برطانیہ سے پاکستان بذریعہ کار پہلا مسافر اور چوتھے مالے تک سیڑھیاں

پچھلے کوئی دو سال سے ہر چھ آٹھ ہفتہ بعد میرے موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ اور کان پہ لگاتے ہی بغیر رکے یہ فقرے سنائی دیتے ہیں۔ ”لئیق آئر لینڈ توں باری۔ لئیق ٹھیک ایں۔ بچے ٹھیک نیں۔ بیگم نوں میرا سلام کہیں۔ انوار دے منڈے نوں کہہ مینوں فون کرے۔ اچھا سب خیریت رہوے۔ میرے لئی دعا کرنا۔ السلام علیکم“ (لئیق آئر لینڈ سے غلام باری بات کر رہا ہوں۔ لئیق تم ٹھیک ہو؟ بچے ٹھیک ہیں؟

Read more

چور اور چوکیدار ۔۔۔

اکتوبر انیس سو ننانوے کے آخری دن۔ سرحدوں کے پاسبان کو سربراہ مملکت بنے تیسرا ہفتہ تھا۔ بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے واقع میری آٹو پارٹس دکان پر آس پاس کے چند دکاندار جمع ہو کر گپ شپ لڑاتے چائے کی چسکی اڑا رہے تھے۔ جناب جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے جواز یا عدم جواز پر بحث گرم تھی۔ مارکیٹ کا پٹھان چوکیدار اپنا ماہانہ وصول کرنے آ گیا اور کھڑا ہو کر سننے لگا۔

اچانک بولا۔ صاحب ہم ایک بات بولتا ہے۔ ان پڑھ ہے۔ برا نہ ماننا۔ دیکھو ہم آپ کی دکان کا چوکیدار ہے۔ ساری رات رکھوالی کرتا ہے۔ اب کل صبح آپ آؤ ہم تالے توڑ اس کا مالک بن آپ کی کرسی پر بیٹھا ہو۔ آپ کس قانون کے تحت ہم سے قبضہ واپس لو گے۔

Read more

اٹھارہ سالہ دشمنی: وطن عزیز میں معززین علاقہ نے صلح کروا دی

صبح ناشتہ کے بعد کمپیوٹر پر پاکستانی اخبار جنگ نکالا۔ تو انٹرنیٹ ایڈیشن میں فیصل آباد کی خبریں دیکھتے ایک ”خوش گوار“ خبر نے چونکا دیا۔ یہ چھبیس مارچ دو ہزار چھ کا دن تھا۔ خبر بتا رہی تھی کہ سابق آئی جی جیل خانہ جات ناصر وڑائچ اور معززین علاقہ کی کوششوں سے 209 رب کے دو خاندانوں میں اٹھارہ سالہ دشمنی ختم کرا کے صلح کروا دی گئی ہے۔ اور حاجی محمد ریاض کے قاتل ثاقب عرف ثاقی کو۔ جو پھانسی کا منتظر تھا۔ حاجی محمد ریاض کے ورثاء نے معاف کر دیا ہے۔

پاکستان کے اسلامی حدود کے قانون کے دیت اور قصاص کے اصول کے تحت یہ فیصلہ کتنا خوش کن تھا۔ قاتل کو معافی۔ دو خاندانوں میں صلح۔ ورثاء کی فراخ دلی۔ مگر مجھ پر جیسے بجلی گری ہو۔ میرا لقمہ حلق سے اترنے سے انکاری تھا۔ اور یا اللہ خیر یا اللہ خیر کی دعا نکل رہی تھی۔

Read more

جب مامتا پہچان جائے۔ قیام پاکستان سے تیس سال تک محیط کہانی۔

تقسیم ہند کا اعلان ہو چکا تھا۔ پاکستان زندہ باد اور جے ہند کے نعروں کے ساتھ بندے ماترم۔ ست سری اکال۔ اور اللہ اکبر کے نعروں کی دھاڑ میں مارو۔ لوٹو۔ جلاؤ۔ جانے نہ پائے کی چنگھاڑ شامل ہو چکی تھی۔ جالندھر ضلع کے ایک گاؤں کے باسی لطیف کی جواں سال بیوی اپنی پہلی زچگی کے لئے اپنے میکے۔ امرتسر کے ایک گاؤں آئی ہوئی تھی۔ خدا تعالی نے بیٹے سے نوازا۔ ”اقبال“ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ کہ ایک دن گاؤں والوں نے پاکستان جانے والے ایک قافلے کے ساتھ پاکستان کا رخ کیا۔ قافلے پر حملہ ہو گیا۔ لوٹ مار اور قتل و غارت کے ساتھ عورتوں اور لڑکیوں کو اٹھا لے جانے والے زیادہ سرگرم تھے۔

Read more

پی آئی اے کا مزیدار ناشتہ اور قبولیت دعا

اب یہ تو ہمارے لئے معمول کی بات تھی کہ جب ہم فیصل آباد سے اپنی موٹر پارٹس کی دکان کے لئے خریداری کرنے کراچی میں بندر روڈ ( اب ایم اے جناح روڈ ) پلازا سکوائر کی گلیوں میں واقع ہول سیل مارکیٹ جاتے۔ تو مختلف شہروں سے آئے دکانداروں سے ملاقات ہو جاتی۔ ساٹھ کی دہائی میں اکثر دکاندار انہی گلیوں میں اوپر فلیٹوں میں رہائش پذیر تھے۔ دوپہر دو گھنٹہ دکانیں بند کر کھانا گھر جا کھاتے۔

Read more

ٹورنگ ٹاکیز اور چوری چھپے دیکھی فلمیں

میرے گھر کے نزدیک اس سال خزاں ایک عجب رنگینی لئے ہے۔ سوکھتے پتے پیلے نارنجی ہلکے سرخ گہرے سرخ میں تبدیل ہو ایک آگ سی لگائے ہیں۔ اور پت جھڑ کی سرد ہوا اب نیچے گرا ایک رنگ برنگی چادر بنا چکیں۔ ان پتوں کی طرح جھڑتی عمر کے میرے جیسے لوگ چھڑی کا سہارا لئے جب ان کی رونق دیکھنے نکلے ان کے جوبن کی رنگینیوں کے متعلق سوچتے ہیں۔ تو جو "آرزوئیں پہلے تھیں جو غم سے حسرت

Read more

مٹی کی بے چین خوشبو کے بلاوے

گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں تپتی زمین پر کبھی یک دم گھٹا چھانے لگتی ہے امڈتے بادل آتے ہیں اور چھما چھم برکھا برسنے لگتی ہے۔ کھلے میدانوں پھیلے کھیتوں کی صاف۔ پیاسی مٹی پر پہلا چھینٹا پڑتے ہی جو سوندھی سوندھی خوشبو اٹھتی ہے اس میں چھپی چاشنی اک عجیب بے چینی لئے ہوتی ہے۔ اس میں بلاوے ہوتے ہیں۔ جو نہ جانے کب سے بچھڑی روحوں۔ اس پر کھیلتی رہی روحوں کا ہجر محسوس کرتے انہیں بلاوے بھیجتی رہتی ہیں۔ اپنے دیس میں۔ دور کے دیس میں۔ مرضی سے۔ مجبوری سے چلے جانے والے جب کبھی اس خوشبو کا بلاوا محسوس کرتے ہیں تو وہ اچانک۔ جانے کیسے پھر ملن کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔

کبھی بلاوے، سند یسے ہوتے ہیں

Read more

الاسکا میں پہلا پڑاؤ – مچھلی پلانٹ، ریچھ اور سیاح

تفریحی بحری جہاز اپنے مسافروں کے مکمل آرام کا خیال اور اعلی میزبانی کرتے علی الصبح رفتار آہستہ کر رہا تھا۔ سپیکر سے آئسی سٹریٹس ( ہونا ) الاسکا میں چند گھنٹے کے پڑاؤ کا اعلان کرتے مسافروں سے اپنے پاسپورٹ ساتھ لینے، چند گھنٹے کے قیام، یہاں دیکھنے یا تفریح کے مقامات اور سہولتوں کے متعلق بتاتے یہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ اتنے بڑے بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے کی سہولت اس چھوٹی بندرگاہ پر نہیں لہذا نیچے کی منزل سے موٹر بوٹس پر مسافروں کو ساحل تک پہنچایا جائے گا۔ اور اس کے لئے ہدایات جاری کر دی گئیں۔

لمبے پل سے گزرتے ساحل پہ پہنچ چکے تھے۔ بچوں نے دنیا کی سب سے بڑی اور تیز رفتار زیپلن کی سواری کا ٹکٹ لیا اور بس ان کو تیرہ سو فٹ اونچی پہاڑی چوٹی پر لے گئی جہاں سے ( چھ متوازی ) تاروں کے ساتھ لٹکتے سیاح سو کلو میٹر کی رفتار سے چند منٹ میں نیچے پہنچتے ہیں۔ ہم تو بمشکل چل سکنے والے ان لذتوں کو صرف دیکھنے والے تھے۔ ہم نے وہیں گھومتے رہنے کا پروگرام بنایا۔ اچانک نظر پڑی کہ ساحل کے بالکل ساتھ نیچے سے ڈبے سے اوپر جا رہے ہیں۔

Read more

جھیل سیف الملوک اور کینیڈا کی جھیلیں: پریوں کی پرواز

انیس سو تریسٹھ میں ناران سے جھیل سیف الملوک جانے والی سڑک پر ہم تین دوست اوپر سے جھانکتے پہاڑوں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ اونچی نیچی پہاڑیوں اور اڑتے گھٹتے بڑھتے بادلوں کے درمیاں بچپن کی پڑھی دیو مالائی کہانی۔ اور پھر ریڈیو پہ سنی میاں محمد اور محمد بخشا کے نام والے آخری مصرعہ پر ختم ہونے والے اس قصے کے ریڈیو پر ایک مخصوص دھن پر گائے حصے۔ اس جادوئی جگہ کو دیکھنے کے شوق کو مہمیز

Read more

یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر

شام کھانے کے بعد ہسپتال کے چکروں کی نقاہت کے باوجود جی پھر چاہا کہ کچھ پیدل چل لیا جائے۔ نکلتے نکلتے اندھیرا ہوچکا تھا۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرا ہاتھ بیٹی نے تھاما دھیرے دھیرے چلتے اپنے گھر کی عقبی سڑک پہ آئے تو اس ہمیشہ سے فسوں بھری سڑک پر۔ کہ شہر کے بیچ ہوتے بھی اسے بطور یادگار اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح کبھی اسد سلیم شیخ کی ”ٹھنڈی سڑک“ ہوا کرتی تھی۔ گیارہویں

Read more

چنیوٹ کی شیخ برادری میں خاندانی پہچان کا منفرد طریق

چنیوٹ شیخ برادری کاروباری میدان میں اس وقت پاکستان چھوڑ دنیا بھر میں معروف اور پھیلی ہوئی ہے۔ اور اس کامیابی میں پچھلے ڈیڑھ سو سال سے ”سفر وسیلۂ ظفر“ کے محاورہ پر عمل اور دل و جان سے محنت کی عادت اور کاروباری اسرار و رموز کے جلد سمجھ جانے کی صلاحیت کا گھٹی میں پڑے ہونے کا بڑا حصہ ہے تاریخی طور پر چنیوٹ شیخ برادری کا تعلق ہندوؤں کے کھتری یا کھشتری طبقے کی ان شاخوں سے

Read more

شکاگو کا ویلنٹائین ڈے قتل عام اور ماں کے ہاتھ کی بنی ایپل پائی

چند سال قبل میں اور بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق احمد ان کے گھر کے پچھواڑے چھوٹی سی ندی کنارے بنی بارہ دری میں بیٹھے چائے پیتے گپ مار رہے تھے۔ کہ بات خدا تعالی کی معجزانہ حفاظت کی طرف چلی گئی۔ اچانک بولے۔ کیا تم نے شکاگو کے ویلنٹائین ڈے قتل عام کا سنا ہے۔ عرض کیا سرسری پڑھا ہے, تفصیل نہیں معلوم۔ ۔ ۔ تو چلئے تھوڑی سی آگاہی آپ کو بھی دوں تاکہ اس کہانی کا پورا لطف

Read more

دل نادان کی گارڈ تبدیلی تقریب

پانچ اگست کو بعد دوپہر سنی بروک ہسپتال ٹورنٹو سے چار ماہ انتظار کے بعد پیغام ملنے کے بعد حسب ہدایت تیاری کرتے سات اگست جمعۃ المبارک گیارہ بجے آپریشن تھیٹر کے ساتھ والے کمرے میں پہنچنے کے حکم کے بعد ہم سوا دس بجے وہاں پہنچتے ہسپتال گاؤن پہن مزید تیاری کے لئے بستر پر لٹائے جا چکے تھے۔ فلپائنی سی لگنے والی نرس بستر کے گرد ریلنگ سے لٹکے پردہ کو کھولتے کیبن سا بنا اپنی خون کے نمونے نکالنے۔ سینے سے بال وغیرہ اتارنے۔

ای سی جی۔ بلڈپریشر اور دیگر ٹیسٹ لینے میں مصروف تھی۔ ساتھ والے کیبن سے آواز آ رہی تھی۔ اب آپ مکمل ہوش میں آچکے۔ آپ کو دو گھنٹے مزید احتیاطاً یہاں رکھا جائے گا۔ جس عزیز نے آپ کو گھر لے جانا ہے۔ انہیں فون کر دیں کہ ہسپتال قریب پہنچتے اطلاع دیں۔ آپ کو گیٹ پر پہنچا دیا جائے گا۔ اور پھر بعد از آپریشن احتیاط کا سبق دہرایا گیا۔ ( کوئی نہ ہو تیمار دار۔ کی عملی تصویر)

Read more

دل ناداں کی نئی نادانی، جب بیس منٹ میں تین مرتبہ دھکا سٹارٹ ہوا

اسی سالہ یہ شیخ لئیق احمد۔ برامپٹن کینیڈا چودہ اگست ناشتہ کے بعد گھر کے دفتر آ گیا۔ خاصا بہتر محسوس کر رہا تھا۔ پچھلے جمعہ ہی سنی بروک ہسپتال میں دل کی اکتالیس سال پر محیط ( جس عمر میں ہمارے اکثر جوان دوسری محبت دوسری شادی وغیرہ کی نادانی کرنے کی سوچتے ہیں ) نادانیوں ( کہ ہمیں پہلا ہارٹ اٹیک ہوا انیس سو اناسی میں ) نے دل کے ساتھ دو ہزار گیارہ میں اسی ہسپتال میں ایک پاسبان دل پیوند کیا گیا تھا یعنی پیس میکر۔ آئی سی ڈی۔ اب اس کی بیٹری کمزور ہونے پر دوسری مرتبہ نئی بہت جدید تیرہ سال مدت والی بیٹری والے۔ سی۔ آر۔ ٹی۔ ڈی نے ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔

آئی پیڈ پر پاکستان کی چھ بجے شام کی خبروں کا بلٹن دیکھتے ہلکا سا چکر محسوس ہوا۔ چند منٹ بعد دوبارہ کچھ لگا۔ اب میں حسب معمول قرآن مجید پڑھ رہا تھا تو پھر کچھ زیادہ محسوس ہوا۔ قرآن مجید الماری میں رکھتے جب واقع کچھ گڑبڑ لگی تو بیگم کو آواز دی اور آکے صوفہ پہ لیٹ گیا۔ اچانک سرر سرر کرتی دل کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہوئی اور ابھی بیٹھا تھا کہ دل کے اندر یوں دھماکہ ہوا کہ مجھے لگا جیسے بجلی کا ٹرانسفرمر پھٹا ہو اور آنکھوں میں چکا چوند ہوئی ہو۔

Read more

خون چوسنے والی جونک اور گرم دیسی گھی کا پیالہ

کبھی ہر سال چھ مہینے بعد بستی بستی پربت پربت گھومتا گاتا۔ کمر پر رنگ بر نگی کانچ کی چوڑیوں کی گٹھری لادے بنجارا یا کندھے سے گیلی مٹی میں کلبلاتی جونکیں مٹی کی کپڑے سے منہ بندھی گڑویوں یا پوٹلیوں سے بھرے جھولے لٹکائے جونک لگانے والا جوگی اور جوگن کسی گاؤں یا بستی کی گلی میں داخل ہوکر ”لے لو چوڑیاں“ یا جونکیں لگوا لو خون صاف کرا لو ”کی صدا لگاتا۔ یا پہلے آنے والے دو تین گھروں کی کنڈی کھٹکھٹا لیتا تو مانو لمحوں میں پورے گاؤں یا پوری گلی میں میلہ کا سماں بندھ جاتا۔

Read more

بارات ہوائی جہاز سے نکاح فون پر

بڑے میاں صاحب کے دل کے حالات کچھ گڑ بڑ ہو جانے اور ڈاکٹروں کے سفر سے اجتناب کے مشورہ کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ فیصل آباد سے اسلام آباد جانے والی چھوٹے میاں صاحب کی بارات بجائے کاروں اور کوچز کے صرف قریبی گھر والوں کی ہمراہی میں ہوائی جہاز پر لے جائی جائے۔ کہ ابھی موٹروے چالو نہ ہونے کی وجہ سے اور سڑک بھی کچھ خراب ہونے کی وجہ سے سفر بھی آٹھ نو گھنٹے کا تھا۔ خوش قسمتی سے پی آئی اے فوکر فلائٹ کے جانے اور واپسی کے اوقات بھی اسی دن تمام رسومات کی بآسانی تکمیل کے بعد واپسی کے لئے بہت مناسب تھے۔

Read more

سرداری لال کی گیس پلانٹ لاریاں۔ ۔ ۔

آج شاید چند ہی افراد پاکستان میں ہوں جن کو پتہ ہو کہ کبھی پہلے بھی گیس سے بسیں چلتی تھیں۔ یا انہوں نے ایسی بس میں سفر بھی کیا ہو.  انیس سو سینتالیس اکتوبر پاکستان پہنچنے کے بعد ہمیں یکی گیٹ لاہور میں مقیم میری بڑی بہن کے مختصر سے گھر میں مقیم ہوئے چند روز گزرے تھے کہ شام کے قریب میرے نانا پنڈی بھٹیاں سے تشریف لے آئے اور خوشخبری سنائی کہ وہ اپنے ساتھ سرداری لال

Read more

نانی کی داستان گوئی اور کھوئی والی گل

کمیپیوٹر پر اپنے پسندیدہ پرانے گانوں کی پلے لسٹ لگا کر میں نے کرسی کا رخ کھڑکی کی طرف کر لیا۔ شام کے دھندلکے میں برف سے ڈھکی سڑک۔ سڑک کے پار تالاب۔ ارد گرد گھومتی پگڈنڈی۔ ٹنڈ منڈ پودے موٹی برف کی تہہ میں دبے ہوئے اور گرتے ہوئے برف کے گالے عجب بہار دے رہے تھے۔ برف باری بوندا باندی میں بدل گئی۔ سڑک پر لگے اونچے کھمبے پر بلب روشن ہوگیا۔ گرتے ہوئے چمکتے موتی لگنے لگے۔

Read more

قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں کا ایک بڑے ڈاکہ اور عبرت ناک انجام

چند ہفتے قبل کریسنٹ گروپ کے میاں رفیع کے خدا کے حضور حاضر ہو جانے کی خبر پڑھی تو اچانک ذہن میں کچھ خبروں کی جھلکیاں جھانک گئیں۔

قیام پاکستان کے ابتدائی سال اس نوزائیدہ مملکت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے۔ اور صنعت و تجارت کے فروغ کی کوششوں کے سال تھے۔ غالباً انیس سو پچاس یا اکاون کا واقعہ ہے۔ چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے میاں حاجی محمد شفیع مرحوم کریسنٹ ٹیکسٹائل ملز کی بنیاد سرگودھا روڈ فیصل آباد پر رکھ چکے تھے۔ ملز چالو ہو چکی تھی۔ مگر مالکان کی کوٹھیاں اور مزدور کالونی شاید نہ بنی تھی۔ اور حاجی صاحب کا خاندان ابھی چنیوٹ ہی میں رہائش پذیر تھا۔ فیصل آباد کا لاہور سے سڑک کا رابطہ یا براستہ شرقپور جڑانوالہ تھا یا براستہ شیخو پورہ پنڈی بھٹیاں چنیوٹ۔

Read more

مبارک۔ لکی اور شبھ کے گورکھ دھندے میں الجھے پاکستان ہندوستان کے یوم آزادی

ہندوستان اور پاکستان دونوں کی آزادی کے اعلان۔ چودہ اگست سینتالیس ایک کا چودہ دوسرے کا پندرہ یا دونوں کا پندرہ اگست کو ہوا۔ ۔ ۔ مبارک دن۔ لکی ڈے۔ اور شبھ گھڑی کا گورکھ دھندا۔ جو کبھی آپ کے نظروں سے نہ گزرا ہو گا۔

تیرہ اور چودہ اگست انیس سو سینتالیس کی درمیانی شب۔ لاہور ریڈیو سٹیشن سے آخری مرتبہ۔ ”یہ آل انڈیا ریڈیو کا لاہور سٹیشن ہے“ کا اعلان نشر ہو تاہے۔ مصطفے علی ہمدانی سٹوڈیو نمبر پانچ میں ڈیوٹی سنبھالتا ہے۔ کلاک پر بارہ بجنے سے چند لمحے قبل ”آن ائر“ کو روشن ہوتا دیکھتا ہے۔ بار بجنے کے فوراً بعد اس کی جوش اور جذبات بھری آواز گونجتی ہے۔ ”السلام علیکم۔ یہ پاکستان براڈکاسٹنگ سسروس ہے۔ طلوع صبح آزادی“

Read more

1947ء ۔۔۔ پناہ گزین کیمپ کے چند روز

دو بہنوں تین بھائیوں اور خیمہ نما برقعہ میں ملبوس ایک خیمہ ہی کی طرح ہماری حفاظت بنے چاروں طرف دیکھتی ہماری والدہ ہمیں ساتھ لئے تعلیم الاسلام سکول پہنچ چکی تھیں۔ فوراً رضاکار خواتین ہمیں ایک کمرہ میں پہنچا آئیں۔ بڑے بھائی تیرہ سال کے ہونے کی وجہ سے مردانہ کیمپ (جو غالباً ملحقہ کالج کی عمارت میں تھا) میں موجود ہمارے بہنوئی کے پاس پہنچا دیے گئے۔ کمرے سے فرنیچر نکال پرالی بچھا دی گئی تھی۔ جہاں ہر

Read more

انیس سو سینتالیس: جب مہاجروں کے قافلے ہمارے ہمارے پچھواڑے جمع تھے۔ ۔ ۔

کوئی سہ پہر کا وقت ہوگا جب یک دم بھگدڑ اور سراسیمگی کے عالم میں ”گورداسپور ہندوستان کو دے دیا گیا“ کا شور مچاتے لوگ دوڑنا شروع ہوئے۔ ۔ ۔ ماں نے سب بچوں کو گلے لگایا اور پاس بٹھا سختی سے آئندہ خطرے سے آگاہ کرتے باہر جانے روکنے کے علاوہ فوری طور پر وہ جو ہم بچے گلیوں میں پاکستان زندہ باد۔ مسلمان لکھ روپے دا اک جوان۔ سکھ پیسے دا اک۔ ۔ ۔ قسم کے نعرے لگاتے تھے۔ سے منع کیا۔ ایک دو روز بعد ہی مضافات سے سکھوں کی لوٹ مار اور فسادات کی خبریں آنے لگیں۔

راتوں کو گولیوں کی آوازیں اور دور آگ کے شعلے دکھائی دیتے۔ قادیان کی انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر اور حفاظت کے سامان کے ساتھ ٹھیکری پہرہ اور مدافعت کے لئے جوانوں بچوں لڑکیوں اور عورتوں کو خصوصاً ٹریننگ کے بندوبست شروع کر دیے۔ مجھے یاد ہے گھر کے صحن میں پڑی مٹی سے ہم بہن بھائی روزانہ غلے بناتے۔ دونوں بڑے بھائی غلیلیں بنا رہے تھے۔ سارا گھر غلیل چلانے کی مشق کرتا۔ لکڑی کی سیڑھی لگا چھت پر گھڑا بھر کے غلے رکھ دیے گئے۔

Read more

اکتوبر 47ء کا واہگہ بارڈر اور ہرے کھٹے سنگتروں کی مٹھاس

اکتوبر انیس سو سینتالیس کی خنک شام واہگہ بارڈر پر کھائے ہرے کچے کھٹے سنگتروں کی مٹھاس۔
”اماں۔ اماں۔ پانی۔ ہائے پانی۔ ہائے میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں۔ ۔ ۔“ کافی رات گئے اندھیرے میں کھیت یا میدان میں بچھے بستر پر اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹے میں کراہ رہا تھا۔

” صبر بیٹا صبر۔ بس تھوڑی دیر۔ فوجی گئے ہوئے ہیں۔ ابھی پانی لے آئیں گے۔ ۔ ۔ دیکھو انہوں نے برتن ڈھونڈنے ہیں۔ پانی بھی کنویں سے نہیں لینا۔ اس میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ بس ابھی آیا۔“ میری ماں مجھے دلاسا دے رہی تھی۔

Read more

کلکتہ میں جلاؤ گھیراؤ اور کندھے پر سوار بچہ ۔۔۔1946 کا میرا وہ دن

کلکتہ میں جلاؤ گھیراؤ۔ ۔ ۔ اور کندھے پر سوار بچہ۔ انیس سو چھیالیس کا میرا وہ دن۔ ۔ ۔
کوئی آٹھ دس سال قبل ایک اجتماع میں لمبی سی میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اچانک میرے سامنے بیٹھے صاحب اپنے ساتھ والے سے فرمانے لگے۔ ۔ ۔ پتہ لگا۔ چوہدری انور احمد کاہلوں آج لندن میں وفات پا گئے۔

” وہ کون تھے“
اوہ۔ وہ مشرقی پاکستان میں شاید ایک شپنگ کمپنی کے چیئرمین تھے۔ اکہتر میں سب چھوڑنا پڑا۔ اب لندن میں تھے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے اونچی آواز میں نکلا۔ ”انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۔ ۔ اوہ میں نے تو ان کے کندھے پہ سواری کا مزا لیا ہوا ہے۔ ۔

Read more

میرے مہمان، گھر کے پچھواڑے صحن میں گھونسلے کے باسی۔ ۔ ۔

دو روز قبل میری بہو کہنے لگی۔ انکل یہ ہمارے ڈیک کے بالکل نیچے سے چوں چوں کی آوازیں سنائی دے رہیں۔ پتہ نہیں کیا ہے۔ مجھے درز سے چھوٹے کان بھی نظر آئے ہیں۔ زین کو پیچھے لے جانا ہوتا ہے۔ دیکھیں کوئی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔ کل شام اس کی یاد دہانی پر پیچھے گیا۔ تو ڈیک کے نیچے کڑی اور چھت کے درمیان ایک خوبصورت گھونسلہ تھا جس کے اندر سے چوں چوں کی آواز اور چونچ دکھائی دے رہی تھی۔ کہ اچانک لالی (گرسل) سے چھوٹا پرندہ اڑتا آیا۔

منہ میں چوگا تھا۔ گویا ماں تھی۔ گھونسلے سے کچھ فاصلے پہ بیٹھ گئی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی جھجک محسوس کرتے میں ذرا کنارے ہوا ہی تھا کہ گھونسلے کے ساتھ آئی۔ چوگا بچے کے منہ میں ڈالا اڑ گئی۔ میں نے لی ہوئی فوٹو بہو اور پوتی کو دکھائیں۔ تو خوشی سے کھل گئیں کہ چلو تین ماہ بعد گھر میں بن بلایا سہی، مہمان تو آیا۔

Read more

فوکر جہاز میں دو قیدی اور موہنجوداڑو ائرپورٹ پر گلاب کے اداس پھول

اکتالیس سال قبل کی ایک سہ پہر کراچی سے ملتان براستہ موہنجو داڑو جانے والی پرواز میں مسافر بیٹھ چکے تھے۔ مجھے بائیں کھڑکی کے ساتھ والی نشست ملی تھی۔ میری پچھلی چند نشستیں خالی تھیں۔ مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد گزرنے کے باوجود دروازے بند ہوئے نہ سیڑھی ہٹی تھی۔ میں پی آئی اے کا ”ہمسفر“ رسالہ دیکھنے لگ گیا۔ اچانک پچھلی طرف ہلچل شروع ہوئی کچھ مسافروں کی آمد لگی ساتھ ہی بہت غصہ بھری تیز۔ اونچی۔ شستہ انگریزی میں ایک خاتون کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر مڑ کے دیکھنے لگا۔ ۔ ۔ خدایا کیا دیکھ رہا ہوں۔ راہداری میں دو پولیس افسر ان کے پیچھے ایک خاتون پولیس والی۔ اس کے پیچھے بی بی بے نظیر اور ابھی دروازہ کے پاس ہی کھڑی غصہ سے سرخ محترمہ نصرت بھٹو کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہ تھا۔ دستی سامان رکھنے کے بعد مسافروں کو میزبان لڑکی نشستوں پر بٹھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ممتاز بھٹو بھی آئے اور میرے بالکل عقبی نشست پر براجمان ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بیٹھے ان کے برابر والی دونوں دائیں جانب کی نشستوں پر کھڑکی ساتھ پورے کالی شلوار قمیض دوپٹہ والی نصرت بھٹو تشریف فرما ہوئیں اور اندر والی نشست پر سرخ و سفید پھولوں والی کالی قمیض اور کالی شلوار سفید دوپٹہ میں غم کی تصویر بے نظیر بیٹھ گئیں۔

Read more