نرگس بیمار کا احوال اور رشک پری پیش چشم کی حکایت

(برادر محترم محمد اقبال دیوان پار سال اپنے ایک قریبی عزیز کی تیمارداری کے ضمن میں تین ماہ امریکہ میں مقیم رہے۔ ہر چند کہ وجہ سفر اضطراب اور تشویش سے عبارت تھی، دیوان صاحب کے مشاہدات امید اور انسانی ہمدردی کا ایک حوصلہ افزا باب معلوم ہوئے۔ طے پایا کہ ہم سب کے پڑھنے والوں کو اس دنیا کے کچھ قصے سنائے جائیں اور جہاں ممکن ہو، لفظ کے نقش کو تصویر کی مدد سے مزید گہرائی دی جائے۔

Read more

ہمارے نسیم صاحب: شفاف پانیوں کے شناور کی کہانی

بہت دن سے آپ کو اجلے لباس میں چھپی گندگی اور اونچے عہدوں کی اوٹ میں ڈھانپے ہوئے نیچ پن کے قصے سنا رہا ہوں۔ آج ایک غریب اور سچ کے نیک آدمی کا قصہ سنیے جو مچھلی کے جائے کو بھی تیرنا سکھا سکتا تھا مگر صرف شفاف پانیوں کا شناور تھا۔ چھل کپٹ کی آلودگی میں جس کا دم گھٹتا تھا۔ جو ایک روز بغیر نشان چھوڑے کراچی کی ایک سڑک پر دنیا سے یوں چلا گیا جیسے

Read more

آمر کی طاقت کے راز کیا ہیں؟

 پہلے ایک جوک، جوک سے قبل ایک وضاحت، وضاحت سے پہلے ایک تبصرہ کیوں کہ موضوع خاصا سنجیدہ ہے۔ تبصرہ ایڈیٹر صاحب کا یوں ہے کہ ہماری حس مزاح کچھ ایسی ہے کہ ہم تحکم اور تمسخر دونوں معاملات میں انگریز بیوروکریسی اور میمن گجراتی بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ تو تھا وضاحت سے پہلے والا تبصرہ جوک سے قبل والی کی وضاحت یہ ہے کہ ہم نے جوک کی جگہ مروجہ اردو لفظ لطیفہ اس لیے نہیں

Read more

خوشونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے قربت کی خواہش کیوں نہیں کی؟

خوشونت سنگھ کی کتاب "The Good, the Bad and the Ridiculous” میں شامل ہر خاکہ ہی کچھ نہ کچھ انوکھی معلومات کا خزانہ ہے۔ خوشونت سنگھ بتاتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو، جن کا شمار دنیا کے سب سے پڑھے لکھے وزرائے اعظم میں ہوتا تھا ( وہ ڈبل پی ایچ ڈی تھے)، لعل کرشن آڈوانی جی ”نکما “ کہتے تھے۔ جب کہ وہ خود یعنی آڈوانی جی، خوشونت سنگھ کے مطابق ایک پیکر منافقت

Read more

خوشونت سنگھ اور ڈیفنس اتھارٹی کراچی کا اتوار بازار

ڈیفنس کراچی کے فیز آٹھ میں دو سال پہلے تک ایک پررونق اتوار بازار لگا کرتا تھا۔ اب نہیں لگتا۔ بازار کا ٹھیکیدار بے ایمان تھا۔ آپ تو جانتے ہیں سویلین کی بے ایمانی خود سویلین سے برداشت نہیں ہوتی۔ دوسرے اسے کیوں کر چپ چاپ پی جائیں گے۔ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی کے مجاز افسران کہنے کو انجئنیرنگ کور کے جوان ہی سہی مگر شیر کا بچہ بھی آخر شیر ہی ہوتا ہے۔ سو عالی مقام مالک اراضی سخت

Read more

ارد شیر کاﺅس جی: امریکا یا بھارت کے لئے ان سے بہتر سفیر ممکن نہیں تھا

کاﺅس جی ایک دن ہمارے ہوم سیکرٹری بریگیڈئیر مختار شیخ صاحب سے ملنے آئے۔ ساتھ کے کمرے میں ہم موجود تھے۔ بورڈ پڑھا تو سیدھے اندر چلے آئے۔ وہاں سے پیغام بھجوایا کہ بریگیڈئیر کو بول جنرل کاﺅس جی آیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو جرنلسٹ کی بجائے عام آدمیوں کو مرعوب کرنے کے لیے جنرل بولتے تھے۔ کاﺅس جی سے ہم نے پوچھا کہ یہ کیا مکر ہے کہ خود کو جنرلسٹ سے جنرل بنا لیا۔ اس پر انکشاف

Read more

ارد شیر کاﺅس جی: شراب پئے اور چاکلیٹ کھائے بغیر دوستی

ارد شیر کاﺅس جی حسب وعدہ ہمیں رات اپنی مرسڈیز اسپورٹس میں لینے پہنچ گئے۔ پھولدار شرٹ اور خاکی ٹراﺅزر۔ ہم نے کار میں بیٹھ کر انہیں تنگ کرنے کے لیے جب گجراتی میں یہ کہا کہ Wire-Tapping نوں تو پروگرام نتھی؟ (خفیہ ریکارڈنگ کا تو کوئی پروگرام نہیں) تو تاﺅ کھا گئے۔ کار سائیڈ پر روک کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قمیص کے بٹن کھول کر دکھایا۔ ہم نے کہا ”دوسروں کو تو مٹی میں ملانے

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

نیک دلی کا بحران اور واٹس ایپ کا دکھ

واٹس ایپ میں فجر کے آغاز سے ہی ریٹائرڈ فوجی، باریش ڈی ایم جی والے افسروں، رمضان عمرے کے بوجھ سے سرشار سود خور، لوٹ مار کو منافع سمجھنے والوں تاجروں کی دعائیں ملتی ہیں تو جی اوب جاتا ہے۔ فون کرو تو ایسے ایسے خطبے اور نعتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ایک دفعہ تو گمان ہوتا ہے کہ فون کہیں غلطی سے مصر کے گرانڈ مفتی شیخ ابراہیم عبدالکلیم عالم کے نمبر پر تو نہیں لگ گیا۔ حلال

Read more

ریکھا اور پنڈی والے شاہ جی

سمجھ نہیں آتا یہ داستان فہم و الم کہاں سے شروع کریں۔ پہلے کے قصے اچھے ہوتے تھے۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا ہوا رسول بادشاہ۔ کسی ملک میں ایک لوزر بادشاہ رہتا تھا جس کے اپنے ہی بنائے ہوئے سپہ سالار سے تعلقات جلد خراب ہوجاتے تھے اور وہ ہیوی مینڈیٹ لے کر بھی حرم کی حریم شاہ بن جاتا تھا۔ چلیں ذکر شاہ جی سے شروع کرتے ہیں۔ شاہ جی جس ادارے سے منسلک تھے وہ

Read more

عشقِ سوختہ ساماں کی لاحاصلی

میں آپ کو اپنا نام نہیں بتاﺅں گی۔ گواہی کے دوران کوئی سی سی ٹی وی کیمرے سے سوال جواب نہیں کرتا۔ میرا بیانیہ بھی کیمرے جیسا سادہ ہے۔ مجھے یوں بھی (Proxy Fame)سے کوئی دل چسپی نہیں۔ آپ اس داستان کو بھی چاہیں تو سچا قصہ سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا کے مشہور مصور پکاسو کہا کرتے تھے کہ” جو تخیل میں سماجائے، وہ سچ ہے“۔ چلیں، قصہ بیان کرتے ہیں۔ میری اس غیر مسلم دوست کو ہم سب میرو

Read more

پین اسٹیٹ یونی ورسٹی میں اولمپک کوچ چیکی نیلسن سے سیکھی پیراکی

دن اچھے تھے اور ہم جوان۔ ہمفرے فیلو شپ ایک سال کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اوپن میرٹ پر انتخاب پر مبنی پروگرام تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کرتا دھرتا دنیا بھر سے سول سرونٹس کو چن کر امریکہ بھیجتے تھے۔ ارادہ یہ ہوتا کہ انداز غلامی بھانپ لیں۔ دن رات کے ساتھ میں امریکہ کی آزاد فضا میں باہمی تعلقات اتنے مضبوط ہوجائیں کہ جب کسی امریکی پروگرام کو فروغ دینا ہو تو مصر والوں کے نیپال سے اور تیونس

Read more

ٹھیکے دار کی بیٹی کا متبادل بیانیہ

حاجی الیاس پٹیل کی واٹس اپ پر مس کال آئی تو ہم نے عشا کی نماز سے فارغ ہوکر کال بیک کیا۔ وہ اُن میمن بوڑھوں میں سے ہیں جو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کو بھی مس کال مارتے ہیں۔ ہمارے بڑے قیام پاکستان کے وقت جب ممبئی ایرپورٹ سے کراچی کا سفر کرتے تھے، حاجی الیاس کے بڑے بزرگ فلم” دل لگی“ میں ثریا اور شیام کا گیت ’تو میرا چاند میں تیری چاندنی‘ گاتے ہوئے رم پی کر

Read more

جنرل فیض علی چشتی نے طارق صدیقی کو کیسے بحال کیا؟

ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب تا دم مرگ ڈاکٹر طارق صدیقی کے مداح رہے۔ کہا کرتے تھے کہ کمال کا ڈکشن اور لاجک ہوتی تھی۔ انگیریزی مضمون کے پیپر میں ڈاکٹر صاحب کا مضمون اتنا اچھا تھا کہ انہیں پورے ایک سو پچاس نمبر ملے۔  ڈاکٹر طارق کے والد بھی کانپور میں انکم ٹیکس کمشنر تھے۔ USAID  افسروں کو پی ایچ ڈی کی دو عدد اسکالرشپ دیا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے اسکالر شپ تین کرنی پڑیں۔ دوران تربیت

Read more

عبدالحفیظ کاردار بھٹو کے سرکاری کن ٹٹے افتخار تاری سے کیسے محفوظ رہے؟

ڈاکٹر محمد اجمل کی نفسیات دانی کے بھٹو صاحب کے جاہ و حشم سے تصادم کی کہانی شائع ہوئی تو عزیزم آثر اجمل نے تصحیح کر دی۔ ان کی بات درست ہے۔ بھٹو صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو سیکرٹری تعلیم کے عہدے سے ہٹائے جانے کا حکم دیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ یہ حکم سرکاری نوٹیفیکیشن تک پہنچتا، بھٹو صاحب  نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکم واپس لے لیا تھا۔ دراصل ڈاکٹر ظفر الطاف کے

Read more

بھٹو صاحب ڈاکٹر محمد اجمل پر ناراض کیوں ہوئے؟

ڈاکٹر ظفر الطاف کو عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی، ان چار افراد سے خصوصی عقیدت و انسیت تھی۔ ان میں سے تین بزرگوں کا تعلق لاہور سے اور ایک یعنی ڈاکٹر طارق صدیقی کا لکھنو اور کراچی سے تھا۔ جان لیں گنتی کے حساب سے تو یہ بزرگ بشمول ڈاکٹر ظفر الطاف پانچ ہی بنتے ہیں مگر چونکہ ڈاکٹر صاحب ان چاروں کو مرشد اور مکرم مانتے تھے لہذا ہم ان کا شمار نصف

Read more

جتھے عاشق سجدہ کردے ہو

اس واقعے سے جڑے لے دے کے بس کل ساڑھے تین کردار ہیں۔ وہ کون ہیں، ہم بتائے دیتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کہ چراغ سحری ہیں۔ عدالت سے معتوب، بیماری سے نڈھال۔ دوسرے جنرل مظفر عثمانی جو کمانڈر پانچ کور تھے۔ تیسرے ہمارے مرشد کرنل محمد اختر رضوانی سکنہ جہلم۔ درویش رضائے الہی سے مقام بدل لیتا ہے۔ وقت آنے پر دنیا سے چلا جاتا ہے۔ وہ جا چکے ہیں۔ کرنل رضوانی ایک قلندرقسم کے بزرگ تھے۔ اللہ اللہ

Read more

کورونا اور دوا پاکستان میں، دارو دہلی میں

کمبخت کورونا کی وبا کیا آئی۔ ہندوستان پاکستان دونوں ممالک میں پرانے کشکول گدائی جگمگا اٹھے۔ مانو، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اب یہ آج کل کے بچے کیا جانیں کہ چھینکا کیا ہوتا ہے؟ ان مظلومین کو تو ڈبے کے دودھ کی بوتل بھی فرج سے نکال کردی جاتی رہی ہے۔ چھینکا فرج سے پہلے کے زمانے میں کھانے کی ٹوکری ہوتی تھی۔ گھر میں کھانا تھوڑا اور لذیذ بنا کرتا تھا۔ بچ جاتا تو اسے کھلی ہوا میں

Read more

لمبی، گوری اور انگریزی بولنے والی 70 فیصد سے ملاقات

وضاحت لازم: یہ تحریر قبل از کورونا ایک ناآسودہ بیک اینڈ ریسورس پرسن میڈیا منسلک خاتون کے غصیلے، دل گرفتہ مشاہدات سے کشید کردہ بیان پر مبنی ہے۔ کسی ہستی کی اتفاقی خفیف مماثلت اپنی ہوس کی بھونڈی تکمیل اور خود کو غیر ضروری اہمیت دینے کی ناکام کوشش تصور ہوگی۔ سو پیار کو پیار ہی رہنے دیں کوئی نام نہ دیں۔ بہتر ہے فائزہ شیخ کی کہانی ہم جیمز بانڈ کی فلموں کی طرح شروع کردیں۔ جب اداکار شان

Read more

عارضی دل کا عارضہ نہ ہوا

وضاحت لازم :زیر مطالعہ کہانی انسٹاگرام پر #HumansofNY کے ہیش ٹیگ تلے شائع ہوئی اور اسے ہمارے سمیت دنیابھر میں 5,33,327 پسند فرمایا۔ اس لیے اسے ہم نے حقائق اور جذبات کے بنیادی اہتمام کو وفاداری سے نبھاتے ہوئے اپنے رنگ میں لکھا۔ سیف الدین سیف نے کہا تھا سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ٭٭٭          ٭٭٭ آئیے آپ کو ان ایام قرنطینہ میں ایک چھوٹی سی،

Read more

قرنطینہ کہانی: جو چلا گیا مجھے چھوڑ کے

وضاحت: ہم نے یہ کہانی انسٹاگرام پر # quarantinestories @humansofny کے ہیش ٹیگ کے سائے تلے انگریزی میں پڑھی۔ ایک کیفیت میں لکھا یوں بقول جگرمرادآبادی عشق کی داستان ہے پیارے اپنی اپنی زبان ہے پیارے میرا نام کیا ہے اس کی چنتا مت کریں۔ اس کا نام وائن تھا۔ مجھے لگتا ہے آپ کا ایک مسئلہ ہے۔ اکثر چھپ چھپ کر اور مفت کی پیتے ہیں۔ اس لیے دماغ پر ہر وقت نشہ طاری ہوتا ہے۔ یہ آپ کے

Read more

وزیر اعلیٰ بلوچستان اور سندھ کے "منشٹر صاحب”

ان دنوں سندھ کی شہری سیاست میں ایک بھونچال تھا۔ سب ہی کچھ اتھل پتھل ہوگیا تھا۔ جون 1992، میں آپریشن کلین اپ شروع ہونے سے پہلے ہی بھائی لندن چلے گئے تھے۔ ان ہی ایام بے لطف میں چیف منسٹر ہاؤس سے فون آیا تو بلا کم و کاست چیف سیکرٹری صاحب نے ہمیں آرڈر دیا کہ کراچی کے دو عدد ایم پی اے صاحبان آئیں گے۔ پروٹوکول پول سے دو عدد کاریں ان کے حوالے کردیں۔ ہرماہ تین

Read more