اکتالیس سال قبل کی ایک سہ پہر کراچی سے ملتان براستہ موہنجو داڑو جانے والی پرواز میں مسافر بیٹھ چکے تھے۔ مجھے بائیں کھڑکی کے ساتھ والی نشست ملی تھی۔ میری پچھلی چند نشستیں خالی تھیں۔ مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد گزرنے کے باوجود دروازے بند ہوئے نہ سیڑھی ہٹی تھی۔ میں پی آئی اے کا ”ہمسفر“ رسالہ دیکھنے لگ گیا۔ اچانک پچھلی طرف ہلچل شروع ہوئی کچھ مسافروں کی آمد لگی ساتھ ہی بہت غصہ بھری تیز۔ اونچی۔ شستہ انگریزی میں ایک خاتون کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر مڑ کے دیکھنے لگا۔ ۔ ۔ خدایا کیا دیکھ رہا ہوں۔ راہداری میں دو پولیس افسر ان کے پیچھے ایک خاتون پولیس والی۔ اس کے پیچھے بی بی بے نظیر اور ابھی دروازہ کے پاس ہی کھڑی غصہ سے سرخ محترمہ نصرت بھٹو کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہ تھا۔ دستی سامان رکھنے کے بعد مسافروں کو میزبان لڑکی نشستوں پر بٹھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ممتاز بھٹو بھی آئے اور میرے بالکل عقبی نشست پر براجمان ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بیٹھے ان کے برابر والی دونوں دائیں جانب کی نشستوں پر کھڑکی ساتھ پورے کالی شلوار قمیض دوپٹہ والی نصرت بھٹو تشریف فرما ہوئیں اور اندر والی نشست پر سرخ و سفید پھولوں والی کالی قمیض اور کالی شلوار سفید دوپٹہ میں غم کی تصویر بے نظیر بیٹھ گئیں۔
Read more