کلنٹ ایسٹ ووڈ، سلطان راہی اور ینگ ڈاکٹرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلنٹ ایسٹ ووڈ کی کاؤ بوائے فلمز نے، جو شاید عصری لحاظ سے بہت پرانی ہیں، کم از کم ہماری عمر کے لوگوں اور ڈاکٹر حضرات کی تازہ اور نوخیز دونوں قسم کی لاٹ کے لیے، ہمارے ینگ ڈاکٹرز کے دل و دماغ اور شعور اور لاشور پر انتہائی گہرے اور شاید دیر پا اثرات چھوڑے ہیں۔ میں یہ تو حتمی وثوق کے ساتھ تو نہیں کہ سکتا کہ یہ لوگ کلنٹ ایسٹ ووڈ کو اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ کاپی کر کے معاشرے پر اپنا انفلوئنس پیسٹ کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔

اپنے زور بازو کو آزماتے یہ سورمأ بسا اوقات ایم۔ ایس کے آفس میں نظر نہ آنے والے ایول سے آپ کو لڑتے نظر آتے ہیں۔ آفس کا عملہ اور فرنیچر دونوں ہی ان کی طاقت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں اگر چند ایک مریض نظر انداز ہو بھی جائیں تو کیا غم ہے، برائی سے لڑنا زیادہ اہم ہے اور پھر کسی بڑے مقصد کے حصول کی خاطر کچھ اگر دم توڑ بھی جائیں تو وہ تو ویسے بھی مرتبۂ شہادت پر فائز ہوں گے، مریں گے تھوڑی بھلا۔ شہکی بھائی نے تو بہت پہلے گا کر بتا دیا تھا کہ شہید کی جو موت ہے۔

مگر شاید لوکل کلچر اور لوکل انفلوئنس اپنے اثرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ طاقتور فیکٹر ہے۔ ہمارے وہ پیارے ڈاکٹر بھائی جو وقت کی قلت کے باعث اس گورے فرنگی ( ہر اجلی رنگت والا ہمارے لئے فرنگی ہی ہے ) کی فلمز پر وقت ضائع نہ کر پائے وہ ہماری پنجابی فلموں کے لیجنڈ سلطان راہی کی فلموں کے اثرات کے طاقتور ہونے کے واحد گواہ بننے کے ازحد شوقین نظر آتے ہیں۔ بے چارہ سلطان راہی تو او ظالم جاگیر دارہ اور اس کے پالتو اور فالتو غنڈوں سے ہی لڑتا نظر آیا مگر ہمارے پیارے ینگ ڈاکٹرز اس جنگ کو ایک قدم اور آگے لے گئے ہیں اور ظالم کو اس کے ہی آفس میں، شہر کے چوکوں میں اورحد یہ کہ وارڈز کے اندر بھی، لاچار مریضوں کی پرواہ کیے بغیر، للکارتے نظر آ تے ہیں۔

سلطان راہی تو بے چارہ کسی نہ کسی گن یا ہتھیار کا محتاج نظر آیا، مگر آفرین ہے اس نوجوان خون پر جو ڈنڈے اور سوٹے کا استعمال بھی اس خوبصورتی سے کرتے نظر آتے ہیں کہ ہزاروں گنز اس مہارت کے سامنے پانی بھرتی ہیں، اور ساتھ ہی کمر کی لچک کا اتنا استھیٹک مظاہرہ کہ الامان الاحفیظ۔ برنگ اٹ آن کی وہ شاندار للکار! کدی آؤ نہ ساڈے ول!

کبھی کتاب لکھنے کا دل کرے تو ایسے چارجڈ پرو ٹیسٹ کا حصہ بن کر دیکھیں۔ اعضائے خفیفہ اور 100 راز، لیٹسٹ اناٹومی فیکٹز، ایولیشون آف ڈرٹی لینگوئج، 1001 ویز آف کالنگ یور اینیمی، لیٹسٹ کولیکشن آف ناٹ سو سے ایبل ورڈز وغیرہ وغیرہ جیسی بے تحاشا کتب آپ کے رائٹنگ پروفائل میں پلک جھپکتے ہی درج ہو جائیں گی۔ اور اگر آپ ایک سائیکالوجسٹ ہیں تو بھی آپ ٹوائیلٹ، فلش اینڈ آور شیپنگ ایٹٹیوڈز جیسی کتاب لکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک وکیل ہیں تو آپ کی شمولیت تو لازمی ہے وگرنہ آپ کی لیگل ڈکشنری میں ان خوبصورت رشتوں اور وربل اسالٹ اور وربل لاٹھی چارجنگ کی ٹرمز کی ہمیشہ ہی کمی رہے گی۔

مگر آپ ان خوبصورت نوجوانوں کو انڈر ایسٹیمیٹ کیوں کرتے ہیں۔ ہزار برائیاں ہی ہوں بھلے مگر جناب ایک بات تو یقیناً آنے والا مورخ لکھے گا کہ یہ ڈاکٹر حضرات لیڈرشپ کی صلاحیتوں سے لبریز ہیں، بلکہ بعض تو اس حد تک بھرے پڑے ہیں کہ چلتے ہیں تو لیڈری چھلکتی، جیبوں سے نکل نکل کر تا حد نگاہ گرتی چلی جاتی ہے۔ اب آپ یقیناً ثبوت مانگیں گے، ماڈرن ذہن کی بس یہی خرابی ہے کہ بغیر ثبوت کوئی بات مانتا ہی نہیں، تو جناب مال روڈ جائیں، سروس ہاسپیٹل جائیں، میو ہاسپیٹل جائیں اور پنجاب اسمبلی جائیں۔

ڈاکٹرز کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اکثر اوقات ان ہی مقامات کی طرف مارچ کرتا ہے۔ یا پھر ایمرجنسی وارڈ میں کی جانے والی ہڑتالوں کی جانب نظر دوڑائیں۔ تمام ہسپتال کو لاک ڈاؤن بلکہ شٹ داؤن کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی منظوری تک، تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے تک، فلاں فلاں کی بر طرفی تک، ایکس کی آزادی تک، وائے کی بحالی تک تمام ہسپتال کڑچ رہیں گے۔

اور اگر دوران ڈیوٹی کوئی بے چارہ اگر واٹس ایپ پر، ٹویٹر پر، فیس بک، انسٹا گرام یا سنیپ چیٹ پر وقت گزاری کرتا پایا جائے تو ہمارے عوام تو بس پاگل ہی ہو جاتے ہیں۔ ہر کسی کی شخصی آزادی میں مداخلت کرنا ویسے بھی ہمارا قومی کھیل ہے اور اس کھیل میں کوئی ہمیں نہیں ہرا سکتا۔ مریضوں کو نہ دیکھ دیکھ کر ویسے بھی شعور اور لاشعور پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اس کو ان ڈو کرنے کے لئے شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے اور پھر ان بیمار مریضوں کے ساتھ آئے چیختے چلاتے ان کے لواحقین شور بھی تو اتنا کرتے ہیں کہ یقیناً اپنے حواس پر قابو رکھنا ایک آرٹ ہے اس طوفان بدتمیزی میں۔

کورونا کے اس درد ناک عہد نے تمام ینگ ڈاکٹرز کے لیے ایک ایسا سنہری موقع پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے اس امیج کو صاف کر سکیں، اور بہت سارے عظیم ینگ ڈاکٹرز پہلے ہی کرونا کے خلاف اس قومی جدوجہد کا خوبصورت حصہ ہیں بھی، اور اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی خدمت کر کے ہمارے دل جیت لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply