شرمین…. اورشرم سے عاری ہم وطن


12833370_10153277701066268_780701197_n  آئیے…. کچھ لمحوں کے لیے غیر جانبدار ہو کر، رَدّ و قبول کے گرداب سے باہر نکلتے اورحقائق کو دلائل کی کسوٹی پر جانچتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی چند ساعتوں کے لیے نہ توکوئی حکم صادر کرے اپنی روشن خیال فکر کا اور نہ ہی کوئی عالم دانشوری کی عدالت لگا کر فیصلہ سنائے۔ شاید بات اتنی مشکل نہیں کہ اس کوسمجھا نہ جا سکے، مگر اتنی سادہ بھی نہیں کہ یونہی بیان ہوجائے، لہٰذا زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے، قوم کے وسیع ترمفاد میں کی گئی شرمین عبید چنائے کی قومی خدمت کا جائزہ لیتے ہیں، جس کی اجرت میں آسکر ایوارڈعطا ہوا۔ ہمیںیہ تجزیہ کرنے میں تو کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے، آخرکو ہم سب پاکستانی شہری ہیں، ملک میں جمہوریت نافذ ہے اوراس ناطے یہ ہمارا جمہوری حق بھی ہے۔

ہم وہی پاکستانی ہیں، جنہوں نے1992 میں ورلڈ کپ لانے والی کرکٹ ٹیم کو سر کا تاج بنایا تھا۔ ہاکی، اسکواش اور اسنوکر جیسے کھیلوں کے فاتحین بھی ہماری آنکھوں کے تارے بنے تھے۔ پاکستانی ادیب انتظارحسین کوجب برطانیہ کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ’بکر پرائز‘ کے لیے نامزد کیا گیا، تو پاکستانیوں کی خوشی دیدنی تھی۔ 80 اور90 کی دہائی میں پورا پاکستان دم سادھے پی ٹی وی سے نشرہونے والے ڈرامے دیکھا کرتا تھا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں فلمی صنعت کے سنہری دورکی یادیں آج بھی پاکستانیوں کے ذہن پرنقش ہیں۔ ریڈیو، تھیٹر، موسیقی، مصوری، شاعری، ادب اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں میں ہم اپنی مثال آپ رہے، اپنے مقبول فنکاروں کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا۔

ہندوستانی سینما میں 1947 کے موضوع پر مستقل فلمیں بنائی جاتی رہیں، ہمارے ہنرمندوں نے بھی کئی بار اس ثقافتی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن سچ یہ ہے، خاطرخواہ کامیابی نہ ہوئی، اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے، دیارغیرمیں رہنے والے ایک پاکستانی فلم ساز کے خون نے جوش مارا، اس نے ہالی ووڈ کے اشتراک سے پاکستان کی محبت میں، قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اورقومی جدوجہد پر پاکستان کی مہنگی اورجدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ فلم تخلیق کر دی۔ 1998 میں وہ ریلیز ہوئی، 18 برس گزر گئے، آج تک تمام کوششوں اور وسائل ہونے کے باوجود ہندوستان اس معیار کی فلم نہ بنا سکا۔ یہ فلم تھی ’جناح‘ اورہدایت کار’جمیل دہلوی‘ تھے۔ ہم پاکستانی فلم بینوں نے ان کو بھی سرآنکھوں پر بٹھایا، یہ سب ہمارے ہیروز ہیں، جن کا یہاں تذکرہ ہوا۔

فنون لطیفہ سے متعلق پاکستانیوں کا ذوق کھلی کتاب کی طرح دنیا کے سامنے ہے اورہماری یہ خواہش بھی تھی، بین الاقوامی سینما میں اہم ترین ایوارڈ ’آسکر‘ تک بھی کسی پاکستانی فنکارکی رسائی ہو۔ ہم تو وہ لوگ ہیں، جو صرف نامزدگی پر بھی جشن منا لیتے ہیں، لیکن ایسا کیا ہوا؟ دومرتبہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی خاتون شرمین عبید چنائے کوعوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہ ہو سکی (میڈیا کوریج کومقبولیت کا پیمانہ نہ سمجھا جائے) اس کو یہ ایوارڈ حاصل کرنے پرشدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا، حتیٰ کہ اپنے دفاع میں پریس کانفرنس بھی کرنا پڑی۔ آئیے اس رویے میں پوشیدہ گتھی سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

10660702_10153277688401268_179267411_nشرمین عبید چنائے دستاویزی فلم (مختصر) کے شعبے میں دومرتبہ آسکرایوارڈ کی فاتح ہیں۔ 2012 میں پہلی مرتبہ اپنی فلم ’سیونگ فیس‘کے لیے یہ ایوارڈ حاصل کیا، جس میں کینیڈین ہدایت کار ’ڈینئل جونگ‘ بھی اس انعام کے شریک حقدار ٹھہرائے گئے۔ اس فلم کا موضوع ’پاکستان میں تیزاب سے جلائی جانے والی عورتیں کے چہرے‘ تھا۔ رواں برس 2016 میں ایک بار پھر اسی شعبے میں ان کی دستاویزی فلم”اے گرل اِن دی ریور، دی پرائس آف فارگیونیس“ پر آسکر ایوارڈ دیا گیا، اس فلم کاموضوع ”غیرت کے نام پرقتل کی جانے والی عورتیں“ تھا۔

شرمین عبید چنائے نے اکیسویں صدی کی ابتدامیں اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا۔ 2002 میں اولین دستاویزی فلم بعنوان ’دہشت گردوں کے بچے‘ بنائی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک 14 برس میں 20 فلمیں بنا چکی ہیں، جنہیں دنیا کے مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے فلمی میلوں میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا۔ ان فلموں کی تفصیلات کے لیے شرمین عبید چنائے کی آفیشل ویب سائٹ کو دیکھا جا سکتا ہے، البتہ مختصر طورپر بیان کیا جائے، تو ان فلموں کی کہانیوں کے مرکزی کردار، پاکستان اورافغانستان میں مقیم مفلوک الحال بچے، ستم رسیدہ عورتیں، مذہبی انتہا پسند اوراسی طرح کے دیگرموضوعات نگاہ انتخاب ٹھہرے۔ لاہور کی ہیرامنڈی اورخواجہ سراﺅں سے متعلق موضوعات کی پرچھائیاں بھی ان کے تخلیقی سفرمیں نمایاں ہیں۔

آئیے…. دیکھتے ہیں رواں برس 2016 میں شرمین عبید چنائے کی فلم کے علاوہ دیگرنامزدہ ونے والی فلموں کا تعلق کن ممالک سے تھا اوروہ فلمیں کن موضوعات پر بنائی گئیں۔ ان ممالک میں امریکا، ویت نام، کینیڈا اوربرطانیہ شامل ہیں۔ یہ وہ تمام ممالک ہیں، جن میں معاشرتی، اخلاقی اورسیاسی مسائل کے انبار ہیں، البتہ جو فلمیں پیش کی گئیں، ان کے موضوعات میں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

آسکر ایوارڈز میں مختصر دستاویزی فلم کے شعبے میں کل پانچ فلموں کو نامزد کیا جاتا ہے، جن میں سے کوئی ایک فاتح ہوتی ہے۔ شرمین کے مقابلے میں جن چار فلموں کی نامزدگی ہوئی، ان میں پہلی فلم”باڈی ٹیم 12“ کا موضوع عالمی فلاحی تنظیم ریڈ کراس کے سماجی ورکوں کی زندگی تھا۔ دوسری فلم”چاﺅ، بی ہائنڈ ز دا لائن“کا موضوع ”ایک معذورفنکار کی زندگی کی جدوجہد“ تھا۔ تیسری فلم”کلاﺅڈی لانزمین، سپیکٹرم آف دی شوح“تھی، جس کا موضوع ”ایک فرانسیسی ہدایت کار کی زندگی اوراس کا پیشہ ورانہ کام“ تھا۔ چوتھی اورآخری فلم کا نام”لاسٹ ڈے آ ف فریڈم“ تھا، جبکہ موضوع ”ناانصافی اورنفسیاتی مسائل “ تھا، جن کومتوازن انداز میں فلمایا گیا، ملک یا معاشرے کو قصوروار نہیں دکھایا گیا۔

آئیے…. اب دیکھتے ہیں 2012 میں نامزدہونے والی فلمیں، جن کے مد مقابل شرمین عبید چنائے کی فلم فاتح رہی تھی۔ اس وقت جن ممالک سے فلمیں شامل ہوئیں، ان میں تین فلمیں امریکا جب کہ چوتھی جاپان سے شامل ہونے آئی تھی۔ پہلی تین امریکی فلموں کے موضوعات میں پہلی فلم کاموضوع معاشرتی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک نامعلوم شخص کی حیات تھی۔ دوسری فلم کا موضوع ایک اداکارہ کی زندگی تھی، جس نے کم عمری میں شہرت حاصل کی، مگرپھر وہ راہبہ بن گئی۔ تیسری فلم کا موضوع بغداد میں ایک فضائی حملے کے متعلق تھا، جس میں کئی معصوم افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

صرف وہ دوبرس، جن میں شرمین عبید چنائے کی فلموں کو اکیڈمی ایوارڈزملے، ان برسوں میں نامزد ہونے والی دیگر فلموں کے موضوعات کوصرف یہاں بیان کیا گیا، اس موازنے کومزید وسعت دی جائے اورگزشتہ دس بیس برسوں میں نامزد یا فاتح فلموں کے موضوعات کا تناسب نکالا جائے، توزیادہ تر فلموں کا موضوع وہ افراد ہیں، جن کی مثبت سرگرمیاں اورمعاشرے کے لیے جدوجہد ہے یا پھر وہ واقعات ہیں، جن کے پیچھے ان ممالک کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔ حیرت ہے، اتنے برسوں میں مغربی ممالک میں ناسورکی طرح پھیل جانے والی معاشرتی برائیوں پر کوئی فلم نہیں بنائی گئی، اگربنائی بھی گئی تونامزدگی کے لیے نہیں بھیجی گئی اوراگرکسی ایک آدھ فلم کو ایوارڈملا بھی، تویہ تناسب آٹے میں نمک کے برابررہا۔

شرمین عبید چنائے کے ساتھ نامزد ہونے والے دیگر فلم ساز انتہائی بیوقوف ہیں، جنہوں نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا، جس میں ان کے معاشرے کا کوئی مسخ پہلو شامل نہ تھا، بالکل ٹھیک ہوا، ان کو یہ اعزازنہیں دیا گیا۔ ہم پرامید ہیں شرمین عبید چنائے آئندہ برسوں میں مزید آسکرایوارڈز جیتنے میں کامیاب ہوں گی، کیونکہ ابھی تو ہمارے بہت سارے زخم باقی ہیں، جن کو دستاویزی فلموں میں دکھا کر اعزازاور فتح کی بھیک مل سکتی ہے۔ کسی نے پروین شاکر کے شعر کو شرمین کے نام لکھا کہ۔۔۔

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

شرمین کے لیے ہمارا مشورہ ہے، وہ ایسی باتوں پر بالکل کان نہ دھریں، یہ حاسدین کی سازش ہے، وہ آسکرحاصل کرنے کی ہیٹ ٹرک بنانے سے روکنا چاہتے ہیں۔ برائے مہربانی ایسے موضوعات پر فلمیں مت بنائیے گا، جن سے ہم فاتحین کی دوڑ سے باہر ہو جائیں۔ مثال کے طورپر پاکستانی فنون لطیفہ میں شہرت یافتہ شخصیات یا وہ نامعلوم اورکم شہرت یافتہ فنکار، جن کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی، یا پھر وہ پاکستانی بچے، جنہوں نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر بل گیٹس کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہ بچے بھی، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی ذہانت سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

اسی طرح امریکی ڈرون حملوں کے شاخسانے، جن میں انتہا پسند تومارے ہی گئے، مگر ایک برطانوی ادارے ”بیوروآف انویسٹی گیٹیو جرنلزم“کے مطابق 2004 سے اب تک پاکستان میں ایک ہزار سے زیادہ معصوم شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ اوربہت سارے ایسے موضوعات ہیں، جن پر اگر آپ نے دستاویزی فلم بنائی، توشاید ہمیں آسکرایوارڈ نہ ملے، جس طرح آپ کے مدمقابل فلم سازوں کو نہ ملا، کیونکہ اس میں نہ کوئی مسخ چہرہ تھا، نہ دامن پر پڑنے والے ہاتھ، تو بھلا وہ کیوں کسی اعزاز کے مستحق ہوتے۔

لہٰذا، ہمیں تو مزید آسکرایوارڈز چاہیں، ملک کا امیج کچھ بھی بنے، اس کی فکر نہ کریں، قوم کی ایک بیٹی نے برہنہ موضوعات کو موضوع بنایا ہے، تو ہمیں اس کی آواز میں آواز ملانی چاہیے۔ شرمین عبید چنائے تم قدم بڑھاﺅ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، اس گونگی بہری اوراحساس کمتری کی ماری قوم کی پرواہ نہ کرو، چند دن میں کوئی دوسرا واقعہ ان کی توجہ کو تقسیم کر دے گا اور یہ تمہیں بھول جائیں گے۔

اگلے برس کوئی نیا زخم دکھا کر اعزازجیتو، تووطن واپس آ کر پریس کانفرنس کرنے کی بھی قطعاً ضرورت نہیں، اس قوم کی یادداشت کا دورانیہ اتنا زیادہ نہیں۔ ویسے بھی ان میں سے آدھے تمہاری حمایت میں بولنے لگیں گے اورآدھے تمہیں برا بھلا کہہ کرخاموش ہوجائیں گے اورکوئی یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ دنیا کے دیگرممالک سے جوفلموں نامزدہ وتی ہیں، کیا وہ اپنے برہنہ زخم دکھاتے ہیں؟ اورکیا دنیا کو یہ زخم دکھانا ہی ان زخموں کاواحد علاج ہے؟ تو تم ان سب باتوں کی پرواہ نہ کرنا۔ یہ بے شرم لوگ ہیں شرمین، تم ان کی باتوں پر دھیان نہ دینا….

( خرم سہیل سے khurram.sohail99@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “شرمین…. اورشرم سے عاری ہم وطن

  • 09-03-2016 at 7:32 pm
    Permalink

    khurm soheel sahinb………………….nehayt umda tahreer ha ………………..dil ko cho leya

    • 10-03-2016 at 1:04 pm
      Permalink

      بالکل درست… بہت اچھا کالم!!
      ایک مخصوص لابی…. یہ کام کروا رہی ہے!! شرمین کا کیا کمال ہے!! اسلام اور پاکستان ہدف ہیں!!

  • 10-03-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    خرم بھائی آپ نے اپنا مقدمہ دلائل سے پیش کیا ہے، اب جو اس کی مخالفت کرے تو یہی منطقی و تحقیقی طریقہ اختیار کرے۔ ورنہ یہاں تو ہر دو طرح کے انتہاپسند کثرت سے پائے جاتے ہیں، یعنی نام نہاد مذہبی بھی اور روشن خیال لبرل بھی

  • 10-03-2016 at 4:42 pm
    Permalink

    میں خرم سہیل صاحب کو نہیں جانتا پہلی دفعہ پڑھ رہا ہوں اور اس بحث سے میرا کچھ لینا دینا نہیں تھا چونکہ میرا زکر ہوا ہے تو میں اپنی رائے دینے کی طرف مائل ہوا ہوں۔ اب حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے غیر جانبدار ہونے کی بات کی ہے جبکہ موصوف خود تعصب سے مغلوب ہیں اور اپنی تحریر کا اغاز ہی اس فقرے سے کرتے ہیں” قوم کے وسیع ترمفاد میں کی گئی شرمین عبید چنائے کی قومی خدمت کا جائزہ لیتے ہیں، جس کی اجرت میں آسکر ایوارڈعطا ہوا۔” آپ نے تو مقدمہ قائم کرنے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ۔ہاں اگر اپ اس فقرے کے شروع میں لفظ “کیا” لگا دیتے تو ایک مقدمہ قائم ہو جاتا کہ کیا شرمین عبید چنائے کو آسکر اجرت میں عطا ہوا!!!
    اس میں جمہوریت اور جمہوری حق کی بات کہاں سے آ گئی؟ آپ آزادی رائے کی بات کریں جو آپ کو میسر ہے۔ آپ کسی بھی فورم پر اپنا نقطہء نظر پیش کر سکتے ہیں اگر کوئی تین ادارے اپ کا ارٹیکل نہیں چھاپتے تو یہ ان کی پالیسی کا معاملہ ہے اس کا تعلق ان کے اپنے کمشرشل معاملات سے ہے اگر آپ ان کے افیشینل رائیٹر ہیں اور وہ یہ حق اپ کو نہیں دیتے تو اپ اس ادارے کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔
    آج مورخہ 10 مارچ کے دنیا اخبار کے ایک ارٹیکل جسے محترم کنور دلشاد نے لکھا ہے میں فلم جناح کے بارے میں زکر ہے وہ کہتے ہیں ” فلم جناح بنانے میں پاکستان کے دانشور بیروکریٹ اکبر ایس احمد سے بھی نادانستہ غلطی ہو گئی تھی انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح سے منسوب چند ایسے فقرے فلم میں شامل کر دئیے تھے جن سے پاکستان کا تصور دھندلا گیا تھا” اور پھر صحافی ضیاء شاہد اور جناب کنور دلشاد کی کاوشوں سے یہ فقرے فلم سے خارج ہوئے۔
    جہاں تک اپ نے شرمین عبید کی فلم کا موازنہ آسکر کے لئے پیش کئ گئی دیگر فلموں سے کرنے کی کوشش کی ہے تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آسکر کا فیصلہ جانبدرانہ تھا۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر کہنےکو کیا رہ جاتا ہے!!! اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آسکر ایک پیشہ ورانہ بنیادوں پر دیا جانےوالا ایوارڈ نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد کچھ اور ہے اور وہاں کوئی بھی شخص ان لوازمات سے آسکر ایوارڈ جیت سکتاہے۔ تو پھر ہمیں خون جلانے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟؟؟
    جہاں تک مثبت یا منفی کی بات ہے تو کوئی چیز بھی بزاتہ مثبت یا منفی نہیں ہوتی یہ ہمارا اپناسمجھنے کا انداز ہوتا ہے جو منفی یا مثبت ہو سکتاہے اور یہی تخلیقیت ہے کہ کبھی ہم ایک سرے کو پکڑتے ہیں اور کبھی دوسرے کو تا کہ اپنے نقطہ ء نظر کو واضح طریقے سے بیان کر سکیں مقصد تو قاری یا ناظر کی توجہ حاصل کرنا ہوتاہے۔ تخلیق کار کی کامیابی ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ قارعی یا ناظر کی توجہ حاصل کرے اور شرمین عبید نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
    شرمین کے ساتھ نامزد ہونے والےدیگر فلم ساز یقیناً ناظر کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اگر وہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو آسکر بھی ان کی جھولی میں جا گرتا۔ اگر اپ نے شرمین کی فلم کا موزانہ کرنا ہے تو ان فلموں سے کریں جنہوں نے یہ ایوراڈ حاصل کہا ہے نہ کے ان فلموں سےجو یہ ایوراڈ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    جہاں تک حسد کی بات ہے تو آپ بھی بہت زیادہ جزباتی ہو رہے ہیں میں اس کے اوپر کیا کہوں !!!!
    صحافت کی ایک اصطلاح ہے کہ کتا اگر انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں ہے ہاں البتہ اگر انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ خبر ہے۔ اگر بچوں نے غیر معمولی ذہنی صلاحتیوں کا مظاہرہ کیا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات اس لئے نہیں ہے کہ دنیا جہاں میں کوئی بھی بچہ غیر معمولی زہانت کا اظہار کر سکتا ہے کہ یہ خداداد صلاحیت ہے۔ ایک ایسا معاملہ جو دنیا میں کہیں نہیں ہوتا صرف کسی ایک مخصوس خطے میں ہوتاہے تو وہ توجہ طلب موضوع ہے جس کا تعلق ہمارے رویوں سے ہے اور ایسے موضوع کو چن لینے میں کیا برائی ہے اگر اس میں دوسروں کی دلچسپی بھی ہو۔ مسئلہ تو کسی مسئلے کو لائم لائیٹ میں لانے کا ہے۔
    جہاں تک ڈرون حملوں کے شاخسانوں کا تعلق ہے تو مسئلہ انویسٹی گیٹیو جرنلزم کا نہیں ہے تخلیقیت کا ہے۔ کسی بھی ڈاکومنٹری کی ٹریٹمنٹ کیسے ہو یہ ایک تخلیقی عمل ہے اگر اسے لگے بندھے طریقوں سے ہے ہی کرنا ہے تو پھر یہ تخلیقیت نہیں ہے۔
    آپ اپنے ذاتی احساسات اور جزبات کو کیوں قوم کےجزبات اور احساسات کے طور پر پیش کر رہے ہیں کیا آپ کسی فورم سے اس ” قوم” کی نمائندگی کرتے ہیں؟ آپ اپنی بات کریں یا پھر قوم کی اصلاح کی بیٹرا اٹھا لیں اور کسی بھی فیلڈ میں اپ اپنی کارکردگی سے لوگوں کو ایڈمائر کریں کہ لوگ اپ کی پیروی کرنا شروع کر دیں صرف جزبات میں اس حد تک بہک جانا کہ دوسروں کو بے شرم تک کہہ دینا مناسب رویہ نہیں ہے۔ آپ یہ سب کچھ اس لئے کہہ پائے ہیں کہ آپ کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے جس کا آپ نے یہاں خوب اظہار کیا ہے اب آپ یہ دوسروں کو بھی حق دیں کہ وہ بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکیں ، بے لاگ۔ شکریہ۔

    • 11-03-2016 at 12:29 am
      Permalink

      یہ یونس خان نامی صاحب پہلے میری وال پرآکر بحث کرتے رہے، جس کے تفصیلی جوابات وہاں ان کو دے دیے گئے ، بے ربط اورغیر منطقی انداز میں خود ہی ایک با ت کرتے ہیں اور پھر اس کو رد کردیتے ہیں ۔ مجھے یہ محسوس ہوا ہے ، یہ صاحب تنقید کے نام پر صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں ، فیس بک پرمیں نے ان کو نکتہ در نکتہ جوابات دیے ، تو اب یہ یہاں آگئے ، انہی کمنٹس کے ساتھ ، تو اب ان کا توشاید یہی مشغلہ ہے مگراس چکر میں میرا کافی وقت صرف ہوچکا ہے ، اگر آپ غور سے ان کے یہ تاثرات پڑھ لیں توخود ہی اپنی کہی ہوئی باتوں کو رد کرتے دکھائی دیں گے اور رد کی ہوئی باتوں کو قبول کرتے نظرآئیں گے ، نہ جانے کیا فکری عارضہ لاحق ہے ان کو ، جس کی سمجھ ان کو خود بھی نہیں آرہی ، کبھی یہاں لکھ رہے ہیں ، کبھی فیس بک پر جاکر بحث کررہے ہیں ، کیا ہی اچھا ہوتا بالترتیب مدلل جوابات دیتے بجائے اپنی پالیسیاں اور فارمولے بتانے کے ، چونکہ یہاں ایک طویل خظ میرے نام لکھا ہے تو صرف ریکارڈ کی درستی کے لیے یہاں اپنے کمنٹس دے رہا ہوں ۔ آپ سب قارئین کی توجہ کا شکریہ

  • 10-03-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    Dear Friend, who stopped you and millions of other country-fellows to make good image movies?

  • 11-03-2016 at 8:42 pm
    Permalink

    salam
    bahar hal ye bat sahi he ke is mulk me aise boht si masbat kahanian aur shakhsiat hain jin ki khidmat ko mehwar bana ke masbat pehloo bhi ujagar kiy ja sakte hain jin se muashrey me mojud ache kirdaron ki bhi pazirai ho aur filmsazi ka maqsad sirf oscar jeetna na ho balke masbat anasir ki pazirai bhi ho.me kafi had tak khurram sohail se muttafiq hon

Comments are closed.