عورت مارچ کے کچھ سلوگنز پر ایک نامردانہ نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر اللہ اللہ کرکے 8 مارچ کا دن گزر ہی گیا اس دن کے لئے خواتین جتنی اتاولی ہو رہی تھیں اتنا ہی مردوں کو اس کے گزرنے کا انتظار بھی تھا۔ بظاہر تو دن کا بیشتر حصہ خیروعافیت سے گزر گیا سوائے اسلام آباد میں ایک چھوٹی سے مارا ماری کے جہاں ہمارے دینی بھائیوں کے ٹولے نے اپنی بہینوں کا استقبال پتھروں سے کر کے اپنے نظریات کا پرچار بھرپور کامیابی سے کیا۔ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق عورت مارچ چھت توڑ کامیابی حاصل کرنے میں ناصرف کامیاب ہوئی بلکہ ان کے پلے کارڈز نے جلتے بجھتے مردوں کے تن بدنوں میں مزید آگ لگاتے ہوئے ان کی اناوں کو دھواں دھواں کر دیا۔

پچھلے سال کے برعکس اس برس کے عورت مارچ کے شرکا نے اپنے پلے کارڈز پر “آو کھانا ساتھ بنائیں، اپنا موزہ خود ڈھونڈو، کھانا خود گرما کرلو، لو میں صحیح بیٹھ گئی” جیسے سیدھے سادھے سلوگنز سے کافی حد تک پرہیز کیا شاید ان کو ادراک ہو گیا تھا کہ مرد ذات وہ ہستی ہے جس کی سوچ کسی شہ کے حقیقی پہلو سے زیادہ اس کی ذومعنویت پر ٹھہرتی ہے۔ پر میرا جسم، میری مرضی جیسے نعرے پر نا صرف خواتین ثابت قدم رہی ہیں بلکہ اس کو مرکزی نعرے کی حیثیت بھی مل گئی۔

شاید کچھ نرم دل خواتین کا خلیل الرحمان قمر اور اوریا مقبول جان جیسے بے شمار مردوں کی ذہنیت کی زبوں حالی پر دل پسیج گیا تھا اور انہوں نے میرا جسم، میری مرضی جیسے قوی نعرے میں تھوڑی تحریف کر کے ”ان کا جسم، ان کی مرضی“ اور ”میری بیٹی، میری مرضی“ کے ذریعے ان لوگوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی جن کی سوچ کا دائرہ خواتین کی ٹانگوں تک محدود رہتا ہے۔

اگر دیگر سلوگنز پر ”نامردانہ“ نظر ڈالی جائے تو شروع اس سلوگن سے کرتے ہیں جس میں ہم مردوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ”مسئلہ ہمارے پوسٹر کا نہیں، مسئلہ تمہاری سوچ کا ہے“۔ ویسے تو بجا فرمایا گیا ہے لیکن ان خاتون کو کیسے سمجھایا جائے کہ ہم مردوں کے لئے دوسروں کے پوسٹر پر گند ڈھونڈنا اپنی سوچ سے گند ڈھونڈنے سے زیادہ سہل ہے۔ ایک خاتون کے پلے کارڈ پر یہ شکوہ نظر آیا کہ ”لڑکا کرے تو اللہ پوچھے گا، لڑکی کرئے تو پورا محلہ پوچھے گا؟”

ان خاتون سے عرض ہے کہ یہ تو محلے والوں کی نیکی ہے کہ لڑکی سے پوچھ لیتے ہیں ورنہ آج کل کے مفاد پرست دور میں کون کس کا پوچھتا ہے۔ ایک بپھری ہوئی خاتون نے مردوں کو مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ“ یہ سڑک تیرے باپ کی ہے تو میری ماں کی بھی ہے ”ان خاتون کی تصحیح کی جاتی ہے کہ سڑک کی کسی باپ کے ہونی کی نشانی اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے ملک میں تمام سڑکیں نواز شریف کی ہی کہلائی جاتی ہیں۔

ایک خاتون نے اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کچھ ایسا کیا کہ“ اسلام نے تو حقوق دے دیے مسلمان کب دیگا ”۔ ان خاتون کے لئے جواب یہ ہے کہ عام طور پر ایک اچھا شریف النفس انسان عاجزی اور انکساری میں اپنے آپ کو اچھا مسلمان کہلانے سے ہچکچاتا ہے۔ ایسا بندہ جو اچھا مسلمان کہلانا نہیں چاہتا وہ آپ کو حقوق دے نہیں سکتے اور برا مسلمان تو مسلمان کہلانے کے قابل نہیں۔ الٹا سوال ان بی سے پوچھنا چاہیے آپ کس سے مخاطب ہیں۔ ایک خاتون نے فصیحانہ اندازمیں فرمایا ”ماں بہن تیری عزت بھی، تیری گالی بھی“۔ ان محترمہ سے مودبانہ عرض ہے کہ ہم عزت تو اپنے باپ کی بھی نہیں کرتے اور معاشرے میں آدھی گالیاں بطور کمپلیمنٹ نکالی جاتی ہیں، تو پھر آپ کو تو کمپلیمنٹ کا حصہ بننے پر خوش ہونا چاہیے؟

ایک پلے کارڈ میں مردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ”مجھے حیا سکھانے سے پہلے اپنی ہسٹری دکھاو“ ان خاتون سے عرض ہے کیا آپ کو کیا نہیں معلوم کہ ہسٹری کا مضمون کتنا دشوار ہوتا ہے؟ ¬¬ ”جایئداد سے حصہ ہمارا حق“، ”بھٹوں سے جبری مشقت ختم کیا جائے“ جیسے مطالبات تو کھلم کھلا مردوں کے ذہنی اور جسمانی استحصال کے زمرے میں آتی ہیں۔ جن سے خواتین کو اجتناب کرنا چاہیے تھا۔

ایک خاتون کو تو شاید معروف ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی آخری قسط پسند نہیں آئی تو وہ گھر سے لکھ لائیں ”ہر وہ شخص ذلیل ہے، جس کا ہیرو خلیل ہے“ ان خاتون کو جدید ٹیکنالوجی خصوصی ریموٹ کنڑول سے چینل بدلنے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسے ذلیل کو ذلیل بتانے کی ہر گز ضررورت نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *