ایمانداری، یقین اور کورونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہاں بات صرف پاکستان کی ہورہی ہے، تو اس سے پہلے کے مزید کی بورڈ پراپنی انگلیوں سے کھٹرپٹر کروں، قارئین پر یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہاں بات صرف ایمانداری کی ہورہی ہے۔ اس بار ایمانداری پاکستان کی عوام سے زیادہ پاکستان کو چلانے والی ہر اُس طبقے کے لئے ضروری ہے، جو پاکستان سے ایک فیصد ہی صحیح، محبت کرتا ہے۔ اُس طبقہ کے لئے موجودہ صورتحال بڑی واضح اور سیدھی سی ہے، کہ اگرانسان بچیں گے تو وہ بچیں گے، ورنہ وہ بھی نہیں رہیں گے۔ کاروبار کا بنیادی ٹول ہی انسان ہیں۔ تو انسان کو بچانا، اس بار ضروری ہے، ورنہ آپ بھی نہیں بچیں گے۔ لوگ بچ گئے تو آپ کو پھر سے کمانے یالوٹنے کا بھی موقع مل سکے گا۔

کورونا کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف تھیوری موجود ہیں۔ ہر شخص اپنی عقل وشعور، علم اور تحقیق کے مطابق رائے دے رہا ہے۔ کوئی اسے چین کی سازش کہہ رہا ہے تو کوئی امریکہ کی۔ لیکن حقیقت کی عینک سے دیکھاجائے تو اب تک دونوں ممالک ہی گھاٹے ہیں۔ چین کی معیشت سال کے ابتدائی صرف دو ماہ میں 17.2 فیصد کا نقصان اٹھاچکی ہے اورامریکہ نے کورونا سے نپٹنے کے لئے دو کھرب ڈالر کا پیکیج منظور کرلیاہے۔ ڈبلیو ٹی اونے کوروناکے پیش نظر 2020 میں بین الاقوامی تجارت میں تیرہ سے بتیس فیصد تک کمی کی پیش گوئی کردی ہے۔ ایک طبقہ اسے خدا کی طرف سے نازل کردہ عذاب قرار دے رہا ہے۔ بزرگوں کا کہناہے کہ برے یامشکل حالات اگر انسان کوخدا سے دور کردے تو اِسے عذاب کہہ سکتے ہیں اور خدا کے قریب کردے تویہ آزمائش ہوتا ہے۔ اب یہ حقیقت میں کیا ہے کہ یہ تو اللہ کو ہی معلوم ہے۔

اب تک اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ یہ کورونا لیباٹری وائرس ہے۔ نیچر میڈیکل کی تحقیق نے اس تھیوری کو سرے سے مسترد ہی کردیاہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں بنایاگیاہے، تحقیق میں کہاگیاہے کہ کورونا کے جینوم سیکوینس کاڈیٹا دیکھنے کے بعد حتمی طورپرکہا جاسکتاہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پرپیدا ہوا ہے۔

دنیا بھر کی طرح حکومت پاکستان بھی کورونا وائرس اور اس سے پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مختلف اقدامات اٹھارہی ہے۔ اکثر کی رائے ہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن کرنے میں دیرکری، جس کی وجہ سے کورونا پاکستان بھر میں پھیل گیا۔ بیرون ملک سے آنے والے افراد کی وقت پر صحیح طرح سے اسکریننگ نہیں کی گئی، نہ ٹیسٹ کیے گئے۔ نہ انہیں قرنطینہ میں رکھ وہ سہولیات فراہم کی گئیں، جس کے وقت مستحق تھے، جس کے باعث دباؤمیں آکر انہیں ملک کے دیگر شہروں کو جانے کی اجازت دینا پڑی، پھرکوروناوائرس کے کیسز میں روز بروز اضافہ ہوتا چلاگیا۔

8مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک صرف 42 ہزار 159 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ اب تک 58 افراد جاں بحق، 4187 متاثر، جن میں سے 25 تشویش ناک حالت میں زیرعلاج ہیں۔ لیکن ان اعداد و شمار پر ماہرین کویقین نہیں ہے۔ لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کاکہناہے کہ صحیح یا مستند تعداد کا اندازہ صرف اُس ہی صورت میں لگایاجاسکتاہے، جب زیادہ سے زیادہ کورونا کے ٹیسٹ کیے جائیں۔ اُن کامزید کہناہے کہ زیادہ ٹیسٹ سے تشخیض کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا، حکومت کو مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے، صرف اُن لوگوں کو تنہا ہوگا، جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے اور یہ زیادہ مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

صحیح بخاری کی حدیث میں اسامہ بن زید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں، جس کا مفہوم ہے کہ اگرکسی جگہ وبا ہوتو وہاں نہ جاؤ، اور اگر جہاں ہو وہاں وبا پیدا ہوجائے تو، اُس جگہ کو بھی چھوڑ کے نہیں جاؤ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں کہا، جس کا مفہوم ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ( پچھلی قوموں پر) بھیجا گیا عذاب تھا جس پر وہ چاہتا تھا، اور اللہ نے اسے مومنوں کے لئے رحمت کا ذریعہ بنا دیا، کیونکہ اگر کوئی وبائی بیماری کے وقت اپنے ملک میں صبر کے ساتھ اللہ کے انعام کی امید کر رہے ہوں اور اس بات کا یقین کر رہے ہوں، کہ کوئی چیز رونما نہیں ہوگی، اس کے سوا جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دی ہے تو اللہ اسے شہید کو درجہ عطا فرمائے گا۔

موجودہ حالات میں دو بنیادی اقدامات ہیں، جس کے ذریعے اس وبا سے نمٹا جاسکتاہے۔ پہلی صورت میں زیادہ سے ز یادہ کورونا کے ٹیسٹ کرکے متاثرہ یا مشتبہ افراد کوالگ کرکے مکمل مفت علاج کرکے اُن کو زندگی کی طرف لایا جائے۔ متاثرہ افرادکو ایماندارانہ اقدامات سے اس بات کا یقین دلایاجائے کہ حکومت کے بس میں جو ممکن صورت ہے، حکومت وہ کررہی ہے۔ قرنطینہ یا آئسولیشن میں موجود افرادکی شفیق باپ اور محبت کرنے والی ماں کی طرح دیکھ بھال کی جائے، تاکہ مشتبہ یا متاثرہ افراد کو علاج کرانے کے لئے خود کو حکومت کی حوالے کریں۔ کامیابی کی صورت میں متاثرہ شخص اور لواحقین کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر کے لوگوں کا حکومت اعتماد بڑھے گا۔

مالی سال 20۔ 2019 کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 12 ارب روپے مختص ہیں، اس حساب سے ہر پاکستانی کے حصے میں تقریبا صرف 65 روپے ہی آتے ہیں۔ 65 روپے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ امریکہ اپنے کل بجٹ کا بڑا حصہ صحت پر لگانے کے باوجود کورونا کے آگے گھٹنے ٹیک چکا ہے اور اب مزید دو کھرب ڈالر کا پیکیج کانگریس سے منظور کرانے کے باوجود امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کواس بات کو یقین نہیں ہے کہ امریکہ کب تک کورونا پر قابوپانے میں کامیاب ہوسکے گا یا یہ وبائی صورتحال کب تک چلے گا۔

یہاں یہ بات واضح کردوں کہ خود امریکہ میں بحث عام ہے کہ صحت پر بجٹ کا بڑا حصہ مختص کرنے کے باجود امریکہ میں علاج مہنگاکیوں ہے؟ ڈاکٹر جاوید اکرم میڈیا سے گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں صحت کے بجٹ کے حوالے سے ہماری اسٹریٹیجی ایگریسو ہے، پروگریسو نہیں ہے۔ جس سے تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکان کم دیکھا ئی دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں جاوید اکرم کی رائے کے مطابق حکومت کو پروگریسو رویہ اختیارکرنے کی ضرورت ہے، جس سے آئندہ کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوسکے۔

دوسری صورت میں ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ مل کر معاشی طورپر ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے متاثرہ یا مشتبہ افراد کی دیکھ کے لئے انہیں معاشی سپورٹ فراہم کی جاسکے۔ پاکستان اب تک چار جنگیں لڑچکا ہے اورکئی مصیبتوں کا سامناکرچکاہے۔ اس صورتحال میں صرف اور صرف ایک بات جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی تھی، وہ یقین تھا۔ پاکستان پر یقین اور اللہ کی طرف سے ملنے والے انعامات پر یقین۔ ہوسکتاہے کہ لوگ اس یقین کا مذاق اُڑائیں، لیکن یقین جانیں پاکستانی قوم اس یقین کے ساتھ بہت سے مشکل حالات کا سامناکرچکی ہے اور آج یہی یقین ہی پاکستانیوں کو سرخرو کرے گا۔

اب بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے میں دیر ہوچکی اورمتاثرہ افراد پورے پاکستان میں پھیل چکے ہیں تو ایسی صورت میں لاک ڈاؤن ہی واحد حل نظر آتاہے۔ لیکن کیا یہ لاک ڈاؤن زیادہ عرصے چل سکتاہے؟ جواب یقیناً نہیں ہوگا اور ساتھ ہی یہ لاک ڈاؤن کب تک چلے گا، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاہے۔ جیسا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردادی نے بھی کہہ دیا کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان یا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نہیں کریں گے، بلکہ کورونا خود کرے گا۔

وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد 4 لاکھ 8 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ٹائیگر فورس ضرورت مندوں کو خوراک، کھانا اور راشن سپلائی کرنے کے ساتھ ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی اور ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کرے گی۔ ٹائیگر فورس اوراسکی خدمات کے حوالے سے قوم میں ہم آہنگی بظاہر نظر نہیں آتی، تو سب سے پہلے ہم آہنگی کا پیدا کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ ٹائیگرز صرف چڑیا گھر کی حدتک ہی محدود ہوجائیں گے، غریب اور مستحق آدمی مزید غربت اور بھوک کے بوجھ تلے دب جائے گا۔

حکومت کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت نادرا رکارڈ کے ذریعے 1 کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں میں 12 ہزار روپے فی کس دینے کا اعلان کیاگیا ہے۔ 144 ارب روپے ڈھائی ہفتے میں بانٹنے جائیں گے، لیکن یہ رکارڈ بھی مشکوک ہی ہیں، ساتھ ہی وہ افراد جن کے پاس موبائل ہی نہ ہوں وہ کیسے امداد وصول کرسکیں گے، ایک اہم سوال ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ مردم شماری کی وقت میں جس طرح پاک فوج کی خدمات لی گئیں تھیں، اسی پیمانے پرفوج کے ساتھ مل کر مردم شماری کے رکارڈ کی مدد اورشناختی پر درج خاندان کے سربراہ سے رابطہ کرکے امداد کو یقینی بنایاجائے۔ گھرگھر جاکر لوگوں کو راشن کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جائے۔ جس میں پاک فوج کا ایک اہلکار، محکمہ صحت کے ساتھ حکومتی نمائندے شریک ہوں۔

مردم شماری سے پہلے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق سرکل کی سطح پر فوج کا ایک سینسس سپورٹ افسر ، اِس سے اوپر چارج سپورٹ ٹیم، اِس سے اوپر ضلعی سطح پر سینسس سپورٹ سیل قائم گیا تھا۔ جس کی نگرانی ڈویژن اور صوبائی سطح پر کی گئی تھی۔ ان سب کا مرکز ہیڈ کوارٹر آرمی ایئر ڈفینس کمانڈ راولپنڈی تھا۔ اِن تمام اقدامات کا مقصد مردم شماری کے عمل کو رواں رکھنا، اس دوران سکیورٹی کو یقینی اور پورے عمل کو شفاف بنانا تھا۔ مردم شماری کے دوران اُن علاقوں میں رسائی کو ممکن بنایاگیا، جہاں کوئی عام حالات میں نہیں جاسکتا، لیکن فوج کی لاجسٹک سپورٹ سے یہ ناممکنات کو ممکن بنایا جاسکا۔ اسی طرز پرکام کرکے موجود ہ حالات کا سامنا کیا جاسکتاہے۔

فوج کی شمولیت سے ناصرف حکومت کو افرادی قوت میسر آسکے گی بلکہ فوج کے تربیت یافتہ اور نظم و ضبط سے لیس اہلکاروں کے ذریعے حقیقی امداد کو ممکن بنایاجاسکتاہے۔ فوج کا اعلی ٰ تربیت یافتہ عملہ، جو کے خاص ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت رکھتا ہے، اسُ سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے۔ عارضی اسپتال یا کیمپ کابھی انعقاد کرکے لوگوں کو صحت کے دیگرمسائل کے حوالے سے بھی داد رسی کی جاسکتی ہے۔ دو ر دراز علاقوں اور شہر میں فوج کے ذرائع ابلاغ کے نظام سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔ ساتھ ہی کسی بھی علاقے میں ریاستی کاموں میں ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں نمٹنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اس تما م اقدامات کے دوران حکومت اور فوج کا مل کر کام کرنے کا جذبہ نہ صرف لوگوں میں امید کی کرن پیدا کرے گا بلکہ پوری قوم یک زبان اور عمل سے اس مشکل کی گھڑی سے باہر آسکتی ہے۔

ان اقدامات کے بعد اور ساتھ ساتھ جس بات کی شدید ضرورت ہے کہ وہ خداسے رجوع کرنے کی ہے۔ چونکہ ہمارے ملککا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے، اوریہی آئین پاکستان کی پہلی شق ہے۔ آرٹیکل 2، اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔ آرٹیکل 2 اے کے تحت قرارداد مقاصد کو آئین کا اہم ترین حصہ بنایا گیا ہے۔ یہی قرارداد مقاصد آئین کے ابتدائیہ میں شامل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور یہ بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق، جس طرح قرآن اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔

اس تناظرمیں حکومت کو پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے اسلامی رجحانات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ کئی مواقعوں پر حکومت اس جذبے کو محسوس کرتے ہوئے، اقدامات کرتی آئی ہے۔ اگرکوئی اس جذبے کو محض مضحکہ خیز سمجھتا ہے تواختلاف کاحق رکھتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا بھرمیں پائی جانے والی تین آئیڈیولوجی کے مطابق ہی حکومت کام کرتی ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ملنے والی عوامی آزادی کو آج بھی حکومتیں چیلنج نہیں کرتی، ہاں بے وقوف ضرور بناتی ہیں۔

اسی آئیڈیولوجی ٹیکنیک کے تحت پاکستانی حکومت کو بھی یہاں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ دنوں میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ جس میں مسلمانوں کے جذبات مزید ابھر کے سامنے آتے ہیں۔ مساجد میں لوگوں کی تعداد اور مذہبی اجتمامات میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔ ایسے میں حکومت کو ان اجتماعات میں لوگوں کی شرکت کو صحت کے اصولوں کے مطابق ممکن بنانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات کو تو حکومت نے علمائے کرام کی رائے لے کر کسی حد تک روک دیاہے، لیکن لوگوں کی رائے اس سے مختلف نظر آتی ہے، حتی ٰ کے علمائے کرام میں بھی شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ یقین نہیں ہے تو پاکستان کی جید علمائے کرام سے جاکر معلوم کرلیں، کیونکہ علمائے کرام نے صرف انتشارسے بچنے کے لئے حکومتی فیصلے کو حیلے کے ساتھ قبول کیا۔

اسلام میں نماز جمعہ کی ادائیگی فرض عین ہے، جس میں ہر شخص کی شرکت کو فرض قراردیاگیاہے۔ سورة الجمعة کی آیت 8 اور 9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور خریدو فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار لوگوں کونماز جمعہ کی ادائیگی سے اسثناء دیاہے۔ غلام، عورت، بچے اور بیمار افراد۔

موجودہ وبائی صورتحال اس سے پہلے بھی تیرہویں صدی کے وسط میں پیش آچکی ہے۔ جب ملک شام سے لے کر مراکش تک جلد کی بیماری پھیل گئی تھی۔ جس کو Great Plague in Damascusکا نام دیا گیا تھا۔ اس دوران تقریباً دس کروڑ کے قریب لوگ موت کی منہ میں چلے گئے۔ اسی طرح 1918 میں انفلوئنزا وائرس سے صرف امریکہ میں چھ لاکھ اور دنیا بھرمیں کم و بیش 5 کروڑ کے قریب لقمہ اجل بنے۔ لیکن اسلامی تاریخ ایسی مثال نہیں ملتی اللہ سبحان وتعالیٰ کی جانب سے عائد کردہ فرض حکم کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی گئی ہو۔

اس دوران بھی مساجد آباد، جمعہ اور دیگر اجتماعی عبادات کے لئے مساجد آباد رہیں۔ لیکن اس دوران بنیادی صحت کے اصولوں کو یقیناً مدنظر رکھاگیا اور باقی معاملات کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد کردیاگیا۔ لیکن موجود صورتحال میں سوال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پرپابندی عائد کرنے سے پہلے کیا ایک لمحے کے لئے بھی اس بات پر غور کیاگیاکہ اللہ کی طرف سے عائدکردہ فرض نماز کی ادائیگی کے لئے کیا کیا ممکن اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

جواب گریبان میں جھانک کردیں تو جواب یقیناً نفی میں ملے۔ بہتی گنگا اور غیرمسلموں کے اٹھائے گئے اقدامات کے دریا میں غوطہ لگاکرمسلمانوں کو بھی اُسی تناظرمیں تصویردکھائی گئی۔ ہونا یہ چاہیے تھاکہ سوشل ڈسٹینسنگ کے فارمولے کے ساتھ سینیٹائزر گیٹ مساجد کے باہر نصب کیے جاتے، علاقے میں 10 مساجد میں سے کسی ایک کا انتخاب کیاجاتا۔ (جیسا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں سینیٹائزر گیٹ کے ذریعے کاروبار زندگی چلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں )

لوگوں کی وہاں نمازکی ادائیگی کے لئے صحت کے اصولوں کے تحت اقدامات، آگاہی کے ذریعے لوگوں کو اللہ سے رجوع کرنے سے متحرک کیاجاتا۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کوبھی اُنکے ضروری اعمال کو اختیار کرانے میں ریاست اپنا کردار ادا کرتی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدامات دیکھنے کو اب تک نہیں ملے اورنہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، جیسے اُس کا تقاضا ہے، پورا کرنے کا اہتمام کیاگیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک اور یہاں رہنے والے مسلمانوں کی سوچ کے ساتھ اللہ کے دیے گئے احکامات کی روشنی میں بہترین اقدامات کو مشعل راہ کے طورپر اپنایاجائے۔ کیونکہ اللہ کے عائد کردہ فرض کی ادائیگی ہی ایک مسلمان حکمراں کا طرہ متیاز ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply