یونیورسٹی چانسلر اور کمانڈو


adnan Kakar

ہمیں کچھ لوگ مسلسل بہکا رہے تھے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی حکومت بیروزگاری میں کمی لانے کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ ایسے میں جب نئی آسامیوں کے لئے دیا جانے والا اشتہار ہمارے ہاتھ لگا تو دل باغ باغ ہو گیا۔

۔’روزنامہ زحمت’ میں  پہلا اشتہار پڑھا تو کچھ یوں لکھا تھا: حکومت خیبر پختونخواہ نہایت خوشی سے اعلان کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں پانچ سو نئی آسامیاں نکلی ہیں۔ امیدواروں سے پکی سرکاری ملازمت کے لئے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ کم از کم تعلیمی قابلت پی ایچ ڈی ہونی چاہیے۔ عمر پینتیس سال تک ہو۔ تدریس کا تجربہ ہو اور تعلیمی ادارے کے معاملات سے بخوبی واقف ہو۔ امیدوار کی شخصیت میں بے جا سختی نہ ہو اور طلبہ کو پیار محبت سے ہینڈل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

ساتھ ہی ایک اور اشتہار پر بھی نظر پڑِی۔ لکھا تھا: خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں پانچ نئی سرکاری آسامیاں نکلی ہیں۔ امیدوار کی کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک ہونی چاہیے۔ قد چھے فٹ دو انچ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ لحیم شحیم اور تنومند بدن کا مالک ہو جسے دیکھتے ہی دل میں خوف پیدا ہو۔ فوج کے کمانڈو یونٹ سپیشل سروسز گروپ میں کم از کم صوبیدار رہا ہو۔ ترجیح نیم لفٹین یا کپتان حضرات کو دی جائے گا۔ امیدوار ہر طرح کا چھوٹا بڑا ہتھیار چلانے میں مہارت رکھتا ہو۔ تعلیمی ادارے پر دہشت گردوں کے حملے کی صورت میں اکیلا ہی ان پر ایسے قہر بن کر ٹوٹے جیسے جان ریمبو یا آرنلڈ شیوارزنیگر ٹوٹتے تھے، یعنی تن تنہا ہی درجنوں دہشت گردوں کے پرخچے اڑا دے اور ادارے کے طلبا کو ایک خراش بھی نہ آنے دے۔ فٹنس کا لیول ایسا ہو کہ دس کلومیٹر تک دوڑ لگا لے اور ذرا بھی نہ ہانپے۔

بخدا دل خوش ہو گیا۔ یعنی ہم جو سنتے آئے تھے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت پڑھائی کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے، وہ معاملہ درست ہے۔ ہم مبارکباد دینے برادر صالح خان ترین کے پاس جا پہنچے۔

ہم: بھائی صالح ترین، سب سے پہلے تو مبارکباد قبول فرمائیں کہ آپ کی حکومت اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کے لئے بھرتیاں کر رہی ہے۔
صالح ترین: ہم تو پہلے دن سے ہی کہہ رہے تھے کہ ہم صوبے میں تعلیمی انقلاب لے آئیں گے۔ عمران خان نے ہماری سرتوڑ کوشش کے باوجود ہمیں وزارت تعلیم نہیں دی۔ وزارت نہیں ملی لیکن بہرحال ہمارا اثر تو ہے۔
ہم: اس میں کیا شک ہے۔ ویسے بھی امیر الصالحین اسی صوبے سے ہیں، تو اثر کیوں نہیں ہو گا؟ یہ پی ایچ ڈی حضرات انہوں نے ہی بھرتی کرنے کا حکم دیا ہو گا۔
صالح ترین: درست فرمایا۔ یہ ساری انہی کی کوشش تھی۔
ہم: لیکن ایک چیز آپ نظر انداز کر گئے ہیں۔ یہ تو بہت اچھا ہے کہ آپ پانچ سو پی ایچ ڈی اساتذہ بھرتی کر رہے ہیں، لیکن یہ پانچ کمانڈو نہایت ہی کم ہیں۔ جیسے حالات چل رہے ہیں، یہ تو کم از کم پانچ ہزار تو ہونے چاہئیں۔
صالح ترین: پانچ ہزار تو بہت زیادہ ہیں۔ فی الحال پانچ ہی کافی ہیں۔
ہم: آپ کی رائے میں یہ پانچ افراد اتنے تعلیمی اداروں کو سنبھال لیں گے؟
صالح ترین: دیکھیں فی الحال تو پانچ اداروں کو ہی سنبھالنا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، سوابی یونیورسٹی، اور ولی خان یونیورسٹی۔
ہم: لیکن ایک یونیورسٹی کے لئے ایک گارڈ کافی ہو گا؟
صالح ترین: گارڈ؟ بھائی یہ تو وائس چانسلر کی پوسٹ کے لئے کمانڈو کا اشتہار دیا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی میں حکومتی کمیٹی نے طالبان کے کامیاب حملے کی ذمہ داری وائس چانسلر پر ڈالی ہے کہ اس نے یونیورسٹی کا دفاع نہیں کیا۔ اس لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وائس چانسلر کی پوسٹ پر بڈھے کھوسٹ پروفیسروں کی بجائے جوان جہان چست و چالاک تربیت یافتہ کمانڈو تعینات کئے جائیں گے۔
ہم: اور یہ پانچ سو پی ایچ ڈی اساتذہ کس لئے بھرتی کئے جا رہے ہیں؟
صالح ترین: آپ نے شاید امیر الصالحین کا بیان نہیں پڑھا ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ان کی حکومت میں پرائمری سکولوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ تعلیم دیا کریں گے۔ اس لئے پرائمری ٹیچروں کے طور پر یہ لوگ بھرتی کئے جائیں گے اور دور دراز دیہات میں تعینات ہوں گے۔
ہم: ہماری سمجھ میں یہ آیا ہے، کہ آپ کی حکومت میں پی ایچ ڈی اساتذہ دیہاتی پرائمری سکول میں بچوں کو الف انار بے بکری سکھایا کریں گے، اور میٹرک پاس کمانڈو یونیورسٹی کی وائس چانسلری کیا کریں گے؟
صالح ترین: بالکل درست سمجھے آپ۔ جان ہے تو جہان ہے۔ بچے زندہ رہیں گے تو پڑھیں لکھیں گے۔ اس لئے یہ اقدام ضروری ہے۔
ہم: ہم بھی نرے اوت کے اوت رہے۔ ساری زندگی یہی سمجھتے رہے کہ قلم بردار استاد کا کام پڑھانا ہوتا ہے، اور جان مال کے تحفظ کی ذمہ داری بندوق بردار پولیس فوج پر عائد ہوتی ہے۔ باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرح ہمیں بھی پہلی مرتبہ علم ہوا کہ نہتے استاد کی ذمہ داری جان مال کا تحفظ دینا ہوتی ہے، اور ریاست کی ذمہ داری کچھ بھی نہیں ہوتی ہے۔
صالح ترین: ہماری حکومت آپ کے اور بقیہ قوم کے علم کو بڑھانے میں دن رات ایک کئے رہے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “یونیورسٹی چانسلر اور کمانڈو

  • 07-02-2016 at 9:43 am
    Permalink

    خوب

Comments are closed.