انصاف چاہو، انصاف مانگو، انصاف پہ لکھو


Aamir-Hazarviآپ کون ہیں ؟کیا چاہتے ہیں ؟مجھے اس سے کوئی غرض نہیں..آپ جمہوریت کے حامی ہیں یا خلافت کے..مجھے اس سے بھی کوئی سروکار نہیں…مجھے خلافت انصاف نہ دے سکے تو میں خلافت پہ چار حرف بھیجوں گا مجھے جمہوریت انصاف نہ دے میں اس پہ تھوکوں گا..ہاں جمہوریت کے دعویدار انسانیت کے قتل پہ خاموش ہونے کے باوجود جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپے گیں تو میری نظر میں خاک کے برابر بھی حیثیت کے مستحق نہیں ہونگے…اگر خلافت کے دعویدار قتل عام پہ آنکھیں بند کر کے خلافت خلافت کی تسبیح پڑھیں گے تو میں یہ دانے بکھیرنے کی کوشش کروں گا…

مجھے ان بحثوں سے کچھ بھی لینا دینا نہیں.. مجھے لینا دینا ہے تو انصاف سے…اس لیے کہ انصاف میرے ملک سے ختم ہوتا جارہا ہے.. یہاں قاتل سکون سے ہوتے ہیں یہاں مقتول مضطرب ہوتے ہیں…یہاں قانون کمزور پہ ہنستا ہے اور طاقت ور کے سامنے بچھ جاتا ہے…یہاں وردی کا رعب اس پہ ڈالا جاتا ہے جو مجبور ہے ..جو مغرور اور پیسے والا ہو وردی اسکی دعوت کرتی ہے…

یہاں پیسے کے بل بوتے پہ آپ دلائل خرید سکتے ہیں.. دلائل چھوڑیں منصف خرید سکتے ہیں..یہاں ہتھکڑی بازو دیکھ کے لگتی ہے…اب بھی کچھ نہیں بدلا…پہلے کام سرعام ہوتے تھے اب گھروں میں آرام سے ہوتے ہیں…اب بھی پیسہ چلتا ہےپیسہ….تبدیلی کا خواب بکھر چکا ہے میرے سپنے ٹوٹ چکے ہیں امیدوں کا قتل ہوچکا ہے پولیس پہلے سے زیادہ بےحس ہو چکی ہے….ایبٹ آباد کا سانحہ ہوا عنبرین کا کیس پھر پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور مانسہرہ میں جس لڑکی کا ناک کاٹا گیا جس کے بال کاٹے گئے جس کے جسم کو داغا گیا اسکا کیس سرد خانے میں پڑا ہوا ہے.. چلیں ان دونوں واقعات کو جانے دیں…

ابھی کل کی بات ہے شنکیاری کے گاؤں مکڑیا میں لوگ جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد گئے تو ثمینہ لڑکی کا شوہر اپنے دوستوں کے ساتھ آیا اور اپنی بیوی کو اغوا کر کے ویرانے میں لے گیا چھ بندے گھسیٹ کر ایک نہتی لڑکی کو لے کر جا رہے ہیں..مسجدوں میں کبریائی کی صدائیں ظالموں کا کچھ نہ بگاڑ سکیں….اس سے بڑا ستم دیکھیں کچھ لوگوں نے شنکیاری پولیس کو فون کیا کہ جناب لڑکی کو مارنے کے لیے لے کر جایا جارہا ہے تو پولیس کا جواب تھا ایسے واقعات روز ہوتے ہیں…

جب خواتین مشتعل ہوئیں تو پولیس نے دو جوان بھیجے ایک راستے میں بے ہوش ہو گیا دوسرا گن رکھنے کے باوجود ملزمان کو روک نہیں رہا تھا…ثمینہ اور اس کا خاندان مسلسل دھمکیوں کی زد میں تھا ڈی پی او مانسہرہ کے کہنے کے باوجود شنکیاری پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کی…

قاتلوں کی دیدہ دلیری دیکھو کہ پولیس کی موجودگی میں لڑکی کو گولیاں ماری گئیں اور پھر جب وہ تڑپ رہی تھی تو اسے پتھر مار مار کے قتل کیا گیا….لوگوں نے پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کیا لیکن بے سود..

ثمینہ کا خون روڈ پہ گر رہا تھا جہاں اسکی لاش پڑی تھی وہاں ڈھیر سارا تازہ خون جمع ہوگیا تھا ہمارے ہاں بیوی کے روٹھنے کی سزا قتل ہے… اور پھر جب ہسپتال گیا تو وہاں ڈاکٹر نام کی چیز ہی موجود نہ تھی ایمرجنسی میں بھی کوئی بشر ذات نہ تھی..

دو گھنٹے تک لاش یونہی پڑی رہی اور پھر لاش مانسہرہ لائی گئی….

سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟اچھا یہ کب تک رونما ہوتے رہیں گے ؟کب تک بابل کی دعائیں ردائیں تار تار کرواتی رہیں گی؟ماں باپ کے گھر روٹھ کے آنے کی اتنی بڑی سزا؟

یہ ناکامی ہے سسٹم کی… یہ ناکامی ہے قانون کی…یہ ناکامی ہے اخلاق کی…یہ ناکامی ہے عدلیہ کی..یہ ناکامی ہے وردی کے رعب کی…یہ ناکامی ہے وعظوں کے وعظ کی. یہ ناکامی ہے لکھنے والوں کی تحریروں کی.. یہ دور ناانصافی کا ہے یہ دور جبر کا ہے یہ دور پتھر کا ہے یہ دور جنتوں کے قتل کا ہے…اس دور میں بحثیں ہوں جمہوریت یا خلافت پہ تو عجیب سا لگتا ہے…اس دور میں بحثیں ہوں ریاست کے بیانیے پہ تو ہنسی ہے اس دور کے سیکولر ہیں یا مذہبی اکثر غافل ہیں…غفلت کی چادر اتارو…انصاف کے لیے کھڑے ہو جاؤ. ..انصاف مانگو انصاف چاہو انصاف پہ لکھو…اس لیے کہ کوئی بھی معاشرہ کفر پہ چل سکتا ہے ظلم پہ نہیں..


Comments

FB Login Required - comments