شق نمبر 8 جنوبی پنجاب صوبے کا قیام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ پنجاب بھی تقسیم ہوگیا۔ آدھا پنجاب پاکستان اور آدھا ہندوستان کے حصہ میں آیا۔ ہندوستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب کے وقت گزرنے کے ساتھ تین حصے کر دیے گئے۔ مگر پاکستان کے حصہ میں آنے والا پنجاب کروڑوں سرائیکیوں کے مطالبہ کے باوجود تقسیم نا ہوسکا۔ اس سے زیادہ دلچسپ اور مضحکہ خیز بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ سرائیکی صوبہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے مگر اس کے باوجود صوبہ نہیں بن سکا۔ کیا سیاسی جماعتیں سرائیکی صوبہ بنانے میں مخلص نہیں ہیں یا پھر کوئی اور مجبوری ہے۔ کچھ تو ہے جس کی وجہ سے سرائیکی خطہ کے الگ صوبہ کا مطالبہ باوجود سیاسی وعدوں اور دعوؤں کے نہیں بن پا رہا۔

ارباب اختیار کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ وفاق کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ وفاق کی اکائیوں میں توازن ہو اور کیا وفاق کی موجودہ اکائیوں سے کہیں بھی توازن محسوس ہوتا ہے؟ ایک صوبہ پنجاب کی قومی اسمبلی کی نشستیں دیگر تمام صوبوں کی قومی اسمبلی کی نشستوں پر بھاری پڑتی ہیں اور ملک کی سیاست کا رخ تبدیل ہوجاتا ہے اور اسی سبب دیگر صوبے پنجاب کے حجم کے سبب عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کا اسٹیٹس دینے سے کراچی اور ہزارہ کے مطالبات کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

اگر یہ خدشات درست ہیں تو پھر یہ تقسیم دیگر سیاسی جماعتوں کو کیسے منظور ہو سکتی ہے۔ اور ن لیگ نے تو جنوبی پنجاب صوبہ کی پیٹھ میں خنجر اس وقت ہی گھونپ دیا تھا جب قومی اسمبلی میں احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثنا اللہ اور عبدالرحمن کانجو کے دستخطوں سے ایک ترمیمی بل جمع کرایا تھا۔ جس میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم سے بہاولپور، جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے الفاظ شامل کیے جائیں۔ جس کے تحت بہاولپور کو الگ صوبہ اور ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جانا تھا۔ یہ ترمیمی بل نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی وہ تقسیم تھی جس کے تحت ن لیگ نے سرائیکی صوبہ کے ہمیشہ کے لیے متنازعہ بنا دیا۔

2018 کے عام انتخابات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سندھ کے شہری حلقوں اور کے پی کے کے علاوہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے کے لئے مشکلات کا سامنا تھا۔ پنجاب کے اندر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حلقوں پر گرفت مضبوط تھی اور تحریک انصاف کو پنجاب میں ن لیگ کی طرف سے بھرپور مقابلے کا سامنا تھا۔ ایسے میں عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے لیے مطلوبہ نشستیں پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی تھیں۔ ایسے میں 29 اپریل کے جلسہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 11 نکاتی انتخابی منشور پیش کر دیا۔ اس 11 نکاتی منشور کا نکتہ نمبر 8 جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام تھا۔ اور یہ نکتہ سرائیکیوں کے لئے اندھیرے میں امید کی کرن بن گیا۔ سرائیکی خطہ میں دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کے آثار پیدا ہو گئے۔

اسی اثنا میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے ایک انتخابی اتحاد تشکیل پا گیا۔ یہ اتحاد صرف اور صرف ون پوائنٹ ایجنڈے پر تشکیل دیا گیا اور وہ تھا جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کا درجہ دلانے کا۔ اس اتحاد میں جنوبی پنجاب کے نامور سیاسی گھرانے شامل ہوئے اور اس کی سرپرست سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری تھے۔ جبکہ اس کے دیگر معاملات میں خسرو بختیار اور طاہر بشیر چیمہ، سردار نصراللہ خان دریشک پیش پیش تھے۔

9 مئی کو تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم ہوگیا اور تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے پہلے 100 دنوں میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کر لیا۔ اس معاہدے پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی طرف سے سردار میر بلخ شیر مزاری، مخدوم خسروبختیار اور طاہر بشیر چیمہ نے دستخط کیے۔

اس کے بعد 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات ہوئے جس میں تحریک انصاف نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے وزارت عظمیٰ کو یقینی بنا لیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بالآخر وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد جنوبی پنجاب کے سرائیکیوں کی طرف سے گنتی شروع ہوگئی کہ کب 100 دن پورے ہوں گے اور عمران خان اپنا وعدہ وفا کریں گے اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائیں گے۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سرائیکی قوم کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ بات الگ صوبہ سے شروع ہوئی پھر حکومت کی طرف سے بیان آیا کہ الگ صوبہ بل کی منظوری کے لئے مطلوبہ عددی اکثریت موجود نہیں ہے اس لیے پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب میں سب سیکرٹریٹ بنائیں گے جہاں پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری سمیت دیگر محکمہ جات کے ایڈیشنل سیکرٹری کام کریں گے۔ تا ہم یہ بھی سیاست کی نذر ہوگیا۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے سرائیکی لیڈران نے حکومت کی تشکیل کے بعد وزارتیں لے کر خاموشی اختیار کرلی۔ اور کسی نے سوائے اخباری بیان بازی کے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ایسے میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے سرپرست سردار میر بلخ شیر مزاری کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو اپنا وعدہ یاد دلائیں اور صوبہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنوائیں۔ کیونکہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہونے والا اور دوسری بات یہ کہ وعدہ تو جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا ہوا تھا نا کہ سیکرٹریٹ بنانے کا اور ووٹ بھی اسی کے ملے تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے سرائیکی خطہ کی عوام توقع کرتی ہے کہ وہ کسی بھی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے نا صرف عملی اقدامات کریں گے بلکہ سرائیکیوں سے کیا گیا اپنا وعدہ وفا کریں گے۔ اور امید ہے کہ وہ اپنے 11 نکاتی منشور کی شق نمبر 8 نہیں بھولے ہوں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *