کورونا کو رونے سے بہتر احتیاط اور شکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کورونا پوری دنیا کے مقابلے میں جس بری طرح رسوا ہوا تھا وہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے نہ تو کوئی رشتے داری تھی اور نہ ہی ہمارے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو سکتا تھا لیکن ہماری ناشکری کا عالم دیکھئے کہ ہم نے کورونا کے حملے کی ناکامی کو اپنی قوت بازو قرار دیا اور ایسا لگا جیسے کورونا کی تباہ کاریوں کے مہلک واروں سے بچ جانا انسانی کارنامہ رہا ہو۔

ممکن ہے کہ اس میں انسانی کاوشوں کو بھی کسی حد تک دخل رہا ہو لیکن وہ عمل دخل کیا اور کس قسم کا تھا، اس کے لئے بھی کوئی ایسی دلیل ہے جس کو بیان کرنا قابل ذکر کہا جا سکے۔ کیا ہم نے کورونا کے وائرس کو ہلاک کرنے کی کوئی تیر بہدف دوا تیار کرلی تھی، کیا ہم اس کے خلاف کوئی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے یا ایسی دیوار چین کھڑی کرلی تھی جس سے سر ٹکرا ٹکرا کر کورونا کا جرثومہ اپنی موت آپ مر تو سکتا تھا لیکن پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر ایسا کچھ کر ہی لیا تھا تو اب کورونا کی دوسری لہر پاکستان میں کیسے دندناتی پھر رہی ہے۔

بات یہی ہے کہ ہم جب بھی کسی آفت یا آزمائش کا شکار ہوتے ہیں تو فوراً ہی اپنا منہ اللہ کی جانب موڑ لیتے ہیں اور سجدوں میں گرنے کے بعد پیشانی اور ماتھا ٹیک کر اللہ تعالیٰ سے اس کی نجات کی دہائیاں دینے لگتے ہیں لیکن جب اس کی کرم نوازی و مہربانی سے بلا ٹل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی بجائے آفتوں کا ٹل جانا اپنا کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ عوام الناس کی جانب سے ہوا ہو یا نہیں، پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے ضرور دیکھنے میں آیا اور کسی نے اس کو مکمل لاک ڈاؤن اور کسی نے اسمارٹ اور مائیکرو لاک ڈاؤن کی حکمت عملی قرار دیا اور یوں ہم میں سے سب کے سب حکمران اپنی اپنی حکمت عملیوں کے گیت بھی گاتے رہے اور ایک دوسرے پر طعن و طنز کے تیر بھی برساتے رہے۔

جس مرض کی نہ تو آج تک کوئی ملک دوا تیار کر سکا ہو اور نہ ہے اس سے بچاؤ کی ویکسین ہی ایجاد کی جا سکی ہو اس کے متعلق بڑے بڑے دعوے اور اللہ کی خاص مہربانیوں کا ذکر تک نہ کرنا کسی بھی انسان کے لئے کتنی بڑی بد بختی کا کام ہے۔

پوری دنیا، جن میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں وہ آج تک یہ دعویٰ کرنے کے قابل نہیں ہیں کہ وہ اس آفت ناگہانی پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ تاحال وہ احتیاط ہی کو اس کا حل بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک اس بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ایک دوسرے سے سماجی فاصلے رکھنا، کسی بھی مقام پر بہت زیادہ تعداد میں اکٹھا نہ ہونا، منہ پر ہر وقت ماسک چڑھائے رکھنا، ایک دوسرے سے گلے ملنے سے اجتناب کرنا، ہاتھ نہ ملانا اور وقفے وقفے سے ہاتھ دھوتے رہنا۔

یہ وہ احتیاطیں ہیں جن کی تمام دنیا پابندی کرتی چلی آ رہی ہے۔ کورونا کی پہلی لہر کے بعد سے اب تک، پاکستان کے تمام لوگوں کو اس بات کی تلقین کی جا رہی ہے کہ ہر فرد ان تمام احتیاطوں کی پابندی کرے لیکن سخت ترین لاک ڈاؤن رہا ہو یا نئی نئی اصطلاحات کا نام دے کر لاک ڈاؤن کرایا جاتا رہا ہو، کسی بھی مقام پر یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ لوگوں نے ہدایات پر عمل کیا ہو، اگر اس کے بعد بھی پورے ملک میں کورونا بری بلا کی مانند نہیں پھیلا تھا تو کیا یہ سب رب کائنات کی مہربانی نہیں تھی اور اس مہربانی پر حکمرانوں سمیت، تمام پاکستان کو اس پر سجدہ شکر نہیں بجا لانا چاہیے تھا؟ بجائے اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے، جب ہر جانب سے کورونا سے محفوظ رہنے کو اپنی قوت بازو قرار دیا جا رہا ہو تو پھر اس کو ناشکری نہیں کہا جائے گا تو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ اگر پہلی لہر سے محفوظ رہنا حکمرانوں یا عوام الناس کی حکمت عملی تھی تو اب جو دوسری لہر پہلی لہر سے بھی کہیں زیادہ شدت کے ساتھ آئی ہے تو پھر اس مرتبہ وہی پہلی والی حکمت عملی کو اختیار کیوں نہیں کیا جا رہا جسے موجودہ حکمران اپنی حکمت عملی قرار دیتے رہے تھے۔

پہلی لہر سے یہ تجربہ تو حاصل ہو ہی گیا تھا کہ اگر دنیا میں اپنائی جانے والی تدابیر اس بیماری کو روکنے میں ممد و معاون ثابت ہو رہی ہیں تو پھر ان ہی کو مسلسل اپنانے سے کیوں گریز کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان جیسا ملک دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح سخت ترین پابندیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا لیکن اتنا تو کیا ہی جا سکتا تھا کہ سیاسی و مذہبی اجتماعات پر پابندیوں کو یقینی بنا لیا جاتا۔ ایک جانب کورونا کی موجود گی میں ہر فرقے کو اس بات کی مکمل آزادی دی گئی کہ وہ جی کھول کر جس انداز میں بھی چاہے مذہبی روایات کی تجدید کرتا پھرے تو دوسری جانب سیاسی اجتماعات پر بھی کسی قسم کی کوئی قدغن دیکھنے میں نہیں آئی۔ ہزاروں کی تعداد میں مذہبی اجتماعات میں لوگوں کا جمع ہونا اور لاکھوں کی تعداد میں سیاسی جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں عوام کی شرکت کیا کورونا کو آبیل مجھے مار کہنا جیسی بات نہیں تھی۔

ایک جانب اللہ تعالیٰ سے مدد اور بخشش نہ مانگنے جیسا گناہ اور دوسری جانب احتیاطی تدابیر کو اختیار نہ کیے رکھنا جیسی نادانیوں کا مظاہرہ اس بات کی کھلی دعوت تھی کہ ”اے کورونا کے بیل آ اور مجھے مار“ ۔ جب معاملہ ایسا ہی تھا اور مسلسل ہے تو پھر کورونا کو ”رونا“ کسی طور بھی درست نہیں۔ واحد راستہ یہی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی جائے۔ کوئی بھی دوسرا راستہ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •