب کے گھر میں دو کمرے ہیں اور ایک لاؤنج ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان صاحب کو کرونا کا مرض لاحق ہو گیا ہے اور وہ کافی بڑھ گیا ہے۔ شدید بخار ہے اور سر میں درد بہت زیادہ ہے۔ سانس لینے میں دشواری اتنی شدید ہے کہ اپنے ہی کمرے کے ساتھ ملحق باتھ روم تک جانے سے بھی ان کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے کمرے کے ساتھ لاؤنج ہے۔ لاؤنج میں ان کی بیگم رہ رہی ہیں۔ انہیں بھی کرونا کی علامات شروع ہوچکی ہیں اور ان کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا ہے۔

Read more

احمدیوں کی ایک اور سازشں

دنیا میں تین قسم کے لوگ رہتے ہیں، مسلم، غیر مسلم اور احمدی۔ یہ احمدی بہت ہی بڑے سازشی لوگ ہیں۔ ابھی ابھی انہوں نے پاکستان اور اسلام کے خلاف ایک اور گھناؤنی سازش کی اور اپنے آپ کو پاکستان کی اقلیتوں کی لسٹ میں باقاعدہ شامل کروا لیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی اقلیتیں کتنا مراعات یافتہ طبقہ ہیں۔ اب وہ ساری مراعات انہیں بھی ملنا شروع ہو جائیں گی۔ ان کے مزے ہو جائیں گے۔

Read more

بیٹیوں کا وراثت میں حق اور ریاست کی ذمہ داری

ایک دفعہ ایک ان پڑھ غریب محنت کش مسیحی خاتون جو صبح سے شام تک کوئی چھ گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہے وہ اپنے خدا سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ باپ کی جائیداد میں بیٹیوں کا حصہ نہ رکھ کر خدا نے عورتوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اسلام نے تو بیٹی کا بیٹے سے آدھا حصہ جائیداد میں رکھا ہے لیکن مسیحی برادری میں خواتین کا جائیداد میں بالکل ہی کوئی

Read more

ماورائے عدالت قتل کرنے والے ہیرو کیوں ہیں؟

تیس برس پہلے کی بات ہے۔ میں نے اتفاقاً پولیس کے چند نوجوانوں کا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے چار غنڈا نما طالب علموں کو کو گرفتار کرنے کا تماشا ایکشن دیکھا۔ یہ واقعہ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس سے کوئی دو سو گز دور نہر کے کنارے رونما ہوا تھا۔ کافی تعداد میں راہ گیر رک کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ اس لڑائی کا سکرپٹ لکھنا تو بہت مشکل ہے بس یوں سمجھ لیں کہ سب دیکھنے والے شدید

Read more

عورتوں میں بے حیائی کی ویکسین ڈھونڈیں

چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو پاکستان میں بہت لوگوں کو پہلے سے ہی خبر تھی کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ہم نے لوگوں کو بتا دیا کہ امریکہ سے چین کی ترقی برداشت نہیں ہونا تھی۔ اور پھر یہودی بھی امریکہ کے ساتھ ملے ہوئے تھے کیونکہ چین پاکستان کا اصلی ہمدرد ہے۔ ہماری چین کے ساتھ ٹیلوں سے اونچی اور تالاب سے گہری دوستی یہویوں سے کب برداشت ہونا تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک وائرس

Read more

بھارتی جنتا سوچو اگر حافظ سعید پاکستان کا وزیر اعظم ہوتا

شاباش پاکستانی ووٹر! ہم کسی مذہبی جنونی اور دہشت گرد کو کبھی بھی ووٹ ڈال کر حکومت میں نہیں لائے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی میں ہمارا گراف بہت اونچا چلا گیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے ہم عام پاکستانیوں کو دہشت گردی کے نتیجہ میں ہونے والے جانی نقصان کے افسوس کے ساتھ یہ فکر بھی لاحق ہوتی ہے کہ ابھی اس واقعہ میں پاکستان کا نام آئے گا۔ دہشت گرد پاکستانی ہو گا یا اس نے کبھی پاکستان میں تربیت لی ہو گی۔ یا کسی بھی طریقے سے پاکستان کے دہشت گردی کے واقعہ کے لنک نکلنے کے امکانات تو رہتے ہیں۔ پچھلے دس بارہ سالوں میں پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں اس لئے دہشت گردی میں ہمارا گراف اونچا تو ہے۔

Read more

کھاتے پیتے لبرل گھروں کی مادر پدر آزاد عورتیں

وہ خوب صورت، آزاد خیال، سگھڑ، پڑھی لکھی اور ذمہ دار تھی اور ایک ماڈرن تہذیب یافتہ مڈل کلاس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ یونیورسٹی تک بہترین تعلیم پائی اور اچھی ملازمت مل گئی۔ شادی کے سلسلے میں بھی کوئی پابندی نہ تھی اور اپنی پسند کے لڑکے سے شادی ہو گئی۔ سسرال کا ماحول بھی میکے جیسا ہی تھا۔ نوکری جاری رہی۔ کتابیں پڑھنا، فلمیں دیکھنا، گھومنا پھرنا اور دوستوں سے ملنا جلنا ویسا ہی رہا جیسے پہلے تھا۔ کچھ عرصہ ہی جوائنٹ فیملی میں رہنا پڑا اور پھر الگ گھر لے لیا اور ہنسی خوشی شفٹ ہو گئے۔ سبھی لوگ بہت پیار کرنے والے اور مددگار تھے۔ سسرال اور میکے سے ملنے کی روٹین بن گئی لیکن روٹین پر عمل بہت ضروری بھی نہ تھا۔ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی بھی کر لیتے تھے۔

Read more

جاوید چوہدری اور طالبان ترجمان احسان اللہ کی 2014 میں گفتگو

2014  میں کراچی میں دہشت گردی کے واقعہ میں ایکسپریس ٹی وی چینل کے تین لوگ شہید ہوئے۔ احسان اللہ نے جاوید چوہدری صاحب کے ساتھ لائیو ٹی وی پر اس کی ذمہ داری فخر کے ساتھ قبول کی۔ وہ گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔

٭٭٭      ٭٭٭

جاوید چوہدری۔ طالبان کے ترجمان جناب احسان اللہ احسان صاحب نے ابھی فون کیا ہے۔ ۔۔۔ احسان اللہ احسان صاحب اس وقت ہمارے ساتھ ہیں۔۔۔ احسان صاحب ۔۔۔ یہ جو واقعہ ہوا ہے انتہائی افسوس ناک اس پر آپ کوئی تبصرہ ۔۔۔

احسان اللہ احسان: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے اور ہم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

Read more

بوٹ کی کہانی خدمت سے شہرت تک

جوتا بڑی نعمت ہے۔ عوام اور حکومت دونوں ہی جوتے کے سہارے چلتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ لوگ جوتے پاؤں میں پہن کر چلتے ہیں اور حکومت سر پر پہن کر چلتی ہے۔ اور پھر سردی میں اگر آپ بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش کریں گے تو آپ کے پاؤں سن ہو جائیں گے اور حکومت بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش بھی کرے گی تو اس کا دماغ سن ہو جائے گا اور جلد ہی ڈگمگا

Read more

میڈم اسسٹنٹ کمشنر اٹک کی تقریر اور عقیدے کی چھلنی

پہلے میڈم اے سی اٹک صاحبہ کی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کی گئی اسلام اور آئین پاکستان مخالف تقریر ملاحظہ فرمائیں۔ ”۔ اور دیکھیں کہ عورتوں کے حقوق۔ کتنے ضروری ہیں اور خواتین کا احترام کرنے سے آپ کتنے بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نان مسلمز پاکستانی کے رائیٹس ہیں۔ میں سنی ہوں، یہ تو شیعہ ہے یا یہ تو احمدی ہے، آپ نے کسی کو کسی بھی بیسز (بنیاد پر)

Read more

مشال خان ہو یا سید طفیل الرحمن، اصل خرابی تشدد کو جائز سمجھنا ہے

”آج بروز جمعرات بتاریخ 12 دسمبر 2019 کو لادینیت کے پرچارک طلبہ کے غنڈوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام میں اسلامی جمعیت طلبہ کے“ کتاب میلہ ”پروگرام کے اختتامی نشست کے موقعے پر اچانک مسلح حملہ کر کے میرے سب سے چھوٹے، والدین اور بہن بھائیوں کے“ دلارے ”پیارے سید طفیل الرحمن ہاشمی کو“ شھید ”اور دوسرے متعدد طلبہ کو شدید زخمی کردیا۔ میں اسلام آباد سے دور“ گلگت ”میں اپنے پیارے کی شھادت کی خبر تقریباً ساڑھے نو

Read more

قانون ہاتھ میں لینا جرم تو ہے لیکن جمعیت…

کیا قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے؟ اس سادہ، صاف اور مختصر سوال کا جواب تو کسی آئیں بائیں شائیں کے بغیر ہی آنا چاہیئے۔ چاہے آپ اپنی گفتگو کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا جتنا بھی تجربہ رکھتے ہوں اور اپنے اس تجربے پر جتنے بھی نازاں ہوں، پلیز اس سوال کا جواب "ہاں” یا "نہ” میں ہی دیں۔ تو بحث کو آگے بڑہانے کے لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سوال کا جواب ایک صاف

Read more

لڑکیاں پنجاب یونیورسٹی لاہور کی

پنجاب یونیورسٹی لاہور چھوڑے ہوئے 30 سال ہونے کو ہیں مگر زخم آج بھی تازہ کے تازہ ہیں۔ کریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جن لوگوں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا نہیں وہ اسلامی جمعیت طلبہ کی قدامت پسند اور بے رحم ڈکٹیٹرشپ کا اندازہ نہیں لگا سکتے چاہے انہوں نے جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء ہی کیوں نہ گزارا ہو۔ کیونکہ ضیاالحق نے دہشت گردی کو جنم دیا مگر جنرل ضیاالحق کا اپنا جنم اسلامی جمعیت طلبہ  کے بطن سے ہوا۔ اس لئے دونوں کا کردار ایک دوسرے کو مضبوط بنانے اور اس خطے یعنی پاکستان اور افغانستان میں انسانیت کو کمزور کرنے میں بہت اہم اور واضح ہے۔

Read more

مدرسے کے لڑکوں کو بھی عبایہ پہننے کا حکم جاری کریں

پی ٹی آئی نے ملک کے اہم مسائل کو جڑ سے پکڑ لیا ہے اور حل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے پی نے لڑکیوں کے سکولوں میں وقت کی پابندی اور عبایہ لازمی ڈریس قرار دے دیا ہے۔ عبایہ کی افادیت اور اہمیت پر زور دے کر بتایا گیا کہ اس سے لڑکیاں اپنے جسموں کو مکمل طور پر ڈھانپ سکیں گی اور انہیں جنسی ہراسانی اور باقی تمام قسموں کے جنسی تشدد سے چھٹکارا مل جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے غوطہ خور ایک خاص قسم کا لباس پہن لیتے ہیں تاکہ غوطہ خوری کے دوران میں شارک ان پر حملہ آور نہ ہو سکے۔

Read more

قندیل بلوچ کے قتل پر شریف لوگوں کی گمبھیر سمسیا

”وہ راتوں کو دیر تک گھر سے باہر رہتی تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ شراب پیتی تھی اور وہ مرد اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ہوں گے۔ قندیل بلوچ تو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی لیکن آپ نے کبھی اس تکلیف کا اندازہ لگایا جس سے اس کے بے چارے بھائی اور والد ہر روز گزرتے ہوں گے۔ کیسے سامنا کرتے ہوں گے وہ ہر صبح اپنے پڑوسیوں کا۔ “

Read more

پولیس، سستے ہوٹلوں کے مالکان اور نوجوانوں کی ڈیٹ

ہم نے دروازہ آرام سے کھٹکھٹایا تاکہ وہ سمجھیں کہ ویٹر آیا ہے۔ اس نے تھوڑا ٹائم لیا، شاید کپڑے وپڑے سنبھال رہے ہوں گے، لیکن پھر دروازہ کھول دیا۔ ہم نے اندر داخل ہوتے ہی لڑکے پر پستول تان لیا۔ اس کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی، ہماری وردیاں ہی کافی تھیں ان کی جان نکال دینے کے لیے لیکن پھر بھی پستول کی اپنی ہی دہشت ہے۔ ظاہر ہے بہت گھبرا گئے۔ ان دونوں کو چپ لگ گئی۔ ان کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔ میں نے آگے بڑھ کر لڑکے کے منہ پر دو تھپڑ لگائے اور اس سے پوچھا کہ کسی اچھے گھر کی ہے یا کہیں سے گشتی پکڑ لائے ہو۔

Read more

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ، وہ اپنی ادنی حیثیت ہی بھول بیٹھی۔ اسے اپنی کسی غلطی کا احساس تک نہیں تھا، حالانکہ اس کی غلطیوں بلکہ جرائم کی لسٹ بہت لمبی تھی۔ سب سے پہلا جرم تو اس کا یہ تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ وہ ہمارے پاک اور غیرت مند معاشرے میں پیدا ہوئی ہے۔ وہ غریب گھر سے تھی۔ اس ماں بھی اس کے جرائم میں شامل تھی کیونکہ اس نے اس کے چھ بھائی پیدا کر

Read more

او بی ایل نہیں اب ایم بی ایس کا دور ہے

میں چاروں بڑے چیفوں کا ٹاؤٹ نہیں تھا۔ ان میں دو میرا بہت ہی خیال رکھتے تھے اور دوسرے دو نے مجھے رخصت پر بھیج دیا تھا۔ یہ جو چیف ہوتے ہیں کچھ میرے سینئر ہوتے ہیں اور کچھ جونیئر لیکن جب وہ چیف بن جاتے ہیں تو پھر چھٹی بھیجنا یا نوکری دینا انہی کی مرضی سے ہوتا ہے۔ میں خدمت بہرحال جاری رکھتا ہوں۔ ایس ایچ او کے بدلنے سے ٹاؤٹ کی پوزیشن تھوڑی اوپر نیچے ہو سکتی

Read more

مجھے کوئی میری نظروں سے نہیں گرا سکتا

میں نے ہر تقریر میں نوجوانوں کو میرٹ کا یقین دلایا اور پھر پنجاب کا وزیر اعلی دیا۔ صرف یہی نہیں اس بے چارے کا دفاع بھی کرتا ہوں۔ لوگ مجھے برا بھلا کہتے ہیں اور بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایسا پہلے دفعہ نہیں ہوا۔ ایوب خان چونکہ بہت طاقت ور صدر تھے تو لوگوں کو لگتا کہ صدر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ بھٹو صاحب نے چوہدری فضل الہی صاحب کو صدر بنا دیا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ صدر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔

Read more

سوار وہی صرف گھوڑے بدلے ہیں

پاکستانی سکولوں کا مضمون مطالعہ پاکستان بہت بدنام ہے۔ لیکن پھر بھی اتنا بدنام نہیں جتنا اس نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسی قوم تیار ہو گئی ہے جس کے دماغ میں سوال تو پیدا ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً پی ٹی آئی کے دوست اگر فیس بک سٹیٹس پڑھتے ہیں کہ ”پی ٹی آئی نے 2013 کا الیکشن ہارا تھا نہ 2018 کا الیکشن جیتا ہے“ تو خوش ہو جاتے ہیں کہ دیکھو لوگ مان گئے کہ 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے خلاف دھاندلی ہوئی تھی۔ وہ یہ بھی دیکھ نہیں پاتے کہ یہ دھاندلی کرنے والے کون تھے؟ اور یہ کہ 2018 میں بھی وہی دھاندلی کیوں نہیں ہوئی۔

Read more

گھبرانا نہیں، کپتان ہے نا

لوگ بلا وجہ پریشان ہیں کہ آئی ایم ایف، پیپلز پارٹی سے مستعار لیا ہوا مشیر خزانہ اور جنات پاکستان کی معیشت کے بارے میں فیصلے کر رہے ہیں اور اس سے پاکستان کی معیشت برباد ہو جائے گی۔ پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے۔ عام آدمی کی زندگی تنگ ہو گئی ہے۔ غرضیکہ اسی طرح کے بہت سے غلط خیالات ہیں جو لوگوں کو دکھی کیے ہوئے ہیں۔ تو ایسی صورت حال میں لوگوں کو علم

Read more

جج صاحب کی مبینہ اعترافی ویڈیو پر ایک اور میم

کچھ بھی نیا نہیں ہے اس ویڈیو میں۔ ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ اس پریس کانفرنس سے کون سی ایسی بات سامنے آئی ہے جو پہلے ہی ایک کھلے راز کی طرح سب کے علم میں نہیں تھی۔ وہ پہلے جو بڑے مزے سے لوگ کہتے تھے نا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں تو وہ سٹیج کب کی گزر گئی ہے۔ اب پردہ نشین خود ہی چھپ کر نہیں بیٹھتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے نام آئیں۔ اب تو اپنے کارناموں کا کریڈٹ لینے کی دوڑ ہے۔ اس لیے پردہ نشینوں کے نام آنے کا بہانہ ختم ہو چکا۔

Read more

جہاد پر پابندی ایک دفعہ پھر ناکافی رہے گی

ایک دفعہ پھر یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ کچھ مذہبی جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان خبروں کے ساتھ جو تصاویر اخباروں کی زینت بنی ہیں وہ ہہت ہی جانی پہچانی ہیں، نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی۔ یہ نام اور تصاویر اقوام متحدہ اور دوسرے با اثر فورمز پر بولے جاتے ہیں اور پاکستان کے لیے وہ کوئی اچھی خبر نہیں ہوتے۔ ان تصاویر کے متعلق جواب دینا ہمارے بہت سے سرکاری مندوبین کے لیے ممکن بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے حکومتی نمائندے جو ان فورمز پر بھیجے جاتے ہیں وہ جواب دینے کی اتھارٹی بھی نہیں رکھتے اور خوف زدہ سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے واپس گھر بھی آنا ہوتا ہے۔

Read more

رانا صاحب کی گرفتاری اور دلیر وزیروں کی نوکریاں

ہم نے مخبروں کا جال بچھا دیا رانا صاحب کے محلے میں۔ اوہ میں معذرت خواہ ہوں آف کورس میرا مطلب ہے کہ جنرل صاحب نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لوگوں کا جال بچھا دیا۔ ہر طرف سے یہی خبریں آنے لگیں کہ رانا صاحب کی گاڑی میں ہیروئن ہے۔ سن کر ایسے نشہ سا ہونے لگتا۔ میرا مطلب ہے کہ مجھے نشہ سا ہونے لگتا، میں جنرل صاحب کی بات نہیں کر رہا، میرے منہ میں پاکستانی حدود سے کہیں باہر کی نشہ ملی گندی خاک، نوکری سے عزیز تو کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔

Read more

نئے بجٹ کے دفاع میں کی گئی ایک سنجیدہ تقریر

ڈپٹی سپیکر صاحب نے تقریریں دس منٹ تک محدود رکھنے کی درخواست کی اور سب سے پہلے جناب شہر یار خان آفریدی صاحب (وزیر مملکت برائے داخلہ) کو بجٹ پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔ مقرر ایک لمحہ کے لئے بھی موضوع سے نہیں ہٹے۔ جناب شہر یار خان آفریدی صاحب نے چند آیات مقدسہ ایک انتہائی ماہر عالم کے انداز میں پڑھیں اور بجٹ کے دفاعی خطبے کا سماں باندھا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈپٹی سپیکر صاحب کا

Read more

مذہبی اقلیتیں ہمیں بہت اچھی لگتی ہیں

ہمیں مذہبی اقلیتوں پر بڑا غصہ ہے، وہ ہمارا اعتبار ہی نہیں کرتے۔ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ ہمیں اقلیتوں سے پیار ہے۔ اسی لیے تو ہم اقلیتوں میں اضافے کے اتنے خواہاں رہتے ہیں اور باقاعدہ بندوبست کرتے ہیں تحریکیں چلاتے ہیں۔ پاکستان بننے سے ہی ہم نے کوشش شروع کر دی تھی کہ اقلیتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ احمدیوں کی مثال آپ کے سامنے ہیں۔ پاکستان بنتے وقت وہ اقلیت نہیں تھے لیکن اب انہیں یہ رتبہ آئینی طور مل چکا ہے اور وہ اس کے مزے بھی لے رہے ہیں۔

Read more

وزیر اعظم کی نیم شب تقریر (مع سماعتی خلل) اور منظور پاپڑاں والا

دیکھو میرے پاکستانیو، میری ایک بات غور سے سن لو اور ہاں پھر میری ان تینوں باتوں کو آپ نے یاد بھی رکھنا ہے اور میں آپ کو بتا دوں کہ میری ان پانچوں باتوں کو آپ پلے باندھ لیں گے تو آپ کو کبھی پریشانی نہیں ہوگی۔ بجٹ چاہے جیسا بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بجٹ جیسی فضول چیزوں کی ضرورت اس وقت تھی جب حکمران کرپٹ تھے جب وہ اس ملک لوٹ رہے تھے۔ اور

Read more

سہاگ رات کسی اجنبی کے ساتھ ہی ہو

میں جب دلہن بنی پھولوں سے سجی ہوئی ایک بڑی اور بہت مہنگی کار میں بیٹھ کر بارات کے ساتھ سسرال جا رہی تھی تو مجھے یقین نہیں تھا کہ میں اپنے نئے گھر زندہ سلامت پہنچوں گی کیونکہ میں بہت پریشان اور خوف زدہ تھی۔ اتنی خوف زدہ کہ میں نے چلتی کار سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ میں …

Read more

دلیر مودی جی، محب وطن دھونی اور گائے کا گوشت

مودی جی بہت دلیر ہیں۔ وہ ڈرتے کسی سے نہیں ہیں۔ وہ تو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے ان سات کروڑ بھارتی باشندوں سے نہیں ڈرتے جن کے پاس کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی نہیں، سروں پر چھت نہیں، سکول اور ہسپتال کا تو سوچنا بھی دور کی بات ہے۔

مودی جی کو انڈیا کے آٹھ لاکھ سٹریٹ چلڈرن سے ڈر نہیں لگتا۔ یہ بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، نشہ کرتے ہیں، ہر طرح کے تشدد کا سامنا کرتے ہیں اور اکثر بے وقت سستی موت مارے جاتے ہیں۔ لیکن مودی جی نہ تو ان سے ڈرتے ہیں اور نہ ان کی ماؤں سے ڈرتے ہیں جو اپنی باقی زندگی اپنے بچوں کی راہ تکتے گزار دیتی ہیں۔

Read more

این جی اوز کیوں کھٹکتی ہیں اور انٹرنیشنل فنڈنگ کیوں لیتی ہیں؟

پاکستان میں این جی اوز دو طرح کے کام کرتی ہیں۔ ایک ویلفیئر اور سروس ڈیلیوری کے کام ہیں جیسے ہسپتال اور سکول وغیرہ بنانا اور چلانا اور حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو فوری امداد پہنچانا۔ صرف اتنا کام کرنے والی این جی اوز پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کسی کو کو نہیں کھٹکتیں۔ ریاست پاکستان کے کسی ستون کو ان سے کوئی پرابلم نہیں۔ لوگوں کی اکثریت انہیں پسند کرتی ہے اور ان کے کار خیر میں حصہ بھی ڈالتی ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔این جی اوز کا دوسری قسم کا کام ترقی (ڈیولپمنٹ) اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لیے این جی اوز عوامی آگاہی اور آگہی، عوامی وکالت اور حکومت سمیت اہم ریاستی اداروں کی کارکردگی کی نگرانی (واچ ڈاگ) کا کام کرتی ہیں۔ این جی اوز کا یہی وہ کام ہے جو کچھ لوگوں اور اداروں کو کھٹکتا ہے۔

Read more

آپ بے غیرت نہیں ہیں

آپ صبح اپنے وقت پر اٹھے، روٹین کے مطابق نہائے دھوئے، ناشتہ کیا اور کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر سٹڈی میں پہنچے۔ اپنی کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن کرسی نے یک دم آپ کو اپنے اوپر بیٹھنے سے منع کر دیا۔ کرسی بولنا شروع ہو جاتی ہے اور اپ کو کہتی کہ میں آپ کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ آئندہ مجھ پر بیٹھنے کی کوشش نہ کرنا۔ آپ کو غصے کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوتی ہے۔ کرسی آپ کی ملکیت ہے۔ آپ اپنے سکھ، آرام اور استعمال کی غرض سے اسے اپنے گھر بہت سی کرسیوں سے چن کر لائے ہیں۔

Read more

عدالتی فیصلے کا ایک قابل قبول نمونہ

فیض آباد انٹرچینج اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے کوئی دھرنا نہیں دیا تھا۔ کبھی وقوع پزیر نہ ہونے والے اس دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد آنے جانے کے راستے بند نہیں ہوئے تھے اور ان راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔

نہ ہونے والے اس دھرنے میں لوگوں کو گالیاں اور دھمکیاں نہیں دی گئیں۔ نفرت انگیز تقاریر بھی نہیں کی گئی تھیں۔ دھرنے کے دوران کروڑوں روپوں کا نقصان بھی نہیں ہوا۔ اس دھرنے کے دوران الیکٹرانک میڈیا نے محبت کا پیغام دینے والے مذہبی شعبدہ بازوں کو خوب پروموٹ نہیں کیا۔ میڈیا نے جو کچھ بھی کیا وہ اس کی اپنی ذمہ داری ہے اس میں کسی بھی ریاستی ادارے کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے اس مملکت خداداد میں نہایت اہم سیاسی سرگرمیوں کو بلیک آؤٹ کرنے میں کسی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ملکی مفاد کی حفاظت کی بات البتہ اور ہے۔ اس کا ایک خاص طریقہ بھی ہے۔ میڈیا کو بلا کر اس طریقہ کار سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا مالکان اتنے اچھے ہیں کہ وہ خوشی خوشی ان ہدایات پر ملکی مفادات اور اپنے اشتہارات کے خاطر عمل کرتے ہیں۔

Read more

فریادی: مظلوم والدین سے لے کر سیاست دانوں تک

ہم تو گویا فریادیوں کے ملک میں رہتے ہیں۔ زنجیر عدل کو تو کوئی ٹکنے ہی نہیں دیتا۔ ادھر دیکھو کوئی باپ اٹھتا ہے اور واویلا کرنا شروع کر دیتا ہے کہ میری دس سالہ بیٹی غائب ہو گئی ہے اور اگر پولیس اسے بتانے کی کوشش کرے کہ تمھاری دس سالہ بیٹی خود ہی کسی (آشنا) کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی تو برا مان جاتا ہے۔ کئی اور لوگ بھی اس باپ کی فریاد میں شامل ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پولیس مدد نہیں کر رہی۔ او بھئی پولیس اور کیا کرے جب کہ بچی کی میت (ڈیڈ باڈی) بھی ابھی تک سامنے نہیں آئی تو دس سالہ بیٹی کے صرف گم شدہ ہونے کو اتنا سیریس تو نہیں لیا جا سکتا۔

Read more

اچھی عورتوں کے غلامی مارچ کے نعرے

بری عورتوں کے آزادی مارچ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ ان زخموں کو بھرنے کے لیے اب اچھی عورتوں نے بھی مارچ کی تیاری کر لی ہے۔ اس مارچ کے لیے ہمارے مشرقی معاشرے کی عظیم روایات کے عین مطابق مندرجہ ذیل نعرے تیار کیے گئے ہیں۔ ان نعروں سے ہمارا کھویا ہوا مقام ہمیں واپس مل جائے گا۔

Read more

طوفان میل کیپسول شادی شدہ حضرات کے لیے

”ڈک پک اپنے پاس رکھو“۔ اس میں تو کوئی بے حیائی کی بات نہیں ہے۔ غیرت برگیڈ کو تب برا لگنا چاہیے تھا کہ لڑکی کہے کہ ”اپنی ڈک پک بھیجو“۔ انہوں نے تو منع ہی کیا ہے۔ اس بات پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ”ڈک پک“ کو دیکھنے سے انکار تو حیا دار خواتین کا کام ہے۔ آپ اس انکار سے برا نہ منائیں اور بالکل پہلے کی طرح کوشش کرتے رہیں ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ بھیجو تو آپ ضرور بھیج دیں۔

”اکیلی، آوارہ، آزاد“ اور بد چلن۔ یہ ”اکیلا، آوارہ اور آزاد“ تو ایک لائف سٹائل ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ ہمارے مرد دوستوں میں اگر کسی کو یہ عیاشی نصیب ہو کہ وہ معاشی اور سماجی پریشانیوں سے آزاد ہو، اکیلا ہو، اور آوارگی افورڈ کرتا ہو اور گھوم پھر کر زندگی کو انجوائے کرتا ہو تو سب لوگ اس پر رشک کرتے ہیں۔ ہمارے مرد دوستوں میں جو بھی ایسا کر پائے اسے لوگ آزاد منش ہی کہتے ہیں۔ قریبی دوست اور بعض اوقات وہ خود بھی اپنے آپ کو آوارہ کہہ لیتا ہے۔

Read more

لڑکیوں کو مرضی کی شادی کی اب اجازت ہے

آف کورس نجمہ کو اپنی مرضی کی شادی کی اجازت ہے۔ جہالت کے وہ زمانے گئے جب لڑکیوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کی اجازت نہیں ہو تی تھی اور ان کے والدیں یا گھر کے مرد خود ہی فیصلہ کر کے ان سے پوچھے بغیر کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیتے تھے۔ پھر لڑکیوں کو اپنی زندگی ایک عذاب کے طور پر ایک ایسے مرد کے ساتھ گزارنی پڑتی تھی جو ان کی مکمل پسند نہیں ہوتا تھا۔

Read more

میریٹل ریپ اور عدم توجہی: لینا حاشر اور صائمہ ملک کی کہانیاں

"برسوں سے امان ایک مانوس اجنبی کی طرح رابعہ کے ساتھ زندگی کے سفر پر گامزن تھا۔ ۔۔۔۔۔ وہ اس کے پیار بھرے لمس کو ترستی تھی ۔۔۔۔ چھ فٹ کے بستر پر برسوں کے فاصلے حائل تھے۔ ۔۔۔۔ وہ ٹیکنالوجی کی مدد سے گھنٹوں الگ کمرے میں فلمیں دیکھنے میں مگن رہتا” حسب سابق لینہ حاشر کی جذبات سے بھری کہانی کو خوب سراہا جاتا ہے اس میں میاں ظالم ولن اور بیوی مظلوم ہیروئن ہے۔ کچھ عرصہ قبل

Read more

غیرت  کے نام پر قتل اور پاکستانی مسلمان

چند دن قبل پاکستان میں ایک جرگے نے اسلامی تعلیمات کے خلاف عمل کرتے ہوئے ایک لڑکی کو غیرت کے نام پر زندہ جلا دینے کا فیصلہ دیا اوراس فیصلے پر فوراً عمل کرتے ہوئے  لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں پیش آیا جو کہ غالباً پاکستان کا سب سے زیادہ مذہبی صوبہ سمجھا جاتا ہے ہمارے دانشور  ہمیشہ کی طرح ہمیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ  جرگے کا فیصلہ غیر اسلامی ہے اور نہ صرف یہ کہ اس کا ہمارے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے  بلکہ ہمارا مذہب اور سچے مسلمان اس کی انتہائی مخالفت اور شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم جیسے کم عقل لوگ جنہیں مذہب کا علم  بھی کم ہی ہے تذّبذب کا شکار  رہتے ہیں ان کے لئے آئینہ ہے کہ  اس بھیانک واقعے پر ملک کے مذہبی حلقوں کو شدید ٹھیس  پہنچی ہے اور اسی شدًت سے اس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔

Read more

نوکری چھوڑنے والی ہر بہو پچھتاتی ہے

والد صاحب جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں دکان کیا کرتے تھے. تھوڑی سی آمدنی تھی۔ بہت پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن سیانے تھے اور بیٹیوں کی تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ساری بیٹیوں کو خوب پڑھایا۔ ایک بیٹی ڈاکٹر بن گئی۔ وہ سارے گھر کا فخر تھی۔ گھر میں چونکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی تھی اس لیے بیٹیاں پر اعتماد تھیں اور اپنی حفاظت کر سکتی تھیں۔ ڈاکٹر بیٹی پانچ سال لاہور میں میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہی اور مزید تگڑی ہو گئی۔ اپنی ذمے داریوں اور حقوق کو سمجھتی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو محکمہ صحت پنجاب میں نوکری مل گئی اور پوسٹنگ بھی لاہور ہی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ہو گئی۔

Read more

میں لبرل ہوں، غدار نہیں

میں ایک لبرل پاکستانی شہری ہوں۔ پاکستان کو ایک لبرل معاشرے اور لبرل ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں لبرل ازم کا پرچار کرتا ہوں۔ میرا پرچار کرنے کا طریقہ بھی لبرل ازم کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ میں اپنی رائے مسلط نہیں کرتا۔ میں پر امن مکالمے کا قائل ہوں۔ میں کسی چیز کو بھی مکالمے سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ مکالمہ ترقی اور بہتری کی ضمانت ہے۔ مکالمے میں قلم کا راج ہوتا ہے۔ کمزور دلیل

Read more

کیا ہمارے بچے اب 16 دسمبروں سے محفوظ ہیں

یہ ڈھاکہ اور پشاور والے 16 دسمبر کے قومی سانحے ہمیں کیوں دیکھنے پڑے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جو ہم نے مکمل سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنے آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا ہو۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ ہی بیرونی ہاتھ کا بہانہ استعمال کیا اور اپنے اندر کبھی نہیں جھانکا۔ جو پاکستان اور پاکستانی بچوں کی حفاظت کے ذمہ دار تھے وہ اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ ہی نہ کر سکے کہ اپنی غلطی تسلیم کر پاتے،

Read more

مولانا طارق جمیل کو فیملی پلاننگ کانفرنس میں شمولیت پر شرمندہ ہونا چاہیے

مولانا طارق جمیل صاحب سے بہت بڑا گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے بلائی گئی فیملی پلاننگ کانفرنس میں شرکت کی ہے اور اس سے تمام سچے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے۔

ہم سب پاکستانی مسلمان، خاص طور پر اوریا مقبول جان صاحب، زیادہ تر مدرسہ مالکان اور وہ ساسیں جن کی بہوئیں فیملی پلاننگ کی وجہ سے صحت مند اور قدرے سکھی زندگیاں گزار رہی ہیں یہ جانتے ہیں کہ فیملی پلاننگ حرام ہے، گناہ کبیرہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستانی ساسوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ بچوں کی تعداد سے بہو کا دف مارنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ فیملی پلاننگ کی وجہ سے بہو چند برسوں میں ہی فارغ اور صاف ستھری ہو کے بیٹھ جاتی ہے اور ساس اپنا زمانہ یاد کر کے کوسنے دیتی رہتی ہے جب اسے یہ سہولت اور اس کے نتیجے میں ملنے والی فرصت میسر نہیں تھی کیونکہ بچوں میں کہیں وقفہ ہی نہیں تھا۔

Read more

سو دن پر عمران خان کی لیک ہونے والی تقریر

غریب عوام مجھے افسوس ہے کہ تم غریب اور میرے فین ہی رہو گے۔ میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم بننے سے پہلے میرا خیال تھا کہ میں اس ملک کی حالت بدل کے رکھ دوں گا اور وہ بھی صرف چند دنوں میں۔ لیکن میرا خیال بالکل ہی غلط نکلا۔ اب جب کہ میں وزیر اعظم بن گیا ہوں تو مجھے پتا چلا ہے کہ نہ تو میں چلانے کے قابل ہوں اور نہ ہی یہ

Read more

اجی ریپ، شادی اور زنا بالرضا میں آخر فرق ہی کیا ہے؟

یہ جو نیا فساد ڈالا دیا ہے ناں ان بے غیرت، کافر سازشیوں نے عورت کی مرضی والا، اس سے ساری گڑبڑ ہو گئی ہے۔ ورنہ ہم مرد تو عورت پر شادی کا احسان دھرتے ہوئے بہت باریکیوں میں نہیں جاتے تھے۔ دلہن کی عمر کیا ہے؟ دولہا کی عمر کیا ہے؟ کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟ کیا وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں؟ کیا عورت شادی پر راضی ہے؟ شادی کرنا بھی چاہتی ہے یا نہیں؟

Read more

یہود و ہنود کی سازشیں، سچ بولنے کی ذمہ داری اور ایک سچی گواہی

وہ (میں زید حامد صاحب کی بات نہیں کر رہا) ہمارے ملک کے مایہ ناز عالم دنیا و آخرت اور تجزیہ نگار ہیں۔ اعلی حضرت میرے پسندیدہ سٹینڈ اپ کامیڈین بھی ہیں (پاکستانی سٹیج فن کاروں سے معذرت کے ساتھ کیونکہ فن کار مزاح نگاری کرتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے ) ۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر نجی ٹی وی چینل پر کامیڈی شو کرتے ہیں۔ میں ان کے ٹی وی شوز یو ٹیوب پر دیکھتا ہوں اور بہت محظوظ ہوتا ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک کلپ۔ ایک سے بڑھ ایک کھوکھلی اور بودی دلیل کو اپنی بے ربط گفتگو میں یوں پروتے ہیں کہ سننے والا بوکھلا جاتا ہے۔

ان کے اعتماد کی داد دینی پڑتی ہے۔ پھر ان کھوکھلی اور بودی دلیلوں کو اپنی اونچی آواز اور مصنوعی جذبات کا تڑکا لگاتے ہیں اور سامنے بیٹھے ہوئے نوجوان ٹی وی اینکر پر چھا جاتے ہیں۔ وہ نوجوان اینکر اسی تازہ اثر کے تحت سر خم تسلیم کرتا ہے اور ہمارے مایہ ناز عالم دنیا و آخرت کا ہی دیا ہوا اگلا سوال ایسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے جیسے اس نے یہ سوال خود تیار کیا ہو۔ اور ماہر تجزیہ نگار صاحب بھی کمال مہارت سے ہر سوال پر سرپرائز کا سا تاثر دیتے ہیں۔ اور اینکر کو موڈ کے مطابق ڈانٹتے ہیں یا خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

Read more

لوز کریکٹر لڑکی اور جنسی ہراسانی کی ایک ڈھیلی تفتیش

میڈم نے دفتر جوائن کیا۔ بڑی سوہنی تھی اور اسے اس بات کا پتا بھی تھا۔ میں نے بھی پہلی فرصت میں اسے بتایا تو وہ کہنے لگی کہ مجھے اپنے سوہنے ہونے کا علم ہے۔ میں اس کی اس بے تکلفی اور آزاد خیالی پر خوش تو ہوا لیکن تھوڑا سا ڈر بھی گیا۔ بڑی منہ زور اور منہ پھٹ تھی۔ دل ہی دل میں اسے زیر کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں شادی سمیت سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھا۔

میں نے بڑے خلوص سے یہ بھی سوچا کہ اس بیچاری کو یقینا مالی مجبوری ہو گی کہ نوکری کے لیے اسلام آباد چھوڑ کر اتنی دور آ گئی ہے۔ اور شادی تو اس کی بہرحال نہیں ہو سکی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں وہ اور اس کے گھر والے بہت پریشان ہوں گے۔

خیر دفتر کی روٹین چل پڑی۔ دفتر میں دل لگا رہتا۔ ہم کام بھی کرتے اور انہیں گھورتے بھی رہتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے گنگنانا بھی آ گیا۔ میں خوش تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے اندر بھی لڈو پھوٹتے رہتے تھے۔ اچھا بتاتا چلوں کہ تھی وہ میری باس۔ اندر پھوٹنے والے لڈو چھپاتی رہی اور نخرے کرتی رہی۔ مجھے تو پھر نخرے اچھے لگتے ہی تھے۔

Read more

مولانا سمیع الحق کا قتل اور نظریاتی مخالفین کا رد عمل

مولانا سمیع الحق کو دن دیہاڑے ان کے گھر میں تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا۔ یہ ایک انتہائی بھیانک جرم ہے اور میں اس جرم کی غیر مشروط اور بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ کسی بھی انسان کا قتل ایک ناقابل تلافی اور ناقابل معافی جرم ہے۔ نہ صرف قتل کرنا بلکہ قتل کی دھمکی دینا، کسی کو بھی واجب القتل قرار دینا، یا ایسی کسی تحریک، نعرے یا جماعت کی حمایت کرنا جو انسانوں کے قتل کو

Read more

شرماتے کیوں ہو وہ دکھاؤ جو سڑکوں پر سر عام ہو رہا ہے

اس بات پر زیادہ خوش نہ ہوں کہ ٹی وی والے آسیہ بی بی کے کیس میں ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مذہبی پارٹیوں اور گروہوں کے پر تشدد رد عمل کو نہیں دکھا رہے۔ میڈیا کو کنٹرول کرنا کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ ہنگامہ بھی میڈیا کو کنٹرول کرنے سے نہ تو ماند پڑے گا اور نہ ہی اس کا پھیلاؤ رکے گا۔ احتجاج تو اتنا ہی پر تشدد اور بڑا ہو گا جتنی ہم نے اس کے لیے زمین ہموار کی ہوئی ہے۔ مان تو اب سبھی گئے ہیں کہ ہم وہی کاٹ رہے ہیں جو کل بویا تھا اور شاید ابھی بھی بو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے تو یہ بیجائی بھی تازی تازی ہی کی تھی۔ تشدد کے علاوہ ہمیں احتجاج کا کوئی طریقہ نہیں آتا اور دھرمی تڑکا تو پھر اس کو خوب چار چاند لگاتا ہے۔ اس لیے میڈیا دکھائے یا نہ دکھائے، تشدد، جلاؤ، گھیراؤ، بربادی اور موت ہی راج کرے گی۔

Read more

پنجاب یونیورسٹی میں جنسی بے راہروی اور جمعیت

واضح رہے کہ اپنی بیوی کو گھر میں چولہے چوکے جیسے اہم کاموں میں مصروف نہ رکھنے، محلے کی نانیوں کے خوش خبری والے سوال کو یکسر نظر انداز کرنے اور اپنی بیوی کو یونیورسٹی بھیجنے کے تہرے جرم کی پاداش میں بے شرم شوہر کی پٹائی کے اس واقعہ سے اسلامی جمعیت طلبہ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

لڑکیوں کو صرف انتہائی مجبوری کی صورت میں ہی کالج یا یونیورسٹی تک جانا چاہیے۔ یعنی صرف وہ لڑکیاں جن کی شادیاں وقت پر نہیں ہو سکیں وہ یونیورسٹی جائیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ محلے دار، رشتہ دار اور ملنے جلنے والے سو سو سوال پوچھتے ہیں کہ ابھی تک شادی کیوں نہیں ہو سکی اور پھر گھر والوں کے لیے جواب دینا تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا بہانہ اچھا ہے۔ گو کہ اعتبار کوئی نہیں کرتا۔ سوال پوچھنے والے شریف لوگ آپ کے جواب کی بجائے اپنے اندازے پر ہی بھروسا کرتے ہیں۔

Read more