دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ (صوفیہ کاشف سے معذرت کے ساتھ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترمہ صوفیہ کاشف بہت اچھی افسانہ نگار، بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ خواتین کے سلگتے مسائل پر لکھتے وقت ان کا قلم آگ کے شعلے اگلتا ہے۔ کیا خوبصورت الفاظ ہیں، ”لال کپڑے پہنا کر، دنیا کے سامنے ڈولی میں بٹھا کر اپنی عزت کی پگڑ پھر سے بلند کرنے کی کوشش کرنے والوں کی پگڑ پر آہ لگ چکی تھی ۔  رسیوں سے باندھ باندھ عزت کو سنبھالنا پڑا ۔  راتوں رات عزت دار گھر چھوڑ کر کہیں دور دیس نکل گئے۔ کچھ ہی روز میں پاگل عورت کی لاش سڑک کنارے کوڑے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔“

دو تین دن پہلے شائع ہونے والا ان کا کالم ”دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ“ ہم سب کی مقبول ترین فہرست میں شامل تھا۔ میٹھے سے طنز کے ساتھ اس کا آغاز ہوا تھا۔ ”درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ روحانی بلندی کا طالب ہر کوئی ہے۔“ اگلا فقرہ سارے کالم کی جان ہے، ”کوئی بھی انسان نہیں بننا چاہتا، سب کو صوفی، پیغمبر اور فرشتہ بننا ہے۔“

آگے بڑھتے ہوئے یہ طنز گہرا ہوتا جاتا ہے اورپھر ان کا قلم جوالا مکھی بن جاتا ہے۔ آتش فشاں پھٹ پڑتا ہے اور لاوہ اگلنا شروع کر دیتا ہے ”عورتیں گھروں میں جانوروں کی طرح قید ہو کر بچے پیدا کرنے اور مردوں کے دل خوش کرنے کے لوازمات پر لگی ہیں، مرد کا جوتا بیوی کی گردن پر دھرا ہے، جی حضور، جی حضور کرتی بیویاں، جوتے کھاتی رہیں گی اور جی حضوری کرتی رہیں گی کہ طلاق مکروہ ہے۔“

”میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی موجود نہیں۔ دونوں کی عادات و اطوار میں صدیوں کا فرق ہے مگر بڑوں کے رشتے کو بیلوں کی طرح دھکیلے لئے چلے جا رہے ہیں۔“

پھر لکھتی ہیں، ”نکاح ایک کنٹریکٹ ہے جو دو باشعور اور بالغ لوگوں کی مرضی سے بنتا اور اسی مرضی سے قائم رہتا ہے۔ اگر دو میں سے ایک کی مرضی نہ ہو تو یہ کنٹریکٹ نہیں بن سکتا اور اگر ایک اس معاہدے کو برقرار نہ رکھنا چاہے تو یہ کالعدم ہو جاتا ہے۔“

”ہم نے اس کنٹریکٹ کو اصل سے زیادہ سخت کر رکھا ہے۔ یہ معاہدہ زندگیوں کو ضوابط میں لانے کے لئے دیا گیا تھا، ہم نے اس میں اپنے رواجوں کی خاطر تحریفات کر لیں۔ نکاح اور طلاق کے ساتھ عزت، غیرت، وفا، بے وفائی، شہرت بدنامی کے ٹیگز جوڑ کر۔“

طلاق وہ تکلیف دہ عمل ہے جو کہ ہمارے معاشرہ میں سب کے لئے اور خصوصی طور پر عورتوں کے لئے بہت مشکل ہے۔ طلاق کے بعد کے مسائل کا بیان کرتے ہوئے وہ مختلف تجاویز پیش کرتی ہیں جو کہ بہت مناسب ہیں۔ اگر چہ وہ خود بھی ہمارے ملک میں ان کے بارے میں شاکی ہیں۔

” اس کی (مرد کی) جائیداد اور اثاثوں میں ان (طلاق یافتہ عورت) کا حصہ ہو بلکہ قانونی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ جس کاغذ پر طلاق لکھی جائے، اسی پر اثاثے بھی قانونی طور پر بانٹ دیے جانے کا قانون موجود ہو۔ (اگرچہ ہمارے دوسرے قوانین کون سا کام کرتے ہیں جو یہ کرے گا) ۔“

طلاق یافتہ جوڑے کے بچوں کے بارے میں ان کی رائے بہت صائب ہے۔

”بچے ہمیشہ ریاست کی ذمہ داری ہونے چاہیے۔“ ریاست جو کہ ماں کی مانند ہوتی ہے۔ صوفیہ کاشف ابوظہبی میں رہتی ہیں وہاں کے ماحول میں رہتے وہ یہ بھول چکی ہیں کہ ہماری ریاست ماں تو خود مطلقہ ہے (بلکہ اسے کنواری ماں کہنا زیادہ بہتر ہے )

”ماں اور باپ میں سے کوئی بھی ان کے حقوق سے روگردانی کرے اسے سزا ملنی چاہیے، معاشرے میں اسے ایک برا فعل سمجھا جانا چاہیے تاکہ لوگ اعمال بدلنے کی طرف متوجہ ہوں۔“ اس کے ساتھ وہ یہ فقرہ لکھنا بھول گئی ہیں کہ اگرچہ ہمارے دوسرے قوانین کون سا کام کرتے ہیں جو یہ کرے گا۔

ان تمام مسائل کا وہ ایک اور حل بھی تجویز کرتی ہیں۔

”جذباتی بیانات اور مفادات سے باہر نکلیں تو حقیقت حال یہ ہے کہ شادی کے پانچ سے دس سال بعد ہی عورت و مرد تقریباً ایک دوسرے کی شکلوں سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ دس پندرہ سالوں میں بہت سے میاں بیوی کمرے جدا کر لیتے ہیں۔ عورت بچوں کی تعلیم و تربیت میں مگن ہونا چاہتی ہے، مرد کا مچلتا دل ہر وقت سجی سنوری بیوی مانگتا ہے تو ایسے میں کیا برا ہے اگر وہ ایک بیوی اور لے آئے، آپ کے پاس فراغت نکلے گی، بندہ بھی گھر میں ہی رہے گا۔ بچوں کے سر پر باپ کا ہاتھ بھی، بیوی کو چھت بھی اور کفالت بھی اور محبت بھی۔ اگر ایک دوسرے کو تھوڑی تھوڑی جگہ دینے سے تھوڑی سی خوشی ملتی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ وعدہ بھی تو آپ نے عمر بھر خیال رکھنے کا کر رکھا ہے۔“

یہ ایک ایسا حل ہے جو کہ ناممکن ہے۔ شاید یہ بہن صوفیہ کاشف پر مڈل ایسٹ کے معاشرہ کا اثر ہے جو کہ ابھی تک جدیدیت کی جھوٹی ملمع کاری کے باوجود قبائلی دور سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان کی سوچ، رہن سہن اور خاندانی حالات ابھی بھی قرون اولیٰ و وسطیٰ کی یاد دلاتے ہیں۔ عورت کو وہ ابھی بھی غلام ہی سمجھتے ہیں۔

آگے چل کر وہ پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی پر زور دیتے ہوئے مزید لکھتی ہیں:

”عورت مرد سے سب سے پہلی چیز جو چاہتی ہے وہ معاشی آسودگی ہے، اس کے بعد جذباتی اور نفسیاتی تحفظ و ضروریات، گھر بچے۔ جذباتی ضروریات ایک مخصوص مدت کے بعد کسی حد تک قابل کنٹرول ہو سکتی ہیں مگر معاشی و نفسیاتی، اخلاقی ضروریات صبح و شام کی کہانیاں ہیں۔“

کیا عورت صرف یہی چاہتی ہے؟ آئیے کسی اور سے بھی پوچھتے ہیں۔

پندرہویں صدی کے عظیم انگلش شاعر جیفری شوسر کی مشہور نظم The Wife of Bath`s Tale میں سوال ہوتا ہے کہ شادی کے بندھن میں ایک عورت کیا چاہتی ہے؟ صحیح جواب کی صورت میں جان بخشی ورنہ موت۔

جواب بہت ہی اچھا ملتا ہے، ”عورت شادی کے بعد اپنے مرد پر پورا اختیار اور حاکمیت چاہتی ہے، شوہر کی مکمل سپردگی کی تمنا رکھتی ہے کہ وہ پورے کا پورا اس کا ہو جائے۔“

پہلی بیوی اور بچوں کی موجودگی میں صرف اور صرف مرد کے جنسی خواہشات کی آسودگی کے لئے دوسری شادی کی اجازت پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے اس مضمون کے نیچے بھی موجود ہے۔ مدثرہ ستار جو کہ مصنفہ کی فین ہیں، پوچھتی ہیں۔

”اگر مرد خوش نہیں تو دوسری شادی کر لے؟ پہلی بیوی کو اسی نا خوشی میں باندھ کر رکھے، بچے اپنی ماں کو رد ہوتا دیکھیں اور نارمل رہیں اور اعلیٰ کردار انسانوں میں ڈھل جائیں، کیسے ممکن ہے۔ دوسری شادی سے شاید ایک فریق کا مسئلہ تو حل ہو سکتا ہے، دوسرے فریق کا بھی ہو گا؟ اسے کیوں بھول گئیں؟“ صوفیہ کاشف لکھتی ہیں ”نفرت جس تعلق میں آئے گی اپنا ہی دامن جلائے گی۔“ نفرت کو محبت میں بدلنے کے لئے دوسری شادی کی اجازت دی تھی وہ بدرجۂ اتم واپس آ گئی۔

ایک اور قاری رضوانہ شیخ جو کہ خود بہت اچھی رائٹر ہیں، لکھتی ہیں، ”اگر مجھے شادی کے بعد کوئی دوسرا مرد پسند آ جائے تو کیا میرا شوہر مجھے دوسری شادی کے لئے طلاق دے دے گا؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو میں بھی اپنے شوہر کو دوسری شادی کا حق دینے کے لئے تیار ہوں۔“

ٹھہریں! بہن رضوانہ، آپ نے تو بہت کم مانگا ہے گرچہ مردانہ معاشرے کو یہ بھی قبول نہیں ہو گا، سوال اس سے بھی زیادہ کا ہو سکتا ہے۔ کیا اسے مرد کی طرح پہلے خاوند کی موجودگی میں دوسری شادی کا حق دیا جا سکتا ہے؟ اس پر اعتراض ہو گا کہ اس کی اولاد کس کے نام سے پکاری جائے گی؟ چلیں اگر وہ عورت سن یاس کو پہنچ چکی ہے پھر تو اولاد کا مسئلہ نہیں۔ اور اگر اس کا خاوند جنسی معذوری کا شکار ہے تو پھر؟

ایک اور قاری کا کہنا ہے کہ دوسری شادی یا زیادہ شادیاں ذہنی اور معاشرتی مسائل میں اضافہ تو کر سکتی ہیں کمی نہیں۔

ان مسائل کا حل طلاق اور دوسری تیسری شادی نہیں۔ یہ مسائل ایک وسیع بحث کے متقاضی ہیں۔ مصنفہ قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے دل جگر تھام کر اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ معاشرے میں اس بحث کو پروان چڑھانا چاہیے۔ اس حل کے بارے میں ایک دو سطروں میں صرف اتنا ہی لکھا جا سکتا ہے کہ شادی لڑکے اور لڑکی کا معاملہ ہے ان کو کھلی چھوٹ دینی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح پرکھ لیں اور پھر فیصلہ کریں۔ یہ پہلی نظر کی محبت کی شادی یا ماں باپ کی پسند کی، دونوں کا انجام وہی ہو سکتا جس سے ڈرایا جا رہا ہے۔

صوفیہ کاشف بہن نے اپنے کالم کے آغاز میں لکھا ہے، ”برصغیر میں سنا ہے کہ اسلام صوفیا اور ولی لے کر آئے اس لئے عام انسانوں والا دین اس زمین کا مقدر نہ ہو سکا۔“ اسلام صوفیا سے بہت پہلے محمد بن قاسم کے ساتھ اور اس سے بھی پہلے قرون اولیٰ کے لوگ لے آئے تھے جن کی بیواؤں کو لوٹنے کا الزام راجہ داہر پر لگا تھا۔ لیکن وہ پھیل نہ سکا کیونکہ انڈین معاشرہ عربی رواجوں سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ شادی کی ہی مثال لے لیں۔

ہندو لڑکی کی شادی کرنا ہوتی تھی تو دن تاریخ مقرر کر کے اعلان کرایا جاتا ہے کہ شادی کے خواہش مند آ کر اپنے کرتب اور ہنر دکھائیں اور لڑکی جسے پسند کرے گی ، اس سے شادی کی جائے گی۔ مہا بھارت کا سوئمبر دروپدی دیوی کے لئے کٹاس راج (چکوال) میں منعقد کیا گیا۔ رامائن کا سوئمبر راجہ جنک کی بیٹی جن کی عرف سیتا کے لئے ہوا۔ سب سے اہم اور تاریخی سوئمبر راجہ جے چند والی قنوج کی بیٹی کا ہے جس میں راجہ پرتھوی راج کو دشمنی کی وجہ سے نہ بلایا گیا۔ لیکن دلہن کی پسند تو وہ تھا ، اس لئے اس نے ہار راجہ کے بت کے گلے میں پہنا دیا۔ بعد میں وہ اپنے جانبازوں کے جلو میں اسے محل سے اڑا لے گیا۔

ہندو تو اکیلی لڑکی کو بھی خواہ کوئی گواہ موجود ہو یا نہ ہو شادی کی اجازت دیتے تھے۔ کالی داس کی شکنتلا نے جنگل میں راجہ وشیت سے یہ ’گندھرب بواہ‘ رچایا تھا۔ بہت بعد میں ہندوؤں نے مسلمانوں کی دیکھا دیکھی اور اپنی لڑکیوں کو حملہ آور جنگجوں سے بچانے کے لئے کمسنی میں بیاہنا شروع کر دیا۔

جب وسطی ایشیا کے راستے مسلمان صوفی ہندوستان میں آئے تو انہوں نے اس علاقے کی رہتل کے مطابق عام انسانوں والا اسلام پھیلانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان صوفیا کی تعلیم وحدت پر مبنی تھی اور وہ عشق میں بھی وحدانیت کے قائل تھے۔ وارث شاہ قصہ ہیر کو ختم کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

دوویں دارے فنا تھیں گئے ثابت، جا رپے ہیں دارے بقا میاں
دوہیں راہ مجاز دے رہے ثابت، نال صدق دے گئے وحہ میاں

(ہیر اور رانجھا) دونوں اس عالم فنا سے اپنی محبت پر قائم رہتے ہوئے گئے اور عالم بقاء میں ابدی روپ دھار کر محبت کی ڈگر پر گامزن ہو گئے۔

دونوں ہی مجازی عشق کی منزلوں میں ثابت قدم رہے اور صدق یقین پر کٹ مرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *