احمد مشتاق کی غزل ۔ اوراقِ خزانی تک


ghafferجب آپ پہلی بار احمد مشتاق کو پڑھتے ہیں، تو اس سے قبل آپ تک اس کے بڑا اور اہم شاعر ہونے کا تذکرہ پہنچ چکا ہوتا ہے، اسی لیے آپ اس کی شاعری تلاش کر کے پڑھتے ہیں۔ متعارف کرانے والے نے اس کے دو چار مقبول اشعار بھی آپ کو سنا دیے ہوتے ہیں۔آپ ایسے ہی شعروں کی تلاش میں پوری کلیات پڑھ جاتے ہیں، بہت مایوسی ہوتی ہے۔وہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ملتا۔ دوسری بار جب آپ پڑھتے ہیں اور اگر آپ زیرک قاری ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ احمد مشتاق نہایت محدود سطح پر چند الفاظ (مکان، گلی کوچے، دریا، پانی، کشتیاں، وغیرہ) اور ان سے جڑی ہوئی کچھ باتوں کو دہرائے چلا جا رہا ہے۔ جیسے اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔ آپ اپنی پہلے سے قائم کردہ رائے کو ہی درست مانتے ہوئے احمد مشتاق کی شاعری اٹھا کر ایک جانب رکھ دیتے ہیں۔ تیسری بار پڑھنے پر احمد مشتاق کی شاعری کی گِرہ کا کوئی سِرا آپ کے ہاتھ میں آ جائے توآپ کا اس کے حصار میں آنا لازم ہو جاتا ہے۔ اس کی باتیں، اس کا دکھ، اس کی شاعری کی اداس کرتی ہوئی فضا آپ کو اس کے خالص پن اور کھرے جذبوں کے اظہار کی وجہ سے اپنی گرفت میں لیتی ہے، مگر اس تیسری بار کی خواندگی کا اعزاز کتنے لوگوں کے حصے میں آتا ہے؟ یہی احمد مشتاق کی شاعری کا المیہ ہے۔ احمد مشتاق کی شاعری پڑھتے جائیے، یہ اپنا کوئی سِرا آپ کو نہیں پکڑائے گی مگر جب اس کی شاعری کے چند ایسے اشعار پر آپ رکیں گے جہاں وہ اپنی محبت کے تجربے کا براہ راست اعتراف اور اظہار کرتا ہے تو آپ کی نگاہ میں اس کی شاعری کا تناظر بدل جاتا ہے۔ وہ مکان، گلیاں، دریچے اور وہ دریا، پانی، پیاس …. کے الفاظ آپ پر ایک اور زاوےے سے منکشف ہونے لگتے ہیں مگریہ تناظر احمد مشتاق کی ذات سے باہر نہیں نکلتا۔ اس کے ہاں جگہ جگہ محبت کا یہ تجربہ بار بار ایک نئے ملبوس میں آ جاتا ہے۔ احمد مشتاق کی شاعری میں جسے آپ معانی و مفہوم کی تکرار سمجھتے رہے ہیں، وہ تو اس کی اصل، سچی اور صاف ستھری زندگی کے اوراق پر بنائی گئی ایک ہی شخص یا اس سے جڑی ہوئی تصویریں ہیں۔ ایک پینٹر جب ایک ہی چہرے کو بار بار پینٹ کرتا ہے تو وہ ہر بار ایک نئی بات، ایک نیا تاثر، ایک نیا زاویہ اپنی پینٹنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں شاعر کو بھی اس بات کی اجازت دینا چاہیے کہ وہ ہر ہر شعر میں اپنے محبوب سے جڑی ہوئی باتوں کو بار بار پیش کرے۔ یہی اس کی محبت اور اس کی محبت کا اخلاص ہے۔ اپنی شاعری میں اپنی محبت کا اعتراف تو احمد مشتاق خود کرتا ہے، اس کے بعد تو کسی اور جواز کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ کسی قسم کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ احمد مشتاق کی شاعری کو اس کی محبت کی کہانی سے الگ کر کے کچھ اور سمجھا جائے

احمد مشتاق کے ”مجموعہ“( مطبوعہ 1966ئ) اور ”گردِ مہتاب“ (مطبوعہ 1981ئ) سے لے کر ”اوراقِ خزانی “(مطبوعہ 2015ئ) تک کے شعری سفر میں اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جس نے اپنی زندگی کا طویل سفر تنہائی میں معاشرے کے ایک خوف زدہ فرد کی طرح گزارا ہے جس کا نہ تو اپنا کوئی متحرک کردار زندگی میں رہا ہے اور نہ اس کے ارد گرد زندگی بھاگتی دوڑتی رہی ہے۔اس کا اظہار شاعر اپنے اس شعر میں بھی کرتا ہے کہ ہمیں کسی نے گھما کے اتنی دور لا پھینکا ہے، کہ اب لالہ و گل بھی سوائے تسلی کے اور کچھ نہیں ہیں (اوراقِ خزانی۔ص 45-46)۔ زندگی سے خوف زدہ یہ شخص اب آنکھیں کھول کر دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ کسی قسم کی تبدیلی کو قبول کرنے میں سکون محسوس نہیں کرتا:

مدتیں ہو گئیں دیکھا ہی نہیں اس کی طرف

اسی ڈر سے کہیں بدلا نہ ہوا لگتا ہو

انتظار حسین کو احمد مشتاق کی شاعری میں ”بادل، آسمان، دریا، اولاً اپنی ساری شادابی اور پاکیزگی کے ساتھ بادل، آسمان اور دریا ہی نظر آتے ہیں“(ص 32) اور جب احمد مشتاق یہ کہتا ہے ، ”کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں “ تو انتظار حسین کے” تصور میں سچ مچ کے پرندے اور سچ مچ کے گھونسلے ابھرتے ہیں“ (ص23)۔ اسی طرح خامشی سے بہتا ہوا پانی انتظار حسین کے نزدیک ”خالص پانی“ ہی ہے۔”مشتاق کے یہاں آسمان آسمان ہے اور موسم سچ مچ کے موسم ہیں“۔یہ وہ نقطہ ہے جہاں انتظار حسین ناصر کاظمی اور احمد مشتاق کی غزل کوجدید اردو غزل کی روایت سے الگ مانتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں شاعری میں اشیا کو اشیا کے طور پر قبول کرنا چاہیے (نہ کہ علامت کے طور پر) تا کہ” ہماری غزل کو موسموں کا بھی تو پتا چلے“۔انتظار حسین کا نقطہ نظریہ ہے کہ اگر پری پیکر کا نام اور اتا پتا پوچھیں گے تو وہ لوٹ پوٹ ہوکر فاختہ بن جائے گی اور اُڑ جائے گی۔ وہ احمد مشتاق کی شاعری کو اس کا نام پوچھے بغیر پڑھتے ہیں۔ احمد مشتاق کے تجربے سے انہیں یہ پتا چلاہے کہ نظریاتی شاعری کا چھوٹتے ہی اپنا نام بتا دینا دراصل شاعر، نقاد ، قاری اور دانشور کے لےے سہولت پیدا کرتا ہے اس لےے اس ڈھب کی شاعری جلد قبول ہوتی ہے اور جلد فراموش ہو جاتی ہے۔(ص51)

سوال ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر احمد مشتاق کی شاعری میں ہے کیا؟ اگر آپ احمد مشتاق سے پوچھیں گے، وہ ہر گز پکڑائی نہیں دے گا۔ اگر اس کے ان دوستوں سے پوچھیں گے جو اس کی اوائلِ عمری کی محفلوں کے امین رہے ہیں، وہ بھی کچھ نہیں بتائیں گے، مگر یہ سچ ہے کہ وہ جانتے ضرور ہیں۔ میں احمد مشتاق سے کبھی نہیں ملا، میں اس کے دوستوں سے بھی کبھی نہیں ملا، مجھے اس کی زندگی کے شب و روز کے بارے بھی کچھ نہیں معلوم ، مگرایک شاعر ہونے کے ناتے مجھے اتنا معلوم ہے کہ ایک شاعر کے شعری تجربے کو جاننے کے لیے ایسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے شاعر کی شاعری کا مطالعہ ہی کافی ہوتا ہے۔ احمد مشتاق کے ہاں ابتدائی عمر میں ہی محبت کے ایک تجربے کے شواہد ملتے ہیں۔اور اس کا اختصاص یہ ہے کہ اس نے اپنے اس تجربے کو خالص رکھنے کے لیے اپنے ہم عصر شعرا کی محبتوں کے کچے پکے تجربات کا کھوٹ شامل نہیں کیا۔ پانی، دریا اور کشتیوں کا تعلق اس محبت کے تجربے کے ساتھ براہ راست جڑتا ہے جب کہ مکان ، گھر ، گلیاں وہ منظر نامہ ہے جہاں احمد مشتاق اپنی اس محبت کے احساس کے ساتھ گھومتا پھرتا رہا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان مکانوں، گھروں اور گلیوں کے کسی کردار کے ساتھ اس کا واسطہ پانی ، دریا اور کشتیوں کے محلِ وقوع میں پڑا ہو۔لاہور کی گھر ، گلیاں، کوچے، کٹرے اور دریائے راوی کے کنارے کشتیوں کی اس عہد میں موجودگی ، اس دور کے بہت سے لوگوں کی زندگی کے تجربے کا حصہ بنی ہو گی۔ انتظار حسین نے” کلیات ِ احمد مشتاق“ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ جب احمد مشتاق نے اپنی ایک غزل میں” فٹ پاتھ“ کا لفظ استعمال کیا تو اس کو دوستوں نے خوب داد دی کہ تم نے تغزل سے بغاوت کرکے آج کی زندگی سے رشتہ جوڑا ہے تو وہ اس ستائش پر بِدک گیا۔ انتظار حسین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ احمد مشتاق انہی’ معروف و مقبول برانڈ ز‘کی طرف لوٹ آیا ہے جن کو اس وقت اس نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، درج ذیل اشعار دیکھےے جہاں ’فٹ پاتھ‘ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔

فٹ پاتھ پہ بھی سونے نہ دیا ترے شہر کے عزت داروں نے              ہم کتنی دور سے آئے تھے اک رات بسر کرنے کے لےے (اوراقِ خزانی)

اب ان کے بے نوا اوراق فٹ پاتھوں پہ بکھرے ہیں                             مقیّد تھیں کبھی شہزادیاں جن داستانوں میں (کلیات احمد مشتاق)

فٹ پاتھ کی دیوار سے چمٹے ہوئے پتے                               اک شام ہواﺅں کو درختوں پہ ملے تھے (کلیات احمد مشتاق)

بہت جی چاہتا تھا کل تری آواز سننے کو                              تری آواز آئی تو رسیور رکھ دیا میں نے (اوراقِ خزانی)

احمد مشتاق کی شاعری میں ’پانی‘ اور اس سے جڑے ہوئے ” دریا، تشنہ لبی اورپیاس“ جب کہ مکان اور اس سے جڑے’ گلیاں، گھر، دریچے‘ ایسے الفاظ بار بار آ جاتے ہیں۔’مکان‘ کے حوالے سے انتظار حسین لکھتے ہیں ، ”وہ سیدھے سچے مکان ہیں، برجیوں والے مکان، کھڑکیوں اور دالانوں والے مکان، …. اصل میں ان غزلوں میں پورے ایک شہر کا نقشہ ابھرتا ہے۔ دور سے دیکھو تو اس کی صرف برجیاں نظر آئیں گی، قریب آئیے اور دیکھیے کہ یاں گلیوں کا ایک جال بچھا ہے اور چھوٹے بڑے مکان کھڑے ہیں…. مشتاق غزل کو بام سے اتار کر کمرے میں لے آیا ہے اور ہاں گلی جس کا ذکر غزل میں بہت رہا ہے، مگر وہ گلی سے زیادہ گلی کی تجرید ہے، مشتاق کے یہاں گلی جیتی جاگتی سانس لیتی نظر آتی ہے۔“ (ص 18)۔مکان، گلیاں ، شہر، دریچے کے حوالے سے اشعار دیکھیے….

کیسے نفیس تھے مکاں، صاف تھا کتنا آسمان       میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں سے لائیے

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے            وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

نکلے تھے کسی مکان سے ہم                               روٹھے رہے اک جہان سے ہم

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا             دلِ مشتاق! ٹھہر جا وہی منظر آیا

یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں            مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ہے

کیسے مکاں اجاڑ ہوا کس سے پوچھتے                چولہے میں روشنی تھی، نہ پانی گھڑے میں تھا

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں               بجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں

انتظار حسین نے احمد مشتاق کی شاعری میں ’ دریا‘ کو ’ وقت‘ کا استعارہ بنا کر حوالے کے چند اشعار دے کر خود کو اس کی گہری معنویت سے بری کر لیا ہے، کیا یہ کافی تھا؟ میرا خیال ہے ایسی بات نہیں ہے۔احمد مشتاق کی شاعری میں’ دریا ‘نہیں بل کہ’پانی‘ کا تذکرہ ہے جو بار بار اپنی شکل بدل کر اشعار میں ڈھل جاتا ہے۔ ’دریا‘ بھی ’ پانی‘ ہی کی ایک شکل ہے اور یہی وہ پانی ہے کہ جو خامشی سے بہتے دیکھ کر احمد مشتاق کہتا ہے کہ اسے دیکھیں یا اس میں ڈوب جائیں۔اس کے ہاں پانی کو کئی غزلوں میں ردیف کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے؛

سب اگلے پچھلے سمے لوٹ آئے پانی میں           ترے خیال نے جادو جگائے پانی میں

دیکھیے ہوتی ہے کب نشوونما پانی کی              ہم نے اک اشک سے ڈالی ہے بنا پانی کی

 اجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانی     اک عمر کا پیاسا ہوں، مجھ کو بھی پلا پانی

بتا رہا تھا کوئی آشنائے آبِ رواں           کہ جنتیں ہیں عجب زیرِ پائے آبِ رواں

احمد مشتاق کی شعری کائنات کے تناظر میں اس وقت وسعت آئی جب اس نے اپنے محبوب کے ساتھ درو دیوار، گھر، گلیوں کو بھی شامل کر لیا اوراپنے تجربے کا حصہ بنا کر پیش کرنے لگا۔ پہلے تو اس مکان پر احمد مشتاق کو چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر دکھائی دیتا ہے۔ یہ مکان بہت اجلا اور صاف لگتا تھا مگر جب مکین نے اپنا مکان تبدیل کر لیا، اور نئے مکان کا پتہ بھی نہ چلا کہ وہ اب کہاں جا مقیم ہوا ہے تو احمد مشتاق اس کی تلاش میں شہر کی گلیوں میں پھرتا دکھائی دیتا ہے، اسے یقین ہے کہ ان ہی گلیوں میں اس سے دوبارہ کہیں ملاقات ہو جائے گی۔ محبوب کے مکان کی تبدیلی کے سانحے کے پیچھے ممکن ہے احمد مشتاق کی اسی محبت کاعمل دخل رہا ہو۔ جب اپنے محبوب کا پتہ نہیں چلتا تو احمد مشتاق اس کے چھوڑے ہوئے خالی مکان میں جا کر اکثر وقت گزارنے لگتا ہے جہاں وہ کئی سوال اٹھاتا ہے، خود کلامی کرتا ہے، جس کے درو بام اس کی سانسوں سے مہکتے تھے، اسی مکان سے ، جانے والے کے بارے میں پوچھتا ہے۔ پھرتعجب سے کہتا ہے کہ وہ خود تو نئے مکان میں منتقل ہو گیا ہے مگر اس کی یاد پرانے مکان میں رہتی ہے۔کبھی کہتا ہے کہ جن مکانوں کو ان کے مکین آباد کرنے نہیں آتے تو وہ مکان ان کی یاد میں روتے رہتے ہیں۔اپنی شاعری میں اپنی محبت کا اعتراف تو احمد مشتاق خود کرتا ہے، اس کے بعد تو کسی اور جواز کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔

تمام عمر کبھی جس سے کھل کے بات نہ کی        ہر اک سخن میں اسی سے مرا خطاب رہا

میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا                               ایسا شخص بھی مر سکتا ہے

انوکھی چمک اس کے چہرے پہ تھی                    مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

درج بالا اشعار سے تو یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ وہ شخص مکان چھوڑ کر نہیں گیا تھا بل کہ شاید دنیا ہی چھوڑ گیا تھا۔ احمد مشتاق کی شاعری میں کسی بات کا اس قدر براہ راست اظہار کم ہی ملتا ہے، اس لیے اس پر بھی یقین کر لینے کو دل کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ہاں اپنے ہجرت کر جانے کے بارے میں بھی اظہار ملتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اس جدائی کی کیفیات کو بار بار پیش کرتا ہے جن میں سے وہ گزرا ہے۔ایک عرصہ ان جگہوں پر زندگی گزارنے کے بعد جب وہ خود اپنا مکان بیچ کر دیارِ غیر میں مقیم ہو جاتا ہے تو اس کا بھی اظہار کرتا ہے:

یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا                  درخت کاٹ لیے سائبان بیچ دیا

انتظار حسین نے ’ دریا ‘کو’ وقت کی علامت‘ سے جوڑ کر قاری کو دانستہ بھٹکایا ہے اس لیے کہ وہ نہیں چاہتے کہ احمد مشتاق کی محبت سے پردہ اٹھے۔ وہ اس راز کو چھپائے رکھنے کواحمد مشتاق سے دوستی اور دیرینہ تعلق کا فریضہ سمجھ کر نبھائے جا رہے ہیں مگر چوںکہ خو دکہانی کار ہیں، بات کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتے کہ کہانی کہنا ان کی سرشت میں رچا بسا ہوا ہے، اسی لیے”کلیاتِ احمد مشتاق“ کے دیباچے کا آغاز ایک پری پیکر اور شہزادے کی کہانی سے کرتے ہیں، وہ قاری کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر احمد مشتاق کی شاعری کا اتا پتا پوچھو گے تو وہ اس مہ لقا کی طرح فاختہ بن کر اڑ جائے گی اور آپ شہزادے کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔مگر دیکھ لیجیے میں باز نہیں آیا اور میں نے احمد مشتاق کی شاعری کا اتا پتا آپ کو بھی بتا دیا ہے ، احمد مشتاق کا اپنا بھی اس بات پر اصرار ہے کہ امریکا منتقل ہو جانے کے باوجود وہ کہتا ہے:

پتہ اب تک نہیں بدلا ہمارا

وہی گھر ہے، وہی قصہ ہمارا

”اوراقِ خزانی“ کو میں احمد مشتاق کی شاعری کے دوسرے دور سے تعبیر کرتا ہوں جس میں شامل شاعری کا آغاز 2003ءکے بعد ہوتا ہے۔یہ شاعری اپنے مزاج اور فضا کے اعتبار سے بھی احمد مشتاق کی پہلے ادوار کی شاعری سے الگ نظر آتی ہے۔ممکن ہے اس میں شامل کچھ غزلیں پہلے ادوار کے برس میں کہی گئی ہوں مگر انہیں بوجوہ اس سے پہلے شایع ہونے والے مجموعوں میں شامل نہ کیا گیا ہو مگر یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ”اوراقِ خزانی“ کی شعری فضا پہلے تمام مجموعوں سے بالکل الگ ہے۔کلیاتِ احمد مشتاق‘ میں شامل دو سو غزلیں احمد مشتاق کی چالیس سالہ (1952-2003) محبت سے لب ریززندگی کا ایک حصہ ہےں ۔ان غزلوں کی فضا اور موضوعات زندگی کے ایک تسلسل کی کہانی سناتے ہیں مگر” اوراقِ خزانی“ (مطبوعہ 2015ء)میں شامل احمد مشتاق کا کلام ایک اور زندگی کی کہانی سناتا ہے۔ کیا کوئی ایک جنم میں دو زندگیاں بھی گزار سکتا ہے؟ جسے یقین نہیں آتا وہ احمد مشتاق سے ملے۔”اوراقِ خزانی“ میں شامل ان غزلوں میں ”اداسی، خاموشی اور تنہائی“ کا ایک الگ جہان آباد ہے، بعض اشعار تو رلا دینے والا دکھ لیے ہوئے ہیں۔ یہ دکھ احمد مشتاق کا امریکا کے قیام کے دوران کا دکھ ہے۔ عمر کے آخری حصے میں تنہائی کی تہیں اتنی دبیز ہو گئی ہیں کہ اسے اپنی زندگی کے محبتوں سے لبریز لمحات کی یاد بھی ایسے آتی ہے جیسے کوئی نیم بےہوشی یا نیم غشی کے عالم میں بڑبڑاتا ہو۔ محبت کی وہ شعری کائنات جو احمد مشتاق نے اپنے لےے خود بنائی تھی، ”اوراقِ خزانی“ میں تو اس کی پرچھائیں بھی کم کم ملتی ہے۔ بھری محفل میں تنہائی کی ناگن اسے ڈستی رہتی ہے۔ اسے پتا نہیں چلتا کہ یہ اداسی زمیں سے اٹھتی ہے یا آسماں سے آتی ہے۔ وہ تو سبب، بے سبب اپنے رونے کی وجہ بھی نہیں جانتا۔ ’موت‘ اور’ زندگی‘ اس کے نزدیک ’خاموشی‘ اور ’آواز‘ کا دوسرا نام ہیں۔ اسی لیے وہ مسلسل باتیں کرتے چلے جانے پر اصرار کرتا نظر آتا ہے۔ خود کو زندہ رکھنے کا اس نے اب یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔

”اوراقِ خزانی“ کو پڑھنے کے بعد اگر آپ شمیم حنفی کا دیباچہ دوبارہ پڑھ لیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس میں کہی گئی باتوں کا تعلق احمد مشتاق کی 2003ءتک کی شاعری سے تو جڑتا ہے مگر جو” اداسی، تنہائی اور خاموشی “’اوراقِ خزانی‘ کی بیشتر شاعری میں سلگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اس کا انہوں نے ایک جملے میں ذکر کیا ہے۔ شمیم حنفی لکھتے ہیں: ”احمد مشتاق کے شعروں میں بیان کی جانے والی داستان، اداسی اور تنہائی کے ایک احساس میں سمٹ آئی ہے“ (ص 14)۔

’اوراقِ خزانی‘ کی شاعری پڑھنے کے بعد یوں لگتا ہے کہ ان کا یہ دیباچہ اگر پورا نہیں تو اس کا بیشتر حصہ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ اس لیے بھی اس بات کو مان لینے کو دل چاہتا ہے کہ اس مضمون میں حوالے کے طور پر دےے گئے اشعار ”اوراقِ خزانی“ میں سے نہیں ہیں بل کہ احمد مشتاق کی اس سے قبل کی شاعری میں سے ہیں۔ اس مضمون کے آخر میں ایک پیراگراف لکھنے کے بعد شمیم حنفی نے ”اوراقِ خزانی“ میں سے اشعار کا ایک الگ انتخاب نتھی کر دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ احمد مشتاق کی شاعری جس توجہ کی مستحق تھی، شمیم حنفی (ممکن ہے اپنی مصروفیات کے سبب) وہ توجہ نہیں دے سکے۔

”اوراقِ خزانی“ میں سے چند اشعار دیکھئے جہاں” اداسی، تنہائی اور خاموشی“ سے پیدا ہونے والا دکھ اپنی تمام تر شدتوں کے ساتھ موجود ہے اور پڑھنے والے پربھی ویسی ہی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ایک صادق جذبوں، کھرے خیالات اورتنہا شخص کی طویل زندگی کی اذیتوں کا اظہار اس سے زیادہ دل پذیر طریقے سے اور کیا ہو سکے گا، یہی احمد مشتاق کے فن کی معراج ہے۔ اداسی اوردکھ کے اشعار:

زمیں سے اگتی ہے یا آسماں سے آتی ہے             یہ بے ارادہ اداسی کہاں سے آتی ہے

آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا      یاد کر اے دلِ خاموش وہ اپنا رونا

یہ ترا طور سمجھ میں نہیں آیا مشتاق    کبھی ہنستے چلے جانا کبھی اتنا رونا

غم کی مجلس میں بھی لازم نہیں سب کا رونا       نہیں روتے! ہمیں اچھا نہیں لگتا رونا

”اوراقِ خزانی“ میں موجود تنہائی اور اداسی کی وہ اندوہ ناک کیفیت ہے کہ احمد مشتاق اپنی محبتوں سے بھی دست بردار ہونے کے لیے تیار ہے کہ اسے اب یہ سب کچھ بے معنی لگنے لگا ہے۔ وہ محبت جو چار دہائیوں تک احمد مشتاق کی غزلوں کا موضوع رہی، وہ گھر، گلیاں اور مکان جن میں احمد مشتاق کو کسی کی موجودگی کا احساس ہر پل رہتا تھا، جس کے ہیولے میں زندہ رہ کر اسے زندگی پر معنی اور پرلطف لگتی تھی، جس کے احساسات کی لو اس کے دل کے آنگن میں کم و بیش نصف صدی جلتی رہی، وہ دیا ”اوراقِ خزانی“ میں بجھتا ہوا ، بل کہ مجھے کہہ لینے دیجیے بجھا ہوا لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ”تنہائی ، اداسی اور خاموشی“  کے اژدر نے محبوب کی جدائی میں آباد کی ہوئی اس کی شعری کائنات کو نگل لیا ہے۔  ”تنہائی، اداسی اور خاموشی“  کی کیفیات احمد مشتاق جیسے توانا اوربے پناہ محبتوں کے امین شاعر کے اعصاب پر بری طرح چھا گئی ہیں اور اب نہ تو اسے اپنی محبتوں کے اظہار کے لیے زبان کی ضرورت ہے کہ جس کی تمنا اور کوشش کے موضوع پر اس کی شاعری بھری ہوئی ہے اور نہ ہی وہ اب اس کی یادوں کو اپنے پاس رکھنے کے لےے تیار نظر آتا ہے، اسی لیے تو وہ کہتا ہے:

مل بھی گئی اگر وہ زباں کیا کروں گا میں            اس دل گرفتگی کو بیاں کیا کروں گا میں

کیوں اس کی یاد کو بھی نہ دل سے نکال دوں      جب آگ بجھ گئی تو دھواں کیا کروں گا میں

کلیاتِ احمد مشتاق میں شامل شاعری کے حوالے سے دیباچے میں انتظار حسین نے درست لکھا ہے، ”وہ عمل کا شاعر نہیں ہے، عمل کے انجام کا شاعر ہے۔نہ کوئی تبصرہ نہ کوئی محاکمہ۔ نہ نالہ نہ شیون۔ بات بالعموم ایک آہ ِ سرد پر ختم ہو جاتی ہے“۔مگر’اوراقِ خزانی‘  میں احمد مشتاق اپنے اندر ایک اور تبدیلی بھی لے کر آیا ہے۔ اگر چہ یہ بہت ہی زیریں سطح کی تبدیلی ہے مگر کم ہونے کے باوجود نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ہاں خارجی مظاہر کی موجودگی کی جانب اشارے ملنے لگے ہیں جن سے احمد مشتاق متاثرہو رہا ہے۔ اس سے قبل اس کی اپنی شعری کائنات کا ایسا زبردست حصار تھا کہ اس کے اندر کسی اور کے داخلے اور در اندازی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ وہ خود تھا، اس کا محبوب، درو دیوار، دریا ، پانی اور کشتیاں، اور کسی کو دخل در معقولات کی اجازت نہ تھی مگر” اوراقِ خزانی“ کی شاعری میں کئی جگہوں پر وہ اِس بات کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کی تنہائی نے ایک سامع ایسا تراش لیا ہے کہ وہ ’خود کلامی‘ سے نکل کر ’تخاطب‘ کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

امریکا میں احمد مشتاق کی ”تنہا، اداس اور خاموش“ زندگی کے شب و روز کی گواہی کون دے گا؟ جس اذیت ناک تنہائی ، خاموشی اور اداسی میں اس نے پچھلے دس سال گزارے ہیں، اس کے نقوش ہمیں جگہ جگہ’ اوراقِ خزانی‘ میں نظر آتے ہیں۔جس احمد مشتاق کے بارے میں انتظار حسین اور شمیم حنفی نے متفقہ طور پر لکھا تھا کہ اس کو اپنے  جذبے کو سنبھالنا آتا ہے، وہ اپنی ان غزلوں میں دھاڑیں مار مار کر روتا نظر آتا ہے، اسے’ دکھ‘ کے مترادف کوئی اور لفظ نہیں ملتا کہ وہ اس کا اظہار کر سکے ، ایک شاعر کی اس سے زیادہ اور کیا بے بسی ہو سکتی ہے:

کیسے مطلب ادا کرے کوئی

دکھ کا کیا ترجمہ کرے کوئی

ایک بے رنگ سی اداسی ہے

ایسے موسم میں کیا کرے کوئی

(زیر طبع کتاب سے اقتباسات)                                                


Comments

FB Login Required - comments