بوسنیا کی چشم دید کہانی – تیسری قسط۔

تاریخ میں سرائیوو کا پہلا ذکر پندرہویں صدی کے دور میں ملتا ہے۔ اس مقام پرایک قلعہ ”ورہ بوسنا“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 1429 ء میں عثمانیوں نے اس قلعہ کو فتح کیا اور یہاں ”بوسنا سرائے“ نامی قصبے کی بنیاد ڈالی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نام بدلتے ہوئے ”سرائے اواس“ ہوا اور پھر سرائیوو۔ 1507 ء میں اسے سانجک ( ضلع) کا درجہ دیا گیا۔ ولایت خدیجے اس کے پہلے گورنر مقرر ہوئے۔ دھیرے دھیرے

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ دوسری قسط

آٹھ جون 1996 کو ہماری ٹریننگ کا آغاز ہوا۔ صبح نو بجے سے مختلف موضوعات پر شروع ہونے والے ایک ایک گھنٹے کے لیکچرز شام پانچ بجے تک جاری رہتے۔ اس دوران ایک تا دو بجے کھانے کا وقفہ ہوتا۔ موضوعات میں یوگوسلاویہ کی تاریخ، انسانی حقوق، نقشہ آگاہی، کمپیوٹر، بارودی سرنگوں سے بچاؤ اور مقامی پولیس کی نگرانی شامل تھے۔ نصف شب تک گھوڑے شاہ کی رنگینیوں میں کھوئی رہنے والی سامعین کی اکثریت اس دوران نیم باز آنکھوں

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی: پہلی قسط

1995 کے آخر میں امریکی کاوش کے نتیجے میں ہونے والے ڈیٹن معاہدہ امن کے بعد یو این مشن بوسنیا کا آغاز ہوا۔ اس مشن میں دو درجن ممالک سے زائد کی پولیس international police task force ( IPTF) کے نام سے شامل ہوئی۔ پورے بوسنیا میں پچاس کے قریب آئی پی ٹی ایف سٹیشن قائم کیے گئے۔ ہر سٹیشن پہ اوسطاً درجن بھر پولیس افسران تعینات ہوتے تھے اور عمومی طور پر وہاں ایک ملک سے دو افسران بھیجے

Read more

شری متی خوشونت سنگھ

ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے فرمان ”ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ کو جو مستند نہ مانے، بے بہرہ ہی کہلائے گا۔ یہی مشتاق احمد یوسفی بیان کرتے ہیں کہ میرے جاننے والوں میں ایک صاحب تھے جو مجھے شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے۔ میں اس پہ مخمصے کا شکار تھا۔ بس ایک دن ہمت کی اور پوچھ لیا کہ صاحب آپ مجھے شاہ جی کیوں کہتے ہیں جبکہ میں سید نہیں ہوں۔ بولے حضور

Read more

رستمِ زبان و بیاں: ایم آر کیانی

جس طرح بقول مرزا نوشہ طرز بیدل میں ریختہ کہنا کسی قیامت سے کم نہیں اسی طرح میرے نزدیک طرز حالی میں غالب کا بیان ایک ایسا معرکہ ہے جو سر ہونا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ مولانا حالی نے ان کی صحبت میں ایک خاص وقت گزارا اور ان کے معمولات کو قریب سے دیکھا۔ پھر جب ان پہ لکھنے بیٹھے تو جو دیکھا اور محسوس کیا اسے ذاتی تعلق کے تعصب سے بالا ہو کر

Read more

سفیر کی آپ بیتی: بھٹو کی ہزار سالہ جنگ اور یحییٰ خان کی سوویت صدر سے جھڑپ

”چمن پہ کیا گزری“ ہمارے ایک نامور سفیر سلطان محمد خان کی سرگزشت سفارت کاری ہے۔ کتاب کا نام حبیب جالب کے اس شعر سے لیا گیا ہے۔ ہم گزر کر خزاں سے آئے ہیں ہم سے پوچھو چمن پہ کیا گزری پاکستان کی وزارت خارجہ میں آپ نے اپنی خدمات کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہی کیا۔ مختلف ممالک بشمول امریکہ میں سفیر ہونے کے علاوہ 1970 تا 1972 سیکریٹری خارجہ رہے۔ 1976 میں پنشن یاب ہوئے لیکن

Read more

دیوان سنگھ مفتون

اکبر الٰہ آبادی کا ایک مصرعہ ہے۔ جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو گزشتہ صدی میں بیس تا پچاس کی دہائیوں کے درمیان تقریبا ً  33 سال تک اس کلیۓ پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ ایک شخص نے کچھ ایسی ہلچل مچاۓ رکھی کہ ان  کی مثل کوئی اور مہتاب آسمانِ صحافت پر ایسی دھج سے ایک بڑے عرصہ تک پھر نہ چمکا۔ دیوان سنگھ مفتون کا آبائی تعلق( ضلع )حافظ آباد سے تھا۔آپ بس پرائمری تک ہی تعلیم حاصل

Read more

بھٹو صاحب کے گھروں میں چوری

ہمارے گردونواح میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی داستانِ حیات طلسمِ ہوشربا سے کم نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کی داستانِ عجیب میں انکا اپنا، حالات اور حسین اتفاقات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت کا ذکر آئی جی حبیب الرحمنٰ صاحب نے اپنے اس انٹرویو میں کیا ہے جو ” کیا کیا نہ دیکھا” کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ نام سے لیکر کام تک یہ شخصیت ایسی یکتائی رکھتی تھی کہ بقول قتیل

Read more

داغ دہلوی کے دو نامور شاگرد

محققین کے نزدیک اصلاح شعر کی روایت شعرائے اردو کے ہاں سرزمین دکن میں وجود میں آئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشور سخن میں رسم بنتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ قدماء کے آخری دور میں داغ دہلوی تک پہنچتے پہنچتے اس نے ایک کلیدی حیثیت اختیار کر لی۔ تلامذہ داغ کے حوالے سے بے شمار تذکرے وجود میں آئے جن میں مالک رام اور اسعد بدایونی کے تذکرے نمایاں ہیں۔ اسعد بدایونی نے اپنی کتاب ً داغ

Read more

غالب کے ناقدین کی نظر میں ان کا مسلک

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ لکھیں شاید مر گیا غالب آشفتہ نوا کہتے ہیں مولانا الطاف حسین حالی نے یادگار غالب میں مرزا کے سفر آخرت کا بیان اس طرح کیا ہے۔ ”مرزا کے جنازے پر جب دلی دروازے کے باہر نماز پڑھی گئی تو راقم بھی موجود تھا اور شہر کے اکثر عمائد اور ممتاز لوگ جیسے نواب ضیاء الدین احمد خان، نواب محمد مصطفے خان، حکیم احسن اللہ خان وغیرہ۔ ہم اور بہت سے اہل سنت اور امامیہ

Read more

بھٹو کا تخت الٹنے والے مرشد اور مرید جرنیل

کتاب ”کیا کیا نہ دیکھا“ مشہور پولیس افسر حاجی حبیب الرحمٰن کے ایک طویل انٹرویو پر مبنی ہے جو ان کے تمام کیریئر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں درج واقعات جرائم کی دنیا سے لے کر اقلیم سیاست تک بہت سے موضوعات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب 1977 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا آغاز ہوا تو حاجی صاحب اس وقت آئی

Read more

تجزیہ، ایک نکتہ نظر کا

لاہور سے چھپنے والے ایک ماہنامے میں کچھ عرصہ قبل قرة العین حیدر پہ شائع ہونے والے مضمون کا ایک حوالہ ان خیالات کے اظہار کا باعث بنا ہے۔ صاحب مضمون کے مطابق، ”قرة العین حیدر 1948 میں اپنی والدہ کے ہمراہ پاکستان آئیں اور 1961 تک کراچی میں قیام پذیر رہیں۔ وہ حکومت پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کراچی میں 1950 میں انفارمیشن افسر رہیں۔ کچھ عرصہ پاکستان ہائی کمیشن لندن میں بطور پریس اتاشی فرائض سرانجام دیے۔

Read more

بوسنیا اور یوکرینی پولیس افسران

میں نے بوسنیا کے امن مشن میں ایک پولیس افسر کے طور پر جون 1996 تا مئی 1997 شرکت کی۔ اس بڑے عرصے میں بوسنیا کی جنگ کے پس منظر اور اس کے اثرات کی تمام پہلوؤں سے جانکاری حاصل ہوئی۔ اس دور کی یادداشتوں کو میں نے ”سب ورق تری یاد کے“ کے عنوان سے تحریر کیا۔ 2005 میں ان کی کتاب کی صورت اشاعت ہوئی۔ میری تعیناتی سٹولک نامی سٹیشن پہ رہی جو موسطار کے تاریخی شہر سے

Read more

شبنم ڈکیتی کیس اور مجرموں کی معافی

کتاب ”کیا کیا نہ دیکھا“ سے آج حاجی حبیب الرحمٰن صاحب کا بیان کردہ ایک اور واقعہ یہاں اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ مجھے انسپکٹر جنرل پنجاب کا عہدہ سنبھالے ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ ایک دن مارشل لاء ہیڈ کوارٹر لاہور سے اطلاع آئی کہ اداکارہ شبنم کے گھر ڈکیتی ہوئی ہے۔ برگیڈیئر صاحب نے کہا اسے ذرا ذاتی طور پر دیکھ لیں کیونکہ سنا ہے کہ فنکار شاہ نور اسٹوڈیو کے باہر جمع ہو کے

Read more

اندازِ بیاں اور

یہ ایک حقیقت ہے کہ بیسویں صدی کے دوران کچھ ایسے غزل گو بھی گزرے ہیں جن کے کلام کے بعض نمونوں پر اساتذہ کے کلام کا گمان ہوتا ہے۔ اگر اسے بے اعتدالی نہ گردانا جائے تو میں تو یہ کہوں گا کہ بعض اوقات تو ایسے مضامین اور ایسا انداز سامنے آیا کہ شعراء نے زبان و بیان میں کئی متقدمین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس ضمن نہ معلوم کتنے ہی نام ہوں جن کی کوئی وسیع

Read more

حبیب جالب کے ہم عصر ارباب علم و فن

”جالب بیتی“ پر مبنی اپنے پہلے مضمون میں میں نے کچھ ایسے واقعات کا ذکر کیا تھا جن کا تعلق حبیب جالب کی ذاتی زندگی سے تھا۔ اس آپ بیتی میں ایسے واقعات کے علاوہ بہت سی ہم عصر شخصیات کا ذکر ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق ادب، فلم اور موسیقی سے تھا۔ ایسے احباب کا ذکر جن سے شباسائی عمر کے بڑے حصے پر محیط رہی ہو کچھ ایسا سہل نہیں کہ ذرا سی چوک سے آبگینوں

Read more

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

میں جیل میں تھا کہ مجھے سزا کے طور پر قصوری چکی میں ڈال دیا گیا۔ مجھ پر یہ الزام تھا کہ میں یہاں شعر سناتا ہوں۔ جیل کے جو قیدی پہلے سے موجود تھے وہ مجھ سے پوچھتے کہ آپ یہاں کیسے آئے، کون سا جرم کیا۔ میں انہیں کہتا شاعری کی وجہ سے آیا ہوں۔ وہ پوچھتے کون سی شاعری، ہمیں بھی سنائیں۔ جب میں نے انہیں اپنی شاعری سنائی تو وہ بولے، پھر تو آپ ٹھیک ہی

Read more

مرزا غالب کی خانگی زندگی، بزبانِ حالی

پانی پت کی پہچان جہاں دو مرتبہ ایسی رزمگاہ ہونے کے ناتے سے ہے کہ جس نے تاریخ کو نیا موڑ دیا وہیں اس کی شناخت رزم و بزم کے شاعر خواجہ الطاف حسین حالی کی جائے پیدائش اور آخری آرام گاہ کے طور پر بھی ہے۔ مولانا حالی کو جہاں اور کئی امتیاز حاصل ہوئے وہاں ایک امتیاز ایسا بھی تھا جس نے انہیں اور انہوں نے جسے یادگار بنا دیا۔ مراد ہے غالب کا شاگرد ہونے کا اعزاز

Read more

بیگم شریف الدین پیرزادہ کا قتل

”صدر ایوب خان کے بھتیجے کا قتل“ کے عنوان سے ہم سب میں شائع ہونے والے اپنے مضمون کے ابتدائیہ میں اس امر کی وضاحت کر دی گئی تھی کہ یہ واقعہ ”کیا کیا نہ دیکھا“ کے نام سے شائع ہونے والی صحافی منیر احمد منیر کی کتاب سے لیا گیا تھا۔ یہ کتاب پولیس سروس آف پاکستان کے اجلی شہرت رکھنے والے افسر حاجی حبیب الرحمن نے ایک طویل انٹرویو پر مبنی ہے جو انہوں نے منیر احمد منیر

Read more

صدر ایوب خان کے بھتیجے کا قتل

2017 میں سرکار کی نوکری سے پنشن یافتہ ہونے کے بعد بوجہِ فراغت شغفِ کتب بینی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس دوران جو کتب زیرِ مطالعہ رہیں ان میں سے کچھ میں ایسے ایسے عجیب اور چشم کشا واقعات پڑھنے کو ملے۔ خیال آیا کہ کیوں نہ ایسے واقعات ہم سب کے قاریئن کی نذر کر کے انہیں اپنے ساتھ شریکِ حیرت کیا جاۓ۔ آج کا واقعہ جس کتاب سے لیا گیا ہے اس کا نام ہے ” کیا

Read more