جو بائیڈن کی پاکستان، کشمیر اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی کیسی ہو گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن اس وقت پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ میری ان سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت سے ان کے متعلق ایک گہرا تاثر لیا کہ وہ ناصرف کے ان حالات سے آگاہ ہے جو پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کو اور امریکہ کے لیے اس کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی داخلی سیاست اور اس کی رمزوں سے بھی آشنا ہیں۔ ان کی گفتگو ایک سیاستدان کی کسی معاملے پر گہرے غور و خوض کی آئینہ دار تھی۔

گزشتہ برس بھی ان کے قریبی ساتھی ڈاکٹر ڈینیل مارکی سے ان کی نامزدگی پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ نامزدگی کا عمل مکمل ہوتے ہی معاملات درست سمت میں رواں ہو جائے گے کیوں کہ یہ امریکی جمہوری کلچر بھی ہے اور جو بائیڈن میں یہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جو بائیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے میں ایک معاملہ بہت گہرا فرق کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جو بائیڈن نے اس مقام کو سینیٹر شپ اور اس سے وابستہ سیاست کرتے ہوئے حاصل کیا ہے جب کہ ٹرمپ کے پاس یہ تجربہ نہیں تھا بلکہ کلنٹن، بش جونیئر وغیرہ بھی گورنری سے صدارت تک آئے تھے اور ان کے پاس بھی سینٹ میں کام کرنے اور مختلف امور کو باریک بینی اور گہرائی سے دیکھنے کا تجربہ نہیں تھا دوسرے لفظوں میں وہ معاملات سے اس طرح وابستہ نہیں تھے کہ جیسے جو بائیڈن رہ چکے ہیں۔ اسی لئے یقینی امر محسوس ہوتا ہے کہ وہ یورپ سے دوری کے تاثر کو زائل کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ میں بھی امریکہ کی دوبارہ شمولیت کر دیں گے۔

پاکستان کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی تو بڑی تبدیلی محسوس نہیں ہوگی لیکن ان دیکھی حکمت عملی میں ضرور فرق پڑے گا۔ امریکہ کی نئی خارجہ امور کی ٹیم کے حوالے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ واپس آ جائیں گے جو اوباما کے دور میں نائب تھے اور افغانستان کے معاملات بھی دیکھ رہے تھے حال ہی میں انہوں نے افغانستان پر کتاب بھی لکھی ہیں وہ اب معاملات کو چلائیں گے اور امریکہ پاکستان کے حوالے سے اس معاملے پر غور کرے گا کہ پاکستان میں جاری سیاسی انتشار اور دن بدن بڑھتی بے یقینی امریکی مفادات میں ہے یا حکومت ایسے انداز میں قائم ہوں کہ جس میں 2018 کے انتخابات کی طرح انتخابی عمل پر سوالیہ نشان نہ ہو بلکہ انتخابی عمل شفاف ہو۔

پاکستان کے حوالے سے اس پالیسی کا خاتمہ ہونا ہی ہے کی پاکستان کو بھارت کے تناظر میں بھارتی چشمے سے دیکھا جائے بلکہ اب اس کے لیے صرف امریکی مفادات کا چشمہ استعمال کیا جائے گا۔ اس عمل میں کوئی کلام ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے حوالے سے دہشت گردی کا معاملہ ایک ایسا الزام ہے کہ جس سے ہزاروں پاکستانی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتوں کے باوجود جان نہیں چھڑائی جا سکی ہے امریکہ کا اس حوالے سے نقطہ نظر پاکستان کے نقطہ نظر سے بہرحال مختلف ہی تھا اور ہے اور اس معاملے کو پاکستان سے اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کے لئے استعمال بھی کیا جائے گا اگر پاکستان کے مقتدر ادارے میں فیصلہ ساز اراکین اس کو سمجھ لے تو ایسی صورت میں اس الزام سے پیچھا چھڑا نا ممکن ہے لیکن تاہنوز محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

ایسی صورتحال سے بھارت کو بدستور فائدہ ہوگا کیونکہ جو بائیڈن انتظامیہ دہشتگردی کے معاملے میں بدستور بھارت کے ساتھ ایک صفحے پر رہیں گی لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ جو ہلا شیری ٹرمپ انتظامیہ نے مودی سرکار کو دے رکھی تھی وہ جاری رہے گی۔ امریکہ نے کامیاب حکمت عملی کے ذریعے بھارت کو خطے کو غیر مستحکم کرنے والی حرکتوں کے لیے اکسایا۔ چین اور پاکستان سے اس کے تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے چلے گئے۔ اب جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کشمیر میں جاری بھارتی نا انصافیوں کے حوالے سے بیان جاری کر چکے ہیں خیال رہے کہ جو بائیڈن سٹیزن شپ ایکٹ کے خلاف بھی بول چکے ہے۔

مودی سرکار کے لئے یہ تو ممکن نہیں ہوگا کہ وہ ان اقدامات کو جو کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھیں جا رہے ہیں واپس لے سکیں کیونکہ اس سے تو ان کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور پڑ جائے گی۔ امریکی تنقید سے بچنے کے لئے بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا ماسوائے اس کے کہ وہ امریکہ کی مزید جی حضوری کرے اس جی حضوری میں اس کو امریکہ کے لیے خطے میں اور خاص طور پر خطے کے سمندروں میں وہ کردار زیادہ جاں فشانی سے ادا کرنا پڑے گا جو امریکہ چاہے گا کیونکہ اگر امریکہ نے بھی انسانی حقوق کے نام پر سختی دکھانی شروع کر دی تو کرونا سے شدید متاثر بھارت جو پاکستان اور چین سے بھی الجھا ہوا ہے امریکہ کا دباؤ برداشت نہ کر سکیں گا اس لیے یہ واضح ہے کہ بھارت مزید امریکہ کی جھولی میں آ گرے گا۔

انسانی حقوق کے حوالے سے کسی بھی ملک کا غیر ذمہ دارانہ رویہ جو امریکہ پر انحصار بھی کرتا ہو امریکہ کے ہاتھ میں ایک زبردست اوزار کی مانند ہوگا جس سے وہ اپنی من مرضی کا بت تراش لے گا۔ جمال خاشقجی کے واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھیے یہ تنہا واقع ہی امریکی مفادات کے تحفظ کا ضامن بن جائے گا۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر ایران تک معاملات سے پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ یہ تو اب سامنے کی بات ہے کہ شام میں خانہ جنگی سے لے کر یمن تک کے معاملات نے ایران کو خطے میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

خلیج اور امریکا کی مخالفت کی باوجود ایران شام اور یمن میں اپنی حکمت عملی پر کاربند رہا اور اس کو روکا نہیں جا سکا۔ لہذا یہ واضح ہو گیا کہ شام اور یمن کے معاملے پر امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی غلط تھی۔ اس غلطی پر قابو پانے کے لیے اور ایران کو واپس اپنی پوزیشن پر دھکیلنے کے لیے ضروری ہوگا کہ ایران کو کچھ مراعات دی جائے اور یہ مراعات ایران سے فائیو پلس ون کے جوہری معاہدے کی تجدید سے ہی ممکن ہوگا جس کی طرف جو بائیڈن اشارہ کر چکے ہیں۔

عرب دنیا میں ٹرمپ کے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر بہت اضطراب پایا جاتا تھا۔ ایران بھی اس اضطراب کو اپنے لیے استعمال کر رہا ہے۔ جو بائیڈن کے لیے شاید یہ تو ممکن نہ ہو کہ وہ اس فیصلے کو واپس کر سکے مگر فلسطینیوں سے وہ امریکہ کے تعلقات ضرور بحال کر دیے گے اور دو ریاستی حل کی امریکی پالیسی کا اعادہ کریں گے۔ یورپین کونسل فار فارن ریلیشنز نے جو بائیڈن کی ممکنہ خارجہ پالیسی پر ایک رپورٹ تیار کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حوالے سے پرانی پالیسی اپنائی جائے گی جبکہ اقدار کی پاسداری کی بات ہوگی یعنی انسانی حقوق کی پاسداری اس نعرے کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں کس کو اپنی مرضی پر چلایا جائے گا بالکل واضح ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •