پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے ممالک میں کیا جاتا ہے، جو زرعی اعتبار سے کافی وسائل سے مالا مال ہیں۔ جب کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ، اب بھی دیہی علاقوں میں قیام پذیر ہے۔ ایسے میں دیہی تعمیر و ترقی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ زراعت کو جد ید خطوط پر استوار کرنا، دیہی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی ترقی، دیہی باشندوں کو مناسب روزگار کی فراہمی سے، ان کے معیار زندگی میں بہتری، دیہی علاقوں میں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی، یہ وہ تمام عوامل ہیں، جن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پائیدار ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور شہروں کی جانب نقل مکانی کے دباو میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی طرح چین بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے، جو اپنی متحرک قیادت اور مضبوط پالیسیوں اور اصلاحات کی بدولت آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اٹھا لیا جائے، ترقی کے اعتبار سے چین آپ کو سر فہرست نظر آتا ہے۔ چین کی ترقی میں عوام کی خوش حالی پر مبنی پالیسیاں اہم اساس ہیں۔ اس سفر میں شہری اور دیہی علاقوں کی یکساں تعمیر و ترقی کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے۔ رواں برس، چین غربت کے مکمل خاتمے سے ایک معتدل خوش حال معاشرے کی تکمیل کرے گا، جو یقیناً اقوام متحدہ کے دو ہزار تیس کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں شامل، انسداد غربت کے ہدف کی تکمیل کی ایک اہم کڑی ہے۔
Read more