کراچی کے بادشاہ گر بنام عوام اور بھتہ
پچھلے تیس سال، کراچی میں ہمارا بادشاہ گری کا سیاسی تجربہ بہت ہی کامیاب رہا۔ اس لئے اسے جاری رکھا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے بادشاہی اور بادشاہ گری کے باقی تمام تجربات بہت کامیاب رہے ہیں اور وہ بھی ہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام اور سیاستدانوں کی ایک قلیل تعداد، جو ہمارے اس تجربے سے مفید ہوئے یا وہ ہمارے دوسرے تجربات، پالیسیوں اور ہماری موثر ٹویٹر سروس کی وجہ سے مکمل آگاہ ہیں، وہ تو ہماری شاندار کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے۔ اور ہمارے اسی تجربے کو کراچی میں دہرانے کے حامی بھی ہیں۔ لیکن عوام کی ایک بھاری اکثریت اور کچھ سیاست دان جو ہماری شاندار ٹویٹر سروس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا جنہیں ہم نے گھاس نہیں ڈالی وہ واویلا مچاتے رہتے ہیں۔ اور کراچی میں لاشوں کی تعداد اور امن یا کاروبار کی بربادی کو بنیاد بنا کر ہماری بادشاہی اور بادشاہ گری کے فن کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کی باتیں بد نیتی پر مبنی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو اس بد نیتی کے ساتھ وطن دشمنی اور غداری کے جرم (الزام نہیں ) کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور آہنی ہاتھوں کا قانونی ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔
Read more



