چین کے ابتدائی تعلیم کے نصاب میں تبدیلی: ’بچے اب دادا شی کی کہانیاں پڑھیں گے‘

کالج اور جامعات کی سطح پر صدر شی جن پنگ کے سیاسی خیالات کو گزشتہ برس نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔
ویب ڈیسک — چین میں یکم ستمبر سے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے اور اس بار ابتدائی تعلیم کی کلاسوں کے طلبہ کے نصاب میں نئی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

پہلی جماعت ہی سے نئی کلاسوں میں ایک لازمی مضمون پڑھایا جائے گا جس کا عنوان ہے’شی کے افکار‘۔ یہ بنیادی طور پر سوشلزم اور جدید دور میں چین کی خصوصیات سے متعلق صدر شی جن پنگ کے خیالات اور تصورات پر مبنی مضمون ہے۔

نئے نصاب سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور شی جن پنگ چین کے عوام کی نظریاتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے کس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے 2020 میں چین کی جامعات میں شی کے ’افکار‘ کی تعلیم کا آغاز کیا گیا تھا اور اب نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ابتدائی تعلیم کے نصاب میں بھی اسے شامل کر دیا گیا ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ کے مطابق نصاب میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے وزارت تعلیم نے رہنما اصول جاری کردیے ہیں۔

وزارتِ تعلیم نے 24 اگست کو اس سلسلے میں تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں جن کے مطابق ابتدئی تعلیم کے اسکول بچوں میں ملک، چین کی کمیونسٹ پارٹی اور سوشلزم سے محبت پیدا کرنے پر توجہ دیں گے۔

مڈل اسکولز کو ان رہنما اصولوں کے تحت سیاسی رائے سازی کے لیے مطالعے اور فکری سرگرمیوں کا اہتمام کرنا ہوگا اور کالج اور جامعات کی سطح پر نظریاتی غوروفکر پر زور دیا جائے گا۔

چین کی وزارتِ تعلیم کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نصاب میں یہ تبدیلیاں کمیونسٹ پارٹی کے ترجیحی اہداف میں شامل ہیں۔

’یہ برین واشنگ ہے‘

جرمنی کی کونسل برائے خارجہ امور کے ایشین پروگرام سے وابستہ سینئر فیلو ڈیڈی کرسٹن ٹیٹلو کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈا اور سیاسی ہدایات 1949 سے چین میں تعلیم کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اس بات کی اہمیت کو سمجھتی ہے کہ عوام کی ذہن سازی کیسے کی جا سکتی ہے اور خاص طور پر نوخیز ذہن اس کے لیے کتنے موزوں ہوتے ہیں۔

ٹیٹلو کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ صدر سے بڑھ کر خود کو اپنا کردار صدارت کی مدت سے بڑھانے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ وہ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائینا (سی سی پی) چاہتے ہیں کہ شی جن پنگ کے نظریات یا ’افکار‘ چھ سال کی عمر سے ہی پہاڑے کی طرح بچوں کے ذہن نشیں کرادیے جائیں۔

وائس آف امریکہ کی مندارین سروس کو ایک ای میل کے ذریعے دیے گئے انٹرویو میں پیری لنک کا کہنا تھا کہ سی سی پی اور صدر شی آئندہ نسلوں کی حمایت یقینی بنارہے ہیں۔

پیری لنک چین کی معاصر سیاست کی ماہر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی معیشت سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں ’ترقی‘ کے لیے جو اقدامات کررہی ہے وہ عوام پر حکومت کی گرفت مزید بڑھا دے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمیں صاف گوئی سے کام لینا چاہیے۔ چین میں جو کچھ ہورہا ہے اسے برین واشنگ کہتے ہیں۔

شی جن پنگ کیا چاہتے ہیں؟

شی جن پنگ 2012 میں چین کے سب سے بااختیار لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ مبصرین کے مطابق وہ موجودہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کی طرح ایک طلسماتی شخصیت بننا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنی سیاسی تحریروں کو سی سی پی اور حکومت کی تحریروں اور فکری کاموں میں شامل کرایا۔

چین میں اس سے پہلے بھی ملک سے متعلق قومی رہنماؤں کے وژن اور تصورات کو نصاب کا حصہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس سے قبل سابق سربراہان مملکت جیان تاؤ، جیانگ زمین اور ماؤ کے تحاریر اور خیالات کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم کا حصہ بنایا جاچکا ہے۔

لیکن نصاب میں ’شی کے افکار‘ کی شمولیت کے اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اپنے نظریاتی اور سیاسی کاوشوں کا دائرہ اپنے ارکان سے آگے بڑھا کر اسے پورے چینی سماج تک پھیلانا چاہتی ہے۔

دنیا میں زیادہ تر ممالک تعلیمی نصاب کے ذریعے قومی شناخت کی تشکیل کرتے ہیں۔ چین کی حکومت نصابی تبدیلیاں ایک ایسے مرحلے پر کررہی ہے جب چین کی کمیونسٹ پارٹی نے سول سوسائٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کردی ہے۔

سنکیانگ میں ایغور اقلیت اور ہانگ کانگ میں آزادی اظہار پر قدغنوں پر ہونے والی عالمی مذمت کے باوجود سی سی پی کے یہ اقدامات جاری ہیں۔

دادا شی کی کہانیاں

چین کی وزارت تعلیم کے مطابق مختلف کلاسوں کے طلبہ کے لیے تین سے چار طرح کی نصابی کتب تیار کی گئی ہیں۔ یہ نصاب پورے چین میں پڑھایا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ اس کا مواد ’طلبہ کے ذہن نشیں ہو جائے۔‘

نصابی کتابوں میں جانے پہنچانے نعرے اور عنوانات شامل کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ’کمیونسٹ پارٹی کے بغیر نیا چین نہیں۔‘ اور ’قومی مفاد کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے‘ ۔ نصاب میں یہ موضوع بھی شامل ہے ’ایک ملک ، دو نظام ایک عظیم ایجاد ہے۔‘

اس کا اشارہ ہانگ کانگ کے نظام کی جانب ہے جسے چین میں خصوصی انتظامی علاقے کی حیثیت حاصل ہے اور 1997 میں برطانیہ سے اس کا کنٹرول چین کو منتقل ہونے کے پچاس برس تک یہ حیثیت برقرار رہے گی۔

نئی نصابی کتابوں کی تفہیم کے لیے وائس آف امریکہ مندارین نے تیسری جماعت کے لیے تیار کی گئی کتاب کا جائزہ لیا۔ 52 صفحات کی اس کتاب کے چھ ابواب ہیں۔

اس کے دوسرے باب کا عنوان ہے ’ہم پورے خلوص کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کی اطاعت کرتے ہیں۔‘ اس باب میں ایک ذیلی عنوان ہے ’دادا شی جن پنگ کا دل عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے‘۔

اس حصے میں صدر شی جن پنگ کی چھ تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ جس میں بچوں، فوجیوں اور تعمیراتی کاموں کے ساتھ جائزہ لیتے ہوئے تصاویربھی شامل ہیں۔

اس کتاب میں ایک خاکہ ہے جس میں بچے کہتے ہیں کہ ’دادا شی نے ہمیں بتایا ہے کہ کسی بھی شخص کی کچھ آرزوئیں اور خواہشیں ہوتی ہیں۔ لیکن زندگی میں سب سے اہم آرزوئیں وہ ہیں جو ان کے ملک اور لوگوں سے متعلق ہوں۔‘

اس باب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ’دادا شی ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں اپنی جوانی میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ’محنت میں عظمت ہے۔‘

’جارج اوریل کا 1984 یاد آتا ہے‘

چینی عوام کے حقوق کے لیے کام کرنے والے امریکہ میں قائم گروپ ’سٹیزن پاؤر انیشی ایٹو فور چائنا‘ کے بانی یانگ جیانلی کا کہنا ہے کہ جب سے شی جن پنگ اقتدار میں آئے ہیں۔ بالخصوص گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسکول کے نصاب میں شامل تاریخ کی کتب کے علاوہ پارٹی کی تاریخی ریکارڈ میں ان کا تذکرہ بہت بڑھ گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ نصاب میں تبدیلیوں کا سلسلہ ماؤ کے دور میں ہونے والے اقدامات سے تیز تر ہے۔ نصاب میں حالیہ تبدیلیاں جارج اوریل کے ناول ’1984‘ کی یاد دلاتی ہیں۔

وائس آف امریکہ مندارین سے چین کے شہر شیان سے بات کرتے ہوئے ایک استاد اور ماں ٹریزی ژانگ کا کہنا تھا کہ والدین کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ انہوں ںے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے فرضی نام استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنے بچوں کو بین الاقوامی اسکولوں میں نہیں بڑھاتے ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ طلبہ کو گریجویشن کے لیے یہ امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ شاید موجودہ حکومت کا خیال میں اب تک ہونے والی برین واشنگ ناکافی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words