آئی اے رحمان مرتے نہیں انتقال کیا کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ ایک تحریر پڑھی تھی ”انسان کے کمال میں اخلاق کا کردار“ شاندار تحریر تھی مگر کئی سالوں بعد پیکر خاکی میں اس تحریر کو آئی اے رحمان صاحب کی صورت میں دیکھا اور جانا۔ رحمان صاحب نے شاندار زندگی گزاری ، وہ راہی ملکِ عدم ہوئے، ہم سب بھی چلے جائیں گے مگر اعلیٰ انسانی اقدار وہی رہیں گی۔ ان کو پامال کرنے والے بھی آتے رہیں گے اور ان کی سربلندی کے لئے زندگیاں وقف کرنے والے آئی اے رحمان ایسے نابغے بھی ہر انتقال کے بعد کسی نئے پیکر انسانی میں دوبارہ سے آ جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بے شمار لوگوں نے رحمان صاحب کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ کئی ہزار جوانوں نے ان کے ساتھ کھینچی گئی اپنی تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور انہیں اپنا استاد قرار دیا۔ مگر یہ گتھی نہیں سلجھتی کہ ایسے صاحبان علم، بنا کسی تعلق واسطے کے، لوگوں کے استاد آخر بن کیسے جاتے ہیں۔ آخر وہ کیا کمالات اور اخلاقی اقدار ہیں جو ان صاحبان کو ایک عمومی انسان سے ایک بزرگ رشید بنا دیتی ہیں اور ان کی گفتگو اور تحریر دل اور دماغ کے کواڑ کھول کر مکالمے اور تفکر کی تازہ ہوا پہنچا کر زبانوں کو گفتگو کا شعور دیتی ہے۔ مگر میرے لئے یہ گتھی اس وقت سلجھ گئی جب ان سے پہلا تعلق استوار ہوا۔

کوئی چودہ برس قبل، میں پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور پائیدار بحالی کے لئے کام کرنے والی ایک مؤثر این جی او ”سپارک“ میں بطور نیشنل مینیجر کام کر رہا تھا۔ ہماری تنظیم پاکستان میں جبری مشقت کے خلاف این جی اوز کے ایک اتحاد/نیٹورک کی بھی ممبر تھی اور اسے دو سال کے لئے سیکرٹریٹ کی ذمہ داری ملی تھی۔ جو کہ سپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی طرف سے مجھے دی گئی۔ اس سیکرٹریٹ کے لئے کام کرنے کی ایک اکلوتی وجہ جو اس وقت تھی کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس چیئرمین شپ تھی اور آئی اے رحمان سے ملاقاتیں کرنے کی امید تھی۔

ایک دوپہر کو مجھے ایک فون کال موصول ہوئی ۔ دوسری طرف رحمان صاحب کا دلنشیں اور دھیما لہجہ تھا ۔ وہ بول رہے تھے ”میں عرفان رضا صاحب سے بات کر سکتا ہوں“ ۔ بے یقینی کے سے انداز میں میں نے کہا جی سر! میں بول رہا ہوں۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے۔ ”مجھے کافی خوشی ہوئی یہ بات سن کر کہ جبری مشقت کے خلاف نیٹ ورک کا سیکریٹریٹ آپ کے ادارے کے پاس ہے اور نوجوان دوست اس کے ذمہ دار ہیں۔ آپ سے ایک گزارش کرنی تھی کہ یہاں لاہور میں بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کے نام آرگنائزیشن ہے جسے ہمارے عزیز دوست مہر صاحب اور محترمہ غلام فاطمہ دیکھتے ہیں۔کیا ایسا ممکن ہے کہ انہیں بھی اس نیٹ ورک میں شامل کر لیا جائے“

میں نے کہا سر! آپ چیئرمین ہیں آپ جو حکم کریں گے بالکل ویسا ہی ہو گا۔ انہوں نے بیچ میں ٹوکا اور کہا کہ سیکرٹریٹ صرف میرا کہنا نہ دیکھے بلکہ اپنا ضروری ہوم ورک کر کے اگر ممبر شپ دے سکتا ہے تو دے دے۔ یہ تھا ان سے پہلا رابطہ میرے لئے ، وہ فون کال کیریئر کے اس دور میں بالکل ایسے تھی جیسے چیونٹی کے گھر بھگوان آ گیا ہو۔

دوسری ملاقات ایوان جمہور (دفتر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان) میں ہوئی۔ اور یہ ملاقات اتفاقاً ایک ایسے ٹائم پر ہوئی جب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ایک وفد اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات کر کے آیا تھا اور میڈیا میں اس کا زبردست چرچا جاری تھا۔ میں نے ان سے کچھ سوالات پوچھے جس کا جواب دینا انہوں نے مناسب نہ جانا مگر ایک نصیحت ضرور کی ”سیاسی کارکن اور سماجی ورکر میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ سیاسی ورکر جنرل بات کرتا ہے غربت ختم کرو، سب کو تعلیم دو، نوکری دو وغیرہ۔ مگر سماجی ورکر اس کے برعکس یہ بتاتا اور سمجھاتا ہے کہ غربت آخر کیوں ہے۔ سب کو تعلیم نہ ملنے کی وجوہات کیا ہیں اور لوگوں کو نوکریاں دینے کی کیا تراکیب ہو سکتی ہیں“ ۔

جناب انیس جیلانی صاحب کی کتاب ”Partition: Surgery Without Anesthesia“ کی تقریب رونمائی سے جناب ڈاکٹر مبشر حسن، جناب پروفیسر مہدی حسن اور جناب آئی اے رحمان نے کوئی 3 گھنٹے تقسیم پاک و ہند سے جڑی دردناکیوں پر اپنے دل سے بات کی۔ ایک سو لوگوں سے زیادہ سامعین تھے مگر ہال پن ڈراپ سائلنس والی کیفیت میں رہا۔ جناب آئی اے رحمان نے پاک انڈیا تعلقات کی بحالی پر اپنا بھرپور نقطۂ نظر بیان کیا۔

نوجوانوں کے ایک سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے بات گھوم گھام کر مولوی اور اسلام پر آ گئی جس کا انہوں نے کم از کم اس مجمعے کو شاندار جواب دیا ”ہمیں گورنمنٹ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ آخر پاکستان میں موجود کتنے مدراس ہیں جو مولوی بناتے ہیں اور اسلامی علوم کے اس شعبے میں عمومی خدمات سرانجام دینے کے لئے ہنر مند پیدا کرتے ہیں۔ اگلا سوال یہ ہو گا یہ باعلم مولوی صاحبان سالانہ کتنے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ کیا ان کو نوکریاں دینے کے لئے اتنی مساجد ہیں یا وہ بھی حکومت کو بنا کر دینی پڑیں گی۔ کیونکہ اگر یہ صاحبان فارغ التحصیل ہو کر بے روزگار رہیں گے ، معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔ ہم نہ تو مدرسوں کے خلاف ہیں اور نہ مولوی صاحبان کے کام کے مگر ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے روزگار کا بندوبست کرے۔

یادوں کی پوری بارات اتری ہوئی ہے۔ رحمان صاحب علم اور تجربے کے موتی بکھیرتے تھے اور ہم ایسے گمنام سماجی کارکن اپنی حیثیت کے مطابق چنتے تھے۔ بہت سارے واقعات ہیں لکھنے کو مگر تحریر طویل ہوتی جا رہی ہے جبکہ میرے استاد آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ مختصر اور جاندار تحریر سماجی کارکن کی پہچان ہونی چاہیے۔ یہ انسان کا اخلاق ہے جو انسان کو کمال کی بلندی پر لے جاتا ہے۔ وگرنہ یہاں کئی ایسے برگزیدہ افراد بھی موجود ہیں جو سر پر استاد ہونے کی تہمت تو رکھے پھرتے ہیں مگر کام ان کا صرف امور دنیا میں آسانیاں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ جب ایسے دنیا پرست اساتذہ کی منڈی لگی ہو تو ہم ایسے شوریدہ سروں کو آئی اے رحمان ایسے استاد کا سایہ نصیب ہو جانا غنیمت ہے جو اپنے اخلاق کے کمال کی وجہ سے مرتے نہیں بلکہ انتقال کر جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *