عمران خان کے پکوڑے اور شریف فیملی کے فلیٹ


اپنی 4 نومبر 2016 کی تحریر میں ہم نے پاناما کیس کے بارے میں لکھا تھا کہ ’تاریخی طور پر پاکستان کی ایسی تحقیقات جن میں غیر ملکوں کی اعانت چاہیے ہو، ناکام ہی ہوتی ہیں اور کچھ ثابت نہیں ہو پاتا ہے۔ اگر یہ لیڈر کرپشن ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اراکین اسمبلی کا ٹیکس ریکارڈ ہی درست کروا دیں۔ یہ یقینی بنائیں کہ جس شخص کا جو لائف سٹائل ہے، اس کے مطابق وہ قانونی طور پر آمدنی بھی حاصل کرتا ہے اور اس پر ٹیکس دیتا ہے۔ ورنہ یہ سارا شور و غوغا، صرف عدالت کا وقت ضائع کرنے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بڑھ کر کچھ نہیں کہلائے گا‘۔

آج خبر آئی ہے کہ سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے قطر کے شہزادہ حمد بن جاسم بن جبار الثانی کا تصدیق شدہ خط پیش کیا ہے، جس میں حمد بن جاسم بن جبار الثانی نے کہا ہے کہ ان کے شریف خاندان کے ساتھ ذاتی تعلقات ہیں، اس کے علاوہ ماضی میں میرے والد کے شریف خاندان کے ساتھ کاروباری مراسم بھی تھے، میاں شریف نے قطر کے الثانی گروپ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہرکی تھی، میاں شریف نے متحدہ عرب امارات میں اپنی جائداد کی فروخت کے بعد ایک کروڑ 20 لاکھ درہم ہمارے کاروبار میں ڈالے۔ لندن کے علاقے پارک لین میں واقع فلیٹس بھی انہوں نے آف شور کمپنیوں سے ہی خریدے تھے۔ میاں شریف نے اپنی زندگی میں یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے اثاثوں کو پوتے حسین نواز کی ملکیت میں دے دیا جائے، اس خواہش کے پیش نظر 2006 میں الثانی خاندان اور حسین نواز کے درمیان معاملات طے پائے جس کے تحت ان کے حصے کے بدلے لندن کے چاروں فلیٹس ان کے نام کردیئے گئے۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئیں دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 1974 میں ہمارے دادا نے یو اے ای میں گلف اسٹیل مل قائم کی، دبئی کی اسٹیل ملزوہاں کے بینک سےقرضہ لے کر قائم کی، دبئی کی حکومت نے نا صرف زمین لیز پر دی بلکہ دیگر سہولیات بھی فراہم کیں، بینک کے قرضے کی واپسی کے لیے 1978 کو مل کے75 فیصد شیئرز فروخت کیے، 1980میں باقی ماندہ 25 فیصد مل کے حصص بھی بیچ دیے گئے، اسٹیل مل کی فروخت سے ملنے والی 25 فیصد رقم قطر کے الثانی خاندان کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں لگائی، لندن کےفلیٹس الثانی خاندان نے آف شور کمپنیوں کے ذریعےخریدے، الثانی خاندان نےتعلقات کے پیش نظر شریف خاندان کو اپارٹمنٹس کےاستعمال کی اجازت دی، تاہم الثانی فیملی ہی اپارٹمنٹس کےتمام اخراجات برداشت کرتی تھی، جلا وطنی کےبعد الثانی خاندان کوسرمایہ کاری کی رقم واپس حسین نواز کو دینے کا کہا گیا جس پر الثانی خاندان نے 2006 میں سرمایہ کاری کےبدلےلندن کے فلیٹس حسین نواز کے نام کردیئے۔ 2006 سے جائیدادیں حسین نواز کی ملکیت ہیں۔ دستاویزات میں حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان معاہدے کی نقل بھی فراہم کی گئی ہے۔ بین الاقوامی لا فرم ہارورڈ کینیڈی لا فرم نے ٹرسٹ ڈیڈ کے اصل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حسن، حسین اور مریم نواز کے وکیل اکرم شیخ نے استدعا کی کہ وہ قطر کے سربراہ کی دستاویز عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے بعض دستاویزات صرف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر عزت مآب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اس دستاویز کی حساسیت کا پتا ہے، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں بیان کے برعکس ہیں، وزیر اعظم کے عوامی موقف میں اور آپ کے بیان میں فرق ہے، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا جو بچا کھچا سرمایہ تھا اس سے دبئی میں مل لگائی، دبئی والی مل فروخت کرکے عزیزیہ میں مل لگائی گئی، پہلے موقف آیا کہ جدہ اسٹیل مل بیچ کر لندن جائیدادیں خریدی گئیں، کیا قطر کےسابق وزیراعظم گواہی کےلیے عدالت آئیں گے۔ اگر یہ جمع کرائی گئیں تودوسرا فریق چاہے گا کہ وہ بھی اس کا مطالعہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ بتانے کوکچھ نہیں۔ اکرم شیخ صاحب نے کہا کہ وہ صرف وزیراعظم کے بچوں کے وکیل ہیں، وزیراعظم کی صفائی ان کا وکیل دے گا۔

آپ نے موقف پڑھا۔ اگر بینک کے ریکارڈ کی ضرورت بھی ہو گی، تو عرب شریف کے شاہی حکم نامے کے ذریعے ایسا مصدقہ ریکارڈ فراہم کیا جا سکتا ہے جس سے کسی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ یہ ہم بہت پہلے سے کہتے آئے ہیں کہ شریف فیملی نے محض ایک عرب شہزادہ پیش کر دینا ہے جو یہ اقرار کرے گا کہ ہاں ہم نے پیسہ دیا ہے۔ حسب توقع شہزادہ آ گیا ہے۔ شریف فیملی کے عوامی بیانات پر عدالت پکڑ نہیں کر سکتی ہے۔ وہ آسانی سے موقف اختیار کر لیں گے کہ یہ سیاسی بیان تھا اور حلف اٹھا کر نہیں دیا گیا تھا، اس لئے اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ عوام سے جھوٹ بولنے کے اخلاقی مجرم ہی قرار پائیں گے، مگر ہماری سیاسی روایت تو کہتی ہے کہ ’وعدے کوئی قرآن حدیث نہیں ہوتے‘، تو پھر اس اخلاقی جرم کی ان کا ووٹر ان کو کوئی سزا کیوں دے گا؟ اب تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے؟

تحریک انصاف نے نواز شریف صاحب کے خلاف جو ثبوت پیش کیے ہیں، ان کو دیکھ کر عزت مآب جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے کہا کہ ’درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے، پی ٹی آئی کی دستاویزات میں اخباری تراشے بھی شامل ہیں حالانکہ اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، پی ٹی آئی کی ان دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں، اخبار ایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتےہیں۔ اگر اخبار میں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔ چھ ہزار صفحات جمع کرا دیئے گئے جن کا سر ہے نہ پیر ، سچ کو کاغذات میں دفن نہ کریں۔ کمیشن اتنے صفحات کا جائزہ لینے میں پڑ گیا تو چھ ماہ میں رپورٹ نہیں آئے گی‘۔

اب شریف فیملی تو معاملے سے صاف ستھری باہر نکل جائے گی۔ ان کی حمایت عرب شریف کے نیک دل شہزادے کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کے لئے کیا برطانیہ سے کوئی شاہی دستاویز ان کو بچانے آئے گی؟ اس کا امکان کم ہے۔ ہمارا اندازہ یہی ہے کہ پاناما پیپرز کے کیس میں سے شریف فیملی مکھن میں سے بال کی مانند نکل جائے گی۔ عمران خان سخت آدمی ہیں، مکھن لگوانے کے تو قائل ہیں مگر لگانے کے نہیں۔ وہ پھنس جائیں گے۔

ہمارے سارے سیاستدان نہایت صاف ستھرے ہیں اور کرپشن نہیں کرتے۔ جب جی چاہیے ان سے کاغذ لے کر دیکھ لیں۔ گواہی سیاستدانوں کے حق میں ہی آئے گی۔ ان کا احتساب عدالت نہیں کر سکتی ہے۔ یہ صرف ووٹر کے ذریعے ہی ممکن ہے جو کہ کاغذوں کو نہیں دیکھتا ہے۔


پاناما کیس میں نواز شریف صاحب پھنس گئے ہیں

عمران خان کے پکوڑے اور شریف فیملی کے فلیٹ

کیپٹن صفدر: مریم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، اب ثابت کرو ذرا

نواز شریف نے عمران خان کو مٹھائی کی مار ماری


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar