اسرائیل سے ہندوستانی مسلمان کیا سیکھ سکتے ہیں؟

فلسطین سے متعلق خبروں پر اسرائیل اور خصوصاً مغربی میڈیا جس قسم کا رویہ اپنا رہا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ چند ویب سائٹ جنہیں برطانیہ، ترکی، ایران، ہندوستان، پاکستان یا دوسری جگہوں پر مقیم کچھ فلسطینی نوجوان چلا رہے ہیں کو چھوڑ دیں تو جس انداز سے ان کی خبریں میڈیا میں آنی چاہیے نہیں آ رہی ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود اور نہایت نامساعد حالات میں میڈیا کے میدان میں ان کی اپنی سی سعی کو سلام پیش کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس نہ تو کوئی بڑا بین الاقوامی سطح کا اخبار ہے، نہ کوئی ویب سائٹ یا ٹیلی ویژن چینل۔

Read more

فلسطین اسرائیل مسئلہ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی متعصبانہ روش

ہیش ٹیگ غائب ہونا، فلسطین کی حمایت کرنے والے پروگراموں کے اشتہارات کا خاتمہ، فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام سے ان پوسٹس کا ہٹایا جانا جن میں اسرائیل/فلسطین کا نام ہی کیوں نہ آیا ہو اور فلسطینی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی۔ صرف فلسطین کی آوازوں کو آن لائن دبانے کے واضح طریقے ہیں۔ فلسطینیوں کے اشتراک کردہ مشمولات کی حمایت اور ان کی حفاظت کے لئے قائم کی جانے والی تنظیم، ’ساڈا سوشل‘ نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں شیخ جراح مظاہرے سے متعلق 200 سے زیادہ مواد کے حذف کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

Read more

پروفیسر رضوان قیصر جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، لوگ، سر سید، شبلی، آزاد، گاندھی، جوہر اور ان جیسے بزرگوں کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتے لیکن پروفیسر رضوان قیصر تقریباً اًپنی ہر گفتگو اور تقریر میں ان بزرگوں کو یاد کرنا نہیں بھولتے تھے۔ انھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے محبت نہیں عشق تھا، جس کا اظہار کرتے ہوئے وہ کبھی ڈرتے اور گھبراتے نہ تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب گودی میڈیا نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ملک دشمن اور غنڈوں کے راج والی یونیورسٹی قرار دینے پر تلا ہوا تھا، چند ایک کو چھوڑ کر دونوں اداروں کے سینئر ترین اساتذہ یونیورسٹی کی ترجمانی اور موقف رکھنے کے لئے تیار نہیں تھے، پروفیسر رضوان قیصر نام نہاد وطن پرستی کا نعرہ لگانے والوں کے درمیان پوری جرات اور طاقت کے ساتھ اقلیتی اداروں کی اہمیت، ان کی تاریخ، روایت اور تہذیب کی کہانی بیان کرنے کے لئے آگے آئے اور بغیر لاگ لپیٹ کے کھل کر اپنی بات رکھی۔

Read more

آہ! مولانا انیس احمد اصلاحی بھی رخصت ہو گئے

مدرسۃ الاصلاح کا سنسان پڑا مہمان خانہ ہے۔ گرمیوں کا دن ہے، اکا دکا پرندے چیں چاں کرتے سامنے درختوں پر پھدک رہے ہیں، گئے زمانوں کا ایک بڑا سا پرانا پنکھا چھت پر ٹنگا ہے اور اپنے مریل انداز میں کھٹر کھٹر، کھٹر کھٹر چل رہا ہے۔ کھڑکیوں میں باہر خس کا ٹاٹ لگا ہے اور اس میں سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی ہے۔ اندر ترتیب سے کچھ کرسیاں اور چار، پانچ چارپائیاں پڑی ہیں، ایک چارپائی پر مولانا لیٹے ہوئے ہیں۔ میں ایک افسانہ لئے مولانا کے پاس پہنچا ہوں کہ اصلاح فرما دیں۔ وہ کہہ رہے ہیں پڑھو اور ساتھ اصلاح کرتے جا رہے ہیں، ساتھ ہی الفاظ کی باریکیوں، نزاکتوں اور اس کی لطافتوں پر بھی اشارے کرتے جاتے ہیں۔

Read more

سانحۂ ہاتھرس اور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن

ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستان میں مسلمان ہونا کوئی بہت بڑا جرم ہو گیا ہے۔ وہ ناخوش گوار واقعہ جس کا بادی النظر میں مسلمانوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہ، اگر اس میں انہیں ماخوذ قرار دینے کی کوشش کی جائے اور واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دی جائے تو فطری طور پر یہی خیال ذہن پر ابھرے گا کہ کیا اب وطن عزیز میں مسلم ہونا گناہ تو نہیں ہے؟ ہاتھرس کے حالیہ واقعہ کو ہی لے لیجیے، جس میں مبینہ طور پر ریاست اترپردیش میں 14 ستمبر 2020 کو ایک دلت لڑکی کا اونچی ذات کے کچھ افراد کے ذریعے ریپ اور جنسی تشدد کا معاملہ سامنے آیا اور آخرکار یہ بچی دوران علاج چل بسی۔ اس سانحہ پر پورے ہندوستان میں احتجاج اور غم و غصہ دیکھنے کو ملا اور حکومت پر جرائم پیشہ افراد کی حمایت کا الزام لگایا گیا لیکن اس پورے ٹریجڈی میں ایک نیا موڑ تب آیا، جب انصاف پسند طبقہ کے احتجاج و اشتعال کے درمیان اس معاملے میں یوپی پولیس نے چار مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ دنگا بھڑکانے کے لئے ہاتھرس جا رہے تھے۔

Read more

پیسہ کمانا بھی ہماری جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے

ایک بہت ہی سنگین مسئلہ جس کا مشاہدہ میں نے نہایت قریب سے کیا، اس کا تعلق مسلم نوجوانوں کے مستقبل سے ہے۔ ہمارے نوجوان معاشرتی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جیسے ہی یونیورسٹی کے کسی کورس میں داخلہ لیتے ہیں، وہ دائیں اور بائیں بازو کی ایک بائنری میں پھنس جاتے ہیں۔ کوئی تو ایک دم ہی ملحد ہوجاتا ہے، کچھ بھکت بن جاتے ہیں اور باقی جو بچتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اس پر گفتگو کرنا بے معنی ہے۔ بیشتر یونیورسٹیوں میں علمی طور پر پولورائزیشن کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ موجودہ طبقاتی، سیاسی چپقلش کے ماحول اور آمرانہ نظام کے عروج کے دور میں ان میں سے ایک بڑی تعداد سیکولرازم کے سوالات کو دبانے کی کوشش میں بائیں بازو کی طرف مڑ جاتی ہے۔

Read more

ایک خوفزدہ نوجوان اور ایک اجنبی

شہر میں ہندو مسلم فساد پھوٹ پڑے تھے، چار دن تک بلوہ ہوتا رہا درجنوں لوگ جان سے گئے، بیسیوں لاپتا اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اب قدرے سکون تھا، مگر ہر نفس دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا، بالخصوص ’اجنبی‘ کو کڑی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ فضا میں زہر اتنا گھول دیا گیا تھا کہ آدمی کو اپنے سائے سے بھی خوف محسوس ہوتا۔

Read more

قتلِ عام کے پیچھے میڈیا کا نفرت انگیز رویہ

’گودی میڈیا‘ گذشتہ دو تین ماہ سے ’سی اے اے‘ ، ’این آر سی‘ اور ’این پی آر‘ کے معاملے پر جو رویہ اپنائے ہوئے ہے، اسے کسی بھی طرح سے صحافتی اقدار اور اصول و ضوابط پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر میڈیا کا یہی رویہ رہا تو اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تب میڈیا سے سماج کا اعتبار باقی رہے گا یا نہیں یہ تو ایک الگ بحث کا موضوع ہے لیکن ایسے

Read more

’سیاسی پہلوانی‘ کو بیان کرنے والی کتاب: ’دی گیم آف ووٹس‘

پروفیسر فرحت بصیر خان میڈیا کی دنیا کا نیا نام نہیں۔ موصوف تین دہائیوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اے جے کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ’ویژول کمیونی کیشن‘ کے علاوہ جرنلزم اور تحقیق کے شعبوں میں بھی ان کے نمایاں کام ہیں۔ حال ہی میں اُن کی ایک عمدہ کتاب ’دی گیم آف ووٹس‘ منظرعام پر آئی ہے، جس میں ’ووٹ کے کھیل‘ کے موضوع کو تخلیقی جامہ

Read more

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ بھارت میں تبدیلی لا سکے گی؟

آزاد ہند میں یہ تیسری تعلیمی پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے، اس سے قبل یہاں دو قومی تعلیمی پالیسیاں بالترتیب 1968 ء اور 1986 ء میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے عہد میں بنائی گئی تھیں، تاہم 1986 ء کی پالیسی پر نظرثانی 1992 ء میں کی گئی۔ جب پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے۔ قومی تعلیمی پالیسی اور بی جے پی کے بارے میں اگر دیکھا جائے تو 1977۔ 79 ء میں جب وہ جنتا حکومت

Read more

مسلمان: حالات، وجوہات اور سوالات

ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی اور کم مائیگی پر بہت سے دانشوروں اور محققین نے اپنے اپنے انداز میں تجزیہ کیا، مضامین، مقالات اور کتابیں لکھیں اوراس کے اسباب و وجوہات سے بحث کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں کسی نے معاشی تنگی کو اس کی اہم وجہ قرار دیا، کسی نے فوج اور طاقت کی کمی کو، تو کسی نے مسلم حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیو ں کو

Read more

ضیاء اعظی اور اس کا عکس خیال

اردو زبان کی تاریخ ا گرچہ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجوداتنی کم مدت میں اس زبان نے لوگوں کے دلوں میں جو جگہ بنائی ہے، وہ دراصل اس کی چاشنی اور لطافت کے سبب ہے اور اس کی اس خوبی کو بر قرار رکھنے میں بڑی حد تک ان تخلیق کاروں کی خدمات کو دخل ہے جو بغیر کسی نام و نمود کے دیار غیر میں بھی رہ کر اس زبان کی آبیاری میں مصروف ہیں،

Read more

اطلاعاتی انقلاب اور ہندستانی مسلمانوں کا المیہ

ہمارے عہد میں انسان کی تقدیر کو بنانے اور سنوارنے میں اطلاعات یعنی خبروں کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ طاقت کا ایک خصوصی اور اہم ذریعہ ہیں، یہاں تک کہ اطلاعات نے دنیا کی فوجی اور سیاسی طاقت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی ہوں، امریکا کے ڈونلڈ ٹرمپ یا پھر دائیں بازو یا بائیں بازو کی وہ طاقتیں جو آپ کو یا ہم کو پسندنہیں، یا جن کے کرتوتوں اور کارناموں کو ہم انسانیت کے لئے مضر قرار دیتے ہیں، ان سب کی کام یابی کے پیچھے بھی اس ٹیکنالوجی کا اہم کردار رہا ہے۔

Read more

حساب جاں: ڈاکٹر شکیل احمد کی سوانح حیات

خود نوشت، سوانح حیات، عمر کا حساب ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس حساب کا لیکھا جوکھا رکھ پاتے ہیں۔ جو رکھتے ہیں وہ اوروں کے لئے سبق کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ نہ رکھنے والوں کی تعداد بھی بہت ہے۔ یہ دنیا تو ہے وجود سے عدم کی جانب جانے کا نام۔ وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جو اس کا لیکھا جوکھا رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کی کہانی دوسروں سے ساجھا کرنے کی ہمت جٹا پاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گاندھی کی طرح حق گوئی و بے باکی کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ نادر ہی ہوتے ہیں، جو اپنی کمیوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔

Read more

مودی کی جیت پر ایک ہندوستانی کے جذبات

کون جیتا اور کون ہارا ایسے بھی ہم کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ پہلے بھی ہم جیسے جیتے تھے۔ ہمارے پہلے والے جیسے جیتے تھے، آگے بھی جیتتے رہیں گے۔ ہم جیسے لاکھوں نوجوان سماج میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد سے ہر روز نبردآزما ہوتے ہیں۔ اگر آج تک جتنے بھی امتحانات دیے ہیں، اس کے مطابق خود کو پڑھا لکھا تسلیم کرلیا جائے، تب ہمیں یہ سوال کس سے کرنا چاہیے؟ کس سے اس  ضمن میں عام و خاص کی زبان میں دریافت کرنا چاہیے کہ اگر حکومت نے بچپن سے ہم پر کئی ہزار روپے پھونک دیے، اس کے بعد بھی ہم کیوں خود کو کہیں کھڑا نہیں کر پا رہے ہیں؟

Read more

پہلا ناول لکھنے کے دوران بہت کچھ سیکھا

1978 کے ابتدائی دنوں میں ایک چھوٹے اشاعتی ادارہ کے لئے کام کرنے والی میری ایک دوست نے مجھے بتایا کہ اس نے کچھ غیر ناول نگار مصنفین (یعنی فلسفیوں، ماہرین سماجیات، سیاستدانوں وغیرہ) سے کہا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی جاسوسی کہانی لکھ کر دیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ میں تخلیقی تحریر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور مجھے پورا یقین ہے کہ میں اچھے مکالمے لکھنے میں مکمل طور پر غیر فعال ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنی بات ختم کی، کہ جب بھی میں ایک جرم پر مبنی ناول لکھوں گا، وہ کم از کم پانچ سو صفحات طویل ہو گا اور کسی قرون وسطی کے زمانے کے خانقاہ کے پس منظر میں ہو گا۔ پتہ نہیں، یہ بات میں نے کیوں کہی تھی، لیکن یہ تھوڑا سا اشتعال انگیز انداز میں کہی تھی۔ میری دوست نے مجھ سے کہا کہ وہ ایسے کسی جلد از جلد فروخت ہو جانے والے ادب کی بابت بحث کرنے میرے پاس نہیں آئی ہے۔ اور ہماری ملاقات وہیں ختم ہو گئی۔

Read more

بچپن کا روزہ اور رمضان کی یادیں

خود کو بچپن کے دنوں میں لے گیا، تو دِل میں اِک ہوک سی اٹھی۔ کہاں وہ مستیوں، رنگ رلیوں، بے فکریوں کے شب و روز اور کہاں زندگی کی یہ دوڑ دھوپ۔ پڑھائی، امتحان، امتحان در امتحان، ملازمت کی تلاش۔ بچھڑے احباب، بکھرے رشتے، کرم فرماوں کی کرم فرمائیاں۔ محبتیں، نا راضیاں۔ وفائیں، جفائیں، دغا بازیاں۔ اپنا احوال کیا کہیے کِہ ان گنت یادیں ہیں، جو ایک دوسرے سے آ گلے ملتی، ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کِہ کس یاد کا ذکر کروں، کس بات کو چھوڑ چلوں۔یادوں کے جھروکے سے لگ بھگ بیس بائس برس پیچھے کے ماہ رمضان کا منظر دیکھوں، تو چہار سو سے تلاوت کی پر سوز صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ خوشیوں کا، چہچاہٹوں کا ریلا۔ بہن بھائیوں نیز دیگر احباب کا میلہ۔

Read more

احباب ڈھونڈتے ہیں کہ ظفر کدھر گیا

ہائے یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ گزشتہ دنوں دہلی میں اردو صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پانچ اپریل 2019 کو حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب اردو کا ایک بے باک، نڈر مجاہد، قلم کار اور صحافی جس نے کئی دہائیوں تک اردو اور ہندی صحافت میں نہ صرف رہ نوردی اور آبیاری کی بلکہ اپنی بے لاگ اور حق گوئی کے لئے اپنوں کی آنکھ کا شہ

Read more

دیندار حجام اور جماعت اسلامی کے نئے امیر کی داڑھی

جماعت اسلامی ہند کے نئے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے منصب سنبھالتے ہی بہت سوں کے اندر چھپا حجام باہرنکل آیا اور داڑھیاں ناپی جانے لگیں۔ رخصت ہونے والے امیر کے مقابلے نو منتخب امیر کی داڑھی اور عمر دونوں کم ہیں اس لئے معترضین کو دونوں معاملات پر تنقید کا موقع مل گیا۔ ان سب دوستوں کے جذبات اور ان کے اندر لپک مار رہی شریعت کی لپٹ اپنی جگہ لیکن ان حضرات کو ذرا اپنی اپنی والی

Read more

ہندوستانی سول سروسز: مسلمانوں کا کردار اور لائحہ عمل

ہندوستانی مسلمان بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں، ممکن ہے اس کا سبب آزادی کے بعد سے ملک میں ان کے ساتھ جاری ظلم و تشدد ہو یا پھر ان کی اپنی پس ماندگی، بے بضاعتی اور بے وقعتی۔ یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔اکثر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کو کہیں بھی اگر تھوڑی سی امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو اس کے لئے وہ پلکیں بچھانا شروع کر دیتے ہیں، خوشی سے سر شار قوم اس کے لیے سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتی ہے، ایسے افراد کی کام یابی کے ہر جگہ چرچے ہوتے ہیں۔ یہ بہت اچھی اور خوش آیند بات ہے لیکن تکلیف اس وقت دو چند ہوتی ہے کہ وہ افراد جن کے لیے قوم نے خوشی کے آنسو بہائے ہوتے ہیں، جن کے اوپر انھیں فخر ہوتا ہے، لیکن جب قوم کو کچھ دینے کا وقت آتا ہے، اپنی قوم کو ان کی ضرورت پڑتی ہے یا مظلوم، دبے کچلے اور پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ حق و انصاف کے لیے سامنے آنا ہوتا ہے، تب وہ امیدیں اور آرزوئیں خاک میں مل جاتی جو ایسے افراد کی ذات سے وابستہ تھیں۔ بسا اوقات وہ منافق یا پھر میر جعفر کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ہی لوگوں کا خون چوسنے، انہیں نقصان پہنچانے اور اپنے معمولی مفادات کی خاطر قوم کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

Read more

مالک اشتر: کچھ میں اور تُو کی باتیں

پیارے اشتر! سلام قبول کرو۔ ہم نوالہ و ہم پیالہ میرے یار، دوست اور بھائی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تمہیں کیسے مخاطب کروں، چند ماہ قبل بھی تمہارا ایک بہت جذباتی خط موصول ہوا تھا، میں نے بہت فرصت سے اس کا جواب دینے کا سوچا تھا، آدھا لکھ بھی رکھا تھا مگر گردش ایام اور روزی روٹی کے چکر میں ایسا بھولا کہ یاد ہی نہ رہا، آج جب یہ خط ملا ہے تو سب چھوڑ

Read more

بر صغیر کے آٹھ کنوارے انمول رتن

گزشتہ دنوں شکور پٹھان کا ایک مضمون پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے احباب کا بڑے خوبصورت مزاحیہ انداز میں تعارف کرایا ہے، اس تحریر کو پڑھنے کے معاََ بعد یہ خیال آیا کہ کیوں نہ میں بھی اپنے احباب کے بارے میں کچھ لکھوں اس سے مقصد دوستی کو مزید مضبوط کرانا، احباب کی کوششوں کو سراہنا اور ان کی ہمت افزائی کرنا ہے ۔ میرے یہ وہ احباب ہیں جنھیں بھگوان

Read more

لسانی تساہل کی شکار اردو صحافت اور ترجمہ

اردو صحافت میں تخلیق سے لے کر ترجمہ اور مواد سے لے کر کمپوزنگ اور چھپائی تک‘ بے شمار مسائل ہیں؛ بلکہ اگر ہم یہ کہیں تو مبالغہ نہیں ہو گا‘ کہ یہاں مسائل ہی مسائل ہیں۔یہاں اگر ہم محض ترجمہ کے حوالے سے بات کریں تو آئے دن ایسی بے شمار غلطیاں نظروں سے گزرتی ہیں جس کو پڑھنے کے بعد طبیعت مکدر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ کئی مرتبہ تو ایسی مضحکہ خیز جملے نظروں سے گزرتے ہیں کہ

Read more

ہندوستانی میڈیا پر چھائی ریپ اور قتل کی خبریں۔۔۔

ہندوستانی میڈیا مثبت چیزوں اور واقعات کے مقابلے میں زیادہ تر بری چیزوں اور واقعات کو پیش کرتا ہے۔ ایک نظر اخبار پر ڈالنے سے صاف نظر آ جاتا ہے کہ خوف ناک، دردناک اور شرم ناک، واقعات اورجرائم کی خبریں صفحہ ٔاوّل پر جگہ پاتی ہیں، جب کہ مثبت اور قابل تعریف مواد اندر کے صفحات میں سمایا نظر آتاہے۔ یہ قارئین یا سامعین کی دلچسپی ہے یا پھر میڈیا والوں کا رجحان؟ کیا منفی مواد زیادہ بکتا ہے،

Read more

الیکشن 2019 اور ہندوستانی مسلمان

گرچہ ابھی 2019 کے مرکزی انتخابات کی آمد میں کافی وقت باقی ہے مگر اس کی نوید ہمیں سنائی دینے لگی ہے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی بساط بچھانا اور اپنا اپنا بگل بجانا شروع کر دیا ہے۔ غرض یہ کہ تمام سیاسی جماعتیں باضابطہ طور پر الیکشن کی تیاریوں میں جٹ گئی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے لے کر عام آدمی تک سبھی نے اپنے اپنے حربے استعمال کر نے شروع کر دِیے ہیں۔ اس کے لیے جہاں الیکٹرانک

Read more

کرائم شو اور معاشرے پر ان کے اثرات

کچھ روز قبل میرے دوست فرحان احمد خان معروف صحافی اور مترجم جن کا تعلق لاہور سے ہے، نے اپنے فیس بک پر کرائم شوز سے متعلق چند سوالات کیے تھے؛ ان کے سوالوں کا میں نے اپنی فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی۔ بعد میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان کو ترتیب دے کر ایک مضمون کی شکل دے دی جائے، تا کہ دیگر قارئین تک یہ خیالات پہنچیں۔ ہند و پاک، گر چہ دو ہیں،

Read more

سینما کا سود مند میڈیم اور ملا کے فتوے

کیا ادب و فن کے نام پر ایک فلم ہی باقی ہے، کہ ہم سینما سے رُجوع کریں؟ اور کیوں؟ کیا ہمارے مذہب میں سینما اور فلم سازی مباح ہے؟ یہ اور اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں، جن سے گاہے گاہے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ بے شک ادب و فنون میں محض فلمیں نہیں آتیں، لیکن فلم، فنون کا ایک جزو تو ہے؛ اس سے انکار نا ممکن ہے، مگر اسی جزو سے بے نیازی نے، جیسا کہ

Read more

پروفیسر مشیر الحسن: جیسا میں نے انہیں جانا

شجاع خاور نے کہا ہے: یہ ہنر بھی میں کراس (cross) کر جاوں گا وقت کی پالکی سے اتر جاوں گا  اکثر ایسا ہوتا ہے، کہ ہمارے درمیان سے بڑی شخصیات دبے پاوں گزر جاتی ہیں۔ وقت کی پالکی سے اترنے والے کچھ لوگ یقینا ایسے ہوا کرتے ہیں، جنھوں نے ہماری زندگی کے خد و خال طے کرنے اور ہماری فکری عمارتوں کو کھڑی کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک ہستی پروفیسر مشیر

Read more

دیوبند: شنیدہ کے بود مانندِ دیدہ!

پاوں میں چکر لیے پیدا ہونے والوں کو راستے پکارتے ہیں۔ ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈیاں آواز دیتی ہیں۔ احباب پیغام بھیجتے اور ہوائیں سندیسے لاتی ہیں۔ ابر انتظار کے مدھر گیت سناتے اور اَن کہی کہانیاں قدموں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ایسی ہی ایک صدا پر لبیک کہتے ہوئے ہم اوکھلا (دہلی) سے دیوبند کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ڈھائی تین گھنٹے میں ہم دیوبند پہنچ چکے تھے۔ 

دہلی کی بستی حضرت نظام الدین یا اوکھلا اور دیوبند میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ اوکھلا اسٹیشن کی طرح ہی یہاں بھی دو ٹریک والی اسٹیشن، جہاں ڈاڑھی، کرتا، پاجامہ اور ٹوپی میں ملبوس افراد، جنھیں دور ہی سے دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا، کہ آپ دیوبند پہنچ چکے ہیں۔ اسٹیشن سے ذرا فاصلے پر سائیکل رکشہ اور ای رکشہ والے مختلف جگہوں کا نام پکار کر آپ کو بیٹھنے کے لیے کہیں گے۔ ہم بھی ایک رکشے میں بیٹھ کر سیدھے ریسٹورنٹ پہنچے، جہاں زندہ دل نوجوانوں کے امام محمود الرحمان قاسمی عرف ابو زید فرضی نے پہلے سے ہی انتظام کیا ہوا تھا۔ برادرم ابو زید فرضی حقیقی معنوں میں  زندہ دل انسان ہیں، جن سے ملاقات کے بعد ان کی زندہ دلی مزید نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ساتھ میں کھانا، گپ شپ اور چائے کے بعد تفریح کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ 

Read more

 سعید نقوی: وطن میں غیر ۔ ہندوستانی مسلمان

ہر دور کی اپنی ایک پہچان اور شناخت ہوتی ہے، جس سے لوگ اس زمانے کے بارے میں جانتے اور اس کی روشنی میں کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں خود نوشت، سر گزشت اور سوانح عمر بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جس کے ذریعے سیاسی و سماجی حالات ہی نہیں بلکہ اس عہد میں جینے والے لوگوں کے بود و باش، رہن سہن اور تعمیر و ترقی کے علاوہ اس کے پس منظر اور

Read more

رونق انجمن گل تھا جو لالہ، نہ رہا: مولانا احمد محمود اصلاحی

رونق انجمن گل تھا جو لالہ، نہ رہا
ناز تھا جس پہ وہ سروقد بالا نہ رہا
رہ گیا کٹ کے کلیجہ وہ لگی چوٹ کہ ہائے
دینے والا تھا جو ایسے میں سنبھالا نہ رہا

یہ اشعار مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڈھ کے سابق صدر المدرسین، مولانا عبد المجید ندوی کی شہادت پر 1991 میں مولانا احمد محمود کوثر اعظمی نے کہے تھے۔ کیا خبر تھی کہ ان کے ذریعے لکھا گیا مرثیہ انھیں پر منطبق ہوگا، اور وہ خود ان کا مصداق ٹھہریں گے۔ ’کوثر اعظمی‘ کا انتقال 12 دسمبر 2018 کو سرائے میر اعظم گڈھ، یوپی میں ہوا۔ مولانا کے انتقال سے دبستان شبلی و فراہی سونی ہوگئی۔

Read more

دریائے گنگا کو کون تباہی سے دوچار کر رہا ہے؟

اے آب رود گنگا اف ری تری صفائی یہ تیرا حسن دلکش یہ طرز و دلربائی تیری تجلیاں ہیں جلوہ فروش معنی تنویر میں ہے تیری اک شان کبریائی گنگا کا نام آتے ہی ذہن و دماغ میں مختلف قسم کے خیالات اور تصورات گردش کرنے لگتے ہیں مثلا؛ ایک متبرک ندی ایسی مقدس اور پوتر کہ جو دوسروں کو بھی پارس کے پتھر کی طرح خالص کر دیتی ہے۔ قدیم ہندوستان کی سب سے بڑی ندی جو 2 ہزار

Read more

گندگی کو دہلی کے مسلمانوں کی پرسنل لائف سمجھا جاتا ہے

آو پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی تو آیے کچھ ذکر کرتے ہیں ’دہلی‘ کے اس علاقے کا ”جہاں ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ، مہذب، ادب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں”۔ ”جہاں دریائے جمنا کے خوب صورت کنارے اور ہرے بھرے باغ، کوئل کی کوک اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونجتے ہیں“۔ ”جہاں واقع معروف، قدیم، ثقافتی اور مرکزی دانش گاہ’ جامعہ ملیہ اِسلامیہ‘ اک عالم کو اپنے علم سے منور کرتی ہے“۔

Read more

فحش ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کیوں کر

’’کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے قوم کے دانشوروں کے ذہنی حصار پر افسوس کرتے ہوئے ایک لطیف اِشارہ کیا تھا ”آہ! بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار“۔ اقبال نے جس ذہنی حصار اور اخلاقی پستی کا ذکر کیا ہے، وہ تقریباً ہر زمانے میں موجود رہی ہے۔ انسانی نفسیات اس بات کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ انسان جنس مخالف کی طرف مائل ہو۔ دور حاضر کی ذہنی پستی اور اخلاقی زوال کو دیکھ کر رونگٹے

Read more

برسات، چھوٹا راجن اور میں

ٹرین کی روانگی تین بجے تھی، مگر میرے ذہن میں چار بجے کا وقت سمایا ہوا تھا۔ گاوں سے لوکل ٹرین دو بجے چلتی ہے، جو آدھے گھنٹے میں رانچی پہنچا دیتی ہے۔ اطمینان سے کھانا وانا کھانے کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ، اسٹیشن پہنچا تو پتا چلا آج ٹرین تاخیر سے آ رہی ہے۔ تفصیلات معلوم کرنے پر اطلاع ملی کہ ابھی تو ٹرین لوہردگا سے بھی نہیں چلی اور اگر چند منٹ میں چل بھی گئی،

Read more

کیا کم سن بچوں کو ہوسٹل میں بھیجنا چاہیے؟

اقامتی اسکول، دارالاقامہ یا ہاسٹل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ میں بھی ایسے اقامت گاہوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں اقامتی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلانا امرا و روسا ہی کی شان تھی۔ والدین اپنے بچوں کو وسیع تر مفادات، جس میں صحت و تن دُرستی کے علاوہ معیاری تعلیم اور تربیت بھی شامل ہوتی ہے، کے حصول کے لیے اقامت گاہ یا ہاسٹل بھیجا کرتے تھے۔ ایسے کس ادارے میں کس خاندان

Read more

ہندوستانی سماج پر سینما کے اثرات

فلموں کے سماج پر اثرات، بحث کا ایک پرانا موضوع ہے؛ بعضے الزام لگاتے ہیں کہ فلمیں معاشرے کو بگاڑ رہی ہیں، جب کہ فلم میکر اپنا دفاع یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ ہم وہی دکھا رہے ہیں جو سماج میں ہوتا ہے، یا جسے فلم بین پسند کرتا ہے۔ اس بحث کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا، کیوں کہ دونوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ ہاں! بات اگر اثرات کی کریں تو وہ بہت تشویش ناک سطح تک

Read more

شبلی و فراہی کے مدرسة الاصلاح کا ماضی اور مستقبل

انیسویں صدی بر صغیر میں مسلم اقتدار کے زوال کے بعد کی صدی تھی۔ مغل حکومت کے اختتام اور بر طانوی سامراج کے استحکام نے مسلم معاشرے کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دیے تھے، اقتدار سے محرومی نے جہاں ایک طرف شکست خوردگی کی ذہنیت کو جنم دیا وہیں بہت سی معاشرتی برائیاں بھی در آئیں۔ جہالت، بدعات اورمشرکانہ رسوم مسلم معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی تھیں۔ اعظم گڈھ کا دور افتادہ علاقہ ان مسائل سے کچھ

Read more

تعلیم کی نج کاری، مستقبل کی تاریکی

آج ہمارا تعلیمی نظام صاف طور پر دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے، ایک جدید تعلیم کا نظام ہے جس کے تحت روزگارپر مشتمل نصاب ہے اور دوسری طرف روایتی تعلیمی نظام ہے جس کے ساتھ روزگار کے بہت کم مواقع ہیں۔ روزگار کے مواقع حاصل کرانے والی تعلیم کے لیے اقتصادی طور پر خوش حال طبقے میں دل چسپی دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں ان کے بچے اس تعلیم کو حاصل کر کے روزگار حاصل

Read more

فحش فلموں سے کیوں کر محفوظ رہا جائے

انٹرنیٹ دورِ جدید کی ایک بہت مفید اور کارآمد ایجاد ہے۔ یہ نہ صرف معلومات کا ایک خزانہ ہے بلکہ مواصلات کے شعبے میں بھی اس نے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر طرح کی معلومات بہت آسانی سے دست یاب ہیں۔ اس کے ذریعے لوگ اپنے دور دراز کے عزیزوں سے با آسانی رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس نے بڑ ی حد تک لائبریری اور ڈاک کے نظام کی جگہ

Read more

دہشت گردی کے انتہائی وسائل، حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار

اس میں کوئی شک نہیں کہ فتح و کامرانی کی ہوس اور خواہش اقتدار نے انسانوں کو ہر دور میں جنگ کے نئے نئے وسائل کی تلاش میں لگائے رکھا ہے۔ اسی سبب جسمانی جنگ، مہارت میں کارکردگی، تیر، تفنگ، تلوار، برچھی، گولی، بندوق، توپ، بارود، بم وغیرہ کی حدیں پار کرتے ہوئے آج انسان کیمیائی ہتھیاروں اور میزائل کے ذخیرے پر کھڑا نہ صرف خود اپنی ہلاکت کا سامان کر رہا ہے، بلکہ نسل انسانی کی تباہی کی جانب

Read more

اچھلتے تاج اور لرزتے تخت اس جمنا نے دیکھے ہیں

اچھلتے تاج اور لرزتے تخت اس جمنا نے دیکھے ہیں یہ اس وقت ہنستی ہے جب دولت و جاہ مغرور ہوتا ہے اندرپرستھ کہے یا شاہجہان آباد دلی، قدم سے قدم ملاتی، لہراتی، بل کھاتی اور اٹھکیلیاں کرتی جمنا ندی اپنے کناروں کے باسیوں کے سکھ دکھ میں شریک ہوتی رہی ہے۔ جمنا کا خیال آتے ہی ان بے شمار تہذیبوں کا خیال آتا ہے, جس کے کنارے کبھی اس کے سائے میں آباد رہتے تھے۔ جمنا نے ان گنت

Read more

کیا اخبار محض کارپوریٹ گھرانوں کے مرہون منت ہوتے ہیں؟

پرسوں واجپئی اے بی پی نیوز سے کیا الگ ہوئے یاکر دیے گئے ملت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ کئی حلقوں سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ اچھی بات ہے ہمیں صحافت کی آزادی کے لئے آواز اٹھانی چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب ان کے اپنے مفاد کی بات آتی ہے تو سب ایک ہو جاتے ہیں، خواہ وہ رویش ہوں، ملندکھانڈیلکر، ابھیسارشرمایا کوئی اور۔ اس سلسلہ میں بٹلہ

Read more

بے رنگ پیوند

ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو محفل میں دیر سے آئیں لیکن بہت قلیل وقت میں نہ صرف اپنی جگہ بنانے میں کام یاب ہوں، بلکہ پوری محفل پر چھا جائیں۔ سلمیٰ جیلانی بھی انھیں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے بہت دیر سے لکھنا شروع کیا لیکن بہت جلد ادبی دنیا میں ایک مقام اور شناخت بنانے میں کام یاب ہو گئیں۔ بنیادی طور پر وہ تعلیم و تعلم کے پیشے سے وابستہ ہیں لیکن شاعری کرنا اور

Read more

تمہارے نام ایک محبت نامہ

میری پیاری! سلام محبت قبول کرو۔ آج میں تھوڑا پریشان تھا، اسی لیے تمھیں یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ جانتی ہو آج میں نے ایک خواب دیکھا، عجیب و غریب خواب۔ اس نے مجھے بالکل ڈرا دیا۔ اللہ جانے اس کی تعبیر کیا ہوگی، لیکن اس خواب نے کچھ دیر کے لیے مجھے بے چین رکھا۔ میری نیند بالکل غائب ہو گئی۔ میں پسینے سے بالکل شرابور ہو گیا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں میں، کہ میری نوکری چلی گئی ہے۔

Read more

مولانا ایوب اصلاحی : روح شاداں بھی نہیں، شمع فروزاں بھی نہیں!

مرگئے پر بھی نہ فرصت مجھے یارو دو گے؟ ان کا داماں بھی نہیں، میرا گریباں بھی نہیں خامہ فرسا جو ہوئی طبعِ رواں آج مری روح شاداں بھی نہیں، شمع فروزاں بھی نہیں لاکھ اغیار بے وفا نکلے آپ کیوں اتنے کج ادا نکلے شیخ کی لن ترانیاں دیکھو میکدے میں وہ پارسا نکلے ایسے خوبصورت اشعار کے خالق، ادیب، شاعر، مترجم، استاد، لکھاری مولانا ایوب اصلاحی 30 جون 2018 کو طویل علالت کے بعد اس دنیا سے چل

Read more

رویت ہلال پر اتحاد و اتفاق کا جنازہ نکل جانا ملت کے قائدین کے لئے شرمناک

ہمارے ملک کے پرانے اور بار بار جنم لینے والے مسائل میں سے ایک شوال کے چاند کو دیکھنا بھی ہے جس پر اتفاق رائے پیدا کرنا محال بنا دیا گیا ہے، ہر سال رمضان کی آمد کے ساتھ اس معاملہ کو لے کر ہندوستانی مسلمان ایک عجیب قسم کی کشمکش، الجھن اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں، جب امت ایک ہے، قران ایک ہے، اس کے رسول ایک ہیں، ان کے مسائل ایک، امت کا ہر حصہ دوسرے

Read more

مدارس میں بچوں کو پڑھانے اور گدھے سدھانے میں فرق ہونا چاہیے

پتہ نہیں غالب نے کس رو میں کہا تھا لیکن تھی بڑے پتے کی بات۔ بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی آج کل یہ شعر مجھ پر بہت صادق آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم لوگوں نے قسم کھا لی ہے کہ اپنی کسی خرابی کی اصلاح تو دور اس پر بات کرنے والے کو بھی نہیں بخشیں گے۔ مدارس میں اساتذہ کے طریقہ تادیب پر میں نے ویڈیو شیئر کی تو

Read more

ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

ہاوس جاب کرتے، یہ اس کا دوسرا مہینا تھا۔ مریضوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی تھی۔ نو آموز ہونے کی وجہ سے اسے نائٹ ڈیوٹی پر رکھا گیا تھا۔ رات کو گاڑی لینے آتی اور صبح گھر کے پاس اتار دیتی۔ وہ واماندہ بستر پر گرجاتی۔ اڑوس پڑوس کے شور غل کی وجہ سے بے کلی رہتی، پھر نیند آ ہی جاتی۔ ہفتے کی صبح جب وہ گھر لوٹی تو تھکن سے چور بستر پر ایسے گری جیسے زندہ لاش۔

Read more

بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کا نقش آپ کے ذہن پر کنداں ہوجاتا ہے اور پھر وہ مٹائے نہیں مٹتا۔ اُنھی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پہلی مرتبہ کب اور کیا سنا؟ لیکن ان کے بارے میں اتنا سنا کہ ان کی شخصیت کا ایک ہیولا سا میرے ذہن میں بن گیا۔ شیروانی، مخملی دوپلی ٹوپی اور گاندھی نما گول شیشے والی عینک

Read more